30/08/2019
غبارِ عشق
قسط نمبر 2
کہاں کسی سے محبت نبھانے والا ہوں
میں بدلخاظ بالکل زمانے والا ہوں۔۔۔۔
وسیع و غریض بنگلے کے اندر آج کے دن معمول سے ہٹ کے گہما گہمی تھی ۔۔۔۔۔۔آج شیراز شاہ اور مسز شیراز گھر پہ موجود تھے ۔۔۔۔۔شاید اسلیۓ
اوپر والی منزل کے عالیشان کمرے میں بالکل خاموش لیٹا وہ چھت کو گھور رہا تھا ۔۔۔۔۔
اس نے رات کو سونے سے پہلے جاگرز اتارنے کی بھی زحمت نہیں کی تھی
وہ شاید ڈپریشن کا شکار تھا
اس نے ہاتھ بڑھا کہ بیڈ کے ساتھ پڑی ٹیبل پہ کچھ تلاش کرنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔۔
پھر اس نے گردن اٹھا کہ ٹیبل پہ دیکھا اس کی مطلوبہ چیز وہاں نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔
پھر وہ جھنجھلا کہ اٹھا تھا
اس نے ٹیبل کا دراز کھنگالنا شروع کیا تھا ۔۔۔۔۔
آخر اسے اپنی مطلوبہ چیز مل گٸ تھی ۔۔۔۔۔
وہ ایک چھوٹا سا لفافہ تھا جس کے اندر سفید رنگ کے پاٶڈر نما کوٸی چیز تھی ۔۔۔۔۔
اس نے پیکٹ کھولا تھا اور اسے اپنی ہتھیلی پہ ڈالا تھا
سفید زرے اب لفافے سے نکل کے ہتھیلی کی طرف جارہے تھے
لفافہ خالی ہوا تھا تو اس نے دور پھینک دیا تھا
وہ اب اطمینان سے بیڈ پہ بیٹھ گیا تھا
وہ اپنی ہتھیلی اپنی ناک کے قریب لے کے گیا
اس نے ان زروں کو جیسے اپنے اندر اتار لیا تھا ۔۔۔۔
پھر اس نے جیب سے سگریٹ نکالی
سگریٹ کا مواد نکال کے اس نے سگریٹ کو خالی کیا
پھر اس نے اس میں وہ سفید زرے بھرے تھے
وہ یہ سب اتنی مہارت سے کر رہا تھا جیسے وہ اس کام کا عادی تھا
پھر وہ اطمینان سے سگریٹ پینے لگا تھا
اب وہ پرسکون دیکھاٸی دے رہا تھا
اس کا موباٸل بج اٹھا تھا
سکرین پہ چمکتے نمبر کو دیکھ کہ اس کے چہرے پر بیزاری واضح تھی
اس نے کال پک کرکے سپیکر آن کرکے موباٸل ایک طرف رکھ دیا تھا ۔۔۔۔۔
”شاہ کہاں ہو تم ؟ میں کب سے ہوٹل میں تمہارا انتظار کر رہی ہوں کیا تم بھول گۓ ہو ۔۔۔۔۔کہ تم نے آج مجھ سے ملنا تھا“
فون سے ایک خوبصورت نسوانی مگر اکتاہٹ بھری آواز ابھری تھی ۔۔۔۔۔
”میں کل کی پارٹی کے بعد بہت تھک گیا تھا صبح جلدی آنکھ نہیں کھلی ۔۔۔۔۔۔“
اس نے سگریٹ کا کش لیتے ہوۓ لاپرواٸی سے کہا تھا۔۔۔
تو کیا تم مجھ سے نہیں ملو گے آج؟
فون کے دوسری طرف موجود لڑکی نے اکتاۓ ہوۓ لہجے میں کہا تھا ۔۔۔۔۔
”ہاں آج نہیں مل سکوں گا ۔۔۔۔۔“
اوکے باۓ پھر بات ہو گی۔۔۔۔۔
اس نے اس کا جواب سنے بغیر کال کاٹ کے فون آف کر دیا تھا ۔۔۔۔۔
پھر وہ شیشے کے سامنے جاکے کھڑا ہوا تھا
ڈریسنگ ٹیبل پہ اس وقت بہت سے مہنگے پرفیوم پڑے تھے ۔۔۔۔۔
وہ بکھرے بالوں لال آنکھوں اور رف سا ٹراٶزر شرٹ پہنے ہوۓ وہ بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
اس نے نیچے جھک کے جاگرز کے تسمے کھولے تھے ۔۔۔۔۔اور اپنے پاٶں میں سیلپرز پہن کے وہ کمرے سے باہر نکل گیا تھا
کمرے سے نکل کے داٸیں طرف سیڑھیاں تھی اور سیڑھیوں سے اتر کے بالکل سامنے ایک لمبا سا ٹی وی لاٶنچ تھا اور ایک طرف ڈاٸینگ ٹیبل رکھی ہوٸی تھی وہ ڈاٸینگ ہال تھا
ڈاٸینگ ٹیبل پہ اس وقت مسز شیرازی ایک قیمتی ساڑھی زیب تن کیے بیٹھی تھی بالوں کو ایک جوڑے کی شکل میں ترتیب دے رکھا تھا کانوں میں قیمتی سے جمھکے پہنے اور نازک سے ہاتھوں میں چمکتی ہوٸی سونے کی اونگھوٹیاں پہنے ۔۔۔۔۔وہ ہمیشہ کی طرح بہت نکھری نکھری لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
شیراز شاہ سامنے کرسی پہ بیٹھے اخبار کا مطالعہ کرتے ۔۔۔۔۔لاتعلق سے بیٹھے تھے
مسز شیراز سیڑھیوں سے اترتے ہوۓ میر شاہ کو دیکھ کہ ہلکا سا مسکراٸی تھی
وہ ان کی مسکراہٹ نظر انداز کرتا ہوا ۔۔۔
کرسی کھینچ کے دوسری طرف بیٹھ گیا تھا
شازیہ چھوٹے شاہ کے لیے جوس لاٶ
انہوں نے باسکٹ میں سے سیب نکال کے اسے نفاست سے دانتوں سے کترتے ہوۓ کہا۔۔۔۔۔۔
”شاہ آج تمہاری کیا مصروفیات ہیں۔۔۔۔۔۔“؟
وہ اب مسکرا کہ شاہ کی جانب متوجہ ہوٸی تھی
جو لاتعلق سا ایک طرف بیٹھا تھا
شیراز شاہ نے ایک نظر اپنی بیوی کو دیکھا تھا
پھر اخبار پہ نظریں جما دی تھی
”کیوں آپ کو مجھ سے کوٸی کام ہے؟“
اس نے دونوں کہنیاں ٹیبل پہ ٹکا کے تیکھی نظروں سے انہیں دیکھا تھا
جو ابھی تک مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔اس کی بات سن کے ان کے چہرے کی مسکراہٹ یکدم غاٸب ہوٸی تھی ۔۔۔۔۔
”میری جان میں تمہاری ماں ہوں کیا میں کسی کام سے ہی تم سے بات کروں گی ۔۔۔۔۔؟
وہ خفگی سے بولی تھی
اوہ کم آن مام میں جانتا ہوں آپ ابھی بھی ۔۔۔۔۔۔کسی پارٹی پہ جانے کے لیے تیار ہوٸی ہیں ۔۔۔۔۔۔
اس نے ایک نظر۔۔۔۔۔ان کو نک سک سا تیار دیکھ کہ سر جھٹکا تھا
ملازمہ جوس کا گلاس لے آٸی تھی ۔۔۔۔۔
شیراز شاہ نے اخبار ایک طرف رکھا تھا ۔۔۔۔۔اب ۔۔۔۔۔وہ ناشتے کی طرف متوجہ ہوۓ تھے
مسز شیراز نے خفگی سے پلیٹ پیچھے سرکا دی تھی ۔۔۔۔
یہ لڑکا ہمیشہ ان کا موڈ خراب کردیتا تھا
وہ اب ہاتھ باندھ کہ بیٹھی ادھر ادھر لاپرواٸی سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
وہ انہیں نظر انداز کر رہا تھا
وہ کلس کے رہ گٸ تھی
وہ ناشتہ ختم کرکے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔۔
”شاہ آج میرا جلسہ ہے ۔۔۔۔۔۔تمہارا وہاں موجود ہونا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔“
انہوں نے ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوۓ اسے جیسے حکم دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ جاتے جاتے رکا تھا گردن ترچھی کرکے اس نے آنکھیں سکیڑ کے انہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
اور آپ کا یہ خیال ہے کہ میں اس جلسے میں آٶں گا آپ کے ساتھ کھڑا ہونگا ۔۔۔۔۔۔لوگوں کے ساتھ ہمدردیاں کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔پھر وہ لوگ آپ کو ووٹ دیں گے بلا بلا۔۔۔۔۔۔
اس نے ایک ابرو اٹھا کہ جیسے ان کی تاٸید چاہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
وہ خاموشی سے بس اس کو دیکھ کہ رہ گۓ تھے
مسز شیراز کے تاثرات بھی کچھ ایسے ہی تھے
اولاد ہاتھ سے نکل چکی تھی ۔۔۔۔۔
”آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے میں ایسا کچھ نہیں کروں گا۔۔۔۔۔۔“۔۔۔۔
”میں آپ جیسا بالکل بھی نہیں ہوں ۔۔۔۔۔“
وہ لاپرواہی سے انہیں آٸینہ دیکھا کہ جانے لگا تھا
”میں بتاٶں تم کیا ہو تمہاری اصلیت کیا ہے۔۔۔۔۔؟دس دس لڑکیوں کے ساتھ افیٸرز لڑکیوں کے ساتھ راتیں گزارنا تو تمہارا پسندیدہ مشغلہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ڈرگز تم لیتے ہو۔۔۔۔۔تمہارے اندر لاکھ براٸیاں ہیں ۔۔۔۔۔سچ یہ ہے کہ تم ایک بدتمیز بدزبان لڑکے ہو۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی کرسی سے اٹھ کھڑے ہوۓ تھے
مسز شیراز بس کہنیاں میز پہ ٹیکاۓ ان دونوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
آپ نے جو جو براٸیاں مجھ میں گنواٸی ہیں وہ ساری سچ ہیں ۔۔۔۔۔میں یہ سب کرتا ہوں میں آپ کے سامنے کسی ایک بھی براٸی سے انکار نہیں کرتا اسی بات کا اقرار میں دس لوگوں کے سامنے بھی کرتا ہوں۔۔۔۔۔میری دس دس گرل فرینڈ ہیں لیکن میں کسی ایک سے بھی شادی کے جھوٹے دعوے نہیں کرتا ۔۔۔۔۔میں لوگوں کو چیٹ نہیں کرتا ۔۔۔۔میں لڑکیوں کے ساتھ ہوٹلوں میں راتیں گزارتا ہوں لیکن میں ان کے ساتھ زبردستی نہیں کرتا وہ جو بھی کرتی ہیں خود اپنی مرضی سے کرتی ہیں ۔۔۔۔ہاں میں ڈرگز لیتا ہوں کیونکہ میں کچھ دیر کے لیے ہی سہی ذندگی کی تلخیوں سے دور چلا جاتا ہوں ۔۔۔۔۔ہاں ڈیڈ آپ نے بالکل ٹھیک کہا میں ۔۔۔۔۔بدتمیز بداخلاق روڈ انسان ہوں۔۔۔۔۔لیکن میں منافق نہیں ہوں۔۔۔۔۔میں لہجے میں مٹھاس گھول کے لوگوں کو ڈستا نہیں ہوں۔۔۔۔۔ میں اگر کسی کو تباہ کرتا ہوں تو پھر اسے مکمل طور پہ تباہ کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔میں سب کچھ ہوں ۔۔۔۔۔
وہ پھٹ پڑا تھا ۔۔۔۔۔
وہ ان سے دو قدم کے فاصلے پر کھڑا تھا ۔۔۔۔۔۔
آپ کیا ہیں؟ ڈیڈ۔۔۔۔۔۔
تلخ کلامی بڑھ چکی تھی ۔۔۔۔۔
ایک لاپروا باپ لیکن ایک کامیاب سیاسی شخصیت ۔۔۔۔۔جس کے لیے پیسا ہی اس کا دین ایمان ہے ۔۔۔۔۔ایک ایسا لاپروا باپ ۔۔۔۔۔جس کا بیٹا پانچ سال بیڈ پہ مفلوج پڑا رہتا ہے اور وہ اس سے ایک دفعہ ملنے بھی نہیں آتا۔۔۔۔۔
اور مام آپ ۔۔۔۔۔۔جو دو دن اپنے مفلوج بیٹے کو نہیں سنبھال پاتی۔۔۔۔۔۔آپ ملازمہ ہاٸیر کر لیتی ہیں کیونکہ وہ مفلوج بیٹا آپ کی پارٹیز میں خلل ڈال رہا تھا ۔۔۔۔۔
شیراز شاہ کا چہرہ زرد پڑھ چکا تھا ۔۔۔۔۔۔
مسز شیراز نے ۔۔۔۔۔شرمندگی سے نظریں جھکا لی تھی ۔۔۔۔۔۔
ڈیڈ اب تو میں چلنے لگا ہوں۔۔۔۔۔اب مجھے آپ کی کوٸی ہیلپ نہیں چاہیۓ نا میں آپ دونوں کی کوٸی ہیلپ کرسکتا ہوں۔۔۔۔۔۔
وہ کینہ طور نظروں سے انہیں دیکھتا ہوا دوبارہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا ۔۔۔۔۔
وہ سر تھام کے بیٹھ گۓ تھے
انہیں آج احساس ہوا تھا اس پیسے نے ان سے ایک چیز چھین لی تھی وہ تھا انکا اکلوتا بیٹا۔۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤
میں نے پرکھا ہے اپنی سیاہ بختی ہو
میں جسے اپنا کہہ دوں وہ پھر میرا نہیں رہتا۔۔۔۔۔
رات کے کسی پہر کسی احساس کے تخت اس کی آنکھ کھل گٸ تھی
دوسرے کمرے سے کھانسنے کی آواز آرہی تھی
وہ ننگے سر ہی باہر کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔۔۔۔
کمرے کا منظر تکلیف دہ تھا
اس کی ماں کا سر چارپاٸی سے نیچے لڑھکا ہوا تھا ۔۔۔۔۔
اس نے آگے بڑھ کہ ان کا سر اپنی گود میں رکھا تھا ۔۔۔۔۔
ان کا جسم بالکل سرد تھا اور ان کی آنکھیں بند تھی
ان کی سانسیں چل رہی تھی
اس نے انہیں پانی پلانے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔۔
اماں ۔۔۔۔۔۔آنکھیں کھولیں اماں
وہ روہانسی ہوٸی تھی
اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ایسے خالات میں وہ کسے بلاۓ
ایک شخص تھا جو ان کی مدد کر سکتا تھا۔۔۔۔۔
وہ ہمیشہ سے اپنی بیوی سے چھپ کے ہی سہی ان کی مدد کر دیا کرتا تھا ۔۔۔۔۔
اس نے ان کا سر سرہانے پر رکھا تھا
اور اندر پڑے موباٸل پر نمبر ڈاٸل کرنے لگی تھی
رنگ جارہی تھی پتہ نہیں وہ کال بھی پک کریں گے یا نہیں
دسمبر کی اس سرد رات میں بھی اس کے ماتھے پر پسینے کے قطرے واضح تھے ۔۔۔۔۔
کال پک کر لی گٸ تھی ۔۔۔۔۔۔۔
ہیلو چاچو ۔۔۔۔۔آپ کہاں ہیں ۔۔۔۔۔؟ پلیز آپ گھر آجاٸیں اماں کی طبیعت خراب ہو گٸ ہے ۔۔۔۔۔
وہ روتے ہوۓ التجا کررہی تھی ۔۔۔۔۔
پتہ نہیں انہوں نے اسے کیا جواب دیا تھا لیکن اب وہ آنسو صاف کرتی ہوٸی ۔۔۔۔۔
اماں کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔۔
ان کا چہرہ تھتھپایا تھا
انہوں نے آنکھیں کھولی تھی ۔۔۔۔۔۔
وہ کچھ بولنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔
اماں حوصلہ رکھیں میں نے چاچو کو بلایا ہے وہ آتے ہی ہونگے ۔۔۔۔۔
اس نے انہیں تسلی دینا چاہی تھی ۔۔۔۔۔۔
اسے محسوس ہورہا تھا ۔۔۔۔۔۔
اس کی ماں بہت تکلیف میں ہے ۔۔۔۔۔
دروازے پہ دستک ہوٸی تھی
اس نے شکر ادا کیا تھا
اس نے دروازہ کھولا تھا ۔۔۔۔۔۔
باہر ناٸیٹ سوٹ میں ملبوس ہاتھ میں کار کی چابیاں پکڑے وہ کھڑے تھے ۔۔۔۔۔
میں گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں۔۔۔۔۔
جاٶ انہیں باہر لاٶ
انہوں نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھ کے گویا اسے تسلی دی تھی ۔۔۔۔
وہ بھاگ کے اندر گٸ تھی ۔۔۔۔۔
چادر اٹھا کہ اماں کے کمرے کی طرف گٸ تھی ۔۔۔۔۔
وہ وہی کھڑی ہو گٸ تھی ۔۔۔۔۔
اماں کی سانسیں اکھڑی ہوٸی تھی ۔۔۔۔۔
جیسے وہ اپنی آخریں سانسیں لے رہی ہو۔۔۔۔۔
اس نے آگے بڑھ کے انہیں جھنجھوڑنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔۔
چاچو وہ بھاگ کے گیٹ کی طرف گٸ تھی ۔۔۔۔۔
وہ انہیں اپنے ساتھ اندر لاٸی تھی
لیکن تب تک سب ختم ہو چکا تھا
اندر پڑا وجود ساکت پڑا تھا
ان کے منہ سے خون کی ایک پتلی سی دھار نکل کے سرہانے تک آٸی ہوٸی تھی
وہ وہی ذمین پہ بیٹھ گٸ تھی۔۔۔۔۔
اس نے خالی خالی نظروں سے ان کے ساکت پڑے وجود کو دیکھا تھا
چاچو نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔۔۔
وہ کچھ بول نہیں پاٸی تھی
کیا واقعی ہی ذندگی اتنی ناپاٸیدار چیز ھے ۔۔۔۔۔۔
آج سے دس سال پہلے اس کے بابا چلے گۓ تھے
اور آج اس کی ماں وہ تنہا رہ گٸ تھی ایک دفعہ پھر ۔۔۔۔۔۔
❤❤❤❤
آج تدفین کا تیسرا روز تھا ۔۔۔۔۔۔مہمانوں کی آمد و رفت کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ جاری تھا ۔۔۔۔۔اس کی ماں نے تو بھاگ کے شادی کی تھی اس دن کے بعد آج تک اس نے اپنے ننھال میں سے کسی کو نہیں دیکھا تھا
ماں کو تو تمام عمر اس کے دودھیال کے لوگوں نے بھی تسلیم نہیں کیا تھا
لیکن ہاں ان کی موت پہ اس کے چاچو ضرور آۓ تھے ساتھ چچی بھی آٸی تھی ۔۔۔۔۔۔اسے وہ بہت مغرور سی لگی تھی ۔۔۔۔۔چاچو نے ایک دفعہ بتایا تھا کہ جتنی بھی دولت ان کے پاس ہے وہ سب چچی کی ہی ہے ۔۔۔۔۔وہ شاید کسی امیر باپ کی بیٹی تھی
پھر وہ اکثر آیا کرتے تھے مالی مدد بھی کیا کرتے تھے لیکن اس دن کے بعد سے چاچی نہیں آٸی تھی
شاید انہیں غریبوں سے ملنا جلنا پسند نہیں تھا
وہ گھٹنوں میں سر دے کے بیٹھی تھی کمرے میں ذرد سی روشنی پھیلی ہوٸی تھی
اس کے قریب کوٸی آکے بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔
اس نے گردن اٹھا کہ دیکھا تھا
چاچو بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔
اس نے خالی خالی نظروں سے انہیں دیکھا تھا
انہوں نے اس کے سر پہ شفقت بھرا ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔۔۔
انہوں نے اس وقت ایک قمیتی شلوار قمیض پہن رکھی تھی ایک کندھے پہ شال اوڑ رکھی تھی ۔۔۔۔۔
ان کی ہر ایک چیز سے ان کی حیثیت کا اندازہ ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔
خود کو سنبھالو ابتھل۔۔۔۔۔تمہارے پریشان رہنے سے ۔۔۔۔۔وہ واپس نہیں آجاٸیں گی ۔۔۔۔۔
انہوں نے نرمی سے اسے سمجھایا تھا
ان کی آواز رعب دار تھی
وہ خاموش رہی۔۔۔۔
”تم تیاری کر لو تم نے کل میرے ساتھ جانا ہے۔۔۔۔۔“
انہوں نے اب بھی نرمی سے اسے کہا تھا ۔۔۔۔۔
اس نے اب کی بار سر اٹھا کہ دیکھا تھا
جیسے سوال کر رہی ہو کہاں؟
”میرے گھر “
انہوں نے جیسے اس کی آنکھیں پڑھ لی تھی ۔۔۔۔۔۔
”چاچی“
اس نے مری مری آواز میں جیسے دبا دبا احتجاج کیا تھا
”کیا تمہیں مجھ پہ یقین نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔میں تمہیں اپنی بیٹی بنا کے لے کے جاٶں گا میں سب سنبھال لوں گا۔۔۔۔۔
انہوں نے اسے تسلی دی تھی ۔۔۔۔۔۔
اس نے محض سرہلا دیا تھا
اس نے جانا ہی تھا ۔۔۔۔۔
اس کا اب کوٸی اور سہارا نہیں تھا ۔۔۔
وہ گھٹنوں میں سر دے کے پھوٹ پھوٹ کے رو دی
❤❤❤❤❤
لینڈ کروزر وسیع و عریض بنگلے کے مین گیٹ کے سامنے آکے رکی تھی
گاڑی سے ڈراٸیور نکلا تھا اس نے پیچھے کا دروازہ کھولا تھا
اس میں سے ایک لڑکی نکلی تھی جس نے عبایا اور نقاب کر رکھا تھا
وہ اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرکے۔۔۔۔۔خود راہداری سے ہوتے ہوۓ آگے بڑھنے لگے
وہ ان کے پیچھے چلنے لگی۔۔۔۔۔
یہ گھر اس کی سوچ سے بھی بڑا تھا ۔۔۔۔۔ہر ایک چیز قیمتی تھی
مین گیٹ کھلتے ہی سامنے ایک فوارہ تھا اور ایک طرف کار پورچ تھا جہاں بہت سی گاڑیاں ایک قطار میں کھڑی تھی ۔۔۔۔۔
سامنے ایک اور گیٹ تھا جو کھلا ہوا تھا اندر سے شور کی آوازیں آرہی تھی ۔۔۔۔۔
شاید ٹی وی چل رہا تھا۔۔۔۔۔جس کا شور باہر تک آرہا تھا ۔۔۔۔۔۔
وہ دھڑکتے دل کے ساتھ گھر کے اندر داخل ہوٸی تھی
یہ شاید ٹی وی لاٶنچ تھا جس کے دونوں طرف صوفے رکھے ہوۓ تھے ۔۔۔۔۔۔اور سامنے بڑی سی شیشے کی میز ۔۔۔۔۔ایک صوفے پہ ناٸٹ سوٹ میں ملبوس۔۔۔۔۔بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا بناۓ ایک عورت بیٹھی تھی وہ انہیں پہچانتی تھی ۔۔۔۔
وہ اس کی چچی تھی۔۔۔۔۔
اور دوسرے صوفے پہ ٹراٶزر شرٹ اور بکھرے بالوں والا ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا جس نے بالوں پہ ہیٸر بینڈ لگا رکھا تھا ۔۔۔۔۔۔اور ہاتھوں میں مختلف قسم کے برسلیٹ پہن رکھے تھے ۔۔۔۔۔۔
ہاتھ میں ریموٹ پکڑے اور ٹانگیں سامنے ٹیبل پہ رکھے وہ چینل تبدیل کر رہا تھا ۔۔۔
وہ دونوں ایک ساتھ اس طرف متوجہ ہوۓ تھے ۔۔۔۔۔
مسز شیراز کی آنکھوں میں ناگواری ابھری تھی۔۔۔۔
البتہ اس لڑکے نے ایک نظر اسے دیکھا تھا پھر نظر انداز کرکے ٹی وی کی طرف متوجہ ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔
یہ چہرہ اس کے لیے جانا پہچانا نہیں تھا
وہ تذبذب کا شکار تھی ۔۔۔۔۔۔۔
اس لڑکے نے ایک نظر ۔۔۔۔۔پھر اس برقعے اور نقاب پوش لڑکی کو دیکھا تھا پھر طنزیہ مسکرایا تھا
اور پھر ساتھ بیٹھی اپنی ماں کے تاثرات نوٹ کرتے ہوۓ تھوڑا ترچھا ہوکے ان کے قریب ہوا تھا
”مجھے نہیں پتہ تھا ۔۔۔۔۔۔ڈیڈ کی نٸ ملازمہ کو دیکھ کے آپ اتنا ہیپر ہو جاٸیں گی ۔۔۔۔۔۔“
کم آن مام ہمیں نٸ ملازمہ کی ضرورت ویسے بھی تھی ۔۔۔۔۔آپ ہاٸیر کریں یا ڈیڈ بات تو ایک ہی ہے۔۔۔۔۔
اس نے سرگوشی نہیں کی تھی قدرے اونچی آواز میں کہا تھا۔۔۔۔۔
پھر مسکرایا تھا اور ڈیڈ کی طرف داد طلب نظروں سے انہیں دیکھا تھا
وہ غصے سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔
ابتھل اپنی اس بے عزتی پہ حیران پریشان کھڑی تھی۔۔۔۔
”تم اسے یہاں کیوں لے آۓ ہو“ تمہیں میرا گھر یتیم خانہ لگتا ہے کیا ۔۔۔۔۔۔؟ اس کی ماں مر گٸ تو اسے یتیم خانے بجھوا دو میں نے کیا تمہارے غریب رشتہ داروں کا ڈھیکہ لے رکھا ہے۔۔۔۔“
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوٸی تھی ۔۔۔۔۔اور اب اس کو گھورتی ہوٸی چلا چلا کہ کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔
ابتھل نے دیکھا تھا وہ لڑکا اپنی جگہ سے اٹھا تھا ۔۔۔۔اور اٹھ کے جانےلگا تھا جیسے اس گفتگو سے اسے کوٸی سروکار نہ ہو۔۔۔۔۔۔
وہ اس کے قریب سے گزرا تھا ۔۔۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں آٸی نمی دیکھی
”ہاں اب ڈرامے شروع ہو گۓ اس گھر میں ۔۔۔۔۔۔“
وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتا ہوا۔۔۔۔۔۔سیڑھیاں چڑھنے لگا۔۔۔۔
اس نے دیکھا تھا اس کی ایک ٹانگ میں لرزش تھی۔۔۔۔وہ سیڑھیاں ٹھیک سے نہیں چڑھ پاتا تھا ۔۔۔۔۔
یا شاید اس نے محسوس کیا تھا
مسز شیراز ابھی بھی چلا چلا کہ کچھ کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔
ابتھل بیٹا جاٶ تم اس کمرے میں چلی جاٶ میں ملازم بھیج کے تمہارا سامان سیٹ کروا دیتا ہوں
انہوں نے مسز شیراز کو نظر انداز کرتے ہوۓ اسے اندر جانے کا کہا تھا
مسز شیراز کلس کے رہ گٸ تھی ۔۔۔۔۔۔۔
وہ سر ہلا کہ اندر کمرے میں چلی گٸ
باہر سے ابھی بھی شور کی آوازیں آرہی تھی
وہ اپنی تذلیل پہ آنسو پی کے رہ گٸ
اسے اپنی اماں جی بھر کے یاد آٸی تھی۔۔۔۔۔
پتہ نہیں اس گھر میں آگے کیا کچھ برداشت کرنا تھا۔۔۔۔۔
وہ سوچ کے رہ گٸ
Writer : laiba Ansari