Reflections by AT

Reflections by AT If we go down then we go down together.

دستک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عدنان Part 1۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زندگی کے سمندر میںمیں طلاطم گزار آیا تھالہر...
25/05/2026

دستک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عدنان

Part 1
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زندگی کے سمندر میں
میں طلاطم گزار آیا تھا
لہروں کے کچھ تھم جانے کے بعد
جینے کا خمار آیا تھا
جو نہیں کہنا تھا، وہ کہنے کا
جو کہنا تھا، وہ نہ کہنے کا
سارا بوجھ اتار آیا تھا
وقت کے مرہم رکھنے کے بعد
پرانا اک زخم بھرنے کے بعد
کچھ پل کو قرار آیا تھا
وقت اور عشق کے رن میں
دل اور دماغ کی جنگ میں
وقت عشق کو ، دماغ دل کو پچھاڑ آیا تھا
اور اک عرصے بعد
مجھ پہ تھوڑا نکھار آیا تھا

عشق کی شکست
دل کی مات
راہوں کی دھول
مقدر کے شول
میں سب قبول کر چکا تھا
وقت اور دماغ سے سمجھوتے کو
اب زندگی کا اصول کر چکا تھا

مگر
Planning engineer
ہونے کے باوجود
میں
risk analysis
میں بھول کر چکا تھا

Vulnerability
سبب بن سکتی ہے
Disaster
کا

Project Management
کے اس سبق پر توجہ دیے بغیر

Vulnerability
کا کوئی حل کیے بغیر

Plan
کیسا ہی ہو، کامیاب نہیں ہوتا
ایسے نالائق انجینئر کا
شرمندہ تعبیر خواب نہیں ہوتا

یہ بات نظر انداز کرنے کی
دل کو دماغ پر ، عشق کو وقت پر فوقیت دینے کی
سزا تو آخر ملنی تھی
سزا ملنی بھی چاہیے تھی

سو یوں ہی اچانک اک روز کسی نے
میرے بن چاہے، میرے بن مانگے
دل کے بند دروازے پر
مدھم سی اک دستک دی
دستک تھوڑی ہٹ کر تھی
اس لیے میں تھوڑا گھبرایا
پر دل نے فورا" یہ جتلایا

اس سے پہلے بھی تو مجھ پر"
کتنوں نے دستک دی ہے
لیکن تمہاری اجازت کے بغیر
کب کسی کے پیچھے چلا ہوں میں؟
کب کسی پہ کھلا ہوں میں؟

یہ دستک دینے والا بھی
پہلے والوں ہی کی مانند
چند ہفتوں یا مہینوں میں
جب کوئی جواب نہ پائے گا
تھک ہار کے چلا جائے گا

لیکن تمہاری اجازت کے بغیر
اس کے پیچھے نہ چلوں گا میں
"اس پر کبھی نہ کھلوں گا میں

دل کی یقین دہانی پر
میں نے دستک سنی، ان سنی کی

وقت کا پہیہ چلتا رہا
دستک مسلسل ہوتی رہی
کیلنڈر ہر سال بدلتا رہا

مگر اب دستک مدھم نہیں
زوردار ہونے لگی تھی
پہلے جو ہوتی تھی کبھی کبھی
وہ بار بار ہونے لگی تھی

دل اپنی جگہ پہ جما رہا
اس شخص کے لیے کبھی نہ کھلا
اک روز پھر اس کی تصویر دکھی
جسے دیکھ کر مجھے یوں لگا

برسوں سے اس دل کے در پر
اپنی میٹھی باتوں سے
کبھی ایک پہر، کبھی دوسرے پہر
دستک دینے والا اجنبی کہیں دور جا رہا ہے

اتنے برسوں میں پہلی بار
اس دن مجھے احساس ہوا
وہ دستک اجنبی نہیں رہی
وہ شخص اجنبی نہیں رہا
اس دل حزیں کا مکیں ہو چکا ہے
ان کہے جذبات کا امیں ہو چکا ہے

اس زورآور لہر کے زیر اثر
:میں نے اس سے پوچھ ہی لیا

"کیا مجھ سے دور جا رہے ہو؟"
"!وہ ہنستے ہوئے بولا: "نہیں تو

یہ سن کر مجھے جو خوشی ہوئی
اس احساس کا بیان ممکن نہیں
خوشی سے ہے نہال عدنان؟ ممکن نہیں
سو میں نے خود کو ہی جھٹلایا
تب مجھے دماغ نے سمجھایا

جو دل کے مکیں ہو جاتے ہیں"
انہیں پھر ہوتی نہیں دستک کی ضرورت
یہ سب تو وہ کرتے ہیں اپنا بھرم رکھنے کو
ورنہ انہیں کیونکر ہو دستک سے محبت
انہیں جب بھی آنا ہوا
وہ تمہارے دل کے سارے اونچے، مضبوط، بند دروازے
توڑ کر بھی آ جائیں گے
اور جب کبھی وہ آ گئے
تم ان سے لڑ نہ پاؤ گے
تب کچھ بھی کر نہ پاؤ گے

ایسا ہونے سے پہلے پہلے
کوئی
Mitigation plan
بنا لو
اور اپنی اس
Vulnerability
کا
"بروقت کوئی حل نکالو

لیکن پھر بھی نجانے کیوں
میں نے دماغ کی سنی، ان سنی کی

پھر کچھ ہی دن گزرے تھے
اس شخص کو مشکل پیش آئی
جب اسے مشکل میں دیکھا تو
تب مجھ پہ کھلی یہ سچائی

میں اپنی ساری عقل، زندگی بھر کا شعور
اپنی کل انا، اپنی متاعِ غرور
اس مانوس اجنبی کی خاطر
یکسر فراموش کر چکا تھا

محبت نام کی
Vulnerability
اپنا کام دکھا چکی تھی

برسوں پہلے جو لگا تھا صرف
Hazard

اسے اک
Disaster
بنا چکی تھی

توڑ کے دل کے سب دروازے
وہ اپنی جگہ آ بیٹھا تھا
دل کی جانب آنے کے
سب دروازے بند کر کے
میں اتنے برسوں سمجھتا رہا
خود کو بہت محفوظ
اور وہ پہلی دستک سے ہی
دل میں میرے رہتا تھا
پہلی دستک سے بھی پہلے
روح میں کہیں بستا تھا

عدنان

--------------------------

Graphic designed using AI

April 2026, Kashmir
04/05/2026

April 2026
, Kashmir

Let life be, as it is - simpleSomewhere , Kashmir
26/04/2026

Let life be, as it is - simple
Somewhere , Kashmir

"Whispers in chaos"--------------------------------AdnanSuch moments come in the ups and downs of life when a person bec...
13/04/2026

"Whispers in chaos"
--------------------------------
Adnan

Such moments come in the ups and downs of life when a person becomes quite pessimistic.. and he starts feeling darkness all around..

though uncertainties in life are unavoidable yet one must find coping mechanisms for self.. either it is writing, talking to beloved one, playing with children, some favorite hobby or anything else .. but there must be something.

Personally i like to go into the lap of the nature like mountains, valleys, waterfalls, etc. and in doing so i follow two things.

1. Social detox - just cut off from this world. I mean no contact with anyone with an exception of a few beloved ones..
2. Media detox - no work, no data consumption, no update.. just stillness & silence

If one can afford, Pakistan's northern areas and Kashmir are a treat for this purpose,
Otherwise, you can also visit any nearby Punjab village with a sole purpose of disconnecting from this world.. it can also do the trick..

In a nutshell, just find something or someone to whom you can go and take shelter when this world hits you hard..

April 14, 2026
Tue, 0425 hrs

10/04/2026

بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے (5)

"صدقہ جاریہ"

------------------

وقت بہت عجیب ہے۔۔ اپنی مخصوص رفتار سے گزرتا جا رہا ہے اور انسانوں کو بھی اپنی گرد میں تنکوں کی مانند اڑاتا جا رہا ہے ۔۔

مثلاً سو برس پہلے یعنی
1926
میں کتنے ہی انسان ہوں گے جو ہم سے زیادہ خوبصورت، زیادہ ذہین، زیادہ دولت مند، زیادہ طاقتور یا کسی اور حوالے سے ہم سے زیادہ بہتر ہوں گے لیکن آج یعنی
2026
میں ان کا نام و نشان تک باقی نہیں۔۔

اس دنیا کی زندگی کی یہ بے ثباتی دیکھتا ہوں تو ڈر جاتا ہوں۔ لیکن اسی سے آخرت کے
Concept
کی بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ اگر آخرت نہیں ہے تو پھر اچھے اور برے اعمال کا کیا نفع یا نقصان ۔۔ پھر تو
Eat , drink and be merry
والے لوگ ہی فائدے میں رہ گئے۔

لیکن بطور مسلمان ہمارا یہ ایمان ہے کہ آخرت
Exist
کرتی ہے اور انسان کا اس کے اعمال کے حساب سے معاملہ کو گا۔ اسی سے پھر "صدقہ جاریہ" کا
Concept
جڑ جاتا ہے کہ انسان رہے یا نہ رہے، اس کا شروع کیا ہوا اچھا یا برا کام اور نتیجتاً اس کے اخروی زندگی پر اچھے یا برے اثرات ہوتے رہتے ہیں۔

کیسے؟
اس کا ایک خوبصورت تجربہ مجھے گزشتہ برس اعتکاف کے دوران ہوا تھا اور اس برس بھی ہوا۔

تب میں جس قرآن کریم کے نسخے سے تلاوت کرتا تھا، وہ
1988
میں شائع ہوا تھا۔ تب میرے ذاتی معاملات کچھ ایسے چل رہے تھے کہ اس بارے کچھ لکھ نہیں سکا۔ اور اس برس جس نسخے سے تلاوت کر رہا تھا وہ
1998
کا تھا۔

ظاہر ہے قرآن کریم کے یہ نسخہ جات کسی پرنٹنگ پریس سے ہی چھپے ہوں گے۔ اس طرح اس کی طباعت، جلد بندی، اور دوسرے تمام مراحل پر بھی بہت سے لوگ شامل ہوں گے۔ اسے پڑھنے والے، پڑھانے والے اور مسجد کو ہدیہ کرنے والے بھی نجانے کون ہوں گے۔ ان میں سے کسی کا کچھ اتا پتا نہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ ایک طرح سے ان کے لیے صدقہ جاریہ بن کر بلندی درجات کا سبب بن رہا ہو گا ان شاءاللہ ۔۔

اس کے برعکس دیکھیں تو ابلاغ کے جدید ذرائع یعنی الیکٹرنک میڈیا پر آئے دن کسی نہ کسی نام نہاد انفیلیونسر یا ٹک ٹاکر کی نازیبا حرکات کی ویڈیوز آتی رہتی ہیں۔۔ اب اس بات سے قطع نظر کہ وہ اپنی فالوونگ بڑھانے کے لیے اپنی تصاویر و ویڈیوز خود لیک کرتے ہیں یا کسی غلطی کے سبب لیک ہو جاتی ہیں، یہ بات سوشل میڈیا پر موجود اکثر لوگوں کے علم میں ہو گی کہ ان کی شیئرنگ کے لیے باقاعدہ گروپس بنے ہوئے ہیں کہ جہاں ایک کلک سے وہ چیز سینکڑوں ہزاروں لوگوں کی دسترس میں چلی جاتی ہے۔۔

جو لوگ فخر سے یہ سب شیئر کر رہے ہوتے ہیں تو کیا ان کے مرنے کے بعد یہ فارورڈ ہونا بند ہو جائیں گی یا سرورز اور ڈیٹا بیسز سے ڈلیٹ ہو جائیں گی؟

کبھی بھی نہیں۔۔
بلکہ جب جب لوگ ان کو دیکھیں گے، یہ ان کے مرنے کے بعد بھی ان کے لیے مستقل عذاب کا ذریعہ بنی رہیں گی۔

ہم خیر اور شر کے ان دونوں راستوں میں سے کس کا انتخاب کرتے ہیں یہ ہم سب کی آزادانہ چوائس ہے اور نتیجتاً ہماری کامیابی یا ناکامی بھی ہمارے اختیار میں ہے کہ جس پر ہم کسی دوسرے کو بلیم نہیں کر سکتے۔۔

سو ہر کسی کا اپنا اپنا نقطہ نظر ہے، اپنا اپنا طرزِ عمل اور اپنا اپنا بدلہ۔۔۔

کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھاتی۔

سورہ النجم (38)

عدنان

09/04/2026

تو نے رہنا تو یہیں ہے میرے دل کے اندر
میرا مطلب ہے جدا ہونے سے کیا ہونا ہے

ساجد رحیم

06/04/2026
06/04/2026

بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے (1)
------------------------------------------------

بچپن میں عبادت ذوق و شوق سے کرتا تھا۔ جذبات سچے تھے، احساسات خالص تھے۔ سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہوا تھا کہ بڑا پوتا بھی اور بڑا نواسا بھی سو کہنے سے پہلے ہی ہر خواہش پوری ہو جاتی۔ سو خدا سے بھی بس محبت تھی، گلہ شکوہ کوئی نہیں۔

ٹین ایج آیا تو خدا سے کچھ گلے شکوے ہونے لگے۔ نتیجتاً محبت میں بھی کچھ کمی آ گئی۔ لیکن جو بھی تھا، جیسا بھی تھا کسی نہ کسی حوالے سے خدا سے جڑے رہنے کی کوشش کرتا تھا۔

تب رمضان المبارک کو ایک ایونٹ کی طرح منایا جاتا تھا۔ چاند رات کو جب مسجد میں لوگ معتکف حضرات کو مبارکباد دے رہے ہوتے، پھول پہنا رہے ہوتے تو دل کو بہت اچھا لگتا اور میں سوچتا کہ اگلے برس اعتکاف ضرور بیٹھوں گا مگر ہر برس کوئی نہ کوئی رکاوٹ آ جاتی۔

خیر ٹین ایج ختم ہوا تو خدا سے گلے شکوے شدت اختیار کر گئے۔۔ محبت کہیں کھو سی گئی اور عبادت کے نام پر صرف بیوپار باقی رہ گیا۔ مگر ان تمام
Transitions
میں بھی ایک چیز مستقل رہی اور وہ تھی حضور سے محبت اور عقیدت۔ اور اس کی ایک شکل "نعت" تھی۔ پہلے نعت کی محافل میں چلا جاتا تھا، نعت پڑھ بھی لیا کرتا تھا۔ لیکن جب خود شاعری کا شوق پیدا ہوا تو کبھی کبھار نعت کہنے بھی لگا۔

شاعری دو طرح سے ہو سکتی ہے۔

1.
آمد یعنی انسان کو کوئی خیال یا کوئی تصور تقریباً بنے بنائے شعر کی صورت میں عطا ہو جاتا ہے۔ اس شاعری کو
Effortless
کہہ سکتے ہیں۔

2.
کوئی بات ذہن میں تو آتی ہے لیکن اس بات کو شعر کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے اچھی خاصی
Effort
کرنی پڑتی ہے کہ شاعری نثر کی طرح آسان نہیں کہ کچھ بھی لکھ دیا۔ اور جو لوگ میری طرح "باقاعدہ" شاعر نہیں ہوتے، ان کو تو اس طرح کچھ لکھنے پر گھنٹوں اور کبھی کبھی تو کئی دن بھی لگ جاتے ہیں۔

میں نے دوسری قسم والی شاعری
2020
میں بوجوہ چھوڑ دی۔

نعت جب بھی لکھی، وہ پہلی صورت ہی تھی۔ دوسرے طریقے سے بعض دفعہ کوشش کے باوجود کبھی نعت کا ایک شعر بھی نہیں لکھ پایا۔ اور آخری نعت جو کہی تھی وہ رمضان المبارک
2019
میں کہی تھی

ہزاروں شہر ہیں لیکن مدینہ تو نہیں کوئی
یہاں جو سانس لیتا ہوں یہ جینا تو نہیں کوئی

عطاؤں کا سبب عدنان سے پوچھا تو وہ بولا
بس ان کی نعت کہتا ہوں، قرینہ تو نہیں کوئی

صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم

نعت کی محافل میں جانا کم ہوا تو یہ توفیق بھی چھن سی گئی۔۔ خیر زندگی غیر محسوس طریقے سے چلتی رہی۔

گزشتہ برس
2025
میں پہلی بار اعتکاف بیٹھا۔ اور یہ بھی خدا کی محبت میں نہیں تھا بلکہ اس لیے تھا کہ میں اس دنیا سے یا شاید اپنی ذات سے، اپنی امیدوں سے، اپنے اندیشوں سے کچھ وقت کے لیے فرار حاصل کرنا چاہ رہا تھا اور میری کیفیت کچھ ایسی تھی کہ
I wanted to sail away from here

سو ایسے میں مجھے اعتکاف ہی سمجھ میں آیا ورنہ شاید میرے لیے وہ وقت گزارنا بہت مشکل ہو جاتا۔

بہرحال خدا دلوں کا حال جانتا ہے۔ سو وہ جانتا تھا کہ اس کا بندہ اس کے پاس اس کی محبت میں نہیں بلکہ اپنے مسائل کی وجہ سے آیا ہے سو اس کے بعد تو خدا سے برائے نام رابطہ بھی تقریباً ختم ہو کر رہ گیا۔ حتی کہ اس برس رمضان المبارک کا بھی پتا نہیں تھا کہ آیا ہوا ہے۔

گویا سائر کورائی کے شعر والی حالت تھی

کیسا عجیب کرب ہے اک شخص کے لیے
رمضاں میں بھی خدا سے کوئی رابطہ نہیں

بس روبوٹ کی طرح سحری، افطاری، نماز، تراویح چل رہی تھی۔ لیکن پھر بھی کسی طرح ہمت کر کے دوسری بار اعتکاف بیٹھ گیا۔ یہ بھی خدا سے احساس محبت سے زیادہ گزشتہ برس کے احساس ندامت کے ازالے کے طور پر تھا۔ ندامت یہ کہ جن راتوں میں لوگ خدا سے خدا اور رسول کی محبت مانگتے ہیں، میں ان راتوں میں بھی کن باتوں میں الجھا ہوا تھا۔۔

اب اس برس گزشتہ برس کی کوتاہی کی تلافی ہو سکی یا نہیں، یہ تو خدا ہی جانتا ہے لیکن اس بار میرے لیے ایک اچھی چیز یہ ہوئی کہ تقریباً آٹھ برس کے بعد نعت کے کچھ اشعار عطا ہوئے اور خدا سے منقطع ہو چکا ہوا رابطہ لمحاتی طور پر ہی سہی مگر بحال تو ہوا۔
الحمدللہ ثم الحمدللہ۔

آقا ترے نام کے صدقے ریاضت ہو گئی
نعت کہنے اور سنانے کی روایت ہو گئی

اس خدا سے یہ تعلق ٹوٹنے ہی کو تھا جب
ہو گئی نعت اس ہی لمحے، پھر عبادت ہو گئی

ذہن الجھا، من ہے ڈوبا اور آنکھیں روئی ہیں
گرچہ چپ ہے یہ زباں لیکن شکایت ہو گئی

ٹوٹ کر بکھرا ہے دل، اب کوئی درماں ہی نہیں
زندگی سمجھا تھا جس کو وہ حکایت ہو گئی

دل جبیں کے سنگ گیا جھک آقا کے روضے پہ یوں
آنکھیں بند ہیں، میں یہیں ہوں اور زیارت ہو گئی

روضے پر میں ہاتھ باندھے پڑھ رہا ہوں نعت جو
صد شکر کہ آج مجھ پہ یہ عنایت ہو گئی

اک طرف اندھے عقل کے ڈھونڈتے پھرتے دلیل
دوسری جانب دیوانے، ان کو نسبت ہو گئی

پوچھتی ہے ایماں بارے دنیا کیا عدنان سے
وہ تو اتنا جانے، آقا سے محبت ہو گئی

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

عدنان
April 6, 2026
Mon, 0623 hrs

04/04/2026

اس شہر میں کس سے ملیں ہم سے تو چھوٹی محفلیں

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Reflections by AT posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share