04/06/2026
خدائی قانون
قرآن کی سوره نمبر 17 میں ایک خدائی قانون کا ذکر ہے- قرآن کی اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: " اور جب هم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں، پهر وه اس بستی میں نافرمانی کرتے ہیں- تب ان پر بات ثابت هو جاتی ہے، پهر هم اس بستی کو تباه و برباد کر دیتے ہیں-"(الاسراء:16
قرآن کی اس آیت میں ، فسق، کا لفظ استعمال هوا ہے- فسق کے لفظی معنی--- انحراف کے ہیں، یعنی فطرت کے مقرر راستے سے ہٹ جانا- اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ انسان کے اوپر خدا عذاب کب آتا ہے- اس کی صورت یہ هوتی ہے کہ سماج کے خوشحال افراد بے خوفی کا شکار هو کر، خدا کے مقرر راستے سے ہٹ جاتے ہیں، وه خدا کے نافرمان بن جاتے ہیں- اس انحراف کا آغاز سماج کے خوشحال طبقے سے هوتا ہے- اس کے بعد وه عام لوگوں تک پهیل جاتا ہے- جب ایسا هوتا ہے تو وه انسانی گروه اس بات کا جواز کهو دیتا ہے کہ اس کو زمین پر مزید زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے-چنانچہ پیغمبروں کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اس کو تباه کر دیا جاتا ہے-
یہ اصول موجوده زمانے میں بڑے پیمانے پر قابل انطباق هو گیا ہے- موجوده زمانے میں انسان کے انحراف نے ایک مکمل تہذیب کا درجہ اختیار کر لیا ہے- اب انسان نے اپنے منحرفانہ طرز حیات کے لیے پورا ایک فلسفہ وضع کر لیا ہے- اس طرح، انسان کا فسق اب اپنے آخری اور عالمی درجے تک پہنچ چکا ہے- بظاہر اب انسان نے اپنا یہ حق کهو دیا ہے کہ وه موجوده زمین پر مزید عرصے کے لیے باقی رہے- بظاہر ایسا معلوم هوتا ہے کہ پہلے جو تدمیر (destruction) علاقائی سطح پر هوتی تهی، اب وه عالمی سطح پر هونے والی ہے، یعنی وہی وقت جس کو قرآن میں قیامت کہا گیا ہے- قیامت کا مطلب ہے---- امتحانی دور حیات کا خاتمہ اور اس دوسرے دور حیات کا آغاز جب کہ ہر عورت اور مرد کو اسکے عمل کے مطابق،سزا یا انعام دیا جائے-
مولانا وحیدالدین خان