Rana Sajid Ali Media Cell Jhol

Rana Sajid Ali Media Cell Jhol Political

(إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ)ہمارے پیارے دوست سیاسی و سماجی رہنما ڈاکٹر مقبول احمد جٹ کے بیٹے کا آج رضاال...
25/02/2020

(إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ)
ہمارے پیارے دوست سیاسی و سماجی رہنما ڈاکٹر مقبول احمد جٹ کے بیٹے کا آج رضاالہی سے انتقال ہو گیا ہے ہم ڈاکڑ مقبول کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دعاگو ہیں اللہ‎ پاک مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لوحیقین کو صبر جمیل عطافرمائے منجانب
رانا ساجد علی راجپوت رہنما پاکستان پیپلز پارٹی

اب ڈھونڈوانہیں چراغِ رخِ زیبا لےکرآغا شورش کاشمیری ایک دن بھٹو صاحب کے پاس گئے تو بھٹو مرحوم نے کہا: آکسفورڈ یونیورسٹی م...
20/06/2019

اب ڈھونڈوانہیں چراغِ رخِ زیبا لےکر

آغا شورش کاشمیری ایک دن بھٹو صاحب کے پاس گئے تو بھٹو مرحوم نے کہا: آکسفورڈ یونیورسٹی میں میری لڑکی اور لڑکا دونوں پڑھتے ہیں، آپ بھی اپنی لڑکی اور لڑکے کو بھیج دو، حکومت وظیفہ دے گی.

شورش نے کہا کہ میں مشرقی طرز کا آدمی ہوں، مغربی تہذیب میں اولاد کو بھیج کر خراب نہیں کرنا چاہتا.

تو بھٹو مرحوم نے کہا کہ شادمان کالونی، لاہور میں دو پلاٹ پڑے ہیں ،تم کم ریٹ پر حکومت سے خرید لو اور ایک کو پیچ کر اپنا پلاٹ بنا لو.

تو شورش نے جواب دیا: جناب سر چھپانے کے لئے جگہ موجود ہے، میں کوٹھی نہیں بنانا چاہتا۔

شورش رحمة الله علیہ اپنے گھر واپس آئے اور سارا قصہ اپنی بیٹی کو سنا دیا. تو بیٹی نے کہا کہ: ابو بھٹو صاحب پلاٹ دے رہے تھے، لے لیتے، سرکاری زمین ہے ہم پیسے جمع کرا دیتے ہیں بات صرف اتنی ہے کہ وہ کوئی اور لے جائے گا، بس ہمیں رعایت ہی مل جاتی، آپ نے ہمارے مستقبل کے ساتھ زیادتی کی ہے.

تو جواب میں شورش رحمة الله علیہ نے فرمایا کہ: دنیا یہیں رہ جائے گی، میں بھٹو مرحوم سے ایک ایسا تحفہ لیکر آیا ہوں جو قبر میں مجھے کام آئے گا بس یہ بات کہنی تھی۔

تحریک ختم نبوت کے اکابرین بھٹو مرحوم اور شورش رحمة الله کے درمیان کی گفتگو سے بالکل ہی لاعلم تھے۔ کچھ ہی دنوں بعد شورش رحمة الله بیمار ہوئے اور انتقال فرما گئے ،جنازے میں حضرت مفتی محمود صاحب رحمة الله، مولانا غلام غوث ہزاروی رحمة الله، مصطفیٰ کھر، کوثر نیازی ،معراج خالد ،حفیظ پیرزادہ و دیگر حضرات شریک ہوئے۔ ہزاروں کا اجتماع تھا، مجمع سارا حیران تھا کہ بھٹو مرحوم اور شورش رحمة الله علیہ کا کافی دوستانہ تعلق تھا پھر بھی جنازے میں شریک نہیں ہوئے ان کے انتقال کے دوسرے دن ہی بھٹو مرحوم چین چلے گئے۔

پانچ روزہ دورے کے بعد جب واپس آئے تو ایک رات پنڈی میں رہے، دوسرے دن لاہور آئے اور شورش رحمة الله کی قبر پر حاضری دی۔ فاتحہ خوانی کی اور شورش رحمة الله علیہ کے گھر بھی تعزیت کے لئے گئے۔

بھٹو مرحوم نے تعزیت کے دوران کہا کہ جنرل عبد العلی اور جنرل ظفر چودھری قادیانی ہیں، شورش رحمة الله علیہ نے میرے پاس آ کر کہا: آپ میرے بچوں کو آکسفورڈ یونیورسٹی نہ بھیجوائیں اور پلاٹ بھی مجھےنہ دیں، بس ان دو قادیانیوں کو ہٹا دیں۔ یہی تحفہ میں آپ سے لینے آیا ہوں، تو بھٹو مرحوم نے کہا کہ میں ہٹا دوں گا اور میں نے وعدہ کیا تھا؛ بغیر جنرلوں کے ہٹائے میں اگر اس جنازے میں آتا تو وعدہ خلافی ہوتی، میری آنکھ میں شرم تھی، میں کیسے جنازے شریک ہو سکتا تھا، دوسرے دن میرا چین کا سفر تھا اگر میں اس کو ہٹا کر جنازے میں آتا تو میری غیر حاضری میں شاید اندیشہ تھا کہ اتنی بڑی تبدیلی کے بعد ملک میں کوئی گڑبڑ نہ ہو جائے، تو میں اس لئے جنازہ میں نہیں آیا۔ چین چلا گیا، واپس آیا، آج ہی میں نے ان دونوں جنرلوں کو فارغ کر دیا ہے۔ شام پانچ بجے کی خبروں میں آ جائے گا، اب میں سرخرو ہو کر آپ حضرات کے پاس آیا ہوں۔

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

بھٹو کیوں زندہ ہے؟حامد میرAPRIL 04, 2019 کیا آپ جانتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد راولپنڈی جیل میں ان...
05/04/2019

بھٹو کیوں زندہ ہے؟
حامد میرAPRIL 04, 2019

کیا آپ جانتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد راولپنڈی جیل میں ان کی لاش ایک فوٹو گرافر کے حوالے کر دی گئی اور یہ فوٹو گرافر لاش کا پاجامہ اتار کر بھٹو صاحب کے پوشیدہ اعضاء کی تصاویر بناتا رہا؟ اس جیل کے سکیورٹی انچارج کرنل رفیع الدین نے اپنی کتاب ’’بھٹوکےآخری 323دن ‘‘میں لکھا ہے کہ یہ فوٹو اس لئے بنوائے گئے تاکہ معلوم ہو سکے کہ ان کے ختنے ہوئے تھے یا نہیں؟ جنرل ضیاءالحق کی حکومت نے جیل حکام کو بتایا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی ماں ہندو تھی جسے ان کے والد نے زبردستی اپنی بیوی بنایا تھا اور بھٹو صاحب کا اصلی نام نتھا رام تھا تاہم کرنل رفیع الدین نے گواہی دی ہے کہ جب فوٹوگرافر نے بھٹو صاحب کے جسم کے درمیانی حصے کے بہت نزدیک سے فوٹو لئے تو پتا چلا کہ ان کا اسلامی طریقے سے ختنہ ہوا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی موت کو کئی دہائیاں گزر گئیں لیکن ان کی موت آج بھی ایک راز ہے۔ کرنل رفیع الدین نے لکھا ہے کہ جب بھٹو صاحب کو پھانسی دی گئی تو وہ بھوک ہڑتال پر تھے اور جیل میں ان پر کوئی تشدد نہیں کیا گیا تھا لیکن بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کو یقین تھا کہ بھٹو صاحب کو پھانسی سے پہلے ہی قتل کردیا گیا تھا۔ بیگم نصرت بھٹو نے روزنامہ جنگ کے لئے مجھے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کا دعویٰ کیا گیا لیکن ان کی گردن ٹوٹی نہ گردن پر پھانسی کا کوئی نشان تھا۔ یہ انٹرویو جی این مغل کی بیگم نصرت بھٹو کے بارے میں کتاب ’’مادرِ جمہوریت‘‘ میں شامل ہے۔1992ءمیں بیگم صاحبہ کا یہ انٹرویو شائع ہوا اور اسی زمانے میں صادق جعفری کی کتاب(WAS BHUTTO KILLED BEFORE HANGING?)’’کیا بھٹو کو پھانسی سے پہلے مار دیا گیا؟‘‘شائع ہوئی۔ اس کتاب میں ذوالفقار علی بھٹو کی نماز جنازہ پڑھانے والے مولوی محمود احمد بھٹو اور بھٹو خاندان کے ایک ملازم عبدالقیوم تنولی سمیت ایسے کئی عینی شاہدوں کے بیانات شامل ہیں جن کا دعویٰ تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی گردن سلامت تھی اور پھانسی کا کوئی نشان نہیں تھا۔ 1979ء میں بریگیڈیئر تفضل حسین صدیقی آئی ایس پی آر کے سربراہ تھے۔ انہوں نے اپنے ایک نوجوان افسر کیپٹن صولت رضا کو ایک فلم ایڈیٹنگ کے لیے دی تھی جس میں بھٹو صاحب کا جسدِ خاکی نظر آ رہا تھا۔ صولت رضا بریگیڈیئر بن کر ریٹائر ہوئے تو انہوں نے ایک کالم میں لکھا کہ ’’یہ غسلِ میت سے پہلے کا منظر تھا‘‘۔ اسی کالم میں بریگیڈیئر (ر) صولت رضا نے لکھا کہ ’’اللہ شاہد ہے کہ پھانسی کے شارٹس اس فلم میں نہیں تھے‘‘۔ ایڈیٹنگ کے بعد یہ فلم میجر جنرل مجیب الرحمٰن کے حوالے کردی گئی۔ صولت رضا کی یہ گواہی ان کی کتاب ’’غیر فوجی کالم‘‘ میں محفوظ ہو چکی ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کے جسد خاکی کے فوٹو اور فلم کیوں بنوائی؟
جنرل ضیاء اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ ایک ایسے شخص کو قتل کر رہے تھے جس کے لیے دنیا بھر سے جان بخشی کی اپیلیں کی جا رہی تھیں۔ ترکی کے وزیراعظم بلند ایجوت نے پیشکش کی تھی کہ اگر بھٹو کی جان بخش دی جائے تو بھٹو سیاست نہیں کریں گے اور ترکی کے مہمان بن کر رہیں گے لیکن بھٹو نے اس قسم کے کسی معاہدے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی۔ جنرل ضیاء یہ بھی جانتا تھا کہ مردہ بھٹو اس کے لیے زندہ بھٹو سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے لہٰذا مردہ بھٹو کی کردارکشی کے لئے ان کے جسد خاکی کی بے حرمتی کی گئی۔ برہنہ جسم کی تصویریں اور فلم دیکھ کر جنرل ضیاء کو کتنا غصہ آیا ہو گا؟ کتنی مایوسی ہوئی ہوگی؟ بھٹو کے ختنوں نے بھی جنرل ضیاء کو شکست دے دی۔ بھٹو کی موت کے بعد سے مسلسل یہ نعرہ گونج رہا ہے ’’کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے‘‘۔ بھٹو کے سارے دشمن مرگئے بھٹو آج بھی کیوں زندہ ہے؟ بھٹو کی موت نے پاکستان کو مضبوط نہیں کمزور کیا۔ جنرل ضیاء کہتا تھا کہ وہ بھٹو کے بارے میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرکے قانون کی بالادستی قائم کرے گا لیکن جن ججوں نے بھٹو کی پھانسی کا فیصلہ دیا انہی میں سے ایک جج جسٹس نسیم حسن شاہ نے اپنی کتاب میں یہ اعتراف کیا کہ بھٹو کے ساتھ نا انصافی ہوئی تھی۔ بھٹو کے عدالتی قتل نے پاکستان کی روح پر ایسے زخم لگائے ہیں جو کئی دہائیاں گزر جانے کے باوجود مندمل نہیں ہوئے اور جب بھی کسی سیاستدان کے ساتھ نا انصافی ہوتی ہے تو اس کے حامی سقراط کو یاد کرتے ہیں یا بھٹو کو یاد کرتے ہیں۔ نوازشریف کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ایک زمانے میں وہ کہتے تھے کہ میں بھٹو کی بیٹی کا نام سننا پسند نہیں کرتا کیونکہ بھٹو نے پاکستان توڑا۔ جب انہیں عدالت نے نااہل قرار دیا تو ان کی جماعت مسلم لیگ (ن)نے نواز شریف کا بھٹو سے تقابل شروع کردیا۔ بھٹو کی اپنی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈروں کو بھٹو کے نظریات اور منشور میں زیادہ دلچسپی نہیں لیکن جب انہیں اپنے لیے خطرہ نظر آتا ہے تو یہ بھٹو کا نام لینے لگتے ہیں۔ آج کے سیاستدانوں کو بھٹو کی زندگی اور موت سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ بھٹو کی غلطیوں میں بھی سبق ہے اور ان کے کارناموں میں بھی سبق ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ 1970ءکے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت عوامی لیگ کے ساتھ وہ کوئی سمجھوتہ نہ کر سکے۔ انہیں اقتدار اکثریتی جماعت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا لیکن اکثریتی جماعت کے خلاف ملٹری آپریشن ہو گیا اور پاکستان ٹوٹ گیا۔ ٹوٹے پھوٹے پاکستان کا وزیراعظم بننے کے بعد انہوں نے بلوچستان میں نیپ کی حکومت برطرف کی، نیپ پر پابندی لگائی اور فوجی آپریشن کی منظوری دی۔ حکومت میں آنے کے بعد انہوں نے پیپلز پارٹی کو منظم کرنے پر توجہ نہ دی، پرانے ساتھیوں کو نظر انداز کیا اور مفاد پرستوں کو اپنے ارد گرد اکٹھا کر لیا۔ مشکل وقت آیا تو یہ مفاد پرست غائب ہو گئے۔ 1973ءکا متفقہ آئین بھٹو کا سب سے بڑا کارنامہ ہے جس نے آج بھی پاکستان کو قائم رکھا ہوا ہے لیکن ان کا اصل جرم ایٹمی پروگرام تھا۔ ہیوی مکینیکل کمپلیکس ٹیکسلا تھا۔ آئی ایس آئی کے ایک افسر بریگیڈیئر (ر) سید ارشاد ترمذی نے اپنی کتابPROFILES OF INTELLIGENCE میں صاف صاف لکھا ہے کہ انہوں نے خود واشنگٹن سے پاکستان میں امریکی سفارت خانے کو بھیجا جانے والا وہ خفیہ پیغام پکڑا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ بھٹو کی موت کو یقینی بنایا جائے۔ آگے چل کر بریگیڈیئر ترمذی نے دستاویزی شہادتوںکے ساتھ لکھا ہے کہ بھٹو کا اصل جرم پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانا تھا اور اسی لیے جنرل ضیاء الحق نے امریکہ کے حکم پر سپریم کورٹ کے ساتھ مل کر بھٹو کو پھانسی کے گھاٹ اتار دیا۔
ذوالفقار علی بھٹو اگر چاہتے تو ڈیل کر سکتے تھے۔ رہائی پا سکتے تھے لیکن انہوں نے بہت سوچ سمجھ کر موت کو گلے لگایا۔ وہ جیل میں لکھی گئی کتاب ’’اگر مجھے قتل کر دیا گیا‘‘ میں لکھتے ہیں، میں تاریخ کے ہاتھوں مرنے کے بجائے فوج کے ہاتھوں مرنا پسند کروں گا۔ اگر وہ ڈیل کر لیتے تو فوج کے ہاتھوں بچ جاتے اور تاریخ کے ہاتھوں مارے جاتے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا ایک اور کارنامہ بے نظیر بھٹو تھیں۔ انہوں نے اپنی سیاسی وراثت اپنی بیٹی کے حوالے کرکے ایک ایسا فیصلہ کیا جو ان کی سیاسی بقا کی ضمانت بنا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی جرأت و بہادری نے بھی بھٹو کو زندہ رکھا اور پھر بے نظیر بھٹو بھی اسی شہر میں ماری گئیں جہاں ان کے والد کو مارا گیا تھا۔ باپ اور بیٹی نے بہادری سے موت کو گلے لگا کر اپنی غلطیوں کا کفارہ ادا کیا اور ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔ یہ دونوں تو آج بھی زندہ ہیں۔ اب ذرا اس کے بارے میں سوچئے جو بھٹو کے جسد خاکی کے فوٹو بنوا رہا تھا۔ اسے بھی انہوں نے مروا دیا جن کے حکم پر اس نے بھٹو کو مارا تھا۔ اللہ معاف کرے موت کے بعد اس کا جسد خاکی کسی فوٹو کے قابل نہ تھا۔

شہید ذوالفقار علی ‏بھٹو کا جنازہ چند لوگوں نے پڑھا کیوں کہ یہ آمر کا حکم تھا۔ آمر کا جنازہ لاکھوں نے پڑھا کیوں کہ وہ آمر...
04/04/2019

شہید ذوالفقار علی ‏بھٹو کا جنازہ چند لوگوں نے پڑھا کیوں کہ یہ آمر کا حکم تھا۔ آمر کا جنازہ لاکھوں نے پڑھا کیوں کہ وہ آمریت کا جنازہ تھا۔ بھٹو کے مزار پر لاکھوں لوگ آتے ہیں اور آمر کی قبر پر اس کی اولاد بھی نہیں جاتی۔۔۔🤔

یہ وقت اور تاریخ کا انتقام ہے۔۔۔❤

میری اوقات کا اندازہ میرے زور سے نہیںمیرے دشمن کے شور سے پتا چلتا ہے۔اور وہ شور آج دنیا میں گونج رہا ہے، میں بھٹو ہوں ،م...
04/04/2019

میری اوقات کا اندازہ میرے زور سے نہیں
میرے دشمن کے شور سے پتا چلتا ہے۔
اور وہ شور آج دنیا میں گونج رہا ہے،
میں بھٹو ہوں ،میں بھٹو ہوں
نعرہ بھٹو ،
جئے بھٹو. ✌️✌️

04/04/2019
میری ہمتیں ابھی جھکی نہیں،میرے حوصلے ابھی بلند ہیں،مجھے ہار جیت سے غرض نہیں،میری جنگ تھی سو میں لڑ گیا تم جیت کر بھی ہار...
27/03/2019

میری ہمتیں ابھی جھکی نہیں،
میرے حوصلے ابھی بلند ہیں،

مجھے ہار جیت سے غرض نہیں،
میری جنگ تھی سو میں لڑ گیا

تم جیت کر بھی ہارے ہو
میں ہار کر بھی عوام کے دل جیت گیا

میرے میں حوصلہ ابھی باقی ہے
مجھے یہ جنگ ابھی بھی لڑنی ہے
جئے بھٹو

سانگھڑ اور اہلے پاکستان کے تمام اقلیتی برادری کو میری جانب سے ہولی کا رنگا رنگ تہوار مبارک ہو دعا ھے کہ ایسے ہی تمام لوگ...
20/03/2019

سانگھڑ اور اہلے پاکستان کے تمام اقلیتی برادری کو میری جانب سے ہولی کا رنگا رنگ تہوار مبارک ہو دعا ھے کہ ایسے ہی تمام لوگ خوشیاں منائیں اور محبت و قربت سے ساتھ ساتھ رہیں ۔
منجانب پاکستان پیپلز پارٹی رہنما سانگھڑ محترم جناب رانا راشد علی صاحب

سانگھڑ اور اہلے پاکستان کے تمام اقلیتی برادری کو میری جانب سے ہولی کا رنگا رنگ تہوار مبارک ہو دعا ھے کہ ایسے ہی تمام لوگ...
20/03/2019

سانگھڑ اور اہلے پاکستان کے تمام اقلیتی برادری کو میری جانب سے ہولی کا رنگا رنگ تہوار مبارک ہو دعا ھے کہ ایسے ہی تمام لوگ خوشیاں منائیں اور محبت و قربت سے ساتھ ساتھ رہیں ۔
منجانب پاکستان پیپلز پارٹی ایم پی اے ٹکٹ ہولڈر پی ایس 46 #حاجی #رانا #عبدالستار #راجپوت

Address

Adress City Jhol Disstrict Sanghar
Jhol
008866

Telephone

+92 300 3322654

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rana Sajid Ali Media Cell Jhol posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share