محمد بن مستقیم

محمد بن مستقیم فاضل جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن متخصص جامعہ اسلامیہ کلفٹن استاذ مدرسہ تحفیظ القرآن

06/09/2026

الحمدللہ IBM Alajwa luggage collection اب ویب سائٹ پر بھی
www.alajwaluggage.com

🌹 خصوصی نشست برائے اصلاحِ معاشرہ 🌹📍 بمقام: جامع مسجد دکھنی، پاکستان چوک، کراچی🎙️ استاذُ العلماء، شیخ الحدیث و الادبحضرت ...
05/08/2026

🌹 خصوصی نشست برائے اصلاحِ معاشرہ 🌹

📍 بمقام: جامع مسجد دکھنی، پاکستان چوک، کراچی

🎙️ استاذُ العلماء، شیخ الحدیث و الادب

حضرت مولانا شفیق احمد خان بستوی صاحب دامت برکاتہم

مدیر، مدرسہ خدیجہ الکبریٰ للبنات

📅 8 اگست 2026ء، بروز ہفتہ
🕘 نمازِ عشاء: رات 9:00 بجے

🌸 خواتین کے لیے باپردہ بیان سننے کا خصوصی انتظام:
گلاب محل، مستقیم احمد پراچہ اسٹریٹ، پہلی منزل،
مرحوم بھائی مستقیم احمد رحمہ اللہ کے گھر میں ہے۔

🤲 تمام احباب سے خصوصی شرکت کی درخواست ہے۔
اپنے عزیز و اقارب، دوست احباب اور اہلِ خانہ کو بھی اس دعوتِ خیر میں شریک کریں۔

الداعی الی الخیر
نورالقرآن درس کمیٹی، پاکستان چوک

📞 رابطہ:
0300-2276606
0321-8730063

آہ! مجاہدِ ختمِ نبوت، حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھریؒ بھی راہیِ خلدِ بریں ہوگئےکچھ شخصیات دنیا سے رخصت ہوتی ہیں تو صرف...
31/07/2026

آہ! مجاہدِ ختمِ نبوت، حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھریؒ بھی راہیِ خلدِ بریں ہوگئے

کچھ شخصیات دنیا سے رخصت ہوتی ہیں تو صرف ایک فرد ہم سے جدا نہیں ہوتا، بلکہ ایک دینی نسبت، ایک علمی روایت، ایک دعوتی کردار اور خدمتِ دین کا ایک باب اپنے اختتام کو پہنچتا محسوس ہوتا ہے۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری رحمۃ اللہ علیہ کی وفات بھی ایسی ہی دل گداز خبر ہے۔

آپ ایک خاموش مگر پُرجوش مبلغ، مخلص خادمِ دین، اپنے اکابر کی امانت کے امین، عقیدۂ ختمِ نبوت کے مجاہد اور علماءِ کرام سے محبت و عقیدت رکھنے والے بزرگ تھے۔ پوری زندگی سادگی، تواضع، خلوت پسندی، اعمالِ صالحہ کی پابندی اور دین کی خدمت میں گزاری۔

والدِ گرامی حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ

حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھریؒ ایک عظیم دینی خانوادے کے چشم و چراغ تھے۔ آپ کے والدِ گرامی مجاہدِ ختمِ نبوت حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمہ اللہ اپنے زمانے کے ممتاز عالم اور عقیدۂ ختمِ نبوت کے بے لوث خادم تھے۔

مولانا عزیز الرحمن جالندھریؒ نے والدِ محترم کی نسبت کو صرف نسبی اعزاز نہیں بنایا بلکہ ان کی دینی میراث کو اپنی عملی زندگی میں آگے بڑھایا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ والد نے جو شمع روشن کی تھی، بیٹے نے اسی شمع کو اپنی زندگی بھر کی جدوجہد سے فروزاں رکھا۔

اکابرِ علم سے علمی نسبتیں

حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھریؒ کے علمی مقام کا ایک روشن پہلو یہ ہے کہ آپ کو اپنے دور کے جلیل القدر محدثین، فقہاء اور محققین سے استفادہ اور اجازت حاصل کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔

محدث العصر حضرت علامہ محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ سے حدیثِ مسلسل بالاولیۃ کی اجازت حاصل کی۔

حضرت بنوریؒ عظیم محدث، فقیہ و محقق، جامعة العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے بانی اور عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کے امیر تھے۔ علمِ حدیث اور دینی تحقیق میں ان کا مقام بلند تھا اور عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے ان کی خدمات تاریخ کا روشن باب ہیں۔

محققِ وقت حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرشید نعمانی رحمہ اللہ سے جامع ترمذی کی اجازت حاصل ہوئی۔

ڈاکٹر عبدالرشید نعمانیؒ اپنے عہد کے بلند پایہ محقق، محدث اور علمِ رجال کے ماہر تھے۔ حدیثی ذخیرے کی تحقیق و تنقیح اور علمی و تحقیقی خدمات کے حوالے سے ان کا نام اہلِ علم میں نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔

حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھی رحمہ اللہ سے معانی الآثار کی اجازت حاصل ہوئی۔

مولانا ادریس میرٹھیؒ جید عالم، فقیہ، مدرس اور علومِ دینیہ کے صاحبِ نظر بزرگ تھے، جنہوں نے تدریس و اشاعتِ علم کے میدان میں خدمات انجام دیں۔

اور مفتیِ اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ اللہ سے ہدایہ پڑھنے اور اس کی اجازت حاصل کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔

مفتی ولی حسن ٹونکیؒ اپنے دور کے ممتاز فقیہ، مفتی اور مدرس تھے۔ فقہِ حنفی میں ان کی بصیرت اور علمی مقام اہلِ علم کے ہاں مسلم تھا۔

یہ علمی نسبتیں حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھریؒ کے علمی سفر کی گہرائی کا اندازہ کراتی ہیں۔ حدیثِ مسلسل بالاولیۃ، جامع ترمذی، معانی الآثار اور ہدایہ جیسی اہم کتب کے لیے اپنے زمانے کے ان جبالِ علم سے استفادہ اور اجازت حاصل کرنا ان کے علمی سرمایہ کی قیمتی شہادت ہے۔

عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت سے وابستگی

حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھریؒ کی زندگی کا ایک روشن باب عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت سے ان کی طویل وابستگی اور اس عظیم مشن کے لیے ان کی خدمات ہیں۔

آپ ناظمِ اعلیٰ عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کی حیثیت سے بھی اس مشن کی خدمت کرتے رہے۔ عقیدۂ ختمِ نبوت کا تحفظ آپ کے لیے محض ایک تنظیمی ذمہ داری نہیں بلکہ ایمان کی امانت اور اکابر کی طرف سے ملنے والا مشن تھا۔

اپنے والدِ گرامی حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی دینی میراث کو آگے بڑھاتے ہوئے آپ نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اسی عظیم عقیدے کی دعوت اور حفاظت میں صرف کیا۔

سادگی، تواضع اور چہرۂ مبارک

حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھریؒ کی تصویر میں ان کے چہرۂ مبارک سے ان کی شخصیت کا ایک خوبصورت تعارف ملتا ہے۔

چہرے پر متانت و سنجیدگی، پیشانی پر علمی وقار، آنکھوں میں شفقت و محبت، سفید ریشِ مبارک اور سادہ لباس—یہ سب ان کی سادہ، متواضع اور باوقار زندگی کی ترجمانی کرتے ہیں۔

چہرے کے خدوخال میں عمر بھر کی دینی مصروفیت، فکرِ آخرت اور ایک خاموش اطمینان کی جھلک محسوس ہوتی ہے۔

عظیم علمی خانوادے سے تعلق کے باوجود ان کی زندگی میں نہ کروفر تھا، نہ نمود و نمائش اور نہ ’’ہٹو بچو‘‘ کی صداؤں کا شوق۔ سادگی ان کی زینت اور تواضع ان کا شعار تھا۔

علماء سے محبت اور اکرام

حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھریؒ کی شخصیت کا ایک نہایت خوبصورت پہلو علماءِ کرام سے محبت، عقیدت اور ان کا اکرام تھا۔

وہ اہلِ علم کی قدر و منزلت کو سمجھتے تھے، علماء کی مجالس میں ادب و محبت سے بیٹھتے اور عوام کو علماء سے جوڑنے اور ان سے مستفید کرانے کو دینی خدمت سمجھتے تھے۔

ان کے اندر اکابر سے وفاداری اور اہلِ علم سے محبت محض الفاظ نہیں بلکہ عملی زندگی کا حصہ تھی۔

دکھنی مسجد اور پاکستان چوک کی یادیں

حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھریؒ کی دینی و دعوتی زندگی سے وابستہ یادوں میں دکھنی مسجد، پاکستان چوک کراچی کا تذکرہ بھی ہمیشہ زندہ رہے گا۔

آپ قاضی احسان احمد صاحب کی تحریک اور خادم العلماء الحاج مستقیم احمد پراچہ رحمہ اللہ کی دعوت پر اہلیانِ پاکستان چوک کے درمیان تشریف لائے اور ختمِ نبوت اور درسِ قرآن کریم کے حوالے سے بیانات فرمائے۔

یہ مجالس محض رسمی اجتماعات نہ تھیں، بلکہ ان میں عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت، اس کی حفاظت کی ذمہ داری اور قرآنِ کریم کے پیغام کو عام کرنے کی فکر نمایاں تھی۔

خادم العلماء الحاج مستقیم احمد پراچہ رحمہ اللہ علماءِ کرام کی محبت، ان کے اکرام اور ان سے عوام کو مستفید کرانے کے جذبے میں ممتاز تھے۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھریؒ کو اہلیانِ پاکستان چوک تک لانا اسی دینی ذوق اور محبت کی خوبصورت مثال تھی۔

آج دکھنی مسجد کی وہ نشستیں، قرآنِ کریم کے وہ دروس، ختمِ نبوت کے وہ بیانات اور پاکستان چوک کے لوگوں سے ان کی محبت بھری ملاقاتیں ان سے وابستہ افراد کے لیے ناقابلِ فراموش یادیں ہیں۔

جنازے کا روح پرور منظر

پھر وہ وقت بھی آیا جب حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھریؒ اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے۔

آپ کا جنازہ محی السنہ، مجددِ دوراں حضرت مولانا پیر حافظ محمد ناصر الدین خان خاکوانی نقشبندی دامت برکاتہم العالیہ، امیرِ مرکزیہ عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کی امامت میں ادا کیا گیا۔

جس شخص نے اپنی زندگی ختمِ نبوت کے تحفظ، دین کی دعوت، قرآنِ کریم کے درس اور علماء کی محبت میں گزاری، آج اہلِ علم اور اہلِ محبت اسے سپردِ خاک کرنے کے لیے جمع تھے۔

الوداع اے مجاہدِ ختمِ نبوت!

آہ!

حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھریؒ بھی راہیِ خلدِ بریں ہوگئے۔

ایک خاموش مگر پُرجوش مبلغ ہم سے جدا ہوگیا۔

اپنے اکابر کی امانت پر پہرہ دینے والا ایک مخلص خادم رخصت ہوگیا۔

علماء سے محبت کرنے والا اور ان کے اکرام کو سعادت سمجھنے والا ایک شخص دنیا سے چلا گیا۔

اور ختمِ نبوت کے قافلے کا ایک مخلص مجاہد اپنے رب کے حضور پہنچ گیا۔

شخصیات چلی جاتی ہیں، مگر ان کی نسبتیں، دعوت، خدمات اور محبتیں باقی رہتی ہیں۔

حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھریؒ کی زندگی بھی ان شاء اللہ ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنے گی جنہوں نے ان کی دعوت سے فائدہ اٹھایا، ان کے بیانات سنے، ان سے علم حاصل کیا اور ختمِ نبوت کے مشن میں ان کے ساتھ وابستہ رہے۔

اللہ تعالیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری رحمۃ اللہ علیہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، درجاتِ عالیہ نصیب فرمائے، ان کی تمام دینی و ملی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

اللہ تعالیٰ ان کے اہلِ خانہ، متعلقین، احباب، علماءِ کرام اور تمام محبین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کے اس عظیم مشن کو اخلاص و استقامت کے ساتھ آگے بڑھانے کے لیے ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

اللّٰهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه، وأكرم نزله ووسع مدخله۔

آمین بجاہ النبی الکریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ❤️
محمد بن مستقیم
دکھنی جامع مسجد درس کمیٹی
پاکستان چوک، کراچی

 اور حضرت اقدس مولانا مفتی ڈاکٹر نظام الدین شامزئی شہید محدث فقیہ محقق داعی اسلام ہونے کے ساتھ ساتھ تواضع انکساری سخاوت ...
30/05/2026


اور

حضرت اقدس مولانا مفتی ڈاکٹر نظام الدین شامزئی شہید محدث فقیہ محقق داعی اسلام ہونے کے ساتھ ساتھ تواضع انکساری سخاوت وقار اور سنجیدگی کے وصف سے متصف رھے
سیاسی اعتبار سے جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے مجلس شوریٰ کے ممبر ہونے کے ساتھ افغانستان اور عراق میں امریکی کے حملوں کے خلاف سب سے پہلے فتوی جہاد جاری فرمایا
آپ عصر حاضر کے ممتاز عالم دین عظیم مدبر اسلامی طرز سیاست کے ماہر سلف صالحین کے مسند نشین شخصیت تھے
مفتی صاحب ہردل عزیز شخصیت تھے مدارس اسلامیہ آپ کی سرپرستی کو اپنے لئے سعادت گردانتے ہیں مفتی صاحب باغ کے ان پھولوں میں سے تھے جن کے اجڑنے سے پورا گلشن اجڑ جاتا ہے
فکر شیخ الہند کی امین شخصیت ہونے کے ساتھ شاگردوں دوستوں کے نہایت عقیدت واحترام سےپیش آنا جس کا بھی جس انداز کاتعلق ہو أپ سے وہ یہ محسوس کرتا مفتی صاحب کا سب سے زیادہ مجھ ہی سے تعلق رکھتے ہیں آپ قافلہ سلف کے بچھڑے ہوئے فرد تھے
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی شوریٰ کے رکن خواجہ خواجگان کی آنکھ کا تارا پیر سید نفیس الحسینی رحمہ اللہ کے معتمد حضرت لدھیانوی رحمہ اللہ کے علوم کے وارث حضرت بنوری رحمہ اللہ کے مسند نشین شخصیت تھے
اہل حق کے شعار مجموعہ کمالات منہج سلف سے آشنا مفتی صاحب رحمہ اللہ کی
درس قرآن برنس روڈ و پاکستان چوک کو سرپرستی میسر آجانا باعثِ فخر ہے
والد گرامی الحاج مستقیم احمد پراچہ رحمہ اللہ مفتی صاحب کے مرید تھے درس قرآن پاکستان چوک آپ ہی کی سرپرستی ودعاوفکر سے مور اسٹریٹ ابراہیم بلڈنگ پہلوان کے دکان کے قرب میں 19ربیع الاول1412ھ بروز جمعرات 27ستمبر 1992ء بعد عشاء پہلا درس مفکر جہاد حضرت استاذ مکرم مولانا فضل محمد یوسفزئی حفظہ اللہ ورعاہ نے دیا اسکے بعد کافی عرصہ تک حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ تشریف لاتے گلی میں درس قرآن دیتے رہے لیکن حضرت جامعہ اسلامیہ کلفٹن کے شیخ الحدیث بنوری ٹاؤن کے استاذ الحدیث جمیعت علمائے اسلام کے ممبر شوری عالمی مجلس کی مرکزی شوریٰ کے ممبر ایک 70بائیک پر پیچھے بیٹھ کر تشریف لاتے والد گرامی رحمہ اللّٰہ کے 4٫5 افراد کی موجودگی میں تواتر سے درس دیتے دعا فرماتے چلے جاتے کبھی نہ مجمع کی قلت کی شکایت بلکہ اخلاص للہ فی اللہ تشریف لاتے درس دیتے چلی جاتے آج کہاں سے ایسے واعظ وپیر ڈھونڈ لائیں

8 اکتوبر 1992ء میں درس قرآن کی سالانہ تقریب ہوئ جسمیں مہمان خصوصی مفتی صاحب رحمہ اللہ تھے
9اگست 1993ء میں بروز پیر سے مفتی صاحب رحمہ اللہ نے پارہ عم کا درس قرآن شروع فرمایا یہ سلسہ 1996 تک گلی میں جاری ہے
2ستمبر 1993ء میں سیرت النبی کانفرنس منعقد ہوئی مور اسٹریٹ میں جسمیں مھمان خصوصی حضرت لدھیانوی رحمہ اللہ اور خصوصی خطاب حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کا ہوا
1996 ء میں بھی ایک سیرت کانفرنس منعقد ہوئی جسمیں بھی تمام زعماء ملت شریک ہوئے اسکی برکت سے درس قرآن کا یہ مبارک سلسلہ دکھنی جامع مسجد میں منتقل ہوا جسمیں مفتی صاحب رحمہ اللہ مولانا فضل محمد یوسفزئی حفظہ اللہ مولانا زیب منجور حفظہ اللہ و دیگر اکابرین امت طے شدہ ترتیب پر تشریف لاتے رہے
2001ء میں درس قرآن ہفتہ میں دو دن شروع ہوا مفتی صاحب کی سرپرستی میں ہفتہ اور منگل کو تاحال جاری وساری ہے الحمدللہ
ایک دن درس حدیث اور ایک دن درس قرآن یہ سلسلہ بھی مفتی صاحب رحمہ اللہ کا شروع کردہ ہے جو کافی عرصہ جاری رہا وقتی ضرورت کے تحت موضوعات میں ترامیم ہوتی رہی ہیں
#30مئئ2004 کو امت مسلمہ کو آپ کی شہادت کے سانحہ سے دوچار کیا گیا یہ آپ کیلئے سعادت لیکن ہم بے سکوں کیلئے انتہائی دکھ ورنہ کی گھڑی تھی

#مفتی صاحب رحمہ اللہ کے گھر میں جانا آپ سے عیدی وصول کرنا
ّٰہ_الرحمٰن_الرحیم_کا_سبق_پڑھانا
آپ کی شہادت سے جو درس قرآن کے ساتھیوں کو صدمہ ہوا وہ گویا اپنے حقیقی والد کی جدائی کا صدمہ تھا
#والد گرامی رحمہ اللہ مفتی صاحب کے مرید تھے
لیکن آپ ہمیشہ بھائ مستقیم کہ کر پکارتے

#مفتی صاحب رحمہ اللہ کا تعلق جمیعت علمائے اسلام سے تھا میرے ماموں حافظ یونس صاحب حفظہ اللہ ورعاہ کو علم نہیں تھامفتی صاحب سے عرض کیا مفتی صاحب مجھے یہ آدمی اشارہ قائد جمیعت کی تھا ایجینسی کا لگتا ہے مفتی صاحب نے مسکرا کر ٹال دیا یہ اخلاق کریمہ آج ہماری ضرورت ہے
#والد گرامی رحمہ اللہ کا اوائل میں تعلق سے تھا مفتی صاحب کو ماموں نے ایک موقع پر عرض کیا جب پیلپز پارٹی کے متعلق گفتگو چل رہی تھیحضرت بٹ یعنی والد گرامی صاحب (لاہور کی رہائش کی مناسبت سے کہا) کا تعلق بھی پیپلز پارٹی سے تھا وہ فن اور اسکے بعد سے شہادت تک کبھی مفتی صاحب رحمہ نے والد گرامی رحمہ اللہ کے سامنے پیپلز پارٹی کا تذکرہ بھی نہ کیا آج یہ اخلاق کہاں سے لائیں

مفتی صاحب رحمہ اللہ ہوگئے لیکن یادیں رہ گئ ہیں

اللہ تعالیٰ أپ کا نعم البدل عطا فرمائے لیکن آپ کی شہادت ایک عجیب سانحہ تھی جس سے آج تک ہمارے دل چھلنی ہیں۔
بس یہی کہتے ہیں انا للہ وانا الیہ راجعون

کتبہ
محمد بن مستقیم @

22/04/2026
08/11/2025

*🌸 اصلاحی محفل🌸*

*انشاءاللّٰه 8-نومبر-2025ء*
*بروز ہفتہ بعد نماز عشاء جماعت 7:30 بجے*

بمقام دکھنی مسجد پاکستان چوک کراچی

*مقرر:* _پیر طریقت رہبر شریعت ولی کامل_
*حضرت مولانا پیر عبدالشکور نقشبندی صاحب دامت برکاتہم العالیہ*
{خلیفہ مجاز امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان حضرت مولانا پیر ناصر الدین خاکوانی صاحب حفظہ اللہ}
(سجادہ نشین خانقاہ نقشبندیہ چاکرہ راولپنڈی و خانقاہ شہید ختم نبوت و مہتمم جامعہ فاروقیہ،چکوال)

*آپ اپنےمتعلقین(خواتین با پردہ)کےساتھ شرکت کیجیے.*
خواتین کے لیے گلاب محل پہلی منزل مستقیم احمد پراچہ اسٹریٹ،بھائ مستقیم احمد پراچہ رحمتہ اللہ علیہ کے گھر پر باپردہ شرکت کا انتظام ہے۔
Whats App:03218730063
Fwd to all.

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when محمد بن مستقیم posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share