Reflections by AT

Reflections by AT If we go down then we go down together.

"Wei Wu - the art of not forcing anything" ---------------------------AdnanThere are feelings so personal they dissolve ...
31/07/2026

"Wei Wu - the art of not forcing anything"

---------------------------

Adnan

There are feelings so personal they dissolve the moment you try to name them...

In Portuguese they say "suadade" like a deep nostalgic longing to be near again to something , someone that is distant.. and that has been loved deeply and then lost . But the love remains..

in Japanese they say
"Wabi - Sabi" mean .. the acceptable that nothing is perfect n permanent.. and finding a quiet beauty in that reality instead of fighting it..

And again, there is concept in Japanese named "ikigai" ... The quiet personal reason that makes life worth continuing... Even when no one is watching and nothing is being rewarded..

August 1, 2026
Sat - 0428 hrs
, tkr

24/07/2026

"نام"
--------------
--------------

مجھے اپنے نام "عدنان" سے محبت ہے۔۔ اسے آپ ایک طرح سے self obsession بھی کہہ سکتے ہیں (جو کہ بری بات ہے) ۔۔

مجھے بھول جانے کا دعویٰ اپنی جگہ
مرے نام پہ ترا چونکنا اچھا لگا

خیر ۔۔
جب AI نہیں تھی تو اپنے نام کے ڈیزائن بنانے میں بہت وقت ضائع کرتا تھا۔۔
میری کمپنی کا logo سکول کی کسی کاپی میں بنے ہوئے ڈیزائن سے inspired ہے۔۔

اچھا لگتا ہے ترا نام میرے نام کے ساتھ
جیسے کوئی صبح جڑی ہو کسی شام کے ساتھ

زندگی کے ہر دور کا فتور جدا ہوتا ہے۔۔ اب AI آنے کے بعد اتنے سے کام میں پانچ منٹ بھی نہیں لگتے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اب شوق نہیں رہا۔۔ کہ مجھے لگنے لگا ہے کہ ہمارے "نام" بھی برف پر لکھے ناموں کی مانند ہیں کہ جن کا کل "نشان" تک نہ ہو گا۔۔

یہ نام بھی وقت کے بیت جانے کے ساتھ ہی بیت جائیں گے۔۔ کہیں ہوا میں تحلیل ہو کر کھو جائیں گے۔۔

سوچ کے میں جس کو ہنس لیتا ہوں
اتفاق تھا، اک مذاق تھا، ترا مرا نام

عدنان
July 24, 2026
Fri - 2329 hrs
, Lhe

15/07/2026

وابستگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈگری کے بعد مختلف ریفرنسز کے ذریعے
2021 میں دبئی
2022 میں آسٹریلیا
2023 میں سعودی عرب
اور
2024 میں قطر
جاب کے لیے جانے کے آپشنز جب میں نے ٹھکرائے تو مجھے لوگ بیوقوف کہتے تھے کہ لڑکے پاکستان سے جانے کے لیے بے چین رہتے ہیں اور تم ہو کہ گھر آئے مواقع چھوڑ کر رب کی نعمت کی ناشکری کر رہے کو۔۔

They laugh at me because I'm different.. I laugh at them because they are all the same..

ان لوگوں کا مجھے کہنا تھا پاکستان میں رکھا ہی کیا ہے، باہر جا کے سیٹل ہو جاؤ سکون سے ورنہ یہاں زندگی بھر ذلیل ہوتے رہو گے کیونکہ تم کہتے ہو کہ تم نے سرکاری نوکری بھی نہیں کرنی۔۔ پھر آخر کرنا کیا ہے؟؟

خیر بات یہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز کی ایک کاسٹ ہے۔ کچھ پانا ہے تو کچھ کھونے کی قیمت پر۔۔

ملک کوئی بھی ہو، وہاں رہنے کے اگر بہت سے فوائد ہوتے ہیں تو ساتھ بہت سے نقصانات بھی۔ فی الوقت ان پر گفتگو مقصود نہیں۔

فی الوقت تو صرف اک احساس کو بیان کرنا ہے۔۔

آج جبکہ فیملی ملتان میں خوشی کے کچھ لمحات منا رہی ہے تو میں لاہور میں موبائل کی سکرین پر ان کے خوش ہونے کی بیسیوں ویڈیوز دیکھ دیکھ کر یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر تب میں غیر ملک چلا گیا ہوتا تو کیا وہاں کے تمام تر فوائد مل کر بھی اس احساس کا متبادل ہو سکتے کہ جو احساس مجھے اب اپنوں کے بیچ یہاں پاکستان میں ہوتے ہوئے ہو رہا ہے؟؟

نہیں ۔۔
شاید کبھی نہیں۔۔

صد شکر کہ مجھے کبھی اپنے فیصلوں پر ملال نہیں ہوتا۔۔

عدنان

July 15, 2026
Wed - 2348 hrs

14/07/2026

یہ تم جو مجھ سے محبت کا مول پوچھتے ہو
تمہیں یہ کس نے کہا پیڑ چھاؤں بیچتے ہیں

عباس تابش

فیس بک کے میموریز فیچر نے ابھی یہ شعر یاد کروایا۔۔

شاعری اپنی جگہ لیکن یہ دنیا ہے اور یہاں ہر چیز کی ایک قیمت ہے۔۔ محبت کی بھی اور چھاؤں کی بھی۔۔ یعنی کچھ بھی بیچا جا سکتا ہے۔۔ مطلب کچھ بھی خریدا جا سکتا ہے۔

عدنان

July 15, 2026
Wed - 0119 hrs

خود دل سے دل کی بات کہی ۔۔۔ اور----------------------- عدنان اس "دانے پانی" کی کہانی عجب گورکھ دھندہ  ہے۔۔ سمجھ نہیں آتی...
02/07/2026

خود دل سے دل کی بات کہی ۔۔۔ اور

-----------------------

عدنان

اس "دانے پانی" کی کہانی عجب گورکھ دھندہ ہے۔۔ سمجھ نہیں آتی ۔۔

الحمدللہ ابھی کیریئر کی صورتحال یہ ہے کہ
جس ملٹی نیشنل کمپنی میں گزشتہ دو برس سے جاب کر رہا ہوں، وہاں اس برس اپ گریڈ متوقع ہے۔۔۔۔۔
اور ایک دوسری جگہ سے بھی آفر زیرِ غور ہے کہ جو اس کمپنی سے ہر لحاظ سے بہتر لگ رہی ہے۔۔۔۔

اور ایک کمپنی جس نے مجھے چند برس پہلے ایک طرح سے ڈسکارڈ کر دیا تھا، اسی کمپنی کا سی ای او مجھے ملنے کے لیے آنا چاہتا ہے۔۔۔
ایک ایکس ٹیم لیڈ نے اپنے ساتھ ریموٹ لی اٹیچ ہونے کی آفر دی ہے، وہ بھی اچھا آپشن لگ رہا۔
اور سب سے پہلی کمپنی کے وہ لوگ جو میری پیٹھ پیچھے کہا کرتے تھے کہ عدنان بیوقوف ہے، مغرور ہے کہ جو صرف اپنی انا (میرے لیے عزت نفس) کے لیے جاب چھوڑ کر جا رہا ہے اور وہ بھی بغیر بیک اپ کے۔۔۔ اب انہی جیسے لوگ وقتاً فوقتاً رابطہ کر کے بالواسطہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ان کی بھی کہیں سیٹنگ بنوا دوں ۔۔ الحمدللہ ۔۔

میں اپنی زندگی کے ہائز لوز کبھی بھی پبلک میں شیئر نہیں کرتا۔ جتنا بھی میں یہاں لکھتا ہوں وہ
Out of experience
ہوتا ہے۔۔۔ نہ کہ
About experience.

فی الحال یہ جتنی چیزیں اوپر لکھیں، انہیں بھی میں اپنی اچیومنٹ نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک طرح سے اپنی پروفیشنل منزل کی جانب سفر کی ابتدا کہہ سکتا ہوں کہ اب ڈائریکشن کسی حد تک کلیئر ہے۔ راستے تو مقدر ہیں، باقی منزل خدا جانے۔۔

لیکن آج یہ سب کچھ بلا واسطہ لکھنے کے دو مقاصد ہیں

ایک
تو میں اپنے آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں اگرچہ منزل ابھی بہت دور ہے لیکن جہاں اتنی مسافت طے ہوئی ہے، وہیں باقی بھی طے ہو جائے گی۔۔

چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ💙

دوسرا
جو لوگ ابھی کیریئر شروع کر رہے ہیں، وہ آئے روز میڈیا پر دکھائی جانے والی (اکثر نام نہاد) سکسس سٹوریز کو دیکھ کر خود کو کم تر سمجھنے لگتے ہیں ۔۔ کہ شاید وہ دنیا سے پیچھے رہ گئے ہیں، یا شاید ان میں اہلیت نہیں ہے، یا کوئی کمی ہے، یا پراگریس لینیئر ہوتی ہے جیسی اور دوسری بہت سی غلط فہمیوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔۔ ان جونیئرز کے لیے کہ آپ نے بس گھبرانا نہیں ہے 😄
ہوتا ہے، چلتا ہے، دنیا ہے۔۔

There is a time for everything
A time to cry, a time to laugh..

Once upon a time

اپریل 2024۔۔
کیریئر کا انتہائی اہم مگر کسی حد تک ایک پیسو فیز چل رہا تھا۔ ایک بڑی کمپنی سے بظاہر چھوٹی سی بات پر سائٹ انجینئر کی جاب چھوڑ چکا تھا۔ گورنمنٹ جاب کے لیے میں کبھی بنا ہی نہیں ہوں سو اس طرف تو کبھی دل سے گیا ہی نہیں مگر دو ٹینڈر پراسس ہی دیکھنے کے بعد ہی (یہ بھی الگ کہانی ہے) یہ اندازہ بھی بخوبی ہو چکا تھا کہ میں نے گورنمنٹ پروجیکٹس کے لیے بھی شاید کمپیٹیبل نہیں ہو سکوں گا یا پھر خود کی بہت فورس کرنا پڑے گا اور میں ٹھہرا قدیم جاپانی فلسفے
Wei wu
کا قائل۔۔ سو وہ آپشن بھی ختم ہو گئی۔۔

اسی دوران میں ایک سینئیر پر اعتماد کر کے ایک سٹارٹ اپ اس دن چھوڑ دیا، جس دن اس کی اوپننگ تھی اور جو ابو نے میرے لیے ہی شروع کرنے کا سوچا تھا بلکہ شروع کیا تھا۔۔ مگر میں لاہور چلا آیا ۔۔ یہ ستمبر 2023 کی بات ہے۔

اور چند مہینوں بعد دسمبر 2023 میں ہی

پہلے میرے پائیں پاؤں پر لگنے والے زخم (کہ جس کا نشان اب بھی باقی ہے) اور بعد میں وڈا ابو کی طبیعت خرابی اور وفات کے سبب بہت اریگولر رہنے اور کمپنی کی (اور ان سے زیادہ خود اپنی بھی) توقعات پر پورا نہ اتر پانے کے سبب انہوں نے ایک طرح سے ڈسکارڈ ہی کر دیا (گو کہ مجھے ان سے کوئی گلہ نہیں ہے کہ جب مرد بوجھ ہوں تو انہیں ان کے اپنے اون نہیں کر پاتے اکثر۔۔ پھر کمپنی کی تو بات ہی کیا کرنی۔۔)

تبھی قطر کی آپرچونیٹی آئی کہ پلاننگ انجینئر کے طور پر چلا جاؤں ۔۔ اگرچہ پہلے میں ڈگری کے بعد 2021 میں دبئی اور 2022 میں آسٹریلیا جانے کا آپشن بائی چوائس ٹھکرا چکا تھا۔۔ لیکن تب حالات کے پیش نظر مجبوراً کہیں نہ کہیں یہ سوچ رہا تھا کہ قطر چلا ہی جاؤں۔۔ مگر تب تک کوئی بھی ڈاکومنٹ اٹیسٹ ہی نہیں کرایا تھا کہ پاکستان کو چھوڑ کر جانے کا کبھی بھی ارادہ تھا ہی نہیں۔

سو پراسس کے لیے ملی ایک مہینے کی ڈیڈ لائن میں پاسپورٹ تو کسی طرح ارجنٹ ارینج ہو گیا اگرچہ تب ان کا بھی شارٹیج چل رہا تھا مگر اٹیسٹیشن کا طویل پراسس کہ پہلے بورڈ ، پھر آئی بی سی سی ، پھر یونیورسٹی ، پھر ایچ ای سی، پھر فارن آفس وغیرہ اس وقت میں مکمل نہ ہو سکا۔ وہ موقع تو چلا گیا مگر تب میں نے سوچا کہ ون فار آل ساری ڈاکومنٹس اٹیسٹ کرا لیتا ہوں ۔۔ دوبارہ ضرورت پڑ گئی تو نئے سرے سے بھاگ دوڑ کرنی پڑے گی۔۔

یہ ایگزیکٹلی اپریل 2024 کی بات ہے ۔

ان دنوں یو ای ٹی لاہور گیا ہوا تھا اٹیسٹیشن کے لیے۔۔ اسی دوران ایک یونیورسٹی فیلو نے پلاننگ انجینئر کے لیے واٹس ایپ پر ایک پوسٹ شیئر کی۔ میں نے اس سے (صرف) انٹرویو ارینج کرانے کے۔ کیے کہا مگر جوابا" اس کے لہجے اور کہے گئے الفاظ سے بہت دکھ پہنچا۔۔ (دوبارہ اس یونیورسٹی فیلو کبھی کسی بھی سلسلے میں رابطہ کیا اور نہ کبھی کروں گا)۔۔

میں لنکڈ ان چلاتا ہی نہیں ہوں، بس
پروفیشنل پریزنس کے لیے اکاؤنٹ ایک دوست نے بنا کر دیا تھا، اب بھی وہی مینیج کرتا ہے اسے، اس کی آپٹیمائزیشن وغیرہ۔۔۔ میں بس کبھی کبھار میسجز دیکھ لیتا ہوں یا کچھ لائک شائک کر دیا بس۔۔ یہ بھی اتفاق ہے کہ جس کلاس فیلو کے پاس پنجاب سوسائٹی میں میں رکا تھا، جب وہ سرکاری جاب چھوڑ کر لاہور جاب تلاش کر رہا تھا، تب وہ میرے پاس پیراگون سوسائٹی میں رکا تھا۔ جس دن اس کی جاب ہوئی تھی، اسی دن میری جاب وہاں سے ختم ہوئی تھی۔۔ اس رات اتفاق سے لنکڈ ان اوپن کیا تو جس کمپنی میں میرا وہ کلاس فیلو کام کر رہا تھا اسی کمپنی میں پلاننگ انجینئر کی پوسٹ شیئر ہوئی تھی۔ سو اگلی صبح وہاں چلا گیا۔

وہاں میڈم نے مجھے کہا کہ میں نے شاید ڈیٹ نہیں دیکھی۔ پلاننگ انجینئر تو وہ پچھلے ہفتے ہی ہائر کر چکے ہیں۔۔ یہ ایڈ تو پرانا ہے۔۔ میں واپس آنے کے لیے اٹھا ہی تھا کہ میڈم میری سی وی دیکھ کر مجھے کہنے لگیں کہ اگر میں انٹرسٹڈ ہوں تو پلاننگ کے بجائے ایسٹیمیٹنگ کی فیلڈ میں میرا انٹرویو ارینج کرا سکتی
ہیں۔۔ دراصل میں نے ایسٹیمیٹنگ سے ریلیٹڈ سافٹ ویئر بھی اپنی سی وی میں مینشن کر رکھے تھے جس میں تب میں اگرچہ بگنر لیول پر تھا (دو برس بعد وہ اب میرے لیے ایک پرائمری فیلڈ بن گئی ہے)
اس کا مطلب تھا دوبارہ سکریچ سے آغاز ۔۔ سادہ لفظوں میں کہوں تو کے ایس کے میں اک پروجیکٹ تھا جس کی کنسلٹینسی میں مجھے اسسٹنٹ ریزیڈنٹ انجینئر کی آفر ملی ہوئی تھی۔۔ جو ہماری فیلڈ میں بہت اچھی سمجھی جاتی تھی اور ایم ایس سی انجینئر کو بھی اس کے لیے پانچ سال لگتے ہیں ۔۔ مجھے بی ایس سی انجینئر ہوتے ہوئے بھی صرف تین سال کے ایکسپیرئنس پر ہی مل رہی تھی سو وہ ایک طرح سے کفران نعمت تھا۔۔
نجانے دل میں کیا آیا کہ اسے ہاں کہہ دیا۔ (ابو اور چاچو کی مرضی کے خلاف ۔۔ میں ایسے ہی فیصلے ہوں) 😄

As quaid said that he just take a decision and make it right..

میڈ نے اپنا نمبر دیا اور شام کو آنے کا کہا کہ ایچ او ڈی تب آئے گا۔

میں شام کو انٹرویو کے لیے گیا۔ کمپنی میں پہلے سے کام کرنے والے کلاس فیلو نے ہر ممکنہ سوال کا "درست" جواب سمجھا کر بھیجا تھا کہ وہ یہ یہ پوچھیں گے اور میں نے یہ یہ کہنا ہے کہ کمپنیوں کا ایک فکس کلچر اور کام کا پیٹرن ہوتا ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔ میں نے دورانِ انٹرویو کلاس فیلو کے جوابات کے برعکس "صاف صاف" جوابات دے دیے۔۔ ایچ او ڈی نے مجھے کہا کہ آپ جاؤ، آپ کے لیے ایچ آر کو میسج کر دیا ہے وہ آپ کو انفارم کر دے گی۔۔ میں نے ایچ آر سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس کو میرے بارے کوئی نوٹیفیکیشن نہیں آیا ۔۔ مجھے لگا کہ ایچ او ڈی نے میرا دل رکھنے کے لیے مجھے بول دیا ہو گیا، میرے جوابات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے کون سا مجھے رکھنا ہے (دو دن پہلے لاہور کی اسی فیلڈ کی دوسری کمپنی میں میں اسی جیسے جوابات کی وجہ سے جاب حاصل نہیں کر پایا تھا۔۔ یہ بھی ایک کہانی ہے خیر) تو دوبارہ ایچ او ڈی سے ملنے کے بجائے میں سیدھا ملتان آ گیا۔

اسی شام ایچ آر کی کال آ گئی کہ کب جوائننگ کر سکتا ہوں میں؟ یہ 25 اپریل 2024 کی بات ہے۔ میڈیم کو ہفتے بعد جوائننگ کا کہہ دیا اور اپنے آپ سے کہا کہ یہاں ایک برس سے زیادہ کام نہیں کرنا۔۔ یعنی اپریل 2025 تک۔۔ اس ایک برس میں میکسیمم سیکھ کر کسی اور جگہ سوئچ کر جانا ہے۔۔ وجہ یہ تھی کہ تین کمپنیوں میں کام کر کے مجھے دو باتوں کا احساس تو ہو ہی چکا تھا۔۔

پہلی جہ کہ
20s
کے سال سیٹل ہونے کے نہیں بلکہ کام کے ہوتے ہیں۔ اس میں لڑکوں کو کمفرٹ زون میں بالکل نہیں جانا چاہیے جیسے پہلی پہلی جاب کے دوران میں چلا گیا تھا۔۔

اور دوسری یہ کہ
آپ کمپنی کے کام کو اپنا کام سمجھ کر بھی کریں، لمبے عرصے تک بھی کریں، تب بھی وہ آپ کو آپ کے ذرا سے بھی ان پروڈکٹو ہونے کی صورت میں کبھی اون نہیں کرتی بلکہ ڈسکارڈ کر دیتی ہے۔۔

سو ہفتے بعد لاہور چلا گیا۔۔ جوائننگ دی اور ساتھ ساتھ ایک کلاس فیلو اور اس کے کولیگ کے ساتھ مل کر ایک سٹارٹ اپ کے لیے بھی پیرالل کام کرتا رہا مگر ایک دوست کی وجہ سے اس کلاس فیلو اور کولیگ (پوٹینشیل بزنس پارٹنرز) سے لڑ پڑا۔۔ مجھے جاننے والے جانتے ہیں کہ میرے لڑ پڑنے کا کیا مطلب ہے سو چند لمحات میں ہی وہ بزنس تعلق بالکل ختم کر دیا۔۔ یعنی وقت اور انرجی کی صورت میں کی ہوئی انویسٹمنٹ زیرو ہو گئی۔۔ وہ دونوں مجھ سے الگ ہو گئے اگرچہ وجوہات اور بھی تھیں، بظاہر یہ وجہ بن گئی ۔ یہ 31 اگست 2024 کی بات ہے۔۔

وقتی طور پر دھچکا لگا مگر ایسے چھوٹے موٹے حادثے اب میرا کچھ نہیں بگاڑ پاتے۔۔ اور ایسے لوگوں کے متعلق خصوصا" پروفیشنل معاملات میں اب میرا تو اس شعر والا حال ہو چکا ہے

جدا ہوئے ہیں بہت لوگ ایک تم بھی سہی
اب اتنی بات پہ کیا زندگی حرام کریں

سو تھوڑا بہت ایموشنل ڈیمج ہوا مگر جلد ہی میں واپس اپنے ٹریک پر آ گیا۔۔
اور
خود کو خود کی ڈیڈ لائن یاد کرائی
کہ
اپریل 202
تک ہر صورت اس نئی جگہ (جو اب میرے لیے نئی نہیں رہی) سے نکلنا ہے۔۔ سو دوبارہ قائد کے فرمان "کام ، کام اور بس کام" کے مطابق کام پر لگ گیا۔۔
Best employee of the year
ملا۔

اسی دوران یونیورسٹی کے دو دوست میرے پاس فلیٹ پر ہی آ گئے جو میرے لیے اور اچھا ہو گیا۔۔

پہلے والے سٹارٹ اپ میں میں محض چند پرسنٹ کا ایک پارٹنر تھا مگر اب کی بار سکول کے ایک دوست کی تحریک سے خود کے کام کے لیے ہی کام شروع کر دیا۔۔ حتیٰ کہ نام ، نشز، لوگو، ویب ڈیزائن وغیرہ کے لیے آفس کے بعد بھی گوگل میٹ پر دوست کے ساتھ بیٹھا رہتا۔۔۔ 2024 کے اختتام تک سب میری سوچ سے بھی بہترین جا رہا تھا اور میں اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کے بے حد قریب آ چکا تھا۔۔ ابتدائی رزلٹس آنا شروع ہوئے تھے تو سوچ رہا تھا کہ اپریل سے پہلے ہی جاب چھوڑ دوں گا۔۔

انسان ہواؤں میں اڑنے لگے تو اس کو واپس زمین پر پٹخنے کا انتظام کر دیتی ہے۔۔
Life has its own ways to humble you..

پھر 2025 کے ابتدائی مہینوں میں کچھ ایسا ہوا کہ میں بکھر کر رہ گیا۔ اور نتیجتاً یہ سب کچھ بھی۔۔

جن کاموں کی ڈیڈ لائن دنوں کی تھی۔۔ وہ مہینوں کے لیے پینڈنگ کر دیے۔۔ جو ریسورس ہائر کیے تھے، ان پر ٹیکنیکلی چیک رکھنے کی ذمہ داری میری تھی، نہیں رکھا سو وہ پراگریس گر گئی ۔ اپنے طور پر جو ہوم ورک جاری تھا، وہ رک گیا۔۔

2023 میں گھروں کی کنسٹرکشن کا کاروبار دوست کے ساتھ مل کر شروع کیا تھا۔۔ سال بھر ایک بھی یونٹ بن سکا نہ سیل ہوا۔

کینیڈا کے اک (پوٹینشیل پرمننٹ) کلائنٹ نے خود رابطہ کیا۔۔ اس کو کچھ مہینے پہلے میں نے اچھا کام کر کے دیا تھا اور مجھے کہہ رہا تھا کہ جاب چھوڑ کر اس کا کینیڈا والے پروجیکٹس دیکھوں۔ جب اس کے بار بار رابطے پر بھی رسپانس نہیں دیا تو وہ چلا گیا۔۔ اس نے مجھے لنکڈ ان سے بھی انفالو کر دیا۔۔

آؤٹ سورس کام ان دنوں میں نے بہت کیا۔۔ 18-20 گھنٹے تک بھی کام کرتا رہا کسی کسی دن تو۔۔اور کام بھی سکرین کمکے سامنے کہ جو ویسے ہی صحت کے حوالے سے آئیڈیل نہیں سمجھا جاتا۔۔ وہ بھی صرف ذہن کو مصروف رکھنے کے لیے ۔۔ اور کھانے پینے سمیت ہر طرح کی احتیاط کا دھیان رکھے بغیر ۔۔ جسم کی بھی برداشت کرنے کی ایک حد تھی سو ڈیڑھ دو مہینے بعد بالکل بس ہو گئی۔ ایک دن کوئی دوست فلیٹ پر نہیں تھا تو ایسا گرا کہ لگا بس آخری وقت آ پہنچا ۔۔ اک دوست کے ڈاکٹر والدین کو فون کر کے کنڈیشن بتائی اور ایمرجنسی میڈیسن پوچھیں۔۔ کسی طرح منگوا کر وہ کھائیں اور جیسے تیسے کر کے ملتان پہنچ گیا۔ وہاں ہسپتال ایڈمٹ رہا۔ حتی کہ پورا مہینہ واپس آفس تک نہیں جا سکا۔۔

ملتان یعنی گھر میں ایکس کوکیگ کی جانب سے بہت اچھی جاب آفر ملی ۔ رسپانس نہیں دیا۔۔

اک دوست لاہور نئی کمپنی بنا رہا تھا ، اس نے بلایا، نہیں گیا۔۔

آؤٹ سورس کام آتے رہے، انکار کرتا رہا، کلائنٹس نے رابطہ کرنا ہی چھوڑ دیا۔۔ نجانے کیا ہو گیا تھا مجھے۔۔ جون کا شعر ہے نا۔۔

بہت عجیب ہوں میں، اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
تو میرا حوصلہ دیکھ داد تو دے کہ اب مجھے
شوق کمال بھی نہیں خوف زوال بھی نہیں

یہی حال تھا گویا سانس لیتی چلتی پھرتی زندہ لاش یا پھر جیسے آٹو موڈ پر چلنے والا کوئی روبوٹ ۔۔

کسی کام میں دل لگتا ہی نہیں تھا۔۔

یہ ایک برس پہلے تقریباً مئی-جون۔جولائی کے دنوں کی ہی بات ہے۔۔

Time changes..

ہسپتال سے ڈسچارج ہوتے وقت ڈاکٹر صاحب نے سمجھایا کہ بندے دا پتر بن۔۔ زندگی نے مہلت دی ہے تو اپنے آپ کو دوبارہ مت آزما۔۔ اپنی حرکتیں ٹھیک کر ۔ ورنہ ڈاکٹر بھی ایک حد تک ہی مسیحائی کر سکتے ہیں۔۔

سو ٹھیک ہونے کے بعد جب تقریباً ڈیڑھ مہینے بعد دوبارہ لاہور گیا تو زندگی سے بھاگنے کی بجائے زندگی کا سامنا کرنے کا فیصلہ کر کے گیا تھا۔۔

زندگی مجھ کو تیرا پتا چاہیے
مجھ کو جینے کا ہھر حوصلہ چاہیے

کام ، آرام، کھانا پینا بہتر کیا۔۔

سائیکالوجی کو بطور ضرورت سمجھنا شروع کیا تو لوگوں کے رویے، ان کی باتیں، ان کے فیصلے سمجھ آنے لگے۔۔ مجھے احساس ہوا کہ اس دنیا میں میرے جیسے انسان کی ، بے ساختہ انسان کی کوئی جگہ نہیں ہے۔۔ جنہیں ہم اپنا سمجھ کر ان کے آگے ولنرایبل ہو جاتے ہیں، ان کی زندگیوں میں بھی نہیں ۔۔

اس ساری ٹرانزیش کے دوران خود کو فطرت کے قریب تر رکھنے کی بھی کوشش کی۔۔ سوشل اکاؤنٹس بند رکھے بلکہ فیملی اور تین چار دوستوں کے علاوہ باقی دنیا سے رابطہ تقریباً ختم ہی رکھا۔۔

Going through hell? Keep going.. (the only way to reach heaven)

Humans in the loop...

دسمبر 2025
کے اختتام تک میں خود میں ایک تبدیلی بہرحال لا چکا تھا۔۔ اس دنیا کو ، اس کی اپنی اور اس میں رہنے والے انسانوں کی تمام تر بدصورتی کے ساتھ قبول کر چکا تھا ۔

سو ہر کسی کے لیے جو آپٹیمسٹک عینک بچپن سے لگا رکھی تھی، وہ اتارنے کی کوشش کر رہا ہوں۔۔ دنیا کو دنیا کی نظر سے دیکھنا شروع کر رہا ہوں۔۔

Becoming someone i really hate- toxic.. becoming someone who "calculates" everything now even metaphysical things like love too..

لیکن اب جو ہے سو ہے۔۔ 2026 کے ساتھ ہی اپروچ کے لحاظ سے میں نے بھی گویا نیا جنم لیا ہے، تیسرا جنم۔۔

Fast forward 6 months..

ابھی وہ حالات ہیں جو شروع میں لکھے ۔۔ کہیں بھی اپلائی کیے بغیر تین آفرز ایٹ اے ٹائم۔۔ تینوں قابل غور ۔۔ مگر موجودہ کمپنی کے ساتھ دل کا جو تعلق بن گیا ہے بس وہ بیچ میں رکاوٹ بن رہا ۔۔ لیکن اب زیادہ تر پرانی ٹیم کے میمبرز رہے نہیں سو یہاں سے جانے کا ہی ارادہ ہے۔۔

مطلب کمپنی سوئچ کرنے والے آپشن پر غور کر رہا ہوں۔۔ اور اس جولائی کے اختتام تک بشرط زندگی بہت کچھ تبدیل کرنے کا ارادہ ہے۔۔

ارسلان احمد کے اشعار سے اختتام کرتا ہوں۔۔۔

کب سے بنتا جا رہا ہے دل مگر
یہ عمارت ڈھا ہی جاتا ہے کوئی

اپنے چہرے کی ضرورت آنکھ سے
خواب میں منوا ہی جاتا ہے کوئی

سیکھنا بالکل نہیں جب چاہتے
زندگی سِکھلا ہی جاتا ہے کوئی

Life will be getting major upgrades .. InShaAllah..

PS:

یہ تحرر کچھ 28 جون کے پس منظر میں لکھنی تھی ۔ کچھ تیس کو فلیٹ خالی کرنے کے نوٹس دینے کے بعد لکھی۔۔ کچھ رات کو شدید بارش ہوئی لاہور تب دفتر میں بیٹھے لکھی بریک میں کہ کھانا بعد میں کھانے گیا تھا۔۔ اور کچھ ابھی ملتان آتے ہوئے راستے میں لکھ رہا ہوں کہ آج ایک عرس میں شرکت کرنی ہے۔۔ گزشتہ برس جب عرس کے بعد محفل سماع تھی تو کچھ دلی مسائل کے سبب رو رہا تھا ۔ تب بھی بارش ہوئی تھی ۔

رات برسی ہے ساون کی پہلی بارش
بھیگے ہیں یادوں کے زرد پتے پھر سے

رات بھی لاہور ایک گھنٹے سے زیادہ بارش ہوتی رہی ہے۔۔ اس بارش کے ساتھ بھی عجب تعلق ہے۔۔ خیر اس پہ کیا کہوں ۔۔ ابھی آنکھیں تھک رہی ہیں، سر میں درد ہے سو باقی کا سفر آرام کرتا ہوں اب۔۔

Adnan

July 02, 2026
Thu - 0557 hrs
Somewhere @ M4

-----

Update: met ZH yesterday night for discussion..

July 12, 2026
Sun - 1139 hrs
@ Flat

28/06/2026

کبھی تجھ پہ کوئی بھی حق جتایا ہی نہیں میں نے
کہ تیرے میرے ہونے کا بھی شک مجھ سے نہ چھن جائے

میں اظہار, محبت تجھ سے کر تو دوں مگر عدنان
میں ڈرتا ہوں تجھے تکنے کا حق مجھ سے نہ چھن جائے

عدنان

June 28, 2026

21/06/2026

میں چاہتا ہوں دل بھی حقیقت پسند ہو
سو کچھ دنوں سے میں اسے بہلا نہیں رہا
عرفان ستار

21/06/2026

"آج کیوں تیری یاد آئی"
-----------------------------

چھٹی کی شب، یادِ رفتگاں، لاہور میں بارش
اور
بارش میں بھیگنا

یہ سب دل کی دھڑکن تیز کرنے کا سامان ہے
کہ
یہ سب مجھے میری سپرلیٹو ڈگری یاد دلا دیتا ہے۔۔

بارش کی بوندوں میں جھلکتی ہے تصویر تیری
آج پھر بھیگ بیٹھا تجھے پانے کی چاہت میں

عدنان

June 21, 2026
Sun - 2013 hrs

جواب دینا یا خاموش رہنا میرا ذاتی انتخاب تو ہو سکتا ہے لیکن بہت برسوں سے ایسا ہے کہ اب میں بہت کم کسی کے سامنے لاجواب ہو...
18/06/2026

جواب دینا یا خاموش رہنا میرا ذاتی انتخاب تو ہو سکتا ہے لیکن بہت برسوں سے ایسا ہے کہ اب میں بہت کم کسی کے سامنے لاجواب ہوتا ہوں۔۔

لیکن

ایک سوال کے سامنے میں واقعی لاجواب ہو چکا ہوں:

"کیا زندگی سے جانے والوں کی سزا زندگی میں رہنے / آنے والوں کو دینا جسٹیفائیڈ ہے؟"

عدنان

June 18, 2026
Thur - 2314 hrs
Raining @ Lhe

11/06/2026

"Love, diluted"
----------------------
Adnan

I’ve learned one thing in life - any kind of pure, unconditional attachment to this world always ends in pain..

So the safest way is to not attach to anything or anyone at all.... And if you have to attach, then keep a limit, add some 'impurity' or self-interest to it so you don’t get hurt..

I know this sounds toxic to some people, but it’s my truth.. and it is what it is.. and sooner or later you’ll agree with me too. Because everyone learn their lessons eventually..

وہ کتابوں میں درج تھا ہی نہیں
جو پڑھایا سبق زمانے نے

June 11, 2026
Thu - 2321 hrs

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Reflections by AT posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share