12/05/2020
Mashallah...
* *
* *
* َرانا:*
حضرت عبدالمطلب کی وفات کا واقعہ ایک اور لحاظ سے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے، قصی بن کلاب نے جملہ امور ریاست آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جد امجد "عبد مناف" کے حوالے کیے تھے جو کہ بعدازاں ان کے بیٹے اور آپ کے پردادا حضرت ھاشم کے حصہ میں آئے، دوسری طرف حضرت ھاشم کے ہی دور میں خانہ کعبہ کی تولیت کے زیادہ تر حقوق بھی حضرت ھاشم نے حاصل کرلیے اور ان سے یہ تمام اختیارات حضرت عبدالمطلب کو بھی وراثتاً حاصل ہوئے، ان کی حیثیت اپنے والد حضرت ھاشم کی طرح مکہ کے سردار کی تھی، لیکن ان کی وفات نے دفعتاً بنو ھاشم کے اس رتبہ امتیاز کو گھٹا دیا اور کئی دھائیوں بعد یہ پہلا موقع تھا کہ دنیاوی اعتبار سے خاندان بنوامیہ خاندان بنو ھاشم پر غالب آگیا اور مکہ کی مسند ریاست پر "حرب" متمکن ہوا جو "امیہ" کا نامور فرزند تھا، حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ انہی حرب بن امیہ کے بیٹے تھے اور حرب کے بعد مکہ کے سردار اور سپہ سالار بنے، حرب بن امیہ نے ریاست اور تولیت خانہ کعبہ کے جملہ اختیارات اپنے قبضہ میں کرلیے اور صرف "سقایہ" یعنی حاجیوں کو پانی پلانے کی سعادت ہی حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس باقی رہی جو حضرت عبدالمطلب کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔
حضرت عبدالمطلب کے مختلف ازواج سے دس بیٹے تھے، جن میں سے آنحضرت ﷺ کے والد حضرت عبداللہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد جناب ابو طالب ماں کی طرف سے سگے بھائی تھے، اس لیے حضرت عبدالمطلب نے آپ کو حضرت ابوطالب کے ہی آغوش تربیت میں دے دیا، اس کے علاوہ حضرت عبدالمطلب نے اپنی وفات کے وقت اپنی بیٹیوں یعنی آپ ﷺ کی پھوپھیوں ارویٰ، امیمہ، برہ، صفیہ، عاتکہ اور ام حکیم البیضاء کو بلا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پرورش اور خیال رکھنے کی وصیت کی۔
حضرت ابو طالب اپنے والد کی وصیت کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے گھر لے آئے، ان کی بیوی حضرت فاطمہ بنت اسد بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت محبت کرتی تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پرورش میں انہوں نے بڑی دلجمعی سے حصہ لیا، حضرت ابوطالب بھی آپ سے بہت محبت کرتے تھے اور مرتے دم تک آپ کے سر پر کسی مضبوط سائبان کی طرح سایہ کیے رکھا، ان کی محبت اس درجہ بڑھی ہوئی تھی کہ آپ کے مقابلہ میں اپنی سگی اولاد کی بھی پرواہ نہ کرتے اور حضرت عبدالمطلب کی طرح ہر وقت آپ کو اپنے ساتھ ساتھ رکھتے۔
حضرت ابو طالب کثیر العیال تھے، اس لئے بڑی عُسرت اور تنگدستی سے گزر بسر ہوتی تھی، باوجود کم سِنی کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا کے گھر کی یہ حالت دیکھی تو کام کاج کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کیا، لوگوں کی بکریوں کو اُجرت پر چراتے اور بکریوں کو مکہ کی ایک پہاڑی "اجیاد" کے قریب "اریقط" نامی مقام پر لے جایا کرتے اور اس سے جو کچھ اجرت ملتی وہ اپنے چچا کو دیتے، عرب میں بکریاں چرانا کوئی معیوب کام نہ تھا، بڑے بڑے شرفاء اور امراء کے بچے بکریاں چرایا کرتے تھے اور یہ ان بچوں کے لیے کوئی کام نہیں، بلکہ ایک مشغلہ کی حیثیت رکھتا تھا اور عرب طرز معاشرت کا جائزہ لیا جاۓ تو اسے باآسانی سمجھا جاسکتا ہے۔
زمانہ رسالت میں آپ اس سادہ اور پرلطف مشغلہ کا ذکر فرمایا کرتے تھے، ایک مرتبہ آپ صحابہ کرام کے ساتھ اسی جنگل میں تشریف لے گئے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ اراک (پیلو کے درخت) کے پھل چُن رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "جو سیاہ ہو گیا وہ لے لو کہ وہی سب سے اچھا ہوتا ہے۔" اس پر صحابہ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا آپ بھی بھیڑ بکریاں چرایا کرتے تھے؟ " فرمایا: "ہاں! کوئی پیغمبر ایسا نہیں گزرا جس نے بھیڑ بکریاں نہ چرائی ہوں۔"
دس بارہ سال کی عمر تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ مشغلہ جاری رہا۔
* ِ_باراں_کی_طلب:*
ابن عساکر نے جلہمہ بن عرفطہ سے روایت کی ہے کہ میں مکہ آیا، لوگ قحط سے دوچار تھے، قریش نے کہا: ابو طالب! وادی قحط کا شکار ہے، بال بچے کال کی زد میں ہیں، چلیے! (کعبہ چل کر) بارش کی دعا کیجیے۔
حضرت ابو طالب ایک بچہ ساتھ لے کر برآمد ہوئے، بچہ ابر آلود سورج معلوم ہوتا تھا، جس سے گھنا بادل ابھی ابھی چھٹا ہو، اس کے ارد گرد اور بھی بچے تھے، حضرت ابو طالب نے اس بچے کا ہاتھ پکڑ کر اس کی پیٹھ کعبہ کی دیوار سے ٹیک دی، بچے نے ان کی انگلی پکڑ رکھی تھی، اس وقت آسمان پر بادل کا ایک ٹکڑا نہ تھا، لیکن (دیکھتے ہی دیکھتے ) اِدھر اُدھر سے بادل کی آمد شروع ہوگئی اور ایسی دھواں دھار بارش ہوئی کہ وادی میں سیلاب آگیا اور شہر وبیاباں شاداب ہوگئے، بعد میں حضرت ابوطالب نے اسی واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح میں کہا تھا:
*وأبیض یستسقی الغمام بوجہہ*
*ثمال الیتامی عصمۃ للأرامل*
*"وہ ایسے روشن و منور ہیں کہ ان کے چہرے کی برکت سے بارش مانگی جاتی ہے، یتیموں کے ماویٰ اور بیواؤں کے محافظ ہیں"*
* *
حضرت ابو طالب کے مکان میں قیام کے دوران دو اہم واقعات پیش آئے۔ ایک یہ کہ ایک مرتبہ گرمی کے موسم میں مکہ میں ایک جگہ گانے بجانے کی محفل منعقد ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس محفل میں شرکت کی خاطر بکریوں کو ایک ساتھی چرواہے کے حوالے کیا اور محفل کے مقام تک پہنچے جو چراگاہ سے دُور تھی، گرمی میں دور تک چل کر آنے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت تھک گئے تھے اور محفل ابھی شروع نہیں ہوئی تھی، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک درخت کے سایہ تلے لیٹ گئے تو آنکھ لگ گئی، جب بیدار ہوئے تو محفل ختم ہو چکی تھی، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس محفل سرود میں شریک نہ ہو سکے اور آئندہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح کے لہو و لعب میں شرکت کرنے کا خیال تک نہ آیا۔
* :*
دوسرا واقعہ یہ کہ ایک مقام پر کھجور کے دو مقدس درخت تھے، جہاں بوانہ نامی بت نصب تھا، لوگ وہاں جا کر بت پر جانور بھینٹ چڑھاتے، سر منڈاتے اور دیگر مشرکانہ رسوم ادا کرتے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر سال اس تقریب میں شرکت کے لئے کہا جاتا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انکار فرماتے۔ ایک مرتبہ چچاؤں اور پھوپھیوں کے اصرار پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں گئے، لیکن بہت دیر تک نظروں سے اوجھل رہے، جب دکھائی دئیے تو چہرے پر خوف کے آثار تھے، پھوپھیوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ جب بھی اُس بُت کے قریب جانا چاہتا تو ایک سفید رنگ اور دراز قد شخص میرے قریب آتا اور کہتا کہ "اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! پیچھے ہٹ جائیے اور بت کو ہاتھ مت لگائیے" اس واقعہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی ایسی تقریب میں نہیں گئے، جہاں بتوں پر بھینٹ چڑھائی جاتی تھی۔
ایک بار قبیلہ لہب کا ماہر قیافہ شناس مکہ آیا، سب لوگ اپنے بچوں کو اس کے پاس لے گئے، حضرت ابو طالب بھی اپنے بچوں کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے پاس لے گئے، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا اور پھر کسی کام میں مشغول ہو گیا، تھوڑی دیر بعد اس نے آپ کو اپنے سامنے لانے کو کہا، لیکن حضرت ابو طالب نے اس کا تجسس دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے گھر بھیج دیا، اس نے کہا کہ اس بچہ کو میرے پاس لاؤ، خدا کی قسم! وہ بہت بڑا آدمی بننے والا ہے۔
* :*
حضرت ابوطالب کا پیشہ بھی اپنے آباؤ اجداد کی طرح تجارت تھا، وہ سال میں ایک بار تجارت کی غرض سے ملک شام کو جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر تقریباً بارہ برس تھی کہ حضرت ابوطالب نے حسب دستور شام کے تجارتی سفر کا ارادہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ان کے ساتھ چلنے کی خواہش کا اظہار کیا، حضرت ابوطالب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کم عمری، دوران سفر مشکلات اور تکلیفوں یا کسی اور وجہ سے آپ کو ساتھ نہ لے جانا چاہا، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے شفیق چچا سے اتنی محبت تھی کہ جب حضرت ابوطالب چلنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے لپٹ گئے، اب حضرت ابوطالب کے لیے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خود سے جدا کرنا ممکن نہ رہا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی ساتھ لے لیا۔
مؤرخین کے مطابق اسی سفر شام کے دوران ایک عیسائی راہب "بحیرہ" کا مشہور واقعہ پیش آیا، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کچھ ایسی نشانیاں دیکھیں جو ایک آنے والے پیغمبر کے بارے میں قدیم آسمانی کتب میں لکھی تھیں، اس نے حضرت ابوطالب کو بتایا کہ اگر شام کے یہود یا نصاریٰ نے یہ نشانیاں پالیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے، چنانچہ حضرت ابوطالب نے یہ سفر ملتوی کردیا اور واپس مکہ آ گئے۔
اس واقعہ کو ان شاء اللہ اگلی قسط میں تفصیل سے بیان کیا جاۓ گا۔
۔۔۔
#محمدسکندرجیلانی
سیرت المصطفیٰﷺ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی.
الرحیق المختوم .. مولانا صفی الرحمن مبارکپوری