03/02/2024
عموماً ایک جھوٹ بڑی شدومد سے بولا جاتا کہ سندھ کے باسیوں نے تقسیم ہند پر مہاجروں کو کھلے دل سے قبول کیا اور کھلے ہاتھوں سے ان کا استقبال کیا۔ آئیے اس بات کا تاریخی حقائق کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں۔
21 دسمبر1947
صوبہ سندھ میں وہ مہاجرین نہ آئیں جن کے پاس سرمایہ نہیں ہے (ایوب کھوڑو وزیر اعلیٰ سندھ)
29 دسمبر 1947
مولانا شبیر احمد عثمانی نے عید گاہ میں پچییس ہزار مہاجرین سے خطاب میں کہا کہ قیام پاکستان سے پہلے ہمیں یقین دلایا گیا تھا کہ نئی حکومت ہندوستان کے دس کروڑ مسلمانوں کی ضامن ہوگی مگر یہاں ہجرت کے بعد سندھی غیر سندھی اور پنجابی و غیر پنجابی کا سوال اٹھایا جارہا ہے۔
2.جنوری 1948
چوہدری خلیق الزماں کو مستقل سندھ آباد ہونے اور صوبائی اسمبلی کی سیٹ دیے جانے پر msf sindh نے شدید احتجاج کیا ہے۔
8 جنوری 1948
وزیراعظم سندھ ایوب کھوڑو نے بیان دیا کہ ہمارے پاس مزید گنجائش نہیں اب مزید مہاجرین کو روکنا پڑے گا۔
یکم فروری 1948
صوبہ سندھ نے مہاجرین کے ساتھ سخت پالیسی اپنا رکھی ہے جو مہاجرین کی حمایت کرتا ہے زیر عتاب آجاتا ہے۔
7 اپریل 1948
آج برنس روڈ پر پولیس نے مہاجرین سے مکان زبردستی خالی کروالیا. مہاجرین اور پولیس میں تصادم. مہاجر خواتین کو پولیس نے زدوکوب کیا اور کئی مہاجر گرفتار کرلے گئے.
8 اپریل 1948
ایسوسی ایٹیڈ پریس آف انڈیا کے مطابق صرف مارچ کے مہینے میں 81.ہزار مسلم مہاجر حالات سے بد دل و مایوس ہوکر بھارت لوٹ گئے ہیں۔
16 اپریل 1948
پولیس و مہاجرین میں تصادم دو مہاجر ہلاک چار شدید زخمی۔
15 جون 1948
قائد اعظم محمد علی جناح نے کوئٹہ میونسپلٹی کے استقبالیہ میں کہا کہ ملک کا ہر طبقہ صوبائی تعصب کا شکار ہے۔
26 اکتوبر 1948
والٹن مہاجر کیمپپ لاہور میں میاں بیوی پر کپڑا چوری کا مقدمہ . میاں بیوی نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے کپڑے پھٹ چکے تھے اسی لئے مجبوری کے عالم میں انہوں نے ٹینٹ کا کپڑا کاٹ کر ستر ڈھانپ لیے..
والٹن کیمپ میں ہی 19 ہزار مہاجرین کی قبریں ہیں یہ وہ بد نصیب ہیں جو بے سر و سامانی کے عالم میں یہاں آئے اور تھکاوٹ , پریشانی , بیماری, اود خستہ حالی کے سبب کیمپ پہنچنے کے بعد جاں بحق ہوگئے۔
(یاد رہے اب والٹن کیمپ کی پوری زمین ہموار ہے جہاں بچے کرکٹ کھیلتے ہیں.. ایک قبر بھی موجود نہیں اور یہ کنٹونمنٹ بورڈ کے زیر انتظام ہے جہاں فوٹو گرافی بھی ممنوع ہے)
9 اپریل 1948
روزنامہ جنگ کا اداریہ
پاکستان سے ہندوستان مہاجرین کی واپسی تیز ہوگئی ہے..
حکومت کو توجہ دلائی گئی مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ذمہ داران حکومت آج کل عالیشان محلوں میں مقیم ہیں جن تک آہیں و سسکیاں نہیں پہنچ پاتی یکم جنوری سے مارچ تک ایک لاکھ پندرہ ہزار مہاجرین بھارت لوٹ گئے ہیں اور سابقہ مقامات پر آباد ہونے کی کوشش کر رہے ہیں.
13 مارچ 1948
کراچی و سندھ سے روزانہ تین سو مہاجرین دہلی واپس آرہے ہیں یہ وہ مہاجر ہیں جنہیں سخت کوشش و انتظار کے باوجود سر چھپانے کی جگہ نہ مل سکی۔
4 جون 1949
اخبار سنھ آبزرور کراچی میں ایک مقالہ افتتاحیہ شائع کیا گیا جس میں کہا گیا "کراچی پولیس میں بگھوڑے مہاجر پولیس افسران بھرتی کر لیے گئے"
اخبار کا خیال ہے کہ اس طرح پولیس میں مہذب عنصر کم ہوگیا ہے۔
7جون 1949
صوبہ سندھ میں صحافیوں کے حقوق و تحفظ کے لئے بنائی گئی انجمن کے دروازے اردو اخبار نویسوں کے لِئے بند کردیے گئے. اس انجمن کو سندھ حکومت کی تائید و سرپرستی حاصل ہے۔
27 جولائی 1949
شہر میں مسلسل بارش نے مہاجرین کی حالت خراب کردی. انہوں نے پریشان ہوکر آج تین مرتبہ وزیر اعظم لیاقت علی خان کی رہائشگاہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔
8 دسمبر 1949
آل انڈیا ریڈیو کے مطابق حکومت ہند نے دس ہزار مسلم تارکین وطن کو پاکستان سے واپس بھارت آنے کا پرمٹ جاری کردیا جو اس سال یوپی سے مغربی پاکستان چلے گئے تھے.
19 دسمبر 1949
لالو کھیت میں 66 مہاجر نمونیے سے جاں بحق ہوگئے.
یکم مئی 1950
مرکزی وزیر مہاجرین و داخلہ امور خواجہ شہاب الدین کا کہنا ہے کہ کراچی غلاظت کا ڈھیر بن جائے گا فالتو مہاجرین واپس بھارت لوٹ جائیں۔
25 جولائی1950
بھارت واپسی کے لئے پچیس ہزار مہاجرین کے نام درج۔
یکم جون 1950
تھرپارکر میں دس ہزار مہاجرین کو الاٹ کی گئی زمین سے انہیں چند ہی دنوں میں بے دخل کرنے کا نوٹس دے دیا گیا۔
19 جولائی 1950
لاکھوں مہاجرین خانماں برباد ہوگئے.
شہر کراچی میں موسلا دھار بارش سے لاکھوں مہاجرین خانماں برباد ہوگئے ہزاروں جھونپڑیاں بہہ گئیں 111 مہاجرین نمونیے سے ہلاک
29 مارچ 1951
وزیر مہاجرین و بحالیات ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے مہاجرین کی زبوں حالی بیان کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ کل تک دولت مند اور خوش حال تھے آج وہ کوڑی کوڑی کو محتاج ہوگئے.
1اپریل 1952
آج صبح پارلیمنٹ میں عبدالحمید اور ہاشم گزدر نے یہ اشتعال انگیز بیانات دیے کہ مہاجرین کا دل بددستور بھارت میں الجھا ہوا ہے اور وہ محض پیسہ کمانے کے لئے پاکستان آئے ہیں.
6 جون 1953
سندھ کے پہلے مہاجر وزیر حامد حسین فاروقی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا.
انہی دل خراش واقعات سے اہل قلم مہاجرین بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
14 اپریل
رئیس امرہوی کا قطعہ روزنامہ جنگ کراچی
کل ایک سوختہ قسمت نے یہ کہا مجھ سے
حیات کیا: کہ یہاں مقصد حیات ہے موت
دیار غیر میں ہے خوف قحط و مرگ قبول
فغاں بہال کراچی. یہاں نہ رزق نہ موت
16 نومبر 1948
روزنامہ جنگ کا کارٹون
آج روزنامہ جنگ کے کارٹونسٹ سمیع اللہ دہلوی نے مہاجرین کے مصائب و الام پر ایک طنزیہ کارٹون بنایا حالت زار پر ایک کارٹون بنایا جس میں مہاجرین کی زندگی کے کئی مشکل مرحلوں کی نشاندہی کی گئی. اور ہر مرحلے پر نمبر لگا کر اس کو ایک فقرے میں بیان کیا گیا. مختلف مرحلوں کی تصاویر کے نیچے یہ عبارت درج کی گئی
1: ہجرت کی مہاجر بنے
2: کیمپوں میں ٹھرے
3: ہر مصیبت کا سامنا کیا
4: پاکستان کی بقا و زندگی کے نعرے لگائے
5: ملازمت کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھائیں
6: مکانات و دکانوں کے لئے کنٹرولر کے غمزے سہے
7: راشن حاصل کرنے میں بلیک مارکیٹ برداشت کی
8: حکومت سے احتجاج کیا
9: کھلے میدانوں میں زندگی کے دن پورے کیے
10: سرکاری ملازمین کی "نوازشیں" بھی برداشت کیں
11: بیماری و فاقوں کا مقابلہ بھی کیا
12: آخر کار مسائل سے عاجز آکر دنیا سے چل بسے
کتبہ قبر: ایک غریب مہاجر
پیدائش : 1947
وفات : 1948
مہاجرین سے ناروا سلوک پر محسن بھوپالی نے یہ شعر کہے.
تم محسن ہو
یہ تو ٹھیک ہے
لیکن تم یہ "بھوپالی" کیوں لکھتے ہو
اگر نہ لکھتا تو آپ پوچھتے
کہاں کے رہنے والے ہو
میں کہتا 'لڑکانے' کا
تم پھر کہتے پاکستان آنے سے پہلے
کون سے شہر میں رہتے تھے
میں کہتا بھوپال......... گھما پھرا کے جو مجھ کو بتلانا پڑتا
میں نے ساتھ ہی لگا رکھا ہے
یہ اقباسات خان مظفر کی کتاب
تعصب تشدد اور تضاد سے لیے گئے ہیں
جسے نگارشات لاہور نے دو جلدوں میں 1996 میں
لاہور سے شائع کیا