17/04/2024
اسلام علیکم !
آپ تمام ممبران کو مبارک کے علاقے کی لائٹ بحال ہوگئی اور علاقہ مکین پرسکون ہو گئے ہیں ہے پر بات یہ ہے کہ اخر کب تک ہم خواب خرگوش کے مزے لیں گے ؟ یہاں مجھے ایک قصہ یاد آگیا کہ کسی گاؤں میں ایک دھوبی رہتا تھا اس کے پاس ایک گدھا تھا دھوبی اس گدھے پر روز بہت سا سامان لادھ کر میلوں کا سفر کرتا اس وزن کی وجہ سے گدھے کی بری حالت ہو جاتی پر کیوں کے وہ گدھا تھا اس لیے کچھ نہیں کر سکتا تھا دھوبی کے پڑوس میں ایک اور شخص رہتا تھا اس شخص کو اس دھوبی پر بہت غصہ تھا اس شخص نے اس دھوبی کے پاس جا کر دھوبی سے کہا کے تم سارا دن اس گدھے پر اتنا وزن ڈالتے ہو اور شام میں آکر اس کو باندھ دیتے ہو یہ بیچارا بیمار ہو جائے گا اصل میں اس شخص کو گدھے سے بہت ہمدردی تھی وہ چاہتا تھا کہ گدھا آزاد ہوجائے گدھے کے مالک کو اس شخص کی بات سمجھ آگئی اور گدھے کے مالک نے گدھے کو آزاد کردیا گدھا نے آزاد ہو کر دوڑ لگادی پڑوسی بہت خوش ہوا کے چلو اب یہ گدھا اپنے مالک سے آزاد ہوگیا مالک بھی پریشان ہوا کے یہ گدھا تو بھاگ گیا اب کیا ہو گا پڑوسی اپنے گھر چلا گیا رات گزری صبح اٹھا دیکھا کہ گدھا پھر اپنی جگہ کھڑا تھا پر اب کی بار وہ بندھا ہوا نہیں تھا پر بلکل اسی طرح کھڑا تھا جیسے بندھا ہوا ہو ۔ گدھا ساری رات میدان میں جاکر مٹی میں لوٹیاں لگا کر اپنے آزاد ہونے کی خوشی مناتا رہا اور صبح وآپس آکر اپنی جگہ کھڑا ہوگیا پتہ ہے کیوں کھڑا ہوا وہ گدھا اس لیے کے اس نے غلامی قبول کر لی تھی وہ بظاہر تو آزاد تھا پر ذہنی طور پر غلام ہی تھا۔
آج ہماری قوم کی حالت بھی اس ہی گدھے کی مانند ہے ہم بظاہر تو آزاد ہیں پر ذہنی غلامی قبول کر چکے ہیں۔ بات یہ ہے کہ ہم اپنے آپ سے مایوس ہوچکے ہیں اور جب تک ہم مایوسی کو کفر نہیں سمجھیں گے ہم کو اس ہی طرح استعمال کیا جاتا رہے گا ۔ اگر میری گفتگو سے کسی کی دل شکنی ہوئی ہو تو معذرت خوا ہوں ۔
شکریہ