Support Imran Save Pakistan

Support Imran  Save Pakistan This page was created for supporting IK

میں نے کبھی سیاست دانوں کوکبھی اچھا نھیں سمجھا یہی وجھہ ھے کہ میں نے کبھی کسی کو ووٹ نھیں دیا لیکن موجودہ حالات میں خاموش رھنا میں سمجھتا ھوں جرم ھے۔ ایسا جرم جسے ھماری آنے والی نسل معاف نہ کرے گی

کون نھیں جانتا کہ پاکستان لٹیروں اور ظالموں کے شکنجےمیں ھے۔

ذرداری بمعہ اپنی ٹیم کے پاکستان کی معیشت کو کوکھلا کر رھا ھے۔ وضاحت کی ضرورت نہیں۔

نوازشریف جانتا ھے کہ وہ کوی تبدیلی نھیں لا سکتا۔ کیوں کے

وہ بھی چور اور چوروں کا قاید ھے۔ اندرونی اور بیرونی پالیسی تبدیل نھیں کر سکتا۔

اس وقت مُلک کو ایسے لیڈر کی ضرورت ھے جیس کے ھاتھ صاف ھوں۔ یہ دھرتی ایسے لوگوں سے خالی نھیں ھویٴ۔ ضرور کوی نہ کوی آواز کوی ھستی اس مُلک کو بچایے گی۔

آج دو آوازیں گونج رھی ھیں۔ ﴿ عمران خان ﴾ اور ﴿ الطاف حسین ﴾

عمران خان واحد شخصیت ھے جس پر کوی فردِ جرم عاید نھیں اور اس کے دل میں درد بھی ھے اور ارادوں کی چمک بھی۔ اور شاید ھماری آخری اُمید بھی۔

میں ھر پاکستانی سے التماس کرتا ھوں کہ یہ وقت خاموش رہ کر اپنی نسلوں کو غلام بنانے کا نھیں۔ ذرداری کو بھیجھ کر نواز کو بلانے کا نھیں۔ ز رداری کے کھاتے میں پاکستانیوں کی زندگی اجیرن کرنا ھے تو نواز کے کھاتے میں بھی قوم کو لوٹنے کے قصے موجود ھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ن لیگ برابر شریک ھے زرداری کو پاکستان پر مسلط کرنے پر جب ان خبیثوں نے اس کو ووٹ دیا تھا اس وقت زرداری فرشتہ تو نھیں تھا۔ اس کے تمام جرموں اور گناھوں کو قبول کر کے اس کو وقت دیا کہ اب تیری باری ھے ھمیں نہ بھولنا۔ جب وہ بھول گیا تو اب ان کو اس کے سب فسانے یاد آ رھے ھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تف ھے خود کو لیڈر گرداننے والوں پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میری تمام پاکستنیوں بلخصوص نوجوانوں اور طالبعلموں سے گزارش ھے کہ آگے آ کر عمران خان کا ساتھ دیں۔ ھم مزید ڈھای سال انتظار نھیں کر سکتے۔ ڈھای سال بعد پاکستان میں کچھ نھیں بچے گا۔ یہ وقت ھاتھ نھیں آے گا۔ میں نے دیکھا ھے قوم کی ماووں کو غربت سے جگر کے ٹکڑے بیچتے ھوے۔ باپ کو بیٹی بیچتے ھوے۔ کیا کل میں اور آپ بھی یہ ھی کریں گے۔ کیا ھماری اولاد بھی مجبور ھو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تو طے ھے کہ زرداری اور نواز کبھی اپنی اولاد بھوک سے مجبور ھو کر نہیں بیچیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ھم سا ھمارا آخری نوالہ بھی چھین لیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﷲ نے صاف بیان کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ قوم کی حالت جب تک قوم خود نہ چاھے۔۔۔۔۔۔۔ نھیں بدلتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آخر میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عمران خان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اور میری طرح اور لوگوں کی نظر بھی تم پر ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نا اُمید نہ کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد

‏دراصل ووٹ اس کا ہے جس نے ناموس رسالت ﷺ پر دنیا بھر میں پیغام حق پہنچایاووٹ اس کا ہے جس نے پاکستان کا مقدمہ لڑاووٹ اس کا...
05/02/2024

‏دراصل ووٹ اس کا ہے جس نے ناموس رسالت ﷺ پر دنیا بھر میں پیغام حق پہنچایا
ووٹ اس کا ہے جس نے پاکستان کا مقدمہ لڑا
ووٹ اس کا جس نے ایک غریب کو امیر کی طرح علاج معالجہ کی سہولت میسر کی
ووٹ اس کا جو بے سہاروں کے سائبان بنا
ووٹ اس کا جو آرام و آرائش چھوڑ کر حقیقی آزای کے لئے قید کاٹ رہا ہے

‏تنہائی کا شکار ہیں 22 کروڑ لوگحالانکہ بےشمار ہیں 22 کروڑ لوگدو چار بھیڑیوں کے ہیں آگے لگے ہوئےبھیڑوں کی اک قطار ہیں 22 ...
22/08/2023

‏تنہائی کا شکار ہیں 22 کروڑ لوگ
حالانکہ بےشمار ہیں 22 کروڑ لوگ

دو چار بھیڑیوں کے ہیں آگے لگے ہوئے
بھیڑوں کی اک قطار ہیں 22 کروڑ لوگ

غیرت سےدور کا بھی نہیں واسطہ انہیں
کس منہ سے شرمسار ہیں 22 کروڑ لوگ

اٹھ پائے کیوں نہیں ہیں چوالیس کروڑ ہاتھ
کیوں صرف اشکبار ہیں بائیس کروڑ لوگ

ارشد شریف کوفیوں کو جانتا نہ تھا
وہ سمجھا اس کے یار ہیں 22 کروڑ لوگ

نعیم ضرار کے شاندار الفاظ

26/05/2023
تیار فصل میں سؤر چھوڑنے کا آج ایک سال مکمل ہو گیا۔۔۔۔!
10/04/2023

تیار فصل میں سؤر چھوڑنے کا آج ایک سال مکمل ہو گیا۔۔۔۔!

دھوبی کی بیوی بادشاہ کے گھر میں کام کرتی تھی اور بڑی خوش نظر آرہی تھی ، تب ملکہ سلطنت نے پوچھا کہ آج تم اتنی خوش کیوں ہو...
08/03/2023

دھوبی کی بیوی بادشاہ کے گھر میں کام کرتی تھی اور بڑی خوش نظر آرہی تھی ، تب
ملکہ سلطنت نے پوچھا کہ آج تم اتنی خوش کیوں ہو۔
دھوبن نے کہا کہ آج دَھنُوں پیدا ہوا ہے۔

ملکہ نے اسکو مٹھائی پیش کرتے ہو کہا،
دَھنُوں کی پیدائش کی خوشی میں کھاؤ۔

اتنے میں بادشاہ بھی کمرے میں داخل ہوا۔
ملکہ کو خوش دیکھ کر پوچھا
آج آپ اتنی خوش کیوں ہیں کوئی خاص وجہ ہے؟

ملکہ نے کہا!
سلطان یہ لیں مٹھائی کھائیں
آج دَھنُوں پیدا ہوا ہے۔
اس لیئے خوشی کے موقع پہ خوش ہونا چاہیے.... !!

بادشاہ کو بیوی سے بڑی محبت تھی۔
بادشاہ نے دربان کو کہا کہ مٹھائی ہمارے پیچھے پیچھے لے آو۔

بادشاہ باہر دربار میں آیا تو
بادشاہ بہت خوش تھا۔ وزیروں نے جب بادشاہ کو خوش دیکھا تو۔۔۔
واہ واہ کی آوازیں گونجنے لگیں۔
بادشاہ مزید خوش ہونے۔
بادشاہ نے کہا سبکو مٹھائی بانٹ دو۔

مٹھائی کھاتے ہوئے بادشاہ سے وزیر نے پوچھا!
بادشاہ سلامت یہ آج مٹھائی کس خوشی میں آئی ہے؟

بادشاہ نے کہا!
کہ آج دَھنُوں پیدا ہوا ہے۔

ایک مشیر نے چپکے سے وزیر اعظم سے پوچھا!
وزیر با تدبیر ویسے یہ دھنوں ہے کیا..؟

وزیراعظم نے کہا!
کہ مجھے تو علم نہیں یہ دھنوں کیا بلا ہے،
بادشاہ سے پوچهتا ہوں۔

وزیر اعظم نے ہمت کر کے پوچھا!
بادشاہ سلامت ویسے یہ دھنوں ہے کون؟

بادشاہ سلامت تھوڑا سا گھبرائے اور سوچنے لگے کہ واقعی پہلے معلوم تو کرنا چاہیے تھا کہ یہ دھنُوں کون ہے؟

بادشاہ نے کہا!
مجھے تو علم نہیں کہ یہ کون ہے... ۔
میری بیوی آج خوش تهی وجہ پوچھی تو
اس نے کہا!
کہ ٓآج دَھنُوں پیدا ہوا ہے۔
اس لیئے میں اسکی خوشی کی وجہ سے خوش ہوا۔

بادشاہ گھر آیا اور بیوی سے پوچھا....

ملکہ عالیہ یہ دھنوں کون تھا؟ جس کی وجہ سے آپ اتنی خوش تھی اور ہم بھی خوش ہیں۔

ملکہ عالیہ نے کہا!
کہ مجھے تو علم نہیں کہ دھنوں کون ہے؟
یہ تو دھوبن بڑی خوش تھی اُس نے بتایا۔
آج دھنوں پیدا ہوا ہے۔
اس لیئے میں بھی خوش ہو کر اسکی خوشی میں شریک ہوئی۔

دھوبی کی بیوی کو بلایا اور پوچھا!
تیرا ستیاناس ہو.
یہ تو بتا کہ یہ دھنوں کون ہے؟
جس کی وجہ سے ہم نے پوری سلطنت میں مٹھائیاں بانٹی۔!

دھوبن بولی!
یہ دَھنُوں ہماری کھوتی کا بچہ ہے
جو کل پیدا ہوا ہے۔

ایسا ہی حال ہمارے ہاں نٸے بننے والے وزیراعظم کا ہے پاکستان تو کیا لندن امریکہ میں بھی مٹھاٸیاں بانٹی جا رہی ہیں۔ ۔ ۔ کوٸی پوچھے تو یہ دھنُوں ہے کیا تو جواب ملے گا جو تیس ہزار میٹر ( 98450 فُٹ ) کی بلندی سے بھی انٹرنیٹ کی سروس استعمال کرتے ہوۓ نیچے زمین پر بیٹھے ہوۓ دھنُوٶں سے رابطہ کر سکتا ہے۔۔۔!!!

پلیز اس آرٹیکل کو سیاست سے ہٹ کر پڑھیںبریڈ فورڈ یونیورسٹی کا شمار برطانیہ کی مشہور یونیورسٹیوں میں ہو تا ہے- یہ دنیا کی ...
06/02/2023

پلیز اس آرٹیکل کو سیاست سے ہٹ کر پڑھیں
بریڈ فورڈ یونیورسٹی کا شمار برطانیہ کی مشہور یونیورسٹیوں میں ہو تا ہے- یہ دنیا کی 50 بڑی اور برطانیہ کی ٹاپ 10 اچھی یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہے- 2005 میں یونیورسٹی کو چانسلر کی ضرورت تھی- پوری دنیا سے 100 سے زیادہ سکالرز اور بزنس مینیجرز کو بلایا گیا –جس میں زیادہ تعداد برطانیہ، امریکا اور جرمن سکالرز کی تھی –اس لسٹ میں پاکستان اور انڈیا میں سے صرف ایک بندے کو بلایا گیا – سلیکشن سے پہلے جرمن سائنٹسٹ کو چانسلر کی سیٹ کے لیے سب سے زیادہ مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا تھا - مگر تمام کہانی اس وقت تبدیل ہوئی جب "ٹیلنٹ " لیڈرشپ " ماڈرن اسٹڈیز " پر بحث میں پاکستان نژاد نے دوسرے تمام امیدوار کو پیچھے چھوڑ دیا- اس ہال میں بریڈفورڈ کے تمام ڈائریکٹرز کھڑے ہو کر تالیاں مارنے اور داد دینے پر مجبور ہو گئے - تب جرمن سائنٹسٹ اس سکالر کے پاس آیا اور کہا اس پوسٹ پر تم مجھ سے زیادہ قابل بندے ہو-
کابینہ کی اکثریت نے اس سکالر کو منتخب کر لیا - اور کہا، "بولو کتنی تنخواہ لو گے؟"

اس نے تاریخی کلمات بولے: "میں یہاں بزنس کے لیے نہیں آیا - اور بولا تعلیم اور پیسے کا ایک دوسرے سے موازانہ نہیں کیا جا سکتا- میں ایک ایسے ملک سے ہوں جہاں لوگوں کو تعلیم کی بنیادی سہولیات نہیں ہیں- ہمارے پیسے والے لوگ دوسرے ممالک میں جا کے تعلیم حاصل کر لیتے ہیں- جب کہ غریب لوگ اپنے دل میں حسرت لے کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں- یہ ہی وہ خاص وجہ ہے جس کی وجہ سے غریب اور امیر کا فرق دن بدن زیادہ ہوتا جا رہا ہے- میری زندگی کی خواہش ہے میرے ملک کے وہ لوگ جو دوسرے ممالک میں نہیں جا سکتے وہ اپنے ملک میں ہی رہ کر اچھی تعلیم حاصل کریں اور بریڈفورڈ جیسی اچھی یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کر سکیں- اس لیے میں بریڈفورڈ یونیورسٹی پھر ہی جوائن کر سکتا ہوں اگر آپ مجھے میرے ملک کے لیے یہ سہولت دیں"۔

کابینہ کے تمام ارکان اس بات سے حیران رہ گئے - کابینہ کی اکثریت اس فیصلہ کے خلاف تھی اور کہا: "ایسا ممکن نہیں کہ ہم پاکستان میں اپنی ڈگری متعارف کروائیں"

سکالر کہنے لگا، "پھر آپ پاکستان کا بندہ بریڈفورڈ کا چانسلر کیوں لگا رہے ہو؟"-
بات یہاں آ کر رک گئی اور وہ سکالر اٹھ کے چلا گیا۔
بعد میں کرس ٹیلر نے اپنی کابینہ کو کہا، "اس بندے کو ایسے مت جانے دو اس میں کچھ کر دکھانے کی صلاحیت موجود ہے- جو بندہ اپنے ملک کا وفادار ہو اور کچھ کرنے کا عزم ہو وہ کام بھی ہمیشہ اچھا کرتا ہے اور پیسے کا لالچ نہیں کرتا۔ آپ اس کی بات مان لیں-"

کابینہ نے اس سکالر کو واپس بلایا اور کہا آپکی تمام باتیں منظور ہیں -آپ پاکستان میں جہاں چاہتے ہیں کیمپس بنا سکتے ہیں- وہ اسکالر 9 سال تک بریڈفورڈ کا چانسلر رہا ہے- 1986 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کے کوئی بندہ اتنے زیادہ عرصے کے لیے چانسلر بنا رہا -اس دوران اس نے پاکستان میں نمل یونیورسٹی بنائی جس میں پڑھنے والے طالب علموں کو وہی ڈگری ملتی ہے جو برطانیہ میں کروڑوں روپے خرچ کر کے بریڈ فورڈ یونیورسٹی میں ڈگری حاصل کرنے والوں کو-

اس کا نام عمران خان ہے اور وہ منافق خان، طالبان خان یہودی ایجنٹ اور غدار سیاستدان کے طور پر جانا جاتا ہے- مگر میں اپنی زندگی میں ایسا پہلا منافق بندہ دیکھ رہا ہوں جو پیسے کا لالچ نہیں کرتا اور ایسا پہلا غدار دیکھ رہا ہوں جو ملک کے با ہر جا کے بھی پیسے پر اپنے ملک کو ترجیح دے۔
(ماخوذ)

جن ذہنی غلاموں کو یہ بات جھوٹ لگے، لنک پیش ہے بریڈ فورڈ یونیورسٹی کا
http://www.bradford.ac.uk/about/chancellor/former-chancellors/
http://www.bradford.ac.uk/about/chancellor/former-chancellors/imran-khan/
نمل یونیورسٹی کا بریڈ فورڈ یونیورسٹی سے الحاق کا لنک- اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں رہتے ہوۓ بچوں کو برطانوی ٹاپ کلاس یونیورسٹی کی ڈگری دی جاۓ گی

The Bradford-born television and radio presenter will be installed as the University of Bradford’s Chancellor in spring 2023.

20/03/2022

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Support Imran Save Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share