25/03/2021
آج کچھ سوال پاکستانی قوم سے کرنا چاہتا ہوں. جانتا ہوں اس پوسٹ کو اگنور ہی کیا جائے گا لیکن پھر بھی کرتا ہوں.
اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس نے ایک انسان کو قتل کیا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا.
اللہ کا حکم جاننے کے باوجود آپ کیسے کسی کی جان لے سکتے ہو.
آجکل تو قتل، ریپ، چوری وغیرہ کی نیوز فیس بک پر آ جاتی ہیں اور ہم حکومت کو کوسنا شروع کر دیتے ہیں لیکن اگر آپ نے سوشل میڈیا سے پہلے اخبار کا دور دیکھا ہو جب لوگ اخبار پڑھا کرتے تھے وہاں ایک حصہ کرائم کا ہوتا تھا وہاں پورا پیپر روزانہ ان نیوز سے بھرا ہوا ہوتا تھا.
حکومت تو چلو جو کرے گی سو کرے گی اور ایسے واقعات کوئی آج نہیں ہو رہے بلکہ ماضی بھرا ہوا ہے ان واقعات سے لیکن کیا ہم لوگ واقعی محمد عربی صل اللہ علیہ والہ وسلم کے امتی ہیں؟
قتل ہم کرتے ہیں،
زنا ہم کرتے ہیں،
چوری ہم کرتے ہیں،
رشوت ہم لیتے ہیں،
ہم جنس پرستی ہم کرتے ہیں،
ناپ تول میں کمی ہم کرتے ہیں،
دو نمبر اشیاء ہم خریدتے ہیں،
سود ہم کھاتے ہیں،
غرض ایسا کوئی گناہ نہیں جو ہم نہ کرتے ہوں.
میں اراکین اسلام کی بات نہیں کرتا کیونکہ اسکا جواب دہ انسان اللہ کو ہے اور لازمی بات ہے ایک انسان ہوتے کے ناطے اراکین اسلام پورے کرنے میں کوتاہی میں بھی کرتا ہوں. لیکن حقوق العباد کی معافی تو اللہ تب تک نہیں دیتا جب تک بندہ دوسرے بندے کو معاف نہ کرے.
کم سن بچے سرعام زنا کر رہے ہیں،
بازار کے حاجی صاحب سود کھاتے ہیں،
ناپ تول میں کمی کرتے ہیں،
ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں.
اس ملک میں چھوٹے بچوں کے ساتھ ریپ ہوتے ہیں کرنے والی یہی عوام ہے.
ان گناہگار افراد کے تحفظ کے لئے وکیل آتے ہیں جو کہ عوام ہیں، انکو بری عدلیہ کرتی ہے جو عوام کا حصہ ہیں،
پولیس جانتے ہوئے کیس درست نہیں بناتی،
ڈاکٹر جھوٹی میڈیکل رپورٹ بنواتے ہیں ۔
یہ سب عوام ہی تو ہیں اور انکو ایسا کرنے پر مجبور کرنے کا ملزم بھی تو عوام کا ہی حصہ ہے.
کیا ہم کو خوف خدا نہیں ہے؟
کیا ہم بھول چکے کہ مرنے کے بعد اس زندگی کا حساب دینا ہے؟
کیا اس ملک کا قاضی بھول جاتا ہے کہ یہاں کا قاضی تو وہی ہے لیکن مرنے کے بعد روز محشر جس ذات کے سامنے وہ پیش ہوگا وہ ذات جج ہوگا اور اسکا فیصلہ اٹل ہوگا وہاں نہ کوئی اپیل نہ کوئی review پٹیشن ہوگی.
سچ کہو تو جس دور میں ہم زندہ ہیں ہم سب کے اندر ایک مافیا ہے.
کسی کا مافیا چھوٹا کسی کا مافیا بڑا ہے.
لوگوں کی عزت اچھالنا ہمارا پسندیدہ کھیل ہے. واقعی یہ دور ایک فتنے کا دور ہے.
آپ اگر حقوق اللہ ادا کرنے والوں کو دیکھیں تو انہی کو جب حقوق العباد کیسے وہ ادا کرتے ہیں دیکھ جاو تو دل کرتا ہے یہ کس چیز کی عبادت کرتا ہے بندہ.
حقوق اللہ کے ساتھ خدارا حقوق العباد کی طرف آؤ.
اللہ اپنے حقوق معاف کر سکتا ہے لیکن حقوق العباد نہیں.
میں نے جتنی نمازیں ادا نہ کی ہوں اگر میں اللہ سے معافی مانگوں تو وہ زات مجھے معاف کر دے گی لیکن اگر میں حقوق العباد ادا نہیں کرتا تو معافی کی ایک ہی صورت ہے بندہ معاف کرے اور آپ تو جانتے ہیں ایک قول کہ اللہ معاف کر دیتا ہے لیکن بندہ معاف نہیں کرتا.
Ali Abbasi
بقلم علی عباسی.