Achi Batien

Achi Batien Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Achi Batien, Library, Karachi Lines.

السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ
اچھی باتیں۔۔ اس سفر میں مجھے اپ سب کا تعاون چاہئے
ہم سب کا پیج اور پلیٹ فارم ہے
مختلف واقعات۔ سچی کہانیاں۔ موٹیویشنل پہ مشتمل معاشرتی تحاریر ہیں ۔۔
اللہ اپکا حامی وناصر ہو❤️
Please Request to Join Us
Like & Follow &Share...

06/08/2026
ظاہر اور فریب کے اس دور میں ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جذباتی پن سے نکل کر فکری پختگی کی...
06/08/2026

ظاہر اور فریب کے اس دور میں ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جذباتی پن سے نکل کر فکری پختگی کی طرف قدم بڑھائیں:
زبان درازی: ہر تلخ یا تیز بولنے والے کو "دل کا صاف" سمجھنے کی بھول مت کریں۔ اکثر یہ محض اخلاق کی کمی اور تربیت کا فقدان ہوتا ہے۔
اونچی آواز: بلند آہنگ اور دھواں دھار گفتگو کو سچائی کا پیمانہ نہ بنائیں۔ سچ اکثر دھیمے لہجے میں بولا جاتا ہے۔
بے باکی اور منہ پھٹی: ہر بدتمیز یا حد سے زیادہ بے باک شخص دانشور نہیں ہوتا؛ اکثر یہ صرف شعور کی پستی کا منہ بولتا ثبوت ہوتا ہے۔
مظلومیت کا ناٹک: ہر آنسو بہانے والے اور اداکاری کرنے والے کو مظلوم مان لینا ہماری سادگی نہیں تو اور کیا ہے؟
آئیے، سطحی باتوں سے بالاتر ہو کر حالات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا سیکھیں اور اپنے مشاہدے کو پختہ بنائیں۔

04/08/2026

جب تجھے نیکی کر کے خوشی ہو اور برائی کر کے پچھتاوا ہو تو تو مومن ہے

04/08/2026

"تاریخ فتوحات گنتی ھے ___ دستر خوان پر پڑے انڈے , جیم اور مکھن نہیں_____!!!!!!"
یہ 1973ء کی بات ھے.. عربوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کو تھی.. ایسے میں ایک امریکی سینیٹر ایک اھم کام کے سلسلے میں اسرائیل آیا.. وہ اسلحہ کمیٹی کا سربراہ تھا.. اُسے فوراً اسرائیل کی وزیراعظم "گولڈ مائیر" کے پاس لے جایا گیا..
گولڈ مائیر نے ایک گھریلو عورت کی مانند سینیٹر کا استقبال کیا اور اُسے اپنے کچن میں لے گئی.. یہاں اُس نے امریکی سینیٹر کو ایک چھوٹی سی ڈائینگ ٹیبل کے پاس کرسی پر بٹھا کر ' چولہے پر چائے کیلئے پانی رکھ دیا اور خود بھی وھیں آبیٹھی.. اُس کے ساتھ اُس نے توپوں ' طیاروں اور میزائلوں کا سودا شروع کر دیا.. ابھی بھاؤ تاؤ جاری تھا کہ اُسے چائے پکنے کی خوشبو آئی.. وہ خاموشی سے اُٹھی اور چائے دو پیالیوں میں اُنڈیلی.. ایک پیالی سینیٹر کے سامنے رکھ دی اور دوسری گیٹ پر کھڑے امریکی گارڈ کو تھما دی.. پھر دوبارہ میز پر آ بیٹھی اور امریکی سینیٹر سے محو کلام ھو گئی..
چند لمحوں کی گفت و شنید اور بھاؤ تاؤ کے بعد شرائط طے پاگئیں.. اس دوران گولڈ مائیر اُٹھی ' پیالیاں سمیٹیں اور اُنہیں دھو کر واپس سینیٹر کی طرف پلٹی اور بولی.. "مجھے یہ سودا منظور ھے.. آپ تحریری معائدے کیلئے اپنا سیکرٹری میرے سیکرٹری کے پاس بھجوا دیجئے.."
یاد رھے کہ اسرائیل اُس وقت اقتصادی بحران کا شکار تھا مگر گولڈ مائیر نے کتنی "سادگی" سے اسرائیل کی تاریخ میں اسلحے کی خریداری کا اتنا بڑا سودا کر ڈالا.. حیرت کی بات یہ ھے کہ خود اسرائیلی کابینہ نے اس بھاری سودے کو رد کردیا.. اُس کا مؤقف تھا اِس خریداری کے بعد اسرائیلی قوم کو برسوں تک دن میں ایک وقت کھانے پر اکتفا کرنا پڑے گا..
گولڈ مائیر نے کابینہ کے ارکان کا مؤقف سُنا اور کہا.. " آپ کا خدشہ درست ھے لیکن اگر ھم یہ جنگ جیت گئے اور ھم نے عربوں کو پسپائی پر مجبور کردیا تو تاریخ ھمیں فاتح قرار دے گی.. اور تاریخ جب کسی قوم کو فاتح قرار دیتی ھے تو بھول جاتی ھے کہ جنگ کے دوران فاتح قوم نے کتنے انڈے کھائے تھے اور روزانہ کتنی بار کھانا کھایا تھا.. اُس کے دستر خوان پر شہد ' مکھن ' جیم تھا یا نہیں.. اور اُن کے جوتوں میں کتنے سوراخ تھے یا اُن کی تلواروں کی نیام پھٹے پرانے تھے.. فاتح صرف فاتح ھوتا ھے.."
گولڈ مائیر کی دلیل میں وزن تھا لہٰذا اسرائیلی کابینہ کو اِس سودے کی منظوری دینا پڑی.. آنیوالے وقت نے ثابت کردیا کہ گولڈ مائیر کا اِقدام درست تھا اور پھر دنیا نے دیکھا ' اُسی اسلحے اور جہازوں سے یہودی عربوں کے دروازوں پر دستک دے رھے تھے.. جنگ ھوئی اور عرب ایک بوڑھی عورت سے شرمناک شکست کھا گئے.. (یہ بھی ایک عجیب حقیقت ھے کہ امت مسلمہ کو بیسویں صدی میں ٹکڑوں میں تقسیم کردینے میں دو عورتوں کا ھاتھ رھا.. یعنی عربوں کو ختم کرنے میں گولڈ مائیر کا اور عجم کے مسلمانوں کو شکست دینے میں اندرا گاندھی کا..)
جنگ کے ایک عرصہ بعد واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے گولڈ مائیر کا انٹرویو لیا اور سوال کیا.. "امریکی اسلحہ خریدنے کیلئے آپ کے ذھن میں جو دلیل آئی تھی وہ فوراً آپ کے ذھن میں آئی تھی یا پہلے سے حکمت عملی تیار کررکھی تھی..؟"
گولڈ مائیر نے جو جواب دیا چونکا دینے والا ھے.. وہ بولی..
"میں نے یہ استدلال اپنے دشمنوں (مسلمانوں) کے نبی ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم) سے لیا تھا.. میں جب طالبہ تھی تو مذاھب کا موازنہ میرا پسندیدہ موضوع تھا.. اُنہی دنوں میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سوانح حیات پڑھی.. اُس کتاب میں مصنف نے ایک جگہ لکھا تھا کہ جب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا وصال ھوا تو اُن کے گھر میں اِتنی رقم نہیں تھی کہ چراغ جلانے کیلئے تیل خریدا جا سکے.. لہٰذا اُن کی اھلیہ عائشہ (صدیقہ رضی اللہ عنہا) نے اُن کی زرہ بکتر رھن رکھ کر تیل خریدا لیکن اُس وقت بھی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حجرے کی دیواروں پر نو تلواریں لٹک رھی تھیں..
میں نے جب واقعہ پڑھا تو میں نے سوچا کہ دنیا میں کتنے لوگ ھونگے جو مسلمانوں کی پہلی ریاست کی کمزور اقتصادی حالت کے بارے میں جانتے ھونگے.. لیکن مسلمان آدھی دنیا کے فاتح ھیں ' یہ بات پوری دنیا جانتی ھے.. لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ اگر مجھے اور میری قوم کو برسوں بھوکا رھنا پڑے ' پختہ مکانوں کی بجائے خیموں میں زندگی بسر کرنا پڑے ' تو بھی اسلحہ خریدیں گے ' خود کو مضبوط ثابت کرینگے اور فاتح کا اعزاز پائیں گے.."
گولڈ مائیر نے اِس حقیقت سے تو پردہ اُٹھایا مگر ساتھ ھی انٹرویو نگار سے درخواست کی کہ اِسے " آف دی ریکارڈ " رکھا جائے اور شائع نہ کیا جائے.. وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کے نبی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کا نام لینے سے جہاں اس کی قوم اس کے خلاف ھو سکتی ھے وھاں دنیا کے مسلمانوں کے مؤقف کو تقویت ملے گی.. چنانچہ واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے یہ واقعہ حذف کر دیا.. پھر وقت دھیرے دھیرے گزرتا رھا.. یہاں تک کہ گولڈ مائیر انتقال کر گئی اور وہ انٹرویو نگار بھی عملی صحافت سے الگ ھو گیا.. اس دوران ایک اور نامہ نگار ' امریکہ کے بیس بڑے نامہ نگاروں کے انٹرویو لینے میں مصروف تھا.. اُس سلسلے میں وہ اُسی نامہ نگار کا انٹرویو لینے لگا جس نے واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے کی حیثیت سے گولڈ مائیر کا انٹرویو لیا تھا.. اُس انٹرویو میں اُس نے گولڈ مائیر کا واقعہ بھی بیان کردیا جو سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تھا.. اُس نے کہا.. "اُسے اَب یہ واقعہ بیان کرنے میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں ھو رھی ھے.."
گولڈ مائیر کا انٹرویو لینے والے نے مزید کہا..
"میں نے اِس واقعہ کے بعد جب تاریخِ اسلام کا مطالعہ کیا تو میں عرب بدوؤں کی جنگی حکمت عملیاں دیکھ کر حیران رہ گیا.. کیونکہ مجھے معلوم ھوا کہ وہ طارق بن زیاد جس نے جبرالٹر (جبل الطارق) کے راستے اسپین فتح کیا تھا اُس کی فوج کے آدھے سے زیادہ مجاھدوں کے پاس پورا لباس نہیں تھا.. وہ بہتَر بہتَر (72) گھنٹے ایک چھاگل پانی اور سوکھی روٹی کے چند ٹکڑوں پر گزارا کرتے تھے.. یہ وہ موقع تھا جب گولڈ مائیر کا انٹرویو نگار قائل ھوگیا کہ
" تاریخ فتوحات گنتی ھے ' دستر خوان پر پڑے انڈے ' جیم اور مکھن نہیں______________!!"

Address

Karachi Lines
00923452924233

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Achi Batien posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Achi Batien:

Shortcuts

Share

Category