10/05/2025
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ اے این پی نظریاتی طور پر ہر قسم کی جنگ کی مخالفت کرتی ہے۔ ہم تمام فریقین سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ امن، مذاکرات اور رواداری کے راستے کو اپنائیں۔ آج میں نہ کسی جہاد کا اعلان کر رہا ہوں، نہ ہی کسی کو اسلحہ اٹھانے یا فوج کے ساتھ لڑنے کی تلقین کر رہا ہوں۔ البتہ میں یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ اس ملک میں جنگ لڑنے کے لیے متعلقہ ادارے موجود ہیں، اور حالتِ جنگ میں ہماری تمام تر ہمدردیاں انہی اداروں کے ساتھ ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ وہ اپنے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دیں۔متوکل خان مرحوم(سابق ڈپٹی جنرل سیکرٹری اے این پی پختونخوا) کے خاندان کے سیاسی جانشین کی دستار بندی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ جنگ نفرت کو جنم دیتی ہے، جب کہ عدم تشدد محبت، بھائی چارے اور امن کا پیغام ہے۔ آج بھی میں عظیم باچا خان بابا کے فلسفہ عدم تشدد پر مضبوطی سے قائم ہوں۔انہوں نے واضح کیا کہ ہماری جنگ پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی ریاستی محاذ آرائی کی نہیں، بلکہ اپنے قومی حقوق، شناخت اور وسائل پر اختیار کے لیے ہے۔ "میں آج شانگلہ میں موجود ہوں۔ آپ خود بتائیں کہ یہ خوبصورت خطہ ترقی یافتہ ممالک سے کم کیوں ہے؟ یہاں کے نوجوان دیارِ غیر میں مزدوری کرتے ہیں یا کوئلے کی کانوں میں جانیں قربان کرتے ہیں، کیونکہ شانگلہ کے قدرتی وسائل پر اختیار مقامی عوام کا نہیں بلکہ طاقتور حلقوں کا ہے۔"ایمل ولی خان نے مائنز اینڈ منرلز بل پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے شانگلہ کے ایک وفاقی وزیر کا حالیہ بیان انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ "اسلام آباد میں بیٹھے اس وزیر کو سن لینا چاہیے کہ مائنز اینڈ منرلز بل دراصل پختون قوم کے حقوق پر سودے بازی ہے۔ اگر کسی نے ایک ارب روپے کے بدلے پختونوں کے وسائل کا سودا کیا تو وہ پختونخوا میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا۔"انہوں نے خبردار کیا کہ یہ محض ایک جماعت یا فرد کی نہیں، بلکہ پختون قوم کی اجتماعی قومی جنگ ہے۔ "ہم اپنے وسائل، شناخت اور حقوق کے تحفظ کے لیے ہر محاذ پر ڈٹ کر کھڑے ہوں گے اور کوئی بھی قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔"