19/08/2026
https://www.facebook.com/share/p/1C4YugPkLa/
بھائی بات سنیں۔۔۔۔
جی بہن۔۔۔؟!
مجھے بھی میرے گھر والوں سے ملائیں میں زندگی بھر آپ سب کی احسان مند رہونگی اور ہمیشہ دعا کرونگی۔۔۔
جی بہن کیا سٹوری ہے آپکی۔۔؟؟!
جی بھائی۔۔۔ وہ ناں۔۔۔ اصل میں بات یہ ہے کہ میں بہت چھوٹی تھی۔۔ میرا نام کرن اسلم تھا۔۔ سال 2005 تھا۔۔۔ہم کراچی میں رہتے تھے۔ بس اتنا یاد ہے کہ ہم کورنگی میں رہتے تھے۔ میں اپنی امی کے ساتھ کسی رشتے دار کے گھر گئی تھی۔ وہاں سے میں بازار گئی تھی۔۔ بازار میں گم ہوئی۔۔۔ مجھے ایک شیلٹر میں پہنچایا گیا۔۔۔
پہلے تو یہ سن لیں کہ میرا نام کرن اسلم تھا۔۔ جی بہن نام "تھا" یا ہے؟ جی وہ شیلٹر میں پھر نام بدل کر زینب رکھ دیا گیا تھا اس لئے "تھا" کہہ رہی ہوں۔ والد کا نام اسلم قریشی ہے اور میری والدہ کا نام بانو ہے ۔ میرے چار بھائی تھے۔۔۔ محمد عامر ،محمد عادل،محمد عاصم،اور محمد حمزہ۔
(آج بھی بھائیوں سے اتنی محبت دل میں بسی ہے کہ مکمل مکمل نام لے رہی ہے)۔ میری بہن ایک تھی غزل نام تھا۔ ہم قریشی ہیں۔ کورنگی میں شاید کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔
جی بہن ٹھیک ہے! پھر شیلٹر سے کیسے نکلی؟
جی جی میں وہی بتارہی ہوں۔۔۔
ہم بہت مشکل میں تھے۔بچپن سے شیلٹر میں بڑی ہوئی۔ ہمارے ساتھ جو لڑکیاں موجود تھیں ان سب میں ہم پانچ لڑکیاں آپس میں بہت اچھی دوست بنی تھیں۔
ہمارے گروپ میں ایک لڑکی صوبیہ کو پنجاب میں اپنے گھر کا ایڈریس معلوم تھا۔ اور حیدرآباد سندھ میں ایک رشتےدار کا گھر بھی پتہ تھا۔ ہم سب نے پلان بنایا تھاکہ کسی بھی طرح شیلٹر سے نکلنا ہے۔ صوبیہ نےہمیں کہا کہ تم لوگ بےفکر رہو ۔ یہاں سے نکلیں گے تو میں تم لوگوں کو اپنے گھر لےچلونگی۔ میرے گھر والے ضرور تم چاروں کا خیال رکھیں گے۔ہم پہلے کراچی سے حیدرآباد رشتےدار کے گھر پہنچیں گے پھر وہ میرے امی ابو کو بلائیں گے وہ لینے آجائیں گے۔حیدرآباد قریب ہے ہمارے لئے جانے میں پریشانی نہیں ہوگی۔
ہم پانچوں نے شیلٹر کی دیوار پھلانگ کر بھاگنے کی تیاری مکمل کی۔ موقع ملتے ہی ہم دیوار پھلانگ کر باہر آگئے۔ دیوار سے کودنے کے دوران ہماری ایک سہیلی کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ ہم چاروں نے اسے اٹھاکر قریبی اسپتال پہنچایا۔ اسپتال میں داخل کیا۔ پیسے نہیں تھے اور پکڑے جانے کے ڈر بھی تھا۔۔ اس لئے ہم نے اسپتال والوں کو کہا کہ ہم کچھ دیر میں پیسے لیکر آتے ہیں۔۔۔ اور یوں ہم نے حیدرآباد کی گاڑی پکڑ لی۔
اپنی زخمی ساتھی کو چھوڑ کر جانے کا فیصلہ تو بہت تکلیف دہ تھا۔۔ لیکن ہم عورت ذات ہونے کی وجہ سے اسکو زخمی حالت میں سنبھال نہیں سکتی تھیں۔
حیدرآباد میں صوبیہ کے رشتے دار کے ہاں پہنچے۔ انہوں نے صوبیہ کے گھر والوں کو اطلاع دی۔ صوبیہ کے گھر میں کھلبلی سی مچ گئی ۔ اور عید کا سماں بندھ گیا ۔ وہ پنجاب سے بھاگتے ہوئے حیدرآباد پہنچ گئے۔۔۔ ہم چاروں کو اپنے ساتھ لیکر گئے۔
صوبیہ کے گھر والوں نے اپنی بیٹیوں کی طرح رکھا۔۔۔ہم تین ان کے لئے غیر لڑکیاں تھیں۔۔۔لیکن اپنی بیٹیوں سے بڑھ کر رکھا۔ انہوں نے چن چن کر اپنے خاندان کے ایسے تین لڑکے بلائے جو کاروبار میں اخلاق میں ہر طرح سے اچھے تھے۔ ہم تینوں کا نکاح کروایا۔۔ابھی میں تین بچوں کی ماں ہوں۔
بس مجھے میرے گھر والوں کی یاد چین سے جینے نہیں دیتی۔
میرے بچے پوچھتے ہیں کہ امی نانا نانی کہاں ہیں؟ تو میں سوائے آنسوؤں کے کوئی جواب نہیں دے پاتی۔ میں ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتی ہوں میرے گھر والوں سے ملائیں۔ ہم کورنگی میں رہتے تھے۔ سب کے نام موجود ہیں۔ وہ مل جائیں گے۔ آپکی ویڈیوز دیکھ کر امید کی کرن نظر آئی ہے۔
اگر آپ کے سینے میں دل ہے اور وہ دل پتھر کا نہیں ہے تو ضرور شئیر کرکے کرن کا خاندان ڈھونڈنے میں مدد کریں گے۔
نوٹ: کرن کی حالیہ تصویر کو ہم نے اے آئی کی مدد سے کم عمری کی تصویر بنائی ہے۔ پرانی تصویر موجود نہیں تھی۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
20 اگست 2026