09/01/2026
پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن بنجاب اپنی تنظیمی حقوق اور وقار کے تحفظ کے لیے ہر ممکنہ راستہ اختیار کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے
پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن پنجاب کے صوبائی صدر مومن خان، جنرل سیکرٹری ارشد خان، مرکزی عہدیداران اور ارکانِ مرکزی کونسل نے ایک مشترکہ بیان میں 22 جنوری کو اسلام آباد میں طلب کیے گئے صوبائی کونسل کے اجلاس اور نئی کابینہ کے انتخاب کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور کالعدم قرار دے دیا ہے۔ بیان میں سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ موجودہ منتخب اور فعال صوبائی کابینہ کی موجودگی میں کسی بھی قسم کے نئے انتخابات کا انعقاد تنظیمی دستور کی سنگین خلاف ورزی اور کارکنوں کے مابین انتشار پیدا کرنے کی مذموم کوشش ہے۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس قسم کے کسی بھی غیر قانونی اور غیر جمہوری عمل کو پوری قوت کے ساتھ روکا جائے گا اور تنظیم کے آئینی ڈھانچے پر شب خون مارنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
عہدیداران نے مزید کہا کہ اس بحرانی صورتحال کے حوالے سے پارٹی کے مرکزی طلباء امور سیکرٹری اور دیگر اعلیٰ قیادت کو پہلے ہی تمام حقائق اور تحفظات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا جا چکا ہے، لیکن اس کے باوجود آئین کو پامال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ہم یہ انتباہ جاری کرتے ہیں کہ اگر اس غیر آئینی عمل کو فوری طور پر نہ روکا گیا اور اس کے نتیجے میں تنظیم کو کوئی نقصان پہنچا یا کارکنوں کے اشتعال سے کوئی ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوئی، تو اس کی تمام تر سنگین ذمہ داری مرکزی صدر ملک احتشامالحق،مرکزی جنرل سیکرٹری مزمل کاکڑ پر عائد ہوگی۔ پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن پنجاب اپنے تنظیمی حقوق اور وقار کے تحفظ کے لیے ہر ممکنہ راستہ اختیار کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔