PPP Thinkers Forum

  • Home
  • PPP Thinkers Forum

PPP Thinkers Forum Official page

انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا جب سے آیا ہے محنت مشقت محبت سب کچھ کم ہوگیا ہے دوست احباب ہوں یا خاندانی مراسم کاروبا...
25/01/2025

انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا جب سے آیا ہے محنت مشقت محبت سب کچھ کم ہوگیا ہے دوست احباب ہوں یا خاندانی مراسم کاروباری سیاسی تعلقات تمام تر معاملات و معمولات ڈیجٹلائزڈ ہوگئے ہیں۔

متحرک سے متحرک شخص بھی سست کاہل ساکن اور غلط انفارمیشن سے مفلوج معلق ہوگیا ہے مکمل صیغہ حاضر غائب ہوگیا ہے

جیسے جیسے روزمرہ زندگی میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوتی گئیں ویسے ویسے ہر شعبہ اور ہرمکتب فکر کے لوگوں میں بھی سہل مزاج تبدیلی اتی گئی ویسے ویسے سیاست جیسا فعال متحرک میدان عمل بھی اپنا رنگ ڈھنگ خدوخال تعارف و تعریف بدل رہا ہے

جہاں نظام تعلیم درس تدریس کالج یونیورسٹی کے بڑے بڑے ریسرچ لیکچرز کلاسز اور سیمنار جیسے طویل فاصلوں اور وقت سے ازاد ہوکر ایک ویڈیو پر اگئے ہیں وہاں سینکڑوں صفحات پر مشتمل کتابیں،مقالے فائلوں سے بھری الماریاں اور لمبے پھلندے ایک PDF فائل پر اگئے ہیں

وہاں میدان سیاست کے کھلاڑی و لکھاری بھی ڈیجٹلائزڈ ہوگئے ہیں اب جلسہ جلوس صرف پاور شو یا پولیٹیکل انٹرٹینمنٹ بن گیا ہے ورنہ جس پیغام کو سننے لوگ میلوں فاصلے طے کرتے اب گھر بیٹھے ٹی وی موبائل سکرین پر سن دیکھ سکتے ہیں اور سمجھ بھی سکتے ہیں بلکہ انٹرنٹ کے زریعہ زوم،ٹویٹر سپیس اور آنلائن ویڈیو کال کانفرنس میٹنگ ویبنار سیمنار سب کچھ ہوسکتا ہے۔۔

اب ضرورت ہے تبدیلی کی قبضہ مافیا کی توڑ کی تنظیمی ڈھانچہ کی مکمل ٹرانسفارمیشن کی دلچسپی کی سیاسی سمجھ بوجھ کی سنجیدہ ذمہ داری کی منظم مربوط ٹیم ورک کی مخلص فعال وفادار تنظیمی انتظامی ڈھانچے کی سیاسی قابلیت صلاحیت کی حامل مالی اور نظریاتی طور مستحکم بہادر بردبار اور بااختیار صوبائی قیادت کی

جو پارٹی جھنڈا پارٹی پروگرام پیغام منشور ویژن اور مشن گھر گھر پہنچائے اور پارٹی کا اثاثہ "جینین" اور حقیقی کارکن کو یکجا کرکے ساتھ چلائے مزید بڑھائے ہرطرف پھیلائے اور جیالا روح پھونک کر سیاسی ساکھ بہتر بنائے

یہ خواہش نہیں سینیارٹی نہیں قربانی کا دعوہ نہیں نئے پرانے قبول مقبول خانہ پری نہیں بلکہ یہ زندہ اور جاندار سیاسی پروگرام ہے اسکو چلانے کےلئے ہر سطح پر خاص خصوصیات اور صلاحیتوں سے لیس فعال سیاسی بندہ چاہیئے۔

‏سُن سُن کر کان پک گئے ہیں کہ عمران خان نے سسٹم کو ننگا کر دیا۔‏اسٹیبلیشمنٹ کو ننگا کرگیا۔‏نون لیگ کو ننگا کرگیا‏پیپلز پ...
24/01/2025

‏سُن سُن کر کان پک گئے ہیں کہ عمران خان نے سسٹم کو ننگا کر دیا۔
‏اسٹیبلیشمنٹ کو ننگا کرگیا۔
‏نون لیگ کو ننگا کرگیا
‏پیپلز پارٹی ننگی ہو گئی
‏فضل الرحمن ننگا ہو گیا
‏لیکن
‏عمران خان نے ایک شادی شدہ خاتون سے ناجائز تعلقات رکھے اور پھر اسے شوہر سے طلاق دلوا کر خود شادی کر لی، وزارت عظمی کا منصب پا لینے کے بعد بھی نسیم زہرہ کی بہن اور عائلہ ملک سے فون پر سیکس کرتا ہے، رمل شاہ سے بھی تعلقات رکھے۔
‏لیکن وہ ننگا نہیں ہوا !!
‏قوم کو پہلی بار پتہ چلا کہ
‏عمران خان نے اپنی حکومت میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ لیا تھا، سب سے بڑا قرضہ لے کر کوئی ایک میگا پراجیکٹ مکمل نہیں کیا، حتی کہ کوئی ہسپتال اور یونیورسٹیاں تک نہیں بنائیں،
‏لیکن وہ ننگا نہیں ہوا !!
‏آئی ایم ایف سے تاریخ کا بدترین معاہدہ کیا جس کی وجہ سے مہنگائی آج بھی نہیں تھم رہی، 52 ارب ڈالر قرضہ لے کر بھی قومی خزانے میں صرف 11 ارب ڈالر چھوڑے تھے جن میں سے بھی 9 ارب ڈالر سعودی عرب، چین اور یو اے ای نے رکھے ہوئے تھے، کرونا نہ آتا اور باقی ملکوں کی انڈسٹریاں بند نہ ہوتیں تو اسی دور میں ملک دیوالیہ ہوجاتا،
‏لیکن وہ ننگا نہیں ہوا !!
‏بیک وقت سعودی عرب، چین، امریکہ، یورپ، ترکی اور ملائشیا سے تعلقات بگاڑ لیے تھے، انڈیا نے کشمیر پر قبضہ کر لیا یہ جواب میں ہارن بجاتا رہا، ایران جاکر دہشتگردی کا اعتراف کر آیا، افغانستان بھاگے ہوئے تمام دہشتگردوں کو بغیر سرنڈر کروائے واپس لے آیا،
‏لیکن وہ ننگا نہیں ہوا !!
‏ملک کے بڑے بڑے فیصلے اپنی تعویز گنڈوں والی بیوی کی راہنمائی سے کرتا رہا جو فال، شگون اور کالے علم کی روشنی میں مشورہ دیتی رہی،
‏لیکن وہ ننگا نہیں ہوا !!
‏کے پی پر 9 سال میں اتنا قرضہ چڑھا دیا کہ وہاں اب سرکاری تںخواہیں اور پنشن دینے کے لالے پڑ گئے ہیں، ہر عہدے کے لیے بدترین شخص کا انتخاب کیا، غرض ہر لحاظ سے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا،
‏لیکن وہ ننگا نہیں ہوا !!
‏قوم کو پہلی بار پتہ چلا کہ
‏عمران خان وزیراعظم ہاؤس سے صرف ڈائری لے کر نہیں نکلا تھا بلکہ پورا توشہ خانہ بھی سمیٹ کر لے گیا تھا اور کم از کم 20 ملین ڈالر کے تحائف چرائے، سکھوں نے سونے کا لوٹا دیا وہ بھی چرا لیا، ساتھ ہی وزیراعظم ھاؤس سے خفیہ دستاویز سائفر بھی لے گیا،
‏لیکن وہ ننگا نہیں ہوا !!
‏نواز شریف کی لندن مین 6 ملین پراپرٹی کا حساب مانگنے والے نے ملک ریاض کو اسی لندن سے وصول ہونے والے ثابت شدہ 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کی رقم آرام سے واپس بخش دی اور اس سے سوال تک نہیں کیا، بدلے میں ملک ریاض سے ہیرے زیورات اور سینکڑوں ایکڑ زمین اور اوپر بلڈنگ تحفتاً وصول کی،
‏لیکن وہ ننگا نہیں ہوا !!
‏اپنے حامی تاجروں میں 3000 ملین ڈالر ریوڑیوں کی طرح بانٹ دئیے جو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا کرپشن سکینڈل ہے، ایف بی آر کو ہدایت دی کہ شاہد محمود قریشی اور اسد قیصر کے زمینداروں سے ٹیکس وصول نہ کیا جائے،
‏لیکن وہ ننگا نہیں ہوا !!
‏عالمی اداروں نے رپورٹ کی کہ پاکستان میں کرپشن تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے،
‏لیکن وہ ننگا نہیں ہوا!
‏قوم کو پہلی بار پتہ چلا کہ
‏عمران خان انتہا درجے کا جھوٹا ہے،
‏انتہا درجے کا منافق ہے،
‏انتہا درجے کا توہم پرست ہے،
‏انتہا درجے کا کینہ پرور ہے،
‏اپنی کہی ہوئی باتوں سے پھر جانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا،
‏غلط فیصلے کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا،
‏انتہا درجے کا احسان فراموش ہے،
‏انتہا درجے کا فسادی ہے،
‏اور انتہا درجے کا متکبر ہے،
‏اقتدار کی ایسی ہوس ہے کہ کرسی کے حصول کے لیے پورے ملک کو داؤ پر لگا سکتا ہے،
‏لیکن وہ ننگا نہیں ہوا.

*۔۔۔۔ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮐﯿﺴﮯ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﮯ؟ ۔۔۔۔۔*ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﮯ ﮐﺎﺭﮐﻦ ﮐﻮ ﺟﯿﺎﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ، ﺟﯿﺎﻟ...
19/05/2023

*۔۔۔۔ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮐﯿﺴﮯ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﮯ؟ ۔۔۔۔۔*

ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﮯ ﮐﺎﺭﮐﻦ ﮐﻮ ﺟﯿﺎﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ، ﺟﯿﺎﻟﮯ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﮯ ﻧﻈﺮﯾﮯ ﮐﮯ ﭘﯿﺮﻭﮐﺎﺭ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﯿﺎﺳﺘﺪﺍﻥ ﺑﮩﺖ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﻟﯿﮉﺭ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ۔ ﻟﯿﮉﺭ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭘُﺮﺧﺎﺭ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﮐﻮ ﭼﻨﻨﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﺼﯿﺒﺘﻮﮞ، ﺻﻌﻮﺑﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺻﻮﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﮈﭦ ﮐﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﻨﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯﺟﺎﻥ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﺎ ﺟﺬﺑﮧ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﯿﻨﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺍٓﺧﺮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﻋﻮﺍﻡ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﺫﻭﻟﻔﻘﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﻮﻝ ﺳﮑﮯ؟ ﺍﺗﻨﯽ ﺩﮨﺎﺋﯿﺎﮞ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﮐﻮﺋﯽ ﻟﯿﮉﺭ ﻭﮦ ﻣﻘﺒﻮﻟﯿﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﺎ ﺟﻮ ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﻮ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮﺋﯽ ۔ ﺟﺐ ﺑﮭﭩﻮ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻻﮨﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﭘﯿﭙﻠﺰ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍٓﮔﺌﮯ۔ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﺟﺎﮔﯿﺮﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻔﮑﺮ ﺗﮭﮯ، ﺩﺍﻧﺸﻮﺭ ﺗﮭﮯ، ﭼﮭﻮﭨﮯ ﮐﺴﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﻏﺮﯾﺐ ﻟﻮﮒ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﮯ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺭﮐﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺷﮩﯿﺪ ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ’’ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﭩﻮ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﭩﻮ ﺍٓﭖ ﮨﯿﮟ ‘‘ ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﯾﮩﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻟﯿﮉﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟﻠﺴﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﺎ ﻣﯿﭩﻨﮕﺰ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻟﻮﮒ ﺑﺘﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻭ ﺭﮐﺮﺯ ﮐﻮ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﭘﺎﻟﯿﺴﯽ ﭘﺮ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﭘﻮﺭﯼ ﺍٓﺯﺍﺩﯼ ﺗﮭﯽ۔ ﺑﮭﭩﻮ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻭﺭﮐﺮﺯ ﮐﻮ ﺯﺑﺎﻥ ﺩﯼ، ﺍﭘﻨﺎ ﺣﻖ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﺷﻌﻮﺭ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﺮﻋﺎﻡ ﮐﮩﺎﮐﮧ ’’ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﺎ ﺳﺮﭼﺸﻤﮧ ﻋﻮﺍﻡ ﮨﮯ ‘‘ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﮯ ﺣﻖ ﮐﺎ ﺟﮭﻨﮉﺍ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻭﮦ ﻋﻮﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺋﮯ ﺗﻮﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﭘﯿﭙﻠﺰ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﻣﺰﺩﻭﺭﻭﮞ ﮐﯽ، ﮨﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﯽ، ﮐﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ، ﺍﯾﮏ ﺭﯾﮍﮬﯽ ﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﺑﻦ ﮔﺌﯽ۔ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﻧﮯ ﺷﮩﯿﺪ ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞﻨﮯ ﻣﻠﮏ ﮐﻮ 1973 ﺀ ﮐﺎ ﭘﮩﻼ ﺩﺳﺘﻮﺭ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻧﺌﮯ ﺑﻨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﻠﮏ ﮐﻮ ﺍﯾﭩﻤﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﮨﻤﻮﺍﺭ ﮐﯽ۔
ﭘﯿﭙﻠﺰ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﺎ ﭘﮩﻼ ﺍﻋﻼﻥ ’’ ﺍﺳﻼﻡ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺩﯾﻦ ﮨﮯ ‘‘ ﮐﻮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﺍﻭﺭﺑﮭﺎﺋﯽ ﭼﺎﺭﮮ ﮐﯽ ﺧﺎﺹ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﮈﺍﻟﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺟﺐ ﺑﻨﮕﻠﮧ ﺩﯾﺶ ﺑﻦ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﻮ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺳﻤﺠﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺩﻧﯿﺎﺋﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺳﺮﺑﺮﺍﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﺎﻧﻔﺮﻧﺲ ﮐﺎ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﻌﻘﺎﺩ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻭﮦ ﮐﺎﻧﻔﺮﻧﺲ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﺮﺑﺮﺍﮨﺎﻥ ﻣﻤﻠﮑﺖ ﻧﮯ ﺷﺮﮐﺖ ﮐﯽ۔ ﺟﺐ ﺍٓﺝ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻟﯿﮉﺭ ﺑﯿﺮﻭﻥ ﻣﻠﮏ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﻧﮑﺴﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭﻋﺎﺟﺰﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﺭﮨﻨﻤﺎﺋﻮﮞﮑﻮ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯﺍﻗﻮﺍﻡ ﻣﺘﺤﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﯽ ﺗﻘﺮﯾﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻭﺍﮎ ﺍٓﺋﻮﭦ ﯾﺎﺩ ﺍٓﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﺳﯿﺎﺳﺖ ﺩﺍﻥ ﺑﻨﻨﺎ ﺍٓﺳﺎﻥ ﮨﮯ ﻟﯿﮉﺭ ﺑﻨﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ۔ 15 ﺩﺳﻤﺒﺮ 1977 ﺀﮐﺎ ﺧﻄﺎﺏ ﻣﻼﺣﻈﮧ ﮐﺮﯾﮟ ’’ ﮐﯿﺎ ﺍٓﭖ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﻨﺪﻭﻕ ﺳﮯ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮐﺮﻭﺍﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﮐﯿﺎ ﺍٓﭖ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﻨﺪﻭﻗﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﭗ ﮐﺮﻭﺍ ﺳﮑﯿﮟ ﮔﮯ؟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮨﻢ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍٓﭖ ﺟﻮ ﭼﺎﮨﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍٓﭖ ﮐﺎﻓﯿﺼﻠﮧ ﮨﻢ ﭘﺮ ﻣﺴﻠﻂ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ۔ ‘‘
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍٓﺧﺮ ﻣﯿﮟ ’’ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﺎﺣﺼﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﻮﮞ ﮔﺎﮨﻢ ﻟﮍﯾﮟ ﮔﮯ ﮨﻢ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﯾﮟ ﮔﮯ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﻋﻮﺍﻡ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯿﮟ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻭﻗﺖ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮑﯿﻮﺭﭨﯽ ﮐﻮﻧﺴﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮﻭﮞ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮨﺘﮭﯿﺎﺭ ﮈﺍﻟﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﻮﮞ ﮔﺎ۔ ﯾﮧ ﺳﮑﯿﻮﺭﭨﯽ ﮐﻮﻧﺴﻞ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﻟﻮ۔ ‘‘ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺠﻨﮉﮮ ﮐﮯ ﮐﺎﻏﺬ ﭘﮭﺎﮌ ﮐﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﻟﯿﮉﺭﺯ ﮐﻮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﺮﮐﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﺍٓﺋﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻟﻤﯽ ﺳﺎﺯﺵ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﺍٓﻣﺮ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﮭﺎﻧﺴﯽ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﮩﺮﺍﻡ ﻣﭻ ﮔﯿﺎ۔ ﻭﻗﺖ ﻧﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﺎ ﻋﺪﺍﻟﺘﯽ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﻧﻌﺮﮮ ﻧﮯ ﺟﻨﻢ ﻟﯿﺎ ’’ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺳﻮﺭﺝ ﭼﺎﻧﺪ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ....... ﺑﮭﭩﻮ ﺗﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ۔ ‘‘
ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮐﯿﺴﮯ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﮯ؟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﮍﮬﯽ ﺧﺪﺍ ﺑﺨﺶ ﺍٓ ﮐﺮ ﻗﻄﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻗﺒﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺑﮭﭩﻮ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮﺑﯽ ﺑﯽ ﺗﮏ۔ ﺯﻧﺪﮦ ﻭﮨﯽ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺟﺎﻥ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔ ﺟﻮ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ ﺭﺍﺝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺯﻧﺪﮦ ﻭﮦ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﻠﮏ ﻭ ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻇﻠﻢ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺍٓﻭﺍﺯ ﺍﭨﮭﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺑﮭﭩﻮ ﺍﺱ ﻧﻈﺮﯾﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺟﺬﺑﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺍﻣﯿﺪ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺟﯿﺎﻟﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﺌﮯ، ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﻟﺌﮯ ﭘﮭﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﭙﺴﯿﺎ ﺭﺍﺋﯿﮕﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔ ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﮧ ﮨﻨﺪﻭ، ﻣﺴﻠﻢ، ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ، ﺳﺐ ﮐﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ، ﺍﻗﻠﯿﺖ، ﻏﺮﯾﺐ، ﮐﺴﺎﻥ، ﻣﺰﺩﻭﺭ، ﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﻖ ﮐﯽ ﺟﻨﮓ ﻟﮍﮮ ﮔﺎ۔ ﺟﺎﻥ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ۔ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺍﺳﯽ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﮩﺎﺩﺭ ﻟﯿﮉﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﮯ ﮔﯽ۔

https://m.facebook.com/MJIA88PPPP/photos/a.487586548073153/673843986114074/?type=3&mibextid=Nif5oz

اسلام آباد: سابق صدر مملکت آصف علی زرداری اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کے درمیان ملاقاتاسلام آباد: صدر پی پی پی پی...
16/12/2022

اسلام آباد: سابق صدر مملکت آصف علی زرداری اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کے درمیان ملاقات

اسلام آباد: صدر پی پی پی پی آصف علی زرداری اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور سمیت دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر بات چیت

اسلام آباد: تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے صدر آصف علی زرداری کو دورہ تاجکستان کی دعوت دی

اسلام آباد: تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کی صدر آصف علی زرداری کی صحت کی بہتری کے حوالے سے بھی نیک تمناؤں کا اظہار

16/12/2022
پیپلزپارٹی نے اپنے ٹوٹل 14 سالہ دور حکومت میں پاکستان کو اور پاکستانی عوام کو کیا کیا دیا، اس کو تاریخ کے تناظر میں دیکھ...
22/09/2020

پیپلزپارٹی نے اپنے ٹوٹل 14 سالہ دور حکومت میں پاکستان کو اور پاکستانی عوام کو کیا کیا دیا، اس کو تاریخ کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔

ایٹم بم دیا،
73 کا متفقہ آئین دیا،
قادینوں کا مسلہ حل کیا،
چین کو تیسری دنیا میں متعارف کرایا،
اسے ویٹو پاور بنایا،
ریلوے، سٹیل مل، ایف آئی اے، کے تحفےدیے،
قائد اعظم یونیورسٹی دی،
گومل یونیورسٹی دی،
زوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی دی،
پاکستان کا پہلا لا کالج اور یونیورسٹی دی،
کے پی کے میں پانچ یونیورسٹیاں دیں،
امریکی صدر سے معافی منگوائی،
90ھزار قیدی فوجی واپس لائے،
چھ ماہ نیٹو سپلائی بند رکھی،
بینظر انکم سپورٹ ادارہ بنایا،
واہ ہیوی انڈسڑی بنائی،
کہوٹہ اٹامک پلانٹ بنایا،
چین، انڈیا، ایران سے اپنا ہزاروں میل رقبہ واپس لیا،
بہترین خارجہ پالیسی دی،
اسلامی سربراہی کانفرنس میں امت مسلمہ کو متحد کیا،
ووٹ کا حق دیا،
روس کے ساتھ تعلقات کو استوار کیا اور پاکستان کو امریکی تسلط سے نکالا، (1974 میں بھی اور 2010 میں بھی)
شناختی کارڈ دے کر پہچان دی،
سب سے بڑی یونیورسٹی (اوپن یونیورسٹی)،
سب سے بڑی مسجد ( شاہ فیصل مسجد )،
میزائل ٹیکنالوجی دی،
کشمیر کی جنگ ساری دنیا میں لڑی،
سی پیک دیا،
گوادر پورٹ دی،
اٹھارویں ترمیم دی،
پاک ایران گیس پائپ لائن دی،
امریکی اڈے خالی کرائے،
سوات میں امن قائم کیا،
صوبوں کو انکا حق اور پہچان دی،
سب سے بڑھ خون بہا کر جمہوریت دی،
بلوچوں کو عام معافی دے کر قومی دھارے میں شامل کیا، جس وجہ سے سردار اختر مینگل اب ملکی سیاست کا حصہ بنے،
دہشتگردوں اور دہشتگرد جماعتوں کی سرعام مزحمت کی نام لے کر للکارا اور شہادتیں دی،
تنخوائیں سو فیصد بڑھائیں،
سعودی عرب اور ایران دونوں طرف پاکستان کا توازن برابر رکھا، ثالثی کا کردار ادا کیا،
دنیا کے سامنے پاکستان کا موقف جارحانہ انداز میں دلیری سے پیش کیا،
بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی، اور ملتان یونیورسٹیاں دیں، پارٹی کے مخلص لوگوں کو وزیر اعظم بنایا،
درمیانی فیملی کے لوگوں کو سندھ کا وزیر اعلی بنایا،
سندھ میں تقریبن 20 یونیورسٹیز بنائیں
دریاء سندھ پر 5 بڑے پل بنائے

سب سے اہم بات کہ سندھ میں دل کے 8 نئے جدید NICVD ہسپتال بنائے جہاں لاکھوں روپے کا مفت علاج ہوتا ہے
پہلی بار چھوٹے صوبوں کو متفقہ این ایف سی اوارڈ دیا
2 بوائیز اور 2 گرلز کیڈٹ کالجز دیئے
سندھ کے ساتھ پاکستان کے ثقافتی مراکز پر کام کیا
ہوا سے بجلی بنانے والی ونڈ مل لگائی
پاکستان کی پہلی شاہ لطیف صوفی یونیورسٹی بنائی جہاں صوفیوں اور اولیاء کرام کے بارے میں تحقیق پر کام کیا جا رہا
ہندو کمیونٹی کے لیئے آسانی کی کہ ان کے نکاح نامے / شادیوں کو قانونی شکل دی اور وہ رجسٹر ہونے لگے

مخالفین بتائیں باقی سالوں میں ملک کو کیا کیا دیا۔
مہر ارشاد احمد خان سیال ایم این اے NA 182
پاکستان پیپلزپارٹی زندہ باد
جئے ذوالفقار علی بھٹو ۔
اگر ہم بھٹو صاحب کو امریکہ کے ظلم سے بچانے میں کامیاب ھو جاتے ،جو اس نے جنرل ضیاء الحق کے زریعے کیا ، تو اج پاکستان دنیاء کی سپر پاور ھوتا ۔
صد افسوس کہ ہم اپنا لیڈر کھو بیٹھے ۔

‏ایک نظر نا اہل اعظم کے ان بیانات پر بھی۔۔ اس کیلئے سب حلال ہمارے لئے حرام کیوں۔۔ اب مکافات عمل کا مزا آپ بھی چکھیں۔۔
02/11/2019

‏ایک نظر نا اہل اعظم کے ان بیانات پر بھی۔۔
اس کیلئے سب حلال ہمارے لئے حرام کیوں۔۔ اب مکافات عمل کا مزا آپ بھی چکھیں۔۔

23/10/2019

جینا ہے تو لڑنا ہوگا
دھرنا ہوگا دھرنا ہوگا

بینظیر بھٹو شہید کی پہلی حکومت میں ومن بینک ،ومن پولیس سٹیشنز ،پرائیویٹ میڈیا ،پرائیویٹ سرمایاکاری ایف بی آر ٹیکسیشن سسٹ...
19/10/2019

بینظیر بھٹو شہید کی پہلی حکومت میں ومن بینک ،ومن پولیس سٹیشنز ،پرائیویٹ میڈیا ،پرائیویٹ سرمایاکاری ایف بی آر ٹیکسیشن سسٹم ملک بھر میں 50 ہزار پرامری سکولز جیسے کئی کام شروع ہوگئے، مگر اسٹیبلشمنٹ نے ڈھائی سال سے زیادہ حکومت چلنے ہی نہیں دی اگر 90 کی دہائی میں شہید بینظیر بھٹو کی حکومت کو اسٹبلشمنٹ نا گراتی تو 10 پندرہ سال پاکستان میں استحکام رہتا اور پاکستان سماجی اور معاشی ترقی میں آج بہت آگے ہوتا.
شہید بی بی کی 30 سالہ سیاسی جمہوری جدوجہد میں اقتدار صرف ساڑھے 4 سال ملا بقیہ پچیس سال جیل میں کاٹے جلا وطن رہیں دو بد ترین ظالم آمروں کا سامنا کیا بھائیوں کو قتل کر دیا گیا شوہر جیل میں قید کر دیا گیا ان سب مصائب کے باوجود اور دونوں آمروں کو شکست دی دونوں بار جمہوریت بحال کی 12 سال پہلے 18 اکتوبر 2007 کو وطن واپس آئیں کارساز کراچی میں لاکھوں جیالوں نے استقبال کیا وہاں خود کش حملہ ہوا سنیکڑوں جیالوں نے جان کی قربانی دی مگر حوصلہ پھر بھی نہ ٹوٹا اور جمہوریت کی بحالی مشرف کے مارشل لاء کے خاتمہ کی خاطر لیاقت باغ میں اتری ہزاروں کے مجمع سے خطاب کیا اور اپنی جان دی ..تاریخ ہمیشہ شہید بی بی کو پاکستان کی جمہوری تاریخ میں سنہری الفاظ میں یاد رکھے گی.
رت چناروں سے کہنا
وہ آنی ہے وہ آنی ہے

اسے ضرور پڑبھکاری اور لیڈر میں فرق.   بھٹو صاحب فرانس کے دورے پر گئے تو صدر اسکارڈ اسٹینگ نے پیرس کے مضافات میں اپنے فار...
25/09/2019

اسے ضرور پڑ
بھکاری اور لیڈر میں فرق.

بھٹو صاحب فرانس کے دورے پر گئے تو صدر اسکارڈ اسٹینگ نے پیرس کے مضافات میں اپنے فارم ہاوس پر انکے اعزاز میں ایک پرائیوٹ عشائیہ کا انتظام کیا جس میں دونوں سربراہوں کے خاندانوں سمیت چند دوسرے قریبی احباب شریک تھے. یہ ورکنگ ڈنر کے بجائے ایک فیملی گیٹ ٹو گیدر تھی جس کا مقصد تفریح اور خاندانوں کے درمیان روابط پیدا کرنا تھا. کھانے کے بعد اسٹینگ اور بھٹو فارم ہاؤس میں چہل قدمی کے لئے نکلے تو راستے میں جگہ جگہ بتیاں روشن دیکھ کر بھٹو صاحب نے کہا ؛ جناب صدر آپ کے ملک میں بجلی وافر مقدار میں پیدا ہوتی ہے. مضافات میں بھی روشنی ہے.
اسٹینگ نے کہا ہاں ہم پن بجلی کے ساتھ ساتھ ایٹمی بجلی بھی پیدا کر رہے ہیں بجلی وافر ہے لیکن ابھی تک ان مضافات میں بجلی نہیں پہنچا سکے . یہاں ایک جنریٹر کی مدد سے بجلی پیدا کی جاتی ہے.
ان دنوں جنریٹر عام نہیں تھے.
بھٹو صاحب نے دیکھنے کا اشتیاق ظاہر کیا
صدر انہیں لے کر جنریٹر روم میں چلے گئے
جو اتفاق سے قریب ہی بنا ہوا تھا
بھٹو صاحب نے جنریٹر کو بڑی دلچسپی سے دیکھا
نیز اس کی کارکردگی اور انجن کے بارے میں سوالات پوچھے جو آپریٹر نے انہیں بریف کیا.
اس مشین میں بھٹو صاحب کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے اسٹینگ نے کہا جناب وزیراعظم ایسا ہی ایک جنریٹر آپ کے ساتھ پاکستان جائے گا جو میری فیملی کی طرف سے آپکی فیملی کے لئے چھوٹا سا تحفہ ہوگا، قبول کیجے.

بھٹو مسکرائے، گرمجوشی سے شکریہ ادا کیا اور دھیرے سے بولے؛ جناب صدر میں ایک غریب ملک کا وزیراعظم ہوں. میرے ملک میں بجلی کی بہت کمی ہے. بجلی نہ ہونے کی وجہ سے انڈسٹری نہ ہونے کے برابر ہے. روشنی کی کمی کی وجہ سے بہت سے طالب علم تعلیم حاصل کرنے سے رہ جاتے ہیں، مریضوں کا بر وقت آپریشن نہ ہونے سے مر جاتے ہیں. ٹیوب ویل نہ چلنے سے فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں. ایسے میں اگر میرے گھر میں آپ کے دئے ہوئے تحفے سے روشنی ہوگی تو یہ میرے عوام کے ساتھ سخت زیادتی ہوگی.

صدر اسٹینگ نے چلتے چلتے رک کے حیرت بھری نظروں سے انہیں دیکھا اور فرط عقیدت سے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور کانپتی آواز میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا؛ جنابِ وزیراعظم بتائیں میں آپ کے ملک کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟

بھٹو نے دوسرا ہاتھ ان کے ہاتھ پر رکھا، گہری نظروں سے انہیں دیکھا اور بولے؛ جنابِ صدر ایک ایٹمی ریکٹر میرے ملک میں لگا دیجئے جو پورے ملک میں بجلی کی کمی کو پوری کر سکے.

اسٹینگ ... رکا... چند لمحے سوچا... اور پھر دھیرے سے بولا... جناب وزیراعظم یہ ایٹمی ریکٹر.. فرانسیسی عوام کی طرف سے... پاکستانی عوام کی زندگی میں روشنی لانے کا استعارہ ہو گا...
دوسری صبع جو پہلا کام ہوا وہ اسی منصوبے کے معاہدے پر دستخط تھے. اور یہ ایٹمی بجلی گھر بھٹو نے ایک ذاتی جنریٹر کے بدلے میں لیا تھا جو آج بھی کراچی میں کام کر رہا ہے.

یہ واقعہ مجھے اس لئے یاد آگیا کہ گزشتہ ہفتے سعودی ولی عہد نے عمران کو بھی ایک ایسی ہی ذاتی پیشکش کی. جسے عمران نے عظیم ترین بےغیرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ستر جوتے کھا کر بھی قبول کر لیا.
ساتھ میں بنارسی ٹھگ شاممود بھی ذرا سی، رمق بھر بھی، رتی بھر بھی، رائی کے دانے برابر بھی غیرت نہ دکھا سکا.
ہوا یوں کہ عمران ایک کمرشل فلائٹ سے نیویارک جا رہا تھا. ولی عہد نے اسے اپنی توہین سمجھا کہ اس کا دوست ایک عام پسنجر طیارے سے نیویارک جائے. چنانچہ اس نے اپنا ذاتی طیارہ دیا کہ اس میں جاؤ.
یہ تو ایسے ہی کہ ایک غریب دوست کسی مالدار دوست سے ملنے موٹر-سائیکل پر جائے اور واپسی پر وہ دوست غربت کا مذاق بنانے کو کہے کہ تمہیں میری مرسیڈز پر میرا شوفر گھر چھوڑے گا.
ادھر اس بھیک نما توہین کو ہمارے ہاں کوئی بڑا معرکہ سر کرنے سے تشبیہ دی جا رہی ہے. حالانکہ یہ بات ایک ملک کے سربراہ کے لئیے کسی گھٹیا ترین سلوک تذلیل اور توہین کی طرح ہے.
اگر عمران میں ذرا سی بھی عقل ہوتی، تھوڑی بہت بھی غیرت ہوتی، خود کو ایٹمی ملک کا سربراہ سمجھتا تو اس پیشکش کو شکریے کے ساتھ ٹھکرا دیتا.
اور کہتا کہ بندہ خدا ترا پیسہ تری دولت ترا اثر و رسوخ تجھے مبارک ہو.
میرا ملک اتنا گیا گزرا نہیں ہے کہ میں ایک طیارہ بھی ہائر نہیں کر سکتا لیکن میں نے دانستہ کمرشل فلائٹ سے جانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ غیر ضروری اخراجات سے بچ سکوں.
تو اگر مجھے اپنا دوست سمجھتا ہے تو کشمیر کے مسئلے پر میری مدد کر،
میرا ملک گرے لسٹ میں پڑا ہے وہاں سے نکنے میں مدد کر
میرے ملک کی اکانومی ڈوب رہی ہے اپنا پیسہ وہاں انویسٹ کر،
اقوام متحدہ میں کشمیر ایشو پر میرے لئے ووٹ دے
اور اپنا اثر رسوخ استعمال کر کہ میں کشمیر کے کیس کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن میں اپیل کر سکوں.
انڈیا سے اپنے تعلقات منقطع کر کے
اس پر پریشر ڈال کہ وہ جموں و کشمیر میں امپوزڈ کرفیو لفٹ کرے
لوگوں کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنائے

یہ اگر نہیں کر سکتا تو میں تمہیں میری اور میرے ملک کی توہین کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا. اپنی دولت مندی کی نمائش رکھ اپنے پاس، میں پروگرام کے مطابق کمرشل فلائٹ سے ہی جاؤں گا.
لیکن خدا جانے کس بیغرت مٹی سے یہ شخص بنا ہوا ہے کہ اس نے ملک کا امیج تباہ کرکے رکھ دیا ہے. جہاں کوئی ڈالر دیتا ہے یہ بھیک کی طرح پاؤں پڑ کر لے لیتا ہے.
طرفہ تماشا دیکھیں کہ جب نیویارک پہنچا تو سرخ قالین کے بجائے دو گزے ڈور میٹ پر استقبال ہوا. جبکہ مودی کے لئے چار سو گز لمبا قالین بچھایا گیا تھا.
یہی حال رہا تو عنقریب مملکت خداداد پاکستان
تمبکٹو بن کر رہ جائے گا اور کانگو اور یوگنڈا بھی ازرائے تفنن ہمیں زکوٰۃ اور چندہ دیا کریں گے اور یہ ہیروئنچی لے بھی لے گا.....

زاہد چودھری اپنی کتاب ‘پاکستان کی سیاسی تاریخ‘ میں لکھتے ہیں کہ “پنجاب میں یو پی کے سرکردہ افسران نے شروع میں ہی ایک سول...
17/09/2019

زاہد چودھری اپنی کتاب ‘پاکستان کی سیاسی تاریخ‘ میں لکھتے ہیں کہ “پنجاب میں یو پی کے سرکردہ افسران نے شروع میں ہی ایک سول سروس ایسوسی ایشن بنا لی تھی جسکے تحت انہوں نے یو پی اور وسطی ہند کے مہاجرین کے تحفظ اور آبادکاری کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔ ان سرکاری افسران نے آبادکاری کی ایسی پالیسی وضع کی جسکے تحت ایسے بےشمار اردو اور میواتی مہاجرین کو پنجاب میں محض ایک حلف نامہ کی بنیاد پر متروکہ زمینیں، پلاٹ، فیکٹریاں، کوٹھیاں اور عالیشان مکانات الاٹ کئے گئے جو ہندوستان میں کوئی جائیداد چھوڑ کر نہیں آئے تھے۔ جس نے اردو زبان میں کہا کہ میرا ہندوستان میں پودینے کا باغ تھا یا اس نے پانچ روپے کے حلف نامہ میں یہی بات لکھ دی تو اسے آموں کا باغ الاٹ کر دیا گیا۔ جب کہ اس کے برعکس مشرقی پنجاب کے قانونی مہاجرین کو ان کے مقابلے میں اپنی چھوڑی ہوئی زمینوں کی نسبت انتہائی کم یونٹوں پر زمینیں الاٹ کی گئیں بلکہ بعض لوگ تو اس سے بھی محروم ہو گئے۔۔۔“ لیاقت علی خاں پر ایسی سول سروس ایسوسی ایشن کا الزام بھی ہے۔

سردار شوکت حیات اپنی کتاب “گم گشتہ قوم“ میں رقمطراز ہیں کہ لیاقت علی خاں نے خود کو قائداعظم کو گورنر جنرل بننے پر مجبور کیا تھا اس لیے کہ ان کے لیے وزیراعظم کی سیٹ بچی رہے“۔ آخر کیا وجہ تھی کہ تمام اختیارات گورنر جنرل کی بجائے وزیراعظم لیاقت علی خاں نے خود سمیٹ لیے تھی؟ اور جب قائداعظم کی وفات ہو گئی تو لیاقت علی خاں نے گورنر جنرل بنانا قبول نہ کیا بلکہ اس کے لیے کمزور سی شخصیت خواجہ ناظم الدین کی نامزدگی کی؟ اغلب ہے کہ یہی وہ باتیں اور سوالات تھے جن کے پس منظر میں قائداعظم نے اپنی جیب میں کھوٹے سکوں کی بات کی تھی۔ سندھ میں مہاجروں کی آمد اور غیرسندھی افسروں کی سندھ میں تعیناتی کے خلاف وزیراعلیٰ سندھ اور سندھ اسمبلی دن رات کام کر رہی تھی مگر اس جمہوری عمل کے خلاف چبھیس اپریل سن اڑتالیس کو اختیارات کے ناجائز استعمال اور کرپشن کے الزام میں ایوب کھوڑو کی حکومت کو معطل کر دیا گیا۔ یہی صورتحال صوبہ سرحد موجودہ کے پی کے میں ڈاکٹر خان کی حکومت کو معطل کرنے کے لیے بروئے عمل لائی گئی۔

اے وطن کے پُھرتیلے جرنیلو سارے رقبے تمہارے لئے ہیںکیا سیاست دانوں کے خلاف باؤلے کُتے کی طرح لپکنے والی چوماچاٹی سرکار کی...
14/09/2019

اے وطن کے پُھرتیلے جرنیلو
سارے رقبے تمہارے لئے ہیں

کیا سیاست دانوں کے خلاف باؤلے کُتے کی طرح لپکنے والی چوماچاٹی سرکار کی نیب اپنے پاس موجود اِس رپورٹ پر بھی کوئی کارروائی کی ہمت دکھائے گی؟؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سسلین مافیا کے گروؤں کے کارنامے۔۔۔۔۔

میجر جنرل شاہد حشمت کے انکشافات

جرنل مشرف اور دوسرے جرنیلوں کی جائیدادوں کے قصےسن کر آپ کی رونگٹےکھڑی ہوجائے ان جائیدادوں کو بیچ کر کئی بڑے کالا باغ ڈیم بنائے جاسکتے ہیں نیب کو ثبوت پیش
نیب نےسابق ڈکٹیٹر پرویزمشرف کےخلاف اختیارات کےغلط استعمال اوراپنےپسندیدہ آفیسرزکوکئی مہنگےاور قیمتی پلاٹس جن کی مالیت1000کھرب روپےتک ہے،ان کی غیرقانونی الاٹمنٹ کےحوالےسےنئےثبوت جمع کرلیےہیں۔ ثبوتوں میں کھربوں روپےمالیت کی 10اہم پراپرٹیز کی ایک فہرست شامل ہےجو مشرف اوران کے خاندان کے افراد کےنام پرتھی۔ یہ تازہ ثبوت ایک ریٹائرڈآرمی افسرکرنل ایڈووکیٹ انعام رحیم نےمنگل کوقومی احتساب بیورو راولپنڈی کےڈپٹی ڈائریکٹرکوآرڈینشن میں جمع کرائے۔ نیب کےایک اہلکار نےدی نیوزکو تصدیق کی کہ بیورو سابق فوجی حکمران کےخلاف اختیارات کاناجائزاستعمال کرنےکےحوالےسے ایک انکوائری میں ثبوتوں کاجائزہ لےرہاہے۔ اس سے قبل نیب کے ڈپٹی ڈائریکٹر کوآرڈ ینیشن ناصررضا نےنیب آرڈیننس 1999کےتحت کرنل انعام سےسابق ڈکٹیٹرکےخلاف دستاویزی ثبوت مانگےتھے۔ تاہم، نیب نے تاحال سابق ڈکٹیٹرکے خلاف طلبی کا نوٹس جاری کرنا ہے۔ خط میں کہاگیاہے’’ کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہےکہ دفاعی مقاصد کیلئےرکھے گئے ہزاروں پلاٹوں کی الاٹمنٹ سے قومی خزانے کو کھربوں روپے کا نقصان ہوااور کم از کم اس رقم سے ایک کالاباغ ڈیم تعمیر ہوسکتا تھا لہذا یہ درخواست کی جاتی ہےکہ پرویزمشرف کی جانب سےالاٹ اورتحفہ دی گئی زمین کےمکمل
ریکارڈکی فراہمی اورحکومتِ پاکستان کو واپسی کیلئےڈی جی ویلفئیراینڈ ری ہیبلیٹیشن کو مناسب ہدایات دی جائیں کیونکہ تمام زمینیں ایسے ملک میں ہیں جو پاکستان کی عوام کی ملکیت ہے۔‘‘ نیب کو جمع کرایاگیاحالیہ خط جس کی کاپی دی نیوز کےپاس بھی ہے، اس میں مشرف اور اس کےخاندان کےافراد کی ملکیت ملک کے مختلف حصوں میں واقع 10سے زائد پراپر ٹیزکی فہرست ہے اور ان میں سے صرف دو کی مالیت ایک ارب بنتی ہے۔ مشرف اور ان کے خاندان کے نام پرموجود پلاٹوں میں پلاٹ نمبر172 اور 301(ہرایک 2000یارڈ اورمالیت 50کروڑروپےہے) خیابان فیصل ڈی ایچ اےکراچی، ڈی ایچ اے کراچی کی آرمی آفیسرہائوسنگ سوسائٹی زمزمہ میں دوگھر، ڈی ایچ اےاسلام آباد کےسیکٹرڈی میں ایک پلاٹ، ڈی ایچ اے اسلام آبادمیں کارنر پلاٹ نمبر 1A ، ڈی ایچ اے اسلام آباد سیکٹرڈی میں پلاٹ نمبر 15Aاور15B۔ نیب کو بتایاگیاہےکہ سابق جنرل پرویز مشرف نے ایک انوکھی پالیسی متعارف کرائی تھی کہ بطورآرمی چیف نوکری کی آخری تاریخ کو جب وہ آخری خط پر دستخط کریں گےتو اس کے ساتھ خاص پلاٹ کا الاٹمنٹ لیٹر بھی ہونا چا ہیے جو گُڈ سگنیچرپلاٹ/آخری دستخط پلاٹ کہلاتا ہے۔ اس طرح ان کے بعد آنے والے جنرل(ر)کیانی اور جنرل (راحیل) نے بھی فائدےحاصل کیےحتٰی کہ جنرل(ر) یوسف نے بھی بطوروائس چیف لاسٹ سگنیچرپلاٹ حاصل کیا۔ بیورو کوبتایاگیاکہ انھوں نے ایک خفیہ پالیسی بھی متعارف کرائی کہ ریٹائرمنٹ ہر آرمی چیف کوتمام سہولیات سےآراستہ اورتیارشدہ 2کنال کا گھرتحفہ میں دیاجائےگا۔ خاص گھروں کی تعمیراور تزئین و آرائش گالف کلب ڈی ایچ اے لاہورکےسرکاری بجٹ سےکی گئی۔ شکایت کرنےو ا لے نے انکشاف کیاکہ دوکنال پرواقع مکان نمبر185، فیز2،ڈیفنس رئیاگالف کلب لاہور جنرل کیانی کو تحفہ کیاگیا اور اسی طرح مکان نمبر 68فیز نمبر 1، ڈیفنس رئیاگالف کلب لاہورجنرل راحیل شریف کو تحفے میں دیاگیا۔ خط میں الزام لگایاگیاہے کہ جنرل (ر) مشرف نے سینئرآرمی افسران میں کرپشن کی بنیاد ڈالی۔ سینئرافسران کی حمایت حاصل کرنےکیلئےاس نے ایک پالیسی بنائی ہر جنرل رینک کےافسرکو5پلاٹ اور 50ایکٹراراضی دی جائےگی۔ خط میں کہاگیاہے،’’دیہ اوکیواڑی جو اب کراچی کرکٹ اسٹیشن ہے وہ دوسری جنگ عظیم کےدوران برطانوی حکومت سےاس وعدے کےساتھ لی گئی تھی کہ جنگ ختم ہونے کے چھ ماہ بعد یہ زمین اس کےحقیقی مالکان کولوٹادی جائے گی۔ تاہم کے ڈی اےسکیم شروع ہونے کےبعدمذکورہ بالازمین سٹی گورنمنٹ کوکرکٹ اسٹیڈیم پراجیکٹ کیلئےدےدی گئی۔‘‘ نیب کوبتایاگیاہےکہ سال 2002کےدوران سابق جنرل مشرف نےمذکورہ بالا18ایکٹراراضی سینئرافسران کو ان کی عہدےسےبالاترہوکرغیرقانونی طورپرالاٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ حقیقی مالکان نے غیرقانونی الاٹمنٹ کو مقدمہ نمبر 814/2002کے ذریعے چیلنج کردیا جو سندھ ہائی کورٹ میں زیرالتوا ہے لیکن تب بھی آرمی آفیسر ہائوسنگ سوسائٹی پی ٹی II نیشنل اسٹیڈیم کراچی کے نام پر ایک غیرقانونی سوسائٹی شروع کردی گئی اور سینئرافسران کو الاٹ کردی گئی، پلاٹ لینےوالےچندلوگوں کےنام مندرجہ ذیل ہیں، 1-جنرل احسان الحق(دوکنال کے دو پلاٹ – پلاٹ نمبر29اور پلاٹ نمبر15) 2-انھیں ڈی ایچ اے اسلام آباد میں بھی دو پلاٹ دیے گئے۔ ’’یہ قابل ذکر بات ہے کہ جب ڈاکٹرعافیہ صدیقی کواسلام آباد میں امریکیوں کےحوالےکیاگیاتھاتب جنرل احسان ڈی جی آئی ایس آئی تھے۔ 3-جنرل اشفاق پرویزکیانی کو گالف کورس راولپنڈی میں 4کنال کا ایک پلاٹ دیاگیا۔ 5-جنرل کیانی کو بطورچیف آف آرمی سٹاف ڈی ایچ اےاسلام آبادمیں 800یارڈ کا پلاٹ بھی دیاگیالیکن انھیں اردگرد کی 20کنال زمین پر قبضہ کرنے بھی اجازت دی گئی جسے ای ایل فیز1کہتے ہیں۔ سائٹ پلان کی نقل خط کےساتھ لگائی گئی تھی۔vi-جنرل یوسف پلاٹ نمبر28، vii- جنرل عزیز پلاٹ نمبر14، viii- لیفٹیننٹ جنرل مصطفیٰ خان پلاٹ نمبر15، ix- لیفٹیننٹ جنرل عبدالجباربھٹی پلاٹ نمبر19، X- لیفٹیننٹ جنرل حسینی، xi- لیفٹیننٹ جنرل عارف حسینی، لیفٹیننٹ جنرل حمید رب نواز، لیفٹیننٹ جنرل شفاعت اللہ پلاٹ نمبر15، لیفٹیننٹ جنرل امتیازپلاٹ نمبر116، لیفٹیننٹ جنرل صلاح الدین پلاٹ نمبر115، لیفٹیننٹ جنرل سیداطہرعلی پلاٹ نمبر113، لیفٹیننٹ جنرل ندیم تاج پلاٹ نمبر33، لیفٹیننٹ جنرل اعجاز بخشی پلاٹ نمبر34، لیفٹیننٹ جنرل انیس عباس پلاٹ نمبر20، لیفٹیننٹ جنرل عارف حیات پلاٹ نمبر2، لیفٹیننٹ جنرل طاہر قاضی پلاٹ نمبر12، سابق ڈی جی این ایل سی میجرجنرل ظہیراخترپلاٹ نمبر54، میجر جنرل خالد ظہیراختر جو مبینہ طورپربطورڈی جی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (جاری ہے) انجنئیر تنویر اختر

Address

Zardari House Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PPP Thinkers Forum posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your organization to be the top-listed Government Service?

Share