Political Voice Pakistan

Political Voice Pakistan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Political Voice Pakistan, Political Party, Karachi Lines.

15/07/2026
13/07/2026

لورالائی (اردو):
کوئٹہ کوئلہ پٹک کے دھرنے سے اظہارِ یکجہتی کے لیے لورالائی شہر میں مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایک تاریخی احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا۔
یہ احتجاجی ریلی حاجی رحیم کلب سے شروع ہوئی، شہر کی مختلف شاہراہوں سے گزری، اور آخر میں باچا خان و ارمان شہید چوک پر ایک بڑے عوامی جلسے کی صورت اختیار کر گئی، جہاں مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کوئٹہ کوئلہ پٹک کے دھرنے کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔

03/07/2026

سائرہ بانو نے ڈڈو چارچر مریم اورنگزیب کو جواب دے دیا تھا کہ جہاز کس کے پیسے سے خریدا ہے۔ اب اے آئی ویڈیو میں بھی دیکھ لیں

*بلوچستان کی تعلیمی ترقی کا راستہ: پرائیویٹ سیکٹر کی شراکت داری* *تحریر: ثناء درانی*  *چیئرپرسن رائل سٹی اسکول سسٹم پاکس...
03/07/2026

*بلوچستان کی تعلیمی ترقی کا راستہ: پرائیویٹ سیکٹر کی شراکت داری*

*تحریر: ثناء درانی*
*چیئرپرسن رائل سٹی اسکول سسٹم پاکستان*

بلاشبہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے مگر تعلیمی اشاریوں کے لحاظ سے سب سے زیادہ پیچھے ہے کیونکہ ہمارے لاکھوں بچے خصوصاً بچیاں آج بھی اسکول سے باہر ہیں سرکاری وسائل محدود ہیں اور تعلیمی ضروریات بہت زیادہ اس خلا کو پر کرنے کے لیے اب وقت آگیا ہے کہ ہم پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو بلوچستان ایجوکیشن سیکٹر پلان کا ایک کلیدی ستون تسلیم کریں کیونکہ پرائیویٹ تعلیمی سیکٹر کے کردار اہمیت اور افادیت سے آپ پسند و ناپسند کی بنیاد پر لاکھ اختلاف رکھیں ان پر الزام بھی لگائیں کہ پرائیویٹ اسکول نظام صرف "فیس لینے والے ادارے" ہیں لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ یہ ملک و صوبے کا سب سے بڑا تسلیم شدہ متبادل تعلیمی نیٹ ورک یے کیونکہ بلوچستان کے اپنے بیٹوں بیٹیوں پر مشتمل یہ پرائیویٹ شعبہ کوئٹہ سے لے کر گوادر تک قصبوں اور شہروں میں ہزاروں پرائیویٹ اسکول میں روزانہ لاکھوں بچوں کو اعلیٰ معیاری یا معیاری تعلیم دے رہے ہیں اس پرائیویٹ تعلیمی سیکٹر کی تین بڑی قوتیں ہیں *رفتار معیار اور جواب دہی* اگر مزید گہرائی میں جائیں تو ثبوت کے ساتھ پتہ چلتا ہے کہ ایک نیا سرکاری اسکول بنانے میں سالوں لگ جاتے ہیں جںکہ ایک پرائیویٹ اسکول چھ ماہ میں شروع ہو کر فوری طور پر بچوں کو داخل کرنے کے ساتھ ساتھ انھے پڑھانے کا بہترین ماحول فراہم کر سکتا ہے جس سے اس سیکٹر کی تیزی سے رسائی کی اہمیت بخوبی اجاگر ہوتی ہے اسطرح مقابلے کی وجہ سے پرائیویٹ سیکٹر نصاب ٹیچر ٹریننگ اور سکل بیسڈ لرننگ پر زیادہ توجہ دیتا ہے انگریزی کمپیوٹر اور سائنس کی تعلیم عام بچے تک پہنچانے کو اسی سیکٹر نے ممکن بنایا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انفرادی وجود رکھتا یہ شعبہ بہتر معیاری تعلیم فراہم کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے دوسری طرف سروس ڈیلیوری کو جانچینے میں پتہ چلتا ہے ک جب والدین فیس دیتے ہیں تو وہ نتائج کا سوال یعنی احتساب بھی کرتے ہیں اس سے اسکولوں میں جواب دہی کا نظام خود بخود بہتر ہوتا جاتا ہے جس سے والدین کی براہ راست شمولیت یقینی بن جاتی ہے جو معیار پرکھنے کا سب سے اہم حصہ ہے حالیہ بلوچستان ایجوکیشن سیکٹر پلان حکومت بلوچستان اور محکمہ تعلیم کی ایک بہترین کاوش ہے جسکی ہم بھرپور حمایت کرتے ہیں لیکن جہاں تمام اسٹیک ہولڈرز ایک ٹیبل ایک سوچ و فکر سے شامل نہ ہوں وہاں کسی بھی طرح کی منصوبہ بندی کی پائداری ممکن نہیں ہوتی اس حوالے سے اگر حکومت بلوچستان محکمہ تعلیم خصوصا خاتون وزیر تعلیم محترمہ راحیلہ حمید خان درانی اور سیکرٹری تعلیم جناب لال جان جعفر صاحب پرائیویٹ سیکٹر کو بھی اس اہم پالیسی کا حصہ بنائے تو نہ صرف بلوچستان میں تعلیم کے بہتر مواقع میسر آئینگے بلکہ اسکول سے باہر لاکھوں بچوں کو بھی بلوچستان ایجوکیشن سیکٹر پلان کی تمام کوششوں سے مستفید ہونے میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے گا یہاں گزارش ہے کہ سماجی شعبے خصوصاً دہی شہری اور خواتین کی ترقی برابری و یکساں مواقعوں کے لیے کم و بیش 30 سالوں سے اپنے صوبے کی خدمت کرتے ہوئے صوبے کے تمام اضلاع میں جانے کا اتفاق ہوا ہے بچوں خاصکر بچیوں کی تعلیم کے تمام مسائل سے بخوبی آگاہی کے بعد صوبائی حکومت کو چند قابل غور و عمل تجاویز پیش کررہی یوں جس سے امید ہے کہ آنے والے وقت میں حکومت و محکمہ تعلیم چاہئے تو بھرپور استفادہ حاصل کرسکتی ہے مثلاً دہائیوں سے اسکول داخلہ مہم کے باوجود اگر صوبے میں اب بھی لاکھوں بچے اسکول نہیں جاتے تو اسکے حل کے لئے حکومت پرائیویٹ اسکولوں کے ساتھ "پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ" ماڈل اپنائے، جیسے Voucher Scheme واؤچر یا فی بچہ گرانٹ تو غریب خاندانوں کے بچے بھی ان پرائیویٹ اسکولوں میں مفت اور یا کم فیس پر معیاری تعلیم حاصل کرسکیں گے یہ ماڈل نہ صرف بچوں کی تعلیمی مواقع کی فراہمی کا سبب بنے گا بلکہ دوسری طرف بیروزگاری سے تنگ نوجوانوں خصوصاً گریجویٹ بچیوں و تعلم یافتہ خواتین کے لیے بھی اپنی شعوری صلاحیتوں کو نکھارنے کا سب سے بہترین اور مثبت مواقعوں کا باعث بنے گا کیونکہ پرائیویٹ سیکٹر ہزاروں خواتین اساتذہ کو روزگار دیتا ہے اس سے خواتین کی معاشی خودمختاری اور لڑکیوں کی تعلیم دونوں کو فروغ ملے گا جو موجودہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی اوّلین ترجیح ہے۔
اسطرح جب سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر مثبت پیشرفت کے ساتھ تعلمی معیار رفتار اور مواقعوں پر ایک دوسرے سے تجربات سے سیکھیں گے تو پورے جدت اور مسابقت کے زریعے تعلیمی *نظام* کا معیار بلند ہو گا بہترین تعلمی مقابلے کے ساتھ ساتھ سب سے اہم مسئلے ڈراپ آؤٹ کی شرح میں نمایاں کمی یقنی ہوگی کیونکہ ہر گلی کوچے میں اسکولوں کی موجودگی سے چھوٹی کلاس کا سائز بہتر ماحول اور والدین سے مسلسل *رابطے* کی وجہ سے بچے اسکول چھوڑنے کے بجائے تعلیم مکمل کرتے کو ترجیح دینگے یہ صرف خواب نہیں بلکہ یہ ایک عملی روڈ میپ ہے کیونکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی حکمت عملی کے تحت لاکھوں بچوں کو نہ صرف پرائیویٹ اداروں میں داخل بلکہ میٹرک تک مستقل مزاجی سے تعلیم دلائی جاسکتی ہے ان وسیع مقاصد کے حصول کے لیے محکمہ تعلیم بلوچستان کو پرائیویٹ اسکولوں کے لیے لائسنس کا عمل آسان اور شفاف بھی بنانا چاہیے تاکہ نئے معیاری اسکول کھلنے کی حوصلہ افزائی ہو بھی اور بچوں کے داخلے بھی مخصوص اہداف تک ممکن بنائے جاسکیں اسطرح قبل بھروسہ معیار کی بہتری کے لئے حکومت کا ٹیچر ٹریننگ ادارہ پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ کو بھی سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کی طرزِ پر تربیت دے اسی طرح پرائیویٹ سیکٹر کے تجربہ کار اساتذہ کو بھی "ماسٹر ٹرینر" بنایا جائے تاکہ پرائیویٹ سیکٹر کے یہ موجودہ تجربکار انسانی وسائل دور دراز کے سرکاری اسکولوں میں جاکر خود بھی سرکاری اساتذہ کو تربیت دیے سکیں جس سے سیکھنے اور سیکھانے کے مزید مواقع اس پارٹنرشپ کا حصہ بن سکیں اسکے ساتھ ساتھ صوبائی نصاب میں ہم آہنگی لائی جائے تاکہ اس سے پورے صوبے کا تدریسی معیار ایک جیسا ہو اس میں مزید بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مل کر مقامی زبان ثقافت اور ماحول کے مطابق مواد کرے جس سے مستقبل میں پائدار معیاری تعلیم کے لئے یکساں جہدوجہد کے وسیع مواقع بھی میسر آئینگے اس دوران صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی فلاحی ادارے جیسا کہ یونیسف ورلڈ بینک اور دیگر بین الاقوامی این جی اوز کے پاس چونکہ وافر مقدار میں فنڈ موجود ہوتے ہیں مگر انھے زمین پر عملدرآمد کا نیٹ ورک انتہائی کم ملتا ہے لہذا اس کے لیے یہ ادارے حکومتی سرپرستی میں ان پرائیویٹ اسکول سسٹم کے ساتھ ملکر موجودہ وسیع نیٹ ورک کے مواقع بھی حاصل کرسکتے ہیں اسطرح یہ بین الاقوامی ادارے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے پورا پورا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ان اسکولوں کی کے ذریعے بچوں خاصکر لڑکیوں کی تعلیم ابتدائی بچپن کی تعلیم سٹیم لیبز اور ڈیجیٹل لرننگ کے منصوبے براہ راست اسکول کی سطح پر چلانے کے مواقع سے بھی بھرپور فائدہ اٹھاسکتے ہیں اس میں مزید CSR ماڈل کے تحت کاروباری ادارے کسی پرائیویٹ اسکول کو گود لیں اور پانی بجلی لیب اور لائبریری کا بندوبست کریں اس سے نہ صرف فنڈ کا ضیاع رکے گا بلکہ یکساں نتائج بھی جلد از جلد ملیں گے۔
آخر میں دو بڑے مسائل جسکا حل انتہائی آسانی سے نکالا جا سکتا ہے اس میں اول تو خواتین اساتذہ کی کمی ہے جسکے حل کے لئے ایک اہم تجویز یہ ہے کہ خواتین اساتذہ والے پرائیویٹ اسکولوں کو خصوصی مراعات دی جائیں اور فیملی واؤچر سکیم شروع کی جائے جس سے نہ صرف اسکولوں میں بچیوں کی تعداد بڑھانے میں مدد ملے گی بلکہ خواتین اساتذہ کی کمی کو پورا کیا جاسکے گا۔ اسی طرح یکساں منصوبہ بندی نگرانی احتساب اور معیار کی جانچ پڑتال و مزید بہتری کے لئے ایک آزاد "بلوچستان ایجوکیشن کوالٹی اتھارٹی" بنائی جائے جس میں سرکاری اور پرائیویٹ دونوں سیکٹر کے نمائندے برابر شامل ہوں تاکہ کوئی ایک دوسرے پر الزام تراشیوں اور بھروسے کی کمی کو ہمیشہ کے لئے ختم کیا جاسکے یاد رکھیں بلوچستان کے بچے کسی سے کم نہیں انہیں صرف یکساں موقع چاہیئے اگر حکومت پرائیویٹ سیکٹر اور بین الاقوامی ادارے ایک میز پر بیٹھ کر مشترکہ منصوبہ بنائیں تو ہم پانچ سال میں لاکھوں بچوں کو پرائیویٹ اور سرکاری اسکولوں میں مستقل لا سکتے ہیں اس میں یہ بھی ذہن نشین رکھیں کہ تعلیم کوئی خرچہ نہیں بلکہ یہ بلوچستان کے روشن مستقبل میں سب سے بڑی سرمایہ کاری ہےاس سلسلے میں راقم خود اور ہمارا ادارہ رائل سٹی اسکول سسٹم پاکستان اس مشن میں حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے

عمران خان نے ہماری سیاست کو جتنا نقصان پہنچایا ہے، پچھلے 78 سال میں کسی نے نہیں پہنچایا. خواجہ آصف
27/06/2026

عمران خان نے ہماری سیاست کو جتنا نقصان پہنچایا ہے، پچھلے 78 سال میں کسی نے نہیں پہنچایا. خواجہ آصف

ميری پسند محترمه بینظیر هے ۔ اور آپ کی
22/06/2026

ميری پسند محترمه بینظیر هے ۔ اور آپ کی

22/06/2026

.ملی شهید عثمان خان کاکړ ۵م تلین مرکزی جلسہ عام





Political Voice Pakistan

بلوچستان میں دو دو کروڑ کی گاڑیاں کو آگ لگائی جا رہی ہے، ٹی ٹی پی اور بے ایل اے کے لوگوں نے بلوچستان جانے والی سڑکیں بند...
21/06/2026

بلوچستان میں دو دو کروڑ کی گاڑیاں کو آگ لگائی جا رہی ہے، ٹی ٹی پی اور بے ایل اے کے لوگوں نے بلوچستان جانے والی سڑکیں بند کی ہوئی ہیں، محسن نقوی ایئرپورٹ پر آئے میٹنگ کی اور واپس چلے گئے، عادل بازئی، تقریر میں دوسری دفعہ محسن نقوی کا نام آنے پر سپیکر نے مائیک بند کر دیا۔

Address

Karachi Lines

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Political Voice Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share