25/01/2025
انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا جب سے آیا ہے محنت مشقت محبت سب کچھ کم ہوگیا ہے دوست احباب ہوں یا خاندانی مراسم کاروباری سیاسی تعلقات تمام تر معاملات و معمولات ڈیجٹلائزڈ ہوگئے ہیں۔
متحرک سے متحرک شخص بھی سست کاہل ساکن اور غلط انفارمیشن سے مفلوج معلق ہوگیا ہے مکمل صیغہ حاضر غائب ہوگیا ہے
جیسے جیسے روزمرہ زندگی میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوتی گئیں ویسے ویسے ہر شعبہ اور ہرمکتب فکر کے لوگوں میں بھی سہل مزاج تبدیلی اتی گئی ویسے ویسے سیاست جیسا فعال متحرک میدان عمل بھی اپنا رنگ ڈھنگ خدوخال تعارف و تعریف بدل رہا ہے
جہاں نظام تعلیم درس تدریس کالج یونیورسٹی کے بڑے بڑے ریسرچ لیکچرز کلاسز اور سیمنار جیسے طویل فاصلوں اور وقت سے ازاد ہوکر ایک ویڈیو پر اگئے ہیں وہاں سینکڑوں صفحات پر مشتمل کتابیں،مقالے فائلوں سے بھری الماریاں اور لمبے پھلندے ایک PDF فائل پر اگئے ہیں
وہاں میدان سیاست کے کھلاڑی و لکھاری بھی ڈیجٹلائزڈ ہوگئے ہیں اب جلسہ جلوس صرف پاور شو یا پولیٹیکل انٹرٹینمنٹ بن گیا ہے ورنہ جس پیغام کو سننے لوگ میلوں فاصلے طے کرتے اب گھر بیٹھے ٹی وی موبائل سکرین پر سن دیکھ سکتے ہیں اور سمجھ بھی سکتے ہیں بلکہ انٹرنٹ کے زریعہ زوم،ٹویٹر سپیس اور آنلائن ویڈیو کال کانفرنس میٹنگ ویبنار سیمنار سب کچھ ہوسکتا ہے۔۔
اب ضرورت ہے تبدیلی کی قبضہ مافیا کی توڑ کی تنظیمی ڈھانچہ کی مکمل ٹرانسفارمیشن کی دلچسپی کی سیاسی سمجھ بوجھ کی سنجیدہ ذمہ داری کی منظم مربوط ٹیم ورک کی مخلص فعال وفادار تنظیمی انتظامی ڈھانچے کی سیاسی قابلیت صلاحیت کی حامل مالی اور نظریاتی طور مستحکم بہادر بردبار اور بااختیار صوبائی قیادت کی
جو پارٹی جھنڈا پارٹی پروگرام پیغام منشور ویژن اور مشن گھر گھر پہنچائے اور پارٹی کا اثاثہ "جینین" اور حقیقی کارکن کو یکجا کرکے ساتھ چلائے مزید بڑھائے ہرطرف پھیلائے اور جیالا روح پھونک کر سیاسی ساکھ بہتر بنائے
یہ خواہش نہیں سینیارٹی نہیں قربانی کا دعوہ نہیں نئے پرانے قبول مقبول خانہ پری نہیں بلکہ یہ زندہ اور جاندار سیاسی پروگرام ہے اسکو چلانے کےلئے ہر سطح پر خاص خصوصیات اور صلاحیتوں سے لیس فعال سیاسی بندہ چاہیئے۔