Explain History

Explain History Be the change you want to see. Join in by clicking the Follow button

23/09/2024

اسرائیل کے معنی ہیں عبداللہ یا بندہء خدا ۔ یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب تھا ، جو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا تھا ۔ وہ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے تھے ۔ انہی کی نسل کو بنی اسرائیل کہتے ہیں ۔ پچھلے چار رکوعوں میں تمہیدی تقریر تھی ، جس کا خطاب تمام انسانوں کی طرف عام تھا ۔ اب یہاں سے چودھویں رکوع تک مسلسل ایک تقریر اس قوم کو خطاب کرتے ہوئے چلتی ہے ، جس میں کہیں کہیں عیسائیوں اور مشرکینِ عرب کی طرف بھی کلام کا رخ پھر گیا ہے اور موقع موقع سے ان لوگوں کو بھی خطاب کیا گیا ہے جو حضرت محمد ﷺ کی دعوت پر ایمان لائے تھے ۔ اس تقریر کو پڑھتے ہوئے حسبِ ذیل باتوں کو خاص طَور پر پیشِ نظر رکھنا چاہیے : اوّلاً ، اس کا منشا یہ ہے کہ پچھلے پیغمبروں کی اُمت میں جو تھوڑے بہت لوگ ابھی ایسے باقی ہیں جن میں خیر و صلاح کا عنصر موجود ہے ، انہیں اس صداقت پر ایمان لانے اور اس کام میں شریک ہونے کی دعوت دی جائے جس کے ساتھ محمد ﷺ اٹھائے گئے تھے ۔ اس لیے ان کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ قرآن اور یہ نبی وہی پیغام اور وہی کام لے کر آیا ہے جو اس سے پہلے تمہارے انبیا اور تمہارے پاس آنے والے صحیفے لائے تھے ۔ پہلے یہ چیز تم کو دی گئی تھی تاکہ تم آپ بھی اس پر چلو اور دنیا کو بھی اس کی طرف بلانے اور اس پر چلانے کی کوشش کرو ۔ مگر تم دنیا کی رہنمائی تو کیا کرتے ، خود بھی اس ہدایت پر قائم نہ رہے اور بگڑتے چلے گئے ۔ تمہاری تاریخ اور تمہاری قوم کی موجودہ اخلاقی و دینی حالت خود تمہارے بگاڑ پر گواہ ہے ۔ اب اللہ نے وہی چیز دے کر اپنے ایک بندے کو بھیجا ہے اور وہی خدمت اس کے سپرد کی ہے ۔ یہ کوئی بیگانہ اور اجنبی چیز نہیں ہے ، تمہاری اپنی چیز ہے ۔ لہذا جانتے بوجھتے حق کی مخالفت نہ کرو ، بلکہ اسے قبول کر لو ۔ جو کام تمہارے کرنے کا تھا ، مگر تم نے نہ کیا ، اسے کرنے کے لیے جو دوسرے لوگ اٹھے ہیں ، ان کا ساتھ دو ۔ ثانیاً ، اس کا منشا عام یہودیوں پر حجّت تمام کرنا اور صاف صاف ان کی دینی و اخلاقی حالت کو کھول کر رکھ دینا ہے ۔ ان پر ثابت کیا جا رہا ہے کہ یہ وہی دین ہے ، جو تمہارے انبیا لے کر آئے تھے ۔ اصولِ دین میں سے کوئی ایک چیز بھی ایسی نہیں ہے ، جس میں قرآن کی تعلیم تورات کی تعلیم سے مختلف ہو ۔ ان پر ثابت کیا جا رہا ہے کہ جو ہدایت تمہیں دی گئی تھی اس کی پیروی کرنے میں ، اور جو رہنمائی کا منصب تمہیں دیا گیا تھا اس کا حق ادا کرنے میں تم بری طرح ناکام ہوئے ہو ۔ اس کے ثبوت میں ایسے واقعات سے اِستِشْہاد کیا گیا ہے جن کی تردید وہ نہ کر سکتے تھے ۔ پھر جس طرح حق کو حق جاننے کے باوجود وہ اس کی مخالفت میں سازشوں ، وسوسہ اندازیوں ، کج بحیثوں اور مکّاریوں سے کام ل�

ایک ہوتی ہے جہالت۔۔۔ ایک ہوتی ہے جہالت سے لاعلمی ۔۔۔اور ان سب سے اوپر کا لیول آتا ہے جہالت پر فخر۔۔۔!!یہ ویڈیو کل سوشل م...
23/09/2024

ایک ہوتی ہے جہالت۔۔۔ ایک ہوتی ہے جہالت سے لاعلمی ۔۔۔
اور ان سب سے اوپر کا لیول آتا ہے جہالت پر فخر۔۔۔!!

یہ ویڈیو کل سوشل میڈیا پر دیکھی۔۔۔ ایک کوئی نام نہاد "عزت دار" صاحب ہیں جنہوں نے اپنے ملازم اور اپنی بہن کو قتل کر دیا۔۔۔ بقول ان "غیرت مند" صاحب کے ۔۔۔ ان کے گھر سے موبائل فون پکڑا گیا ان کی سسٹر سے جو ملازم نے بھجوایا تھا دونوں کا چکر تھا، چوری بات کرتے تھے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔

کچھ جملے جو بڑے فخریہ انداز میں انٹرویو میں بولے اس بندے نے وہ یہ ہیں۔۔۔

•ساڈھے نو موبائل پکڑا گیا اور دس بجے میں نے قتل کر دیا دونوں کو
• اسی غیرت مند لوگ اں۔۔ساڈا اک نام اے، عزت اے
• ساڈے گھراں اچ عورتاں نیئں بولدیاں(ہمارے گھروں میں عورتیں بات نہیں کرتیں)

اچھا یہاں تک مجھے سمجھ آ رہا تھا کہ چلو ایک جاہل بندہ ہے، ہمارے کئی علاقوں میں تعلیم اور شعور مفقود ہے تو یہ بھی کوئی ایسا بندہ۔۔۔۔ لیکن میرے دماغ کی اصل چولیں تو ہلیں کمنٹس پڑھ کر ۔۔۔ اوہہہہ میرے خدایااااا۔۔۔!!!
95 سے 98 پرسنٹ کمنٹس تھے۔۔ اپریسیشن کے۔۔۔ سلیوٹ کے۔۔۔ ستائش کے۔۔۔ فخریہ۔۔۔ تائیدی۔۔۔اور دس ہزار سے اوپر کمنٹ تھے اس پوسٹ پر جن میں سے چند کے سکرین شاٹس لیے جو ساتھ لگا رہا ہوں۔۔۔ ذرا دیکھیے ان کو۔۔۔

یہ کیا مائنڈ سیٹ ہے۔۔ یہ کیا ذہنیت ہے۔۔۔ یہ تربیت کہاں سے ہوئی۔۔؟ یہ ذہنیت کیسے بنی۔۔۔ یہ جتنے کمنٹ کرنے والے ہیں یہ پوٹینشل کلرز ہیں۔۔۔ یہ سب ممکنہ قاتل ہیں۔۔۔ کیونکہ قتل سوچ سے ہوتا ہے ہتھیار سے نہیں۔۔۔ غیرت کے نام پر قتل کو ایسے کمنٹس بخدا میرا دماغ ماؤف ہو گیا۔۔۔ یہ پڑھیے ان کمنٹس کو ذرا۔۔۔ دس ہزار سے اوپر کمنٹس تھے شروعات کے چند ہی دیکھ پایا بس۔۔۔
کوئی کہہ رہا گریٹ۔۔ کوئی دعائیں دے رہا۔۔۔ کوئی صدقے واری جا رہا۔۔ کوئی فخر سے مونچ کو تاو دے رہا کیا ہی سورما ہے کیا ہی معرکہ مارا ہے جوان نے۔۔ کیا ہی عمدہ کام کیا ہے۔۔ تمغہ امتیاز ملنا چاہیئے جوان کو نا۔۔۔

یہ وہ جہالت ہے جو ہماری قوم کی اکثریت میں پائی جاتی ہے۔۔ اور ہم چلیں ہیں نظام بدلنے۔۔۔ پورے پاکستان کے علماء منبر و محراب سے۔۔۔ پوری دنیا کے قلمکار اپنی تحاریر سے۔۔ پورے خطے لے فلمبین اپنی ویڈیوز سے بھی اگر کوشش کرنا شروع کریں تو شاید دہائیاں چاہیئں ہوں گی اس قوم کی جہالت ختم ہونے کے لیے۔۔۔ دہائیاں۔۔۔!! یہ کمنٹس پڑھیے اور سر دھنیے۔۔۔!!
تحریر: ماسٹر محمد فہیم امتیاز
#ماسٹرمحمدفہیم

ڈاکٹر ذاکر نائیک کی آمد کا سب سے بڑا فائدہ کیا اٹھایا جانا چاہئے؟ معروف اور روایتی معنوں میں دیکھئے تو ڈاکٹر صاحب نہ عال...
23/09/2024

ڈاکٹر ذاکر نائیک کی آمد کا سب سے بڑا فائدہ کیا اٹھایا جانا چاہئے؟

معروف اور روایتی معنوں میں دیکھئے تو ڈاکٹر صاحب نہ عالم دین ہیں،نہ شیخ الحدیث ہیں، نہ مفسر قرآن ہیں،نہ محدث زمان ہیں اور نہ ہی وہ ایسے مروجہ القابات کو اپنے نام کا حصہ بناتے ہیں، ڈاکٹر کا لفظ وہ لکھتے ہیں،کیونکہ میڈیکل ڈاکٹر وہ ہیں، اصلا وہ داعی ہیں اور تقابل ادیان کے ایک ناقابل شکست سکالر۔ وہ شیخ الحدیث نہیں مگر سینکڑوں شیوخ الحدیث کی دعا اور دلوں کی ٹھنڈک کا باعث ہیں، وہ مفسر قرآن نہیں مگر سینکڑوں مفسرین کی آبرو اور سر اٹھا کے چلنے کا ذریعہ ہیں،وہ اسلام کی اس سرحد کے محافظ ہیں،جس کے اندر علما اور شیوخ اسلام کی خدمت میں اطمینان سے مصروف عمل ہیں۔ پھر خود انھوں نے دینیات میں ایسا مطالعہ بڑھایا کہ سائلین کے سامنے قرآن و سنت سے دلائل کے دریا بہا دئیے۔
تقابل ادیان ان کا خصوصی میدان ہے اور اس میدان کی خصوصی مہارت اور لوازمات سے خدا نے انھیں اس طرح مالا مال فرما رکھا ہے کہ اس پر رشک کیا جا سکتا ہے، اس کی حسرت کی جا سکتی ہے، مگر اسے پایا نہیں جا سکتا۔ وہ جو کہتے ہیں، تانہ بخشد خدائے بخشندہ۔ پھر اللہ نے دین کے تعلق سے جو شہرت اور محبت انھیں عطا کی، وہ اہل دین کا سرمایہ ہے، باعث حسد و نفرت نہیں۔القصہ ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب اس امت کا اثاثہ ہیں،ڈاکٹر صاحب اسلامک آئیکون ہیں، ڈاکٹر صاحب اس عہد میں دلیل کی فتح اور اسلام کے غلبے کی نمایاں علامت ہیں۔
ڈاکٹر صاحب کے مقام ومرتبے کو سمجھنے کیلئے سیدنا حسان بن ثابت کی اسلام کیلئے ضرورت و اہمیت کو سمجھنا چاہئے۔جو اپنے اپنے فن میں طاق صحابہ کی طرح نہ ممتاز مفسر تھے،نہ محدث تھے اور نہ کچھ اور ایسے کسی جنگویانہ فن کے ماہر، مگر نبی رحمت ان کیلئے مسجد نبوی میں منبر لگوایا کرتے اور ان کیلئے خدا سے جبریل کی مدد مانگا کرتے،دراصل وہ اپنے اشعار سے شعار اسلام کی سربلندی کا کام کیا کرتے تھے،وہ مسلمانوں کے مورال کی سربلندی کا علم اٹھائے رکھتے تھے، دفاع اسلام کے اس مورچے پر وہ ون مین آرمی کے مصداق تھے،اس معاملے میں وہ عصمت اسلام اور حرمت رسول کے تنہا پاسبان تھے۔ ایسے کہ نبی کائنات کے فرمان کے مطابق ان کے حرف و لفظ مخالفین پر تیر تفنگ سے بھی بھاری اور موثر پڑتے تھے۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک اس عہد کے حسان بن ثابت ہیں، اغیار کی طرف سے آئے ہر اشکال کے سامنے وہ سینہ سپر اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ خدا نے انھیں کرشماتی حافظہ دے کر تین کام اسی ایک حافظے سے لے لئے ہیں۔
اولا دلائل کی برسات میں بھیگ کر مقابل کے ذہن کا خمار اور بدن کا بخار اتر جاتا ہے۔
ثانیا ان کا کرشماتی حافظہ دین سے دور ہوتی نئی نسل کیلئے معجزاتی ماحول پیدا کرتا ہے، جو انھیں متوجہ و متحیر کرکے انھیں دین کے قریب لاتا ہے۔
اور ثالثا یہ دفاع دین کے بارود خانے و خزانے کا کام دے جاتا ہے۔
واضح رہے، ایسے لوگ کسی ایک مسلک یا ملک کے نہیں ہوتے، یہ پورے عہد کے لئے نعمت اور عظمت ہوتے ہیں، یہ عہد آئندہ کی اس عہد میں چلتی پھرتی تاریخی عظمت اور آئندہ زمانوں میں دیا جانے والا حوالہ ہوتے ہیں۔ نئی نسل میں اپنی مقبولیت کے باعث یہ اہل دین کے پاس پارس کا پتھر ہوتے ہیں کہ نئی نسل کو جب جب چاہیں، ان سے چھو کے کندن کرتے جائیں۔ ایسے لوگ صدیوں کے پھیر میں پیدا ہوتے اور صدیوں کے تناظر میں زندہ رہتے ہیں۔ آپ انگلیوں پر گنیں، ایسے لوگ آپ کی تاریخ میں کتنے ہوئے ہوں گے؟ جنھوں نے اسلام کے علمی دفاع کیلئے اسلام پر طعنہ زنوں کے مقابل کھڑے ہونے اور سرخرو ہونے کا حوصلہ کیا اور پھر کر دکھایا؟ ڈاکٹر حمیداللہ، شیخ احمد دیدات ۔۔ اور ؟
خیر ایک ایسے وقت میں جب سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ نے ہماری نئی نسل کے ذہن میں شکوک و شبہات،بے اطمینانی اور اشکالات بھر دئیے ہیں،ان کے ہیروز بدل دئیے ہیں، وہ ہمارے مکتب و مسجد ہی نہیں،دائرہ منہج اسلام ہی سے نکل چکے ہیں۔وہ قابو سے باہر ہیں، کوئی انھیں مطمئن کرنے والا نہیں، یونیورسٹیوں میں وہ بحر اشکالات میں غوطہ زن اور اسلام سے اپنے تعلق کے بارے بد ظن ہیں۔
ایسے میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کی آمد گویا چلچلاتی دھوپ میں آمد بہار و برسات سے کم نہیں۔ ہماری یونیورسٹیز کی نئی نسل انھیں سن سکتی ہے، ہمارے بچے انھیں فینٹیسائز کرتے ہیں، ہم اپنا نہیں، اپنی نئی نسل کا سوچیں۔ہم مسلک و جماعت کی حد بندیوں سے اوپر اٹھ کے دیکھیں۔ ہم نئی نسل کے ساتھ ان کے گرینڈ ڈائیلاگ کا بندوبست کریں،یہ اجتماعی سطح پر ہو تو اس کی اک الگ ہی شان و شوکت بنے گی،اس کا ایک تاثر نئی نسل کے دلوں پر پڑے گا۔ یہ کام مگر مل بیٹھ کر ،باہمی مشاورت اور اتحاد سے ہوگا۔انفرادیت کو اجتماعیت میں مدغم کر دینے سے ہوگا۔ یہ موقع ایک بچھڑی ہوئی نسل کو دین سے جوڑ دینے کا ہے۔ محض ڈاکٹر صاحب کو اپنے اپنے مرکز و مسجد میں لانے کا نہیں، محض ہاتھ ملانے اور تصویر بنانے کا نہیں،محض ذاتیات میں فروغ پانے اور کسی اور کو آگے دیکھ کر پیچھے ہٹ جانے کا نہیں۔
اللہ کرے کہ ہم فائدہ اٹھانے والے بن جائیں اور اللہ کرے کہ پاکستان کے اہل دانش اس فائدے کو فائدہ کثیر سے ضرب دینے والے بن جائیں۔
اللہم آمین!

23/09/2024

میں ڈاکٹر عفان کی ویڈیو دیکھ رہا تھا جس میں وہ یوٹیوبرز اور ٹک ٹاک پہ لائیو بیٹھنے والے اور فیملی ولاگرز کو ٹرول کر رہا تھا

پر میرا ان سے سوال ہے فضول اور گھٹیا حرکتیں ٹک ٹاک پہ لڑکے بھی کرتے ہیں ان کو چھوڑ کر صرف لڑکیوں کو ہی کیوں ٹارگٹ کیا ؟

میں ڈاکٹر عفان کی ہر اک بات سے متفق ہوں پر میرا سوال یہ ہے ویڈیوز بنا لینے سے نظام بدل جائے گا ؟

رہی بات تعلیم کی جو اپ نے کہا وہاں کے بچوں کو دماغ خراب ہو رہے تو میرا سوال یہ ہے تعلیمی اداروں میں جو گند ہو رہا اس کے متعلق کیا خیال ہے ؟

تعلیم حاصل کر کے جب بہنیں اور بیٹیاں کسی ادارے میں نوکریاں کرنے جاتی وہاں جو کچھ ہو رہا اس کے متعلق کیا خیال ہے ؟

ہر چیز ڈیمانڈ اور سپلائی پرنسپل پہ چلتی ہے!

ادھر ٹک ٹاک پہ لائیو بیٹھنے والے سے زیادہ قصور ان لوگوں کو دیکھنے والوں کا ہے یہ عوام جو پسند کرتی ہے وہی انہیں پھر دکھایا جاتا ہے

سوشل میڈیا کا الگورتھم بھی اسی بنیاد پر کام کرتا ہے جو چیز زیادہ سرچ یا پھر دیکھی جائے پھر وہی چیز زیادہ سے زیادہ شو ہونا شروع ہو جاتی ہے

میں پہلے بھی کہتا رہا ہوں اور اج پھر کہونگا ہماری قوم زہنی مفلوج قوم ہے۔ پاکستان واحد ملک ہے جہاں غلطی کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا اور دکھاوا اور اپنائیت کے نام پہ ہر شخص کھڑا ہوتا ہے

پاکستان کا کونسا ایسا مرد اور عورت اور لڑکی ہے جو سوشل میڈیا پر ایسی چیزوں کو نہیں دیکھتا ہے ؟

کہنے کو ہر چیز شریف اور معصوم بن جائے گا پر یہ قوم اتنی ہی زیادہ منافق ہے جو مطلب اور فایدہ دیکھ کر قبلہ بدلتی ہے

میں اپ کی ہر بات سے متفق ہوں پر اس معاشرے کو اس مقام پر پہنچانے میں سب سے بڑا ہاتھ کہی نہ کہی ہمارا ہی ہے اور ہم نے ہی یہ کلچر پروان چڑھایا ہے ورنہ اگر لوگ دیکھے ہی نہ تو ان لوگوں کی کیا اوقات اور حیثیت رہ جاتی ہے

مسئلہ ان میں نہیں مسئلہ دیکھنے والوں میں ہے

ہم لوگ ہیں چھوٹے لیول پر ہم اپ اک بڑے لیول پر بیٹھے ہیں کیوں کوشش اور عملی اقدامات نہیں کرتے ؟ ویڈیو بنانے سے کچھ خاص فرق نہیں پڑے گا بھائی عملی اقدامات سے فرق پڑے گا

اپ نے قدم اٹھایا اگے بڑھ کر اور آواز اٹھائی ہے جو اک بہت اچھی کوشش ہے پر یہ نہ ہو یہ چیز صرف کوشش کی حد تک رہ جائے کیونکہ پاکستان میں ہوتا یہ ہی ہے

لوگوں کی ہمدردی لے کر لوگ بھی مڑ کر نہیں دیکھتے ہیں

اک چیز اور ہمیشہ دونوں پہلوؤں پر بات کیا کریں تصویر کا اک رخ ہی صرف نہیں دکھانا چاہیے

اپ عمل قدم اٹھاؤ میں اپ کے ساتھ ہوں پر نظام ایسے نہیں بدلتا سب سے پہلے متبادل راستہ بنانا پڑتا ہے

جس کا سب سے بہترین طریقہ ہے تعلیمی نظام اور دینی نظام کو بہتر سے بہتر بنایا جائے اور پاکستان میں فریلانسگ جیسی چیزوں کو فروغ دینا چاہیے اور ایسی وحیات سوشل میڈیا اپلیکیشن کو پاکستان میں بند ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان میں ایسا نظام تو پے ہی نہیں جو مخصوص کونٹینٹ کو روک سکیں

ملک میں امن سکون اور روزگار ہو گا تو لوگ بھی خوشحالی کی طرف آئے گے ورنہ پاکستان کی جنریشن ایسی ہی فضول چیزوں طرف جائے گی

کوئی عملی قدم اٹھائے ورنہ اس بات پر ہزاروں ویڈیوز موجود ہے پر رزلٹ بلکل صفر ہے

باقی اللہ سب کو ہدایت عطا فرمائے آمین

پلیز اس مکروہ چینل کو رپورٹ کرو سب بھائی اس چینل پر قرآن مجید کی آیات کو سونگ یعنی میوزک کی طرز پر گا کر اپلوڈ کیا جا رہ...
18/09/2024

پلیز اس مکروہ چینل کو رپورٹ کرو سب بھائی اس چینل پر قرآن مجید کی آیات کو سونگ یعنی میوزک کی طرز پر گا کر اپلوڈ کیا جا رہا ہے ساتھ میں بیک گراؤنڈ میں لڑکیوں کا ڈانس بھی ایڈ کیا گیا ہے.

لنک کمنٹ میں دیا گیا ہے, میں مشورہ دوں گا ویڈیوز نہ دیکھیں صرف رپورٹ کریں.

18/09/2024

اپنے اندر برداشت پیدا کریں ، معلوم نہیں
آپ کو کون کون برداشت کر رہا ہے 😁😅

30/08/2024

گدی نشینوں کی عیاشی کے لیے مزاروں کے بکس میں پیسے ڈالنے کے بجائے اپنے مستحق عزیز و اقارب یا پڑوس کے غریبوں کی خاموش خدمت کریں۔

29/08/2024

سقوط حیدرآباد

ریاست حیدر آباد کے ایک گاؤں میں نوجوان خواتین کے ساتھ ریپ کیا گیا، جن میں عثمان نامی شخص کی پانچ بیٹیاں اور قاضی نامی شخص کی چھ بیٹیاں شامل تھیں۔ ظلم صرف یہیں تک نہیں رُکا بلکہ اِن میں سے کئی لڑکیوں کے ساتھ کئی دنوں تک مسلسل ریپ ہوتا رہا۔

اسی ریاست کے ایک دوسرے گاؤں میں لاڈلے نامی شخص کے گھر پر غیر مسلموں نے غیر قانونی قبضہ کر لیا۔ ایک اور گاؤں میں مسجد کا مینار توڑ دیا گیا اور اس کے اندر بُت رکھے گئے۔ گاؤں کے دو مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنایا گیا اور انھیں مسجد میں بھجن گانے پر مجبور کیا گیا۔

ایک اور گاؤں میں پیش آنے والے واقعے میں ریپ کا شکار ہونے والی درجنوں خواتین نے کنویں میں کُود کر خودکشی کر لی

اوپر بیان کیے گئے یہ محض چند واقعات ہیں جو نہرو حکومت کی طرف سے ’گوڈول مشن‘ پر حیدرآباد میں بھیجی گئی کمیٹی کی رپورٹ کا حصہ تھے جس کے چند اقتباسات (جو اوپر بیان کیے گئے ہیں) سنہ 1988 میں مصنف عمر خالدی نے ذرائع سے حاصل کر کے شائع کیے۔

یہ حکومتی رپورٹ ستمبر 1948 میں ریاست حیدرآباد کو انڈیا میں ضم کرنے کے بعد وہاں پیش آئے جنسی اور جسمانی تشدد کے دل دہلا دینے والے واقعات کا خلاصہ کرتی ہے۔

سنہ 1947 میں انگریز حکمرانوں کے جانے کے بعد اگرچہ انڈیا آزاد اور پاکستان معرض وجود میں آ چکا تھا لیکن خطے کی تین بڑی ریاستوں کشمیر، ریاست حیدر آباد اور ریاست جونا گڑھ کا مستقبل غیر واضح تھا۔ ان تینوں ریاستوں نے آزاد رہنے کا فیصلہ کیا تھا مگر انڈیا اور پاکستان ان کو اپنے ساتھ ملانے کی خواہش رکھتے تھے۔

ان ریاستوں کے حوالے سے کئی تجاویز پیش ہوئیں مگر حالات جوں کے توں رہے اور بلآخر 13 ستمبر 1948 کو انڈین افواج نے ریاست حیدرآباد پر حملہ کر دیا اور صرف پانچ دن بعد یعنی 18 ستمبر کو نظام حیدرآباد کے کمانڈر اِن چیف سید احمد العیدروس نے باضابطہ ہتھیار ڈال دیے۔

انڈین حکومت حیدر آباد کے فوجی آپریشن کو سرکاری سطح پر ’پولیس ایکشن‘ کہتی ہے جسے ’آپریشن پولو‘ بھی کہا جاتا ہے۔

اس آپریشن اور اس کے بعد پیش آئے واقعات کے دوران حیدرآباد میں کشت و خون کا بازار گرم ہوا جس کی مکمل تفصیلات آج بھی صیغہ راز میں ہیں۔

ستمبر 1948 انڈین فوج کے ٹینک ریاست حیدرآباد میں داخل ہو رہے ہیں (یہ تصویر اے جی نورانی کی کتاب میں شائع ہوئی تھی)
اس دوران پیش آئے واقعات کے شواہد ’سندر لال کمیٹی‘ کے ذریعے حکومت کو جمع کروائے گئے لیکن اس کمیٹی کے ذریعے موصول ہونے والی رپورٹ اور شواہد کو حکومت نے کبھی پبلک نہیں کیا تاہم سنہ 1988 میں مصنف عمر خالدی اس کے چند حصے منظر عام پر لے کر آئے۔

اس رپورٹ کے چیدہ چیدہ حصے دل دہلا دینے والی کہانیوں کو بیان کرتے ہیں۔

اس حکومتی کمیٹی کے سربراہ پنڈت سندر لال اور قاضی عبدالغفار تھے۔

سندر لال غدر پارٹی کے سابق رکن تھے جو کہ گاندھی کے زیر اثر کانگریس میں شامل ہوئے تھے اور ہندو مسلم تعاون کی پرزور وکالت کرتے تھے۔ قاضی عبدالغفار حیدرآباد میں قوم پرست اخبار ’پیام‘ کے سابق ایڈیٹر تھے اور رضاکاروں کے صدر قاسم رضوی کے سخت تنقید نگار تھے۔

یہ رضاکار ایک نیم تربیت یافتہ جماعت کا حصے تھے جو کہ حیدراباد کی خودمختاری کے لیے لڑ رہے تھے اور زمینداروں کے مخالف احتجاج کرنے والے کمیونسٹوں اور حیدرآباد کی آزادی کی مخالفت کرنے والوں ہندو اور مسلمانوں کے خلاف تشدد میں ملوث تھے۔

مؤرخ سجاد شاہد کا کہنا ہے کہ ’پولیس ایکشن‘ میں ہوئے تشدد کو مکمل طور پر ریکارڈ نہیں کیا گیا اور جو کچھ ریکارڈ بھی کیا گیا تھا وہ طویل عرصے تک عوام کی پہنچ سے مخفی رکھا گیا اور اس نوعیت کی دستاویزات میں سندر لال کمیٹی کی رپورٹ آج بھی سب سے اہم دستاویز ہے۔

حالانکہ حالیہ برسوں میں اسے کئی محققین نے ٹکڑوں میں شائع کیا ہے لیکن مکمل رپورٹ، جو کہ وزارت داخلہ کو پیش کی گئی تھی، ابھی ڈیکلاسیفائی نہیں ہوئی۔

اس حوالے سے حال ہی میں شائع ہونے والی دستاویزات میں سے ایک معروف آئینی ماہر اور مصنف اے جی نورانی کی ہے لیکن مؤرخ سجاد شاہد کا کہنا ہے کہ یہ بھی مکمل رپورٹ نہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’رپورٹ جمع ہوتے ہی اسے مکمل طور پر دفن کر دیا گیا۔ جو حصے عام طور پر دستیاب ہیں وہ صرف رپورٹ کا ایک چھوٹا سا خلاصہ ہیں۔ ان میں کیسیز کی مکمل تفصیلات نہیں ہیں۔ نورانی سمیت مختلف لوگوں کے ذریعے شائع کردہ رپورٹس میں بھی یہ تفصیلات نہیں ہیں۔‘

تاہم عمر خالدی اور اے جی نورانی کے ذریعے شائع حصوں کو اگر ساتھ پڑھا جائے تو کافی حد تک اس وقت ہوئے مظالم کی تصویر نظر آ جاتی ہے۔

لیکن اموات کی حقیقی تعداد کے بارے میں پھر بھی کچھ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا۔

عمر خالدی کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ کے مطابق کم از کم دو لاکھ مسلمان ہلاک ہوئے لیکن اے جی نورانی نے رپورٹ کا جو حصہ شائع کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ’ایک انتہائی محتاط اندازے‘ کے مطابق پوری ریاست حیدرآباد میں کم از کم 27 ہزار سے 40 ہزار افراد ’پولیس ایکشن‘ کے دوران اور اس کے بعد ہلاک ہوئے۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ کمیٹی کے ارکان نے یہ رپورٹ مرتب کرنے کے لیے 29 نومبر 1948 سے 21 دسمبر 1948 کے درمیان حیدرآباد کے 16 میں سے نو اضلاع کا دورہ کیا اور اضافی 109 دیہاتوں میں 500 سے زائد افراد کے انٹرویو کیے۔

رپورٹ کے مطابق ’انتقامی کارروائی میں ایک مجرم کے ڈھائے گئے گناہوں کی سزا کم از کم سو افراد کو بھگتنی پڑی۔‘

تقسیم ہند کے دوران ہونے والے تشدد میں بے شمار لوگ ہلاک ہوئے لیکن شاید ہی کسی سانحے کو حیدرآباد میں سرکاری سرپرستی میں ہونے والی فوجی کارروائی کے مقابلے اتنی گمنامی کا سامنا کرنا پڑا۔

دراصل انڈین حکومت نے شروعات سے ہی اس واقعے اور رپورٹ کو چھپانے کی پوری کوشش کی۔ انڈیا کے اس وقت کے وزیر داخلہ ولبھ بھائی پٹیل نے اس رپورٹ کی مذمت کرتے ہوئے اس کے مصنفین کے اختیار پر سوال اٹھایا اور کہا تھا کہ ’حکومت ہند کے ذریعے حیدرآباد میں گوڈول مشن بھیجنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘

تاہم نہرو نے مولانا آزاد، جنھیں پٹیل کی وزارت نے حیدرآباد میں اس وقت جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا، کے اصرار پر یہ کمیٹی بھیجی تھی۔

عمر خالدی کمیٹی کے اراکین میں سے ایک یونس سلیم کا حوالہ دیتے ہوئے ’حیدرآباد: آفٹر دی فال‘ میں لکھتے ہیں کہ ’نہرو نے بطور وزیر اعظم اپنی ذاتی صلاحیت میں ولبھ بھائی پٹیل کی بے اعتنا رضامندی کے بعد سندر لال، قاضی عبدالغفار اور یونس سلیم کو ریاست کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے لیے مقرر کیا تھا۔‘

حالانکہ جب سندر لال نے رپورٹ پیش کی تو پٹیل نے قاضی عبدالغفور کو ایک ناراضی سے بھرا خط لکھا کہ ’اس رپورٹ میں آپ نے ذکر کیا ہے کہ آپ کو حکومت ہند نے گوڈول مشن پر حیدرآباد جانے کے لیے کہا تھا۔ کم از کم میں اس طرح کے کسی بھی مشن کے بارے میں نہیں جانتا جس کی حکومت ہند نے آپ کو ذمے داری دی ہے۔ جہاں تک میں جانتا ہوں آپ وہاں جانا چاہتے تھے اور آپ کے جانے کا انتظام سرکاری خرچ پر کیا گیا۔‘

پٹیل کے اس دعوے کے برعکس یونس سلیم اور سندر لال کے پرائیویٹ سیکریٹری مجیب رضوی نے سنہ 1988 میں خالدی کو بتایا کہ ’یہ مشن واقعی حکومت کی طرف سے بھیجا گیا تھا کیونکہ نومبر دسمبر 1948 میں کسی کو بھی فوج کی اجازت کے بغیر حیدرآباد میں داخل ہونے یا چھوڑنے کی اجازت نہیں تھی۔ یہاں تک کہ ریاست کے اندر نقل و حرکت کی آزادی کو بھی کنٹرول کیا جا رہا تھا۔‘

پٹیل کے علاوہ حکومت میں اس رپورٹ کے اور بھی نقاد تھے۔

سکالر سنیل پرشوتم کے مطابق سندر لال وفد سے ملاقات کے بعد ملٹری گورنر جے این چودھری، جو کہ حیدرآباد میں انڈین افواج کی رہنمائی کر رہے تھے، نے اس رپورٹ کو ’انتہائی جھوٹ پر مبنی‘ قرار دیا اور ’اس طرح کی دستاویز کے کسی پاکستانی کے ہاتھ لگ جانے کے خطرے‘ کی تنبیہ بھی
انھوں نے پٹیل کے سیکریٹری کو یہ بھی لکھا کہ ’شاید ہی کسی خط نے مجھے اس طرح کا اطمینان بخشا ہو گا جیسا کہ سردار پٹیل کے قاضی صاحب کو لکھے خط نے بخشا ہے۔‘

حالانکہ انھوں نے ایک رپورٹ میں یہ اعتراف کیا تھا کہ فوجی کارروائی شروع ہونے کے فوراً بعد ہی حیدرآباد کے تمام اضلاع میں ہندوؤں کی ایک بڑی اکثریت نے سوچا کہ ہندو راج وجود میں آ گیا۔۔۔ جس کے وجہ سے ہندوؤں کی انتقامی کارروائی میں بعض اضلاع میں کچھ مسلمانوں کو نقصان اٹھانا پڑا ہے۔‘

سندر لال رپورٹ نے حکومت کو اتنی جھنجھلاہٹ کا شکار کر دیا کہ قاضی غفار جنھیں شام یا مصر کا سفیر بنایا جانا تھا، انھیں پوسٹنگ دینے سے انکار کر دیا گیا۔ خالدی کے مطابق ریاستی اٹارنی یونس سلیم کو ان کے عہدے سے غلط الزام لگا کر برطرف کر دیا گیا۔

برسوں بعد سنہ 1969 میں جب یونس نے دہلی کے ایک اردو اخبار سے اس رپورٹ کا ذکر کیا تو پارلیمنٹ میں ہنگامہ برپا ہو گیا اور اُن پر، جو کہ اس وقت مرکزی کابینہ میں ایک جونیئر وزیر تھے، مسلح افواج کے کردار کو داغ دار کرنے کا الزام لگایا گیا۔

اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اس رپورٹ کو طلب کیا اور مطالعے کے بعد اس پر مزید بحث کرنے سے اس بنا پر انکار کر دیا کہ اس سے ’قومی مفادات‘ کو نقصان پہنچنے کے خطرات ہیں۔

مطالبوں کے باوجود حکومت نے ابھی تک اسے پارلیمان میں پیش نہیں کیا۔

فیرفیلڈ یونیورسٹی کے پروفیسر سنیل پرشوتم کے مطابق انھوں نے سنہ 2010 میں دہلی کے نہرو میموریل میوزیم اینڈ لائبریری میں اس تک رسائی حاصل کی تھی۔ لائبریری کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نورانی نے بھی سنہ 2010 میں اس رپورٹ تک رسائی حاصل کی جو کہ 2013 میں ان کی ’ڈسٹرکشن آف حیدرآباد‘ نامی کتاب میں شائع ہوئی۔

اگرچہ ان سکالرز نے اس لائبریری سے اس رپورٹ کو حاصل کیا تھا لیکن جب حیدرآباد میں مقیم مؤرخ کیپٹن پانڈو رنگا ریڈی نے سنہ 2013 میں آر ٹی آئی (معلومات حاصل کرنے کے حق کا قانون) کے تحت یہ رپورٹ مانگی تو لائبریری نے یہ جواب دیا کہ ان کے پاس یہ رپورٹ موجود نہیں۔

لائبریری کے ذرائع نے بتایا کہ ’یہ ممکن ہے کہ نورانی جیسے سکالرز تک رسائی شدہ کاغذات سندر لال کے ذاتی کاغذات کا ایک حصہ ہوں، نہ کہ حکومت کو پیش کی گئی مکمل سرکاری خفیہ رپورٹ۔‘

حکومت کی جانب سے رپورٹ جاری کرنے سے گریزاں ہونے کی سب سے اہم وجوہات میں سے ایک یہ بھی تھی کہ رپورٹ ہر اس دعوے سے برعکس تھی جس کا حکومت نے دعویٰ کیا تھا۔

مؤرخ سجاد کہتے ہیں کہ حکومت رپورٹ کو عام کرنے سے ’خوفزدہ تھی کیونکہ حیدرآباد کے خلاف جو پراپیگنڈہ جنگ چلی تھی وہ بے نقاب ہو جاتی۔‘

اس کے علاوہ یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں زیر بحث تھا اور حکومت پوری کوشش کر رہی تھی کہ اس مسئلے کو مزید طول دینے سے روکا جائے۔ اسی درمیان سندرلال رپورٹ کے ایک حصے کو ریڈیو پاکستان نے کراچی سینٹر سے نشر کر دیا جو کہ انڈین حکومت کے لیے باعث شرمندگی بنا تھا۔

اگرچہ حیدرآباد کے الحاق میں فوجی دستے شامل تھے لیکن انڈین حکومت نے اسے ’پولیس ایکشن‘ قرار دیا تھا۔ نہرو نے اس وقت کہا کہ ’سب سے پہلے یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ہماری کارروائی ایک تکراری ریاست کے خلاف ’پولیس کارروائی‘ تھی۔ ہم نے اسے جنگ نہیں کہا اور اس لیے اب ہمیں ایسا کچھ نہیں کرنا چاہیے جو اس بات کی نشاندہی کرے کہ ہم اسے غیر ملکی ریاست کے خلاف جنگ سمجھتے ہیں۔‘

پٹیل کا خیال تھا کہ ’ایک بار جب ہم حیدرآباد میں داخل ہو جائیں تو پھر یہ معاملہ بین الاقوامی نہیں رہے گا۔‘

حکومت کے ذریعے اس کے علاوہ اور بھی پریشان کُن فیصلے کیے گئے تھے جو کہ حکومت کبھی بھی عام نہیں کرنا چاہتی: مثلا پٹیل کی ہدایات پر حیدرآباد حکومت نے ’پولیس ایکشن‘ کے فورا بعد ہی جوابی کارروائی میں ملوث ہندوؤں کو عام معافی دے دی اور فوجی گورنر نے حکم دیا کہ ’اس کی مزید تشہیر نہ کی جائے۔‘

ساتھ ہی مسلمانوں کے خلاف تشدد میں ملوث کئی کانگریس لیڈروں کو نئی حکومت میں وزیر مقرر کیا گیا۔

اس رپورٹ کی وجہ سے تشدد میں کانگریسی ارکان کی شمولیت کے اجاگر ہونے کا خطرہ بھی تھا۔ ’پولیس ایکشن‘ سے پہلے ہی کانگریس کے ارکان نے حیدرآباد کی سرحدوں پر کیمپ قائم کر رکھے تھے اور متعدد رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ سرحد پر کئی پولیس چوکیاں جلا دی گئیں تھیں، ٹیلی گراف لائنیں منقطع کر دی گئیں تھیں، خوراک اور ادویات کی رسد بند کر دی گئی تھی اور عام لوگوں پر تشدد کے متعدد واقعات رونما ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ حکومت نے مسلمانوں سے اسلحہ واپس لے لیا لیکن وہیں ہندوؤں میں اسے آزادانہ طور پر تقسیم کیا گیا۔

’زوال حیدرآباد‘ کے مصنف مظہر الدین اپنی آپ بیتی میں لکھتے ہیں کہ ’اورنگ آباد میں 17 ہندوؤں کو سرحد پار سے لوگوں کے ساتھ لوٹ مار کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا جو کہ رضاکار اور عرب ہونے کا ڈرامہ کر رہے تھے۔ ان سے عربوں اور رضاکاروں کے کپڑے اور ہزاروں روپے برآمد ہوئے۔ انھوں نے یہ بھی قبول کیا کہ وہ لوٹی ہوئی اشیا سرحد پار کانگریسی کارکنوں کو دیتے ہیں جس کے بدلے میں وہ انھیں اسلحہ بارود فراہم کرتے ہیں۔‘

سندر لال کمیٹی رپورٹ کے مختلف حصوں کے علاوہ حیدرآباد میں تشدد کے بہت سے مستند اکاؤنٹس نہیں ہیں اور یہ اکاؤنٹس اپنے وجود کے لحاظ سے متضاد بھی ہیں۔

اس وقت پاکستانی پریس نے مسلمانوں پر بڑے پیمانے پر تشدد کا الزام لگایا تھا۔

اس واقعے کے حوالے سے معتبر ذرائع کی کمی اس لیے بھی ہے کہ حیدرآباد میں سارے اردو اخبارات پر ’پولیس ایکشن‘ کے فوراً بعد پابندی عائد کر دی گئی تھی اور انڈیا میں قوم پرست پریس نے تشدد پر خاموشی اختیار کر رکھی تھی بلکہ بعض اوقات مزاج کو بھڑکانے کا بھی کام کیا۔

انڈین ایکسپریس نے رپورٹ کیا کہ ’حیدرآباد میں بڑے پیمانے پر ہندؤوں کی قتل عام کی سکیم مکمل ہو چکی ہے۔‘

اس سے پہلے ہندوستان ٹائمز نے ایک رپورٹ شائع کی جس نے باقی انڈیا میں مسلم رہنماؤں کو عوامی طور پر اپنی حب الوطنی ثابت کرنے اور قاسم رضوی پر تنقید کرنے پر مجبور کر دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ قاسم رضوی نے ایک جلسے میں انڈین مسلمانوں سے اندرونی بغاوت اور جہاد کے لیے تیار رہنے کو کہا ہے۔ مظہر لکھتے ہیں کہ اس رپورٹ کا نتیجہ یہ ہوا کہ حیدرآباد کے وزیر اعظم میر لائق علی کو نہرو کو خط لکھنا پڑا اور یہ واضح کرنا پڑا کہ ریاست میں اس دن ایسی کوئی عوامی ریلی نہیں ہوئی۔ انھوں نے نہرو سے ایسی رپورٹوں کے خلاف کارروائی کی درخواست بھی کی۔

حالانکہ انھی دنوں میں انڈین فوج نے ایک پراپیگنڈا کتاب شائع کی جس کا نام ’حیدرآباد ری بورن: فرسٹ سکس منتھس آف فریڈم۔‘ اگرچہ اس کتاب نے مسلمانوں پر ہونے والے تشدد کے چند واقعات کو قبول کیا لیکن افواج کی کارروائی کو ایک ’خون بہائے بغیر آنے والا انقلاب‘ قرار دیا۔

سجاد کہتے ہیں کہ جو بات شک و شبے میں ہے وہ ہے اموات کی صحیح تعداد۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اس کی صحیح تعداد معلوم کرنا ہمیشہ مشکل ہو گا۔ اگر آپ کسی حیدرآبادی سے پوچھیں گے ہیں تو وہ کہے گا کہ لاکھوں مرے ہیں، اگر آپ حکومت کے ذرائع کی بات کریں تو وہ صرف دو، چار ہزار کی بات کرتے ہیں مگر یہ بات مستند ہے کی ایک بڑی تعداد میں اموات ہوئی تھیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’سندرلال رپورٹ میں بتائی گئی ہلاکتوں کی تعداد کافی حد تک قابل اعتماد ہے کیونکہ میں خود سینکڑوں ایسے خاندانوں کو جانتا ہوں جس میں 50 لوگ، 60 لوگ، 100 لوگ مرے ہیں۔ خود میرے خاندان میں 100 سے زائد لوگ ہلاک ہوئے تھے۔‘

وہ کہتے ہیں ’اس واقعے کو صحیح طریقے سے دستاویزی شکل نہیں دی گئی۔۔۔ کسی نے اس سانحے کی طرف غور سے دیکھا ہی نہیں۔۔۔ دونوں فریق اسے پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہتے تھے لیکن افسوس کی بات ہے کہ وہ بھی نہیں ہو سکا۔‘
بی بی سی اردو

28/08/2024

خبردار
روڈ پر مہنگی گاڑی🚘 دیکھو تو اپنی جان بچانے کیلئےسائیڈ پر ہوجانا
کیونکہ آج کل پاگل بھی 7 کروڑ کی گاڑیاں چلا رہے ہیں۔

27/08/2024

ہم سندھی ،بلوچی ، سرائیکی ، پنجابی ، پٹھان کیوں ہیں ؟ ہم پاکستانی کیوں نہیں
پھر ساری ڈوریوں کو میں سلجھاؤں بیٹھ کر
آپس میں جو الجھ گئے ، فرقے اُدھیڑ دوں
کومل جوئیہ

25/08/2024

وہ کیا ہے😏 جو دن میں ایک بار آتا ہے
رات میں 🙃دو بار آتا ہے
ہفتے میں تین😕 بار آتا ہے
لیکن🧐 سال میں ایک بار بھی نہیں آتا😁

شادی کے اگلے دن بہو سو کر اٹھی تبھی ساس کی چیختی آواز سنائی دی صبح جلدی آٹھ جایا کرو ہم لوگ چھ بجے چائے پی لیتے ہیں. تمہ...
25/08/2024

شادی کے اگلے دن بہو سو کر اٹھی تبھی ساس کی چیختی آواز سنائی دی صبح جلدی آٹھ جایا کرو ہم لوگ چھ بجے چائے پی لیتے ہیں. تمہاری یہ عادتیں ہم لوگ برداشت نہ کریں گے. تمہاری ماں کا گھر نہیں ہے.!!

بہو نے کوئی جواب نہ دیا. آپنے کمرے میں گئی اور ایک ڈائری، پین اور دو بیگ لیکر واپس آئی اور کہا ساسو ماں یہ وہ لسٹ ہے جو شادی کے پہلے آپ لوگوں نے میرے گھر بھیجی تھی آپ ملا لیں کوئی چیز کم نہیں !!

ماروتی ارکنڈا....................... سولہ لاکھ ساٹھ ہزار
سمارٹ ٹی وی بیالیس انچ... باون ہزار
ف*ج......................................... تیرہ ہزار
واشنگ مشین آٹومیٹک .....................ساڑھے تیرہ ہزار
مکسی، اوون اور الیکٹرانک سامان........ ایک لاکھ ساٹھ ہزار
سوفہ، ڈائننگ
ٹیبل، ڈبل بیڈ......................... ایک لاکھ تیس ہزار
نقد........................................................... پانچ لاکھ
یہ رہیں رسیدیں !!

ساسو ماں آپ لوگوں نے اپنے لڑکے کی قیمت لگائی میرے والدین نے قیمت ادا کرکے میرے لئے شوہر خرید لیا !!

اب آپ بتائیں میرے بارے میں کوئی ڈیمانڈ نہیں کی گئی تھی کہ لڑکی کیسی ہونا چاہئے. !!

پھر اس نے ایک خوبصورت سے بیگ کی زپ کھولی سب دلچسپی سے دیکھنے لگے. !!
ساس نے پوچھا اس میں کیا ہے بہو نے کہا میرے والد نے یہ ریوالور دیا ہے اور کہا ہے بیٹی تم یہاں تھیں تو تمہاری حفاظت میرا فرض تھا اب تمہیں خود اپنی حفاظت کرنی ہوگی.!!

ساس نے اپنی بے ترتیب سانسوں پر قابو پایا اور جلدی سے کہا بہو تم ابھی سو کر اٹھی ہو کمرے میں چلو میں تمہارے لئے چائے بناکر لاتی ہوں !!

Address

Gulstan E Johar
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Explain History posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share