Zaib-Osh

Zaib-Osh اردو شاعری

04/01/2022

ہاں میں نے لہو اپنا گلستاں کو دیا ہے
مجھ کو گل و گلزار پہ تنقید کا حق ہے

میں یاد دلاتا ہوں شکایت نہیں کرتا
بھولے ہوئے اقرار پہ تنقید کا حق ہے

12/09/2021

ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے
خلقتِ شہر تو کہنے کو فسانے مانگے
__________
احمد فرازؔ

‏کتنے دل کش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے ‎جون_ایلیا
05/08/2021

‏کتنے دل کش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں
کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے
‎جون_ایلیا

01/08/2021

بربادیِ دل جبر نہیں فیض کسی کا
وہ دشمنِ جاں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے

13/01/2021

سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھے
بے شک ستم جناب کے سب دوستانہ تھے

ہاں جو جفا بھی آپ نے کی قاعدے سے کی
ہاں ہم ہی کاربند اصول وفا نہ تھے

آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہرباں
بھولے تو یوں کہ جیسے کبھی آشنا نہ تھے

کیوں داد غم ہمیں نے طلب کی برا کیا
ہم سے جہاں میں کشتۂ غم اور کیا نہ تھے

گر فکر زخم کی تو خطاوار ہیں کہ ہم
کیوں محو مدح خوبی تیغ ادا نہ تھے

ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لا دوا نہ تھے

لب پر ہے تلخی مئے ایام ورنہ فیضؔ
ہم تلخی کلام پہ مائل ذرا نہ تھے

05/11/2020

Teri Soorat Hai Aalam Main Baharon ko Sabaat,
Teri Ankhon K Siwa Dunia Mein Rakha Kia Hai...!

Faiz Ahmad Faiz

26/08/2020

کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا
کوئی نہیں جہاں میں کوئی نہیں کسی کا

اک تنکا آشیانہ، اک راگنی اثاثہ
اک موسمِ بہاراں، مہمان دو گھڑی کا

آخر کوئی کنارا اس سیلِ بےکراں کا
آخر کوئی مداوا اس دردِ زندگی کا

میری سیہ شبی نے اک عمرآرزو کی
لرزے کبھی افق پر تاگا سا روشنی کا

شاید اِدھر سے گزرے پھر بھی ترا سفینہ
بیٹھا ہوا ہوں ساحل پر نے بلب کبھی کا

اس التفات پر ہوں لاکھ التفات قرباں
مجھ سے کبھی نہ پھیرا رخ تو نے بےرخی کا

اب میری زندگی میں آنسو ہیں اور نہ آہیں
لیکن یہ ایک میٹھا میٹھا سا روگ جی کا

او مسکراتے تارو! او کھلکھلاتے پھولو!
کوئی علاج میری آشفتہ خاطری کا

(مجید امجد)

05/08/2018

‏مدت ہوئی کہ آپ نے دیکھا نہیں ہمیں...!!
‏.
‏مدت کے بعد آپ سے دیکھا نہ جائے گا....!!
‏جون ایلیا

31/12/2017

گزرتا سال ہے اور سال کا یہ آخری دن ہے
ابھی کچھ دھوپ ہے لیکن، ذرا سی دیر کو طے ہے کہ آخر شام ہونی ہے
حقیقت یا کہانی جو بھی ہے انجام ہونی ہے
گزرتا سال ہے اور سال کا یہ آخری دن ہے
اگر طے ہے یہی ہونا تو پھر کس بات کا خدشہ، تو پھر کس بات کا رونا
چلو مل بیٹھ کر اپنے خسارے بانٹ لیں، سبھی رنگ اور جگنو اور ستارے بانٹ لیتے ہیں
گزرتا سال ہے اور سال کا یہ آخری دن ہے
ابھی کچھ دھوپ ہے لیکن ذرا سی دیر کو طے ہے کہ آخر شام ہونی ہے
حقیقت یا کہانی جو بھی ہے انجام ہونی ہے،
اگر طے ہے یہی ہونا تو کیوں نہ شام سے پہلے ، کسی انجام سے پہلے
بھلا کر ہر پریشانی کو، جھٹک کر ہر تکلف کو
جو کچھ گھڑیاں میسر ہیں ، انہی میں زندگی کر لیں،
کسی احساس کی شمعیں جلا کر ان اندھیروں میں کوئی دم روشنی کر لیں،
چلو ہم دوستی کر لیں، چلو ہم دوستی کر لیں۔۔ !!
گزرتا سال ہے اور سال کا یہ آخری دن ہے..

27/12/2017

19/10/2017

کلیوں کی مہک ہوتا تاروں کی ضیا ہوتا
میں بھی ترے گلشن میں پھولوں کا خدا ہوتا

ہر چیز زمانے کی آئینہ دل ہوتی
خاموش محبت کا اتنا تو صلہ ہوتا

تم حال پریشاں کی پرسش کے لیے آتے
صحرائے تمنا میں میلہ سا لگا ہوتا

ہر گام پہ کام آتے زلفوں کے تری سائے
یہ قافلۂ ہستی بے راہنما ہوتا

احساس کی ڈالی پر اک پھول مہکتا ہے
زلفوں کے لیے تم نے اک روز چنا ہوتا

Address

Jhang Sadar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zaib-Osh posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Zaib-Osh:

Share

Category