Online Quran Madrasah

Online Quran Madrasah Add 1-2 sentences to describe Online Quran Madrasah to help people understand what you offer.

21/08/2026

نکل جا میری گاڑی سے دجالی....

پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں ایک ٹیکسی ڈرائیور نے ایک عورت کی اسرائیلی شناخت معلوم ہونے کے بعد اسے اپنی گاڑی سے اترنے کا کہا۔
ڈرائیور، جو بولٹ (Bolt) ایپ کے ذریعے ٹیکسی چلا رہا تھا، نے مسافرہ سے کہا:
’’میں تمہیں نہیں لے جاؤں گا، کیونکہ تم لوگوں کو قتل کر رہے ہو۔‘‘
مسافرہ، جو مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم ایک اسرائیلی بستی میں رہتی ہے، نے پورے واقعے کی ویڈیو بنائی اور اسے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کردیا۔ اس نے گاڑی سے اترنے سے انکار کرتے ہوئے ڈرائیور کو شکایت کرنے کی دھمکی بھی دی۔
جواب میں ڈرائیور نے ’’اللہ اکبر‘‘ کا نعرہ لگایا اور گاڑی میں قرآن مجید کی تلاوت چلا دی۔ اس کے بعد اس نے مسافرہ سے کہا:
’’تم لوگوں کو قتل کرتے ہو… اور ہر چیز کے بارے میں اللہ کے سامنے جواب دہ ہوگے۔‘‘
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرنے کے بعد اس پر مختلف ردِعمل سامنے آئے ہیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ اور فلسطینی علاقوں میں جاری جنگ کے باعث دنیا بھر میں اسرائیل کے اقدامات پر شدید بحث اور احتجاج جاری ہے۔

ضیاء چترالی

20/08/2026

رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:
جب کوئی شخص مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو اللہ میری روح مجھ پر لوٹا دیتا ہے حتیٰ کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں.(سنن ابو داؤد: 2041)
اللھم صل علی محمد و علی آلہ وصحبہ وسلم ❤️

https://www.facebook.com/share/v/1EDiyfvDXn/
19/08/2026

https://www.facebook.com/share/v/1EDiyfvDXn/

اس بچے کا نام محمد احمد ہے اور والد کا نام عبدالرحمن ہے۔
قوم راجپوت ہے۔ لاہور سبزہ زار میں انکی رہائش ہے۔
احمد 3 اپریل 2025 کو شام 5 بجے گھر سے سامان لینے نکلا تھا آج تک واپس نہیں لوٹا۔
احمد کے والدین بہن بھائی سب کی زندگیاں وہیں رک سی گئی ہے۔ ڈیڑھ سال سے وہ ایک ایک گھڑی گن کر گزار رہے ہیں۔
گھر کا لاڈلا بچہ گم ہونے سے گھر میں آج تک سناٹا چھایا ہوا ہے۔ماں راتوں کو اٹھ اٹھ کر روتی ہے۔ معمولی دستک سن کر ماں دروازے کی طرف لپک پڑتی ہے کہ شاید احمد لوٹ آیا ہوگا۔
ماں نے آپ سب سے دست بستہ اپیل کی ہے کہ خدارا میرا لخت جگر ڈھونڈنے میں میری مدد کریں۔
آپکا ایک شئیر احمد کی والدہ کی زندگی لوٹانے کا سبب بن سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829

16 Aug 2026

https://www.facebook.com/share/p/1C4YugPkLa/
19/08/2026

https://www.facebook.com/share/p/1C4YugPkLa/

بھائی بات سنیں۔۔۔۔
جی بہن۔۔۔؟!
مجھے بھی میرے گھر والوں سے ملائیں میں زندگی بھر آپ سب کی احسان مند رہونگی اور ہمیشہ دعا کرونگی۔۔۔
جی بہن کیا سٹوری ہے آپکی۔۔؟؟!
جی بھائی۔۔۔ وہ ناں۔۔۔ اصل میں بات یہ ہے کہ میں بہت چھوٹی تھی۔۔ میرا نام کرن اسلم تھا۔۔ سال 2005 تھا۔۔۔ہم کراچی میں رہتے تھے۔ بس اتنا یاد ہے کہ ہم کورنگی میں رہتے تھے۔ میں اپنی امی کے ساتھ کسی رشتے دار کے گھر گئی تھی۔ وہاں سے میں بازار گئی تھی۔۔ بازار میں گم ہوئی۔۔۔ مجھے ایک شیلٹر میں پہنچایا گیا۔۔۔
پہلے تو یہ سن لیں کہ میرا نام کرن اسلم تھا۔۔ جی بہن نام "تھا" یا ہے؟ جی وہ شیلٹر میں پھر نام بدل کر زینب رکھ دیا گیا تھا اس لئے "تھا" کہہ رہی ہوں۔ والد کا نام اسلم قریشی ہے اور میری والدہ کا نام بانو ہے ۔ میرے چار بھائی تھے۔۔۔ محمد عامر ،محمد عادل،محمد عاصم،اور محمد حمزہ۔
(آج بھی بھائیوں سے اتنی محبت دل میں بسی ہے کہ مکمل مکمل نام لے رہی ہے)۔ میری بہن ایک تھی غزل نام تھا۔ ہم قریشی ہیں۔ کورنگی میں شاید کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔
جی بہن ٹھیک ہے! پھر شیلٹر سے کیسے نکلی؟
جی جی میں وہی بتارہی ہوں۔۔۔
ہم بہت مشکل میں تھے۔بچپن سے شیلٹر میں بڑی ہوئی۔ ہمارے ساتھ جو لڑکیاں موجود تھیں ان سب میں ہم پانچ لڑکیاں آپس میں بہت اچھی دوست بنی تھیں۔
ہمارے گروپ میں ایک لڑکی صوبیہ کو پنجاب میں اپنے گھر کا ایڈریس معلوم تھا۔ اور حیدرآباد سندھ میں ایک رشتےدار کا گھر بھی پتہ تھا۔ ہم سب نے پلان بنایا تھاکہ کسی بھی طرح شیلٹر سے نکلنا ہے۔ صوبیہ نےہمیں کہا کہ تم لوگ بےفکر رہو ۔ یہاں سے نکلیں گے تو میں تم لوگوں کو اپنے گھر لےچلونگی۔ میرے گھر والے ضرور تم چاروں کا خیال رکھیں گے۔ہم پہلے کراچی سے حیدرآباد رشتےدار کے گھر پہنچیں گے پھر وہ میرے امی ابو کو بلائیں گے وہ لینے آجائیں گے۔حیدرآباد قریب ہے ہمارے لئے جانے میں پریشانی نہیں ہوگی۔
ہم پانچوں نے شیلٹر کی دیوار پھلانگ کر بھاگنے کی تیاری مکمل کی۔ موقع ملتے ہی ہم دیوار پھلانگ کر باہر آگئے۔ دیوار سے کودنے کے دوران ہماری ایک سہیلی کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ ہم چاروں نے اسے اٹھاکر قریبی اسپتال پہنچایا۔ اسپتال میں داخل کیا۔ پیسے نہیں تھے اور پکڑے جانے کے ڈر بھی تھا۔۔ اس لئے ہم نے اسپتال والوں کو کہا کہ ہم کچھ دیر میں پیسے لیکر آتے ہیں۔۔۔ اور یوں ہم نے حیدرآباد کی گاڑی پکڑ لی۔
اپنی زخمی ساتھی کو چھوڑ کر جانے کا فیصلہ تو بہت تکلیف دہ تھا۔۔ لیکن ہم عورت ذات ہونے کی وجہ سے اسکو زخمی حالت میں سنبھال نہیں سکتی تھیں۔
حیدرآباد میں صوبیہ کے رشتے دار کے ہاں پہنچے۔ انہوں نے صوبیہ کے گھر والوں کو اطلاع دی۔ صوبیہ کے گھر میں کھلبلی سی مچ گئی ۔ اور عید کا سماں بندھ گیا ۔ وہ پنجاب سے بھاگتے ہوئے حیدرآباد پہنچ گئے۔۔۔ ہم چاروں کو اپنے ساتھ لیکر گئے۔
صوبیہ کے گھر والوں نے اپنی بیٹیوں کی طرح رکھا۔۔۔ہم تین ان کے لئے غیر لڑکیاں تھیں۔۔۔لیکن اپنی بیٹیوں سے بڑھ کر رکھا۔ انہوں نے چن چن کر اپنے خاندان کے ایسے تین لڑکے بلائے جو کاروبار میں اخلاق میں ہر طرح سے اچھے تھے۔ ہم تینوں کا نکاح کروایا۔۔ابھی میں تین بچوں کی ماں ہوں۔
بس مجھے میرے گھر والوں کی یاد چین سے جینے نہیں دیتی۔
میرے بچے پوچھتے ہیں کہ امی نانا نانی کہاں ہیں؟ تو میں سوائے آنسوؤں کے کوئی جواب نہیں دے پاتی۔ میں ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتی ہوں میرے گھر والوں سے ملائیں۔ ہم کورنگی میں رہتے تھے۔ سب کے نام موجود ہیں۔ وہ مل جائیں گے۔ آپکی ویڈیوز دیکھ کر امید کی کرن نظر آئی ہے۔

اگر آپ کے سینے میں دل ہے اور وہ دل پتھر کا نہیں ہے تو ضرور شئیر کرکے کرن کا خاندان ڈھونڈنے میں مدد کریں گے۔

نوٹ: کرن کی حالیہ تصویر کو ہم نے اے آئی کی مدد سے کم عمری کی تصویر بنائی ہے۔ پرانی تصویر موجود نہیں تھی۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829

20 اگست 2026

https://www.facebook.com/share/p/1CxSe5CyDY/
19/08/2026

https://www.facebook.com/share/p/1CxSe5CyDY/

بھائی بات سنیں۔۔۔۔
جی بہن۔۔۔؟!
مجھے بھی میرے گھر والوں سے ملائیں میں زندگی بھر آپ سب کی احسان مند رہونگی اور ہمیشہ دعا کرونگی۔۔۔
جی بہن کیا سٹوری ہے آپکی۔۔؟؟!
جی بھائی۔۔۔ وہ ناں۔۔۔ اصل میں بات یہ ہے کہ میں بہت چھوٹی تھی۔۔ میرا نام کرن اسلم تھا۔۔ سال 2005 تھا۔۔۔ہم کراچی میں رہتے تھے۔ بس اتنا یاد ہے کہ ہم کورنگی میں رہتے تھے۔ میں اپنی امی کے ساتھ کسی رشتے دار کے گھر گئی تھی۔ وہاں سے میں بازار گئی تھی۔۔ بازار میں گم ہوئی۔۔۔ مجھے ایک شیلٹر میں پہنچایا گیا۔۔۔
پہلے تو یہ سن لیں کہ میرا نام کرن اسلم تھا۔۔ جی بہن نام "تھا" یا ہے؟ جی وہ شیلٹر میں پھر نام بدل کر زینب رکھ دیا گیا تھا اس لئے "تھا" کہہ رہی ہوں۔ والد کا نام اسلم قریشی ہے اور میری والدہ کا نام بانو ہے ۔ میرے چار بھائی تھے۔۔۔ محمد عامر ،محمد عادل،محمد عاصم،اور محمد حمزہ۔
(آج بھی بھائیوں سے اتنی محبت دل میں بسی ہے کہ مکمل مکمل نام لے رہی ہے)۔ میری بہن ایک تھی غزل نام تھا۔ ہم قریشی ہیں۔ کورنگی میں شاید کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔
جی بہن ٹھیک ہے! پھر شیلٹر سے کیسے نکلی؟
جی جی میں وہی بتارہی ہوں۔۔۔
ہم بہت مشکل میں تھے۔بچپن سے شیلٹر میں بڑی ہوئی۔ ہمارے ساتھ جو لڑکیاں موجود تھیں ان سب میں ہم پانچ لڑکیاں آپس میں بہت اچھی دوست بنی تھیں۔
ہمارے گروپ میں ایک لڑکی صوبیہ کو پنجاب میں اپنے گھر کا ایڈریس معلوم تھا۔ اور حیدرآباد سندھ میں ایک رشتےدار کا گھر بھی پتہ تھا۔ ہم سب نے پلان بنایا تھاکہ کسی بھی طرح شیلٹر سے نکلنا ہے۔ صوبیہ نےہمیں کہا کہ تم لوگ بےفکر رہو ۔ یہاں سے نکلیں گے تو میں تم لوگوں کو اپنے گھر لےچلونگی۔ میرے گھر والے ضرور تم چاروں کا خیال رکھیں گے۔ہم پہلے کراچی سے حیدرآباد رشتےدار کے گھر پہنچیں گے پھر وہ میرے امی ابو کو بلائیں گے وہ لینے آجائیں گے۔حیدرآباد قریب ہے ہمارے لئے جانے میں پریشانی نہیں ہوگی۔
ہم پانچوں نے شیلٹر کی دیوار پھلانگ کر بھاگنے کی تیاری مکمل کی۔ موقع ملتے ہی ہم دیوار پھلانگ کر باہر آگئے۔ دیوار سے کودنے کے دوران ہماری ایک سہیلی کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ ہم چاروں نے اسے اٹھاکر قریبی اسپتال پہنچایا۔ اسپتال میں داخل کیا۔ پیسے نہیں تھے اور پکڑے جانے کے ڈر بھی تھا۔۔ اس لئے ہم نے اسپتال والوں کو کہا کہ ہم کچھ دیر میں پیسے لیکر آتے ہیں۔۔۔ اور یوں ہم نے حیدرآباد کی گاڑی پکڑ لی۔
اپنی زخمی ساتھی کو چھوڑ کر جانے کا فیصلہ تو بہت تکلیف دہ تھا۔۔ لیکن ہم عورت ذات ہونے کی وجہ سے اسکو زخمی حالت میں سنبھال نہیں سکتی تھیں۔
حیدرآباد میں صوبیہ کے رشتے دار کے ہاں پہنچے۔ انہوں نے صوبیہ کے گھر والوں کو اطلاع دی۔ صوبیہ کے گھر میں کھلبلی سی مچ گئی ۔ اور عید کا سماں بندھ گیا ۔ وہ پنجاب سے بھاگتے ہوئے حیدرآباد پہنچ گئے۔۔۔ ہم چاروں کو اپنے ساتھ لیکر گئے۔
صوبیہ کے گھر والوں نے اپنی بیٹیوں کی طرح رکھا۔۔۔ہم تین ان کے لئے غیر لڑکیاں تھیں۔۔۔لیکن اپنی بیٹیوں سے بڑھ کر رکھا۔ انہوں نے چن چن کر اپنے خاندان کے ایسے تین لڑکے بلائے جو کاروبار میں اخلاق میں ہر طرح سے اچھے تھے۔ ہم تینوں کا نکاح کروایا۔۔ابھی میں تین بچوں کی ماں ہوں۔
بس مجھے میرے گھر والوں کی یاد چین سے جینے نہیں دیتی۔
میرے بچے پوچھتے ہیں کہ امی نانا نانی کہاں ہیں؟ تو میں سوائے آنسوؤں کے کوئی جواب نہیں دے پاتی۔ میں ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتی ہوں میرے گھر والوں سے ملائیں۔ ہم کورنگی میں رہتے تھے۔ سب کے نام موجود ہیں۔ وہ مل جائیں گے۔ آپکی ویڈیوز دیکھ کر امید کی کرن نظر آئی ہے۔

اگر آپ کے سینے میں دل ہے اور وہ دل پتھر کا نہیں ہے تو ضرور شئیر کرکے کرن کا خاندان ڈھونڈنے میں مدد کریں گے۔

نوٹ: کرن کی حالیہ تصویر کو ہم نے اے آئی کی مدد سے کم عمری کی تصویر بنائی ہے۔ پرانی تصویر موجود نہیں تھی۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829

20 اگست 2026

18/08/2026

رسول الله صلی الله علیه وسلم نے فرمایا:
میری امت کے ستر ہزار لوگ بےحساب جنت میں جائیں گے یہ وہ لوگ ہوں گے جو جھاڑ پھونک نہیں کراتے نہ شگون لیتے ہیں اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں.
صحیح بخاری 6472
کتاب الرقاق

17/08/2026

رسول الله صلی الله علیه وسلم نے فرمایا:
بندہ جب سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اعضاء سجدہ کرتے ہیں: چہرہ، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں.
سنن ابو داؤد 891

16/08/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
درمیانی چال اختیار کرو اور بلند پروازی نہ کرو اور عمل کرتے رہو، تم میں سے کسی کا عمل اسے جنت میں نہیں داخل کرسکے گا، میرے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جس پر ہمیشگی کی جائے خواہ کم ہی کیوں نہ ہو.
(صحیح البخاری: 6464)

16/08/2026

خطّاب بن معلّیٰ رحمہ اللہ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

”جب گفتگو کرو تو مختصر بات کرو، اور جب مزاح کرو تو اسے بھی مختصر رکھو۔
جب بیٹھو تو باوقار انداز میں بیٹھو۔ اپنی انگلیوں کو آپس میں پھنسانے اور چٹخانے، داڑھی سے کھیلنے، دانتوں میں خلال کرنے اور ناک میں انگلی ڈالنے سے پرہیز کرو۔“

(روضۃ العقلاء لابن حبان| 1/198)

15/08/2026

رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
جو مخلوق خدا پر رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا. صحیح بخاری 5997

Address

Islamabad
Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Online Quran Madrasah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share