Suhini Paras

Suhini Paras life is lession ...... firstly i am a journalist field reporter tv anchor stage programs host little bit poet columnist social activist

29/08/2026

معصوم ٻارڙا ڪيڏا نه سهڻا ۽ بي پرواھ هوندا آهن انهن جو خيال رکو

ٻڏي ڪٿي مرن پاڻي ڍڪ به نه ڇڏيو اٿن
29/08/2026

ٻڏي ڪٿي مرن پاڻي ڍڪ به نه ڇڏيو اٿن

Tomorrow 30.8.2026 The Priya Action Committee will stand in solidarity, responding to this call by the Sindh United Part...
29/08/2026

Tomorrow 30.8.2026 The Priya Action Committee will stand in solidarity, responding to this call by the Sindh United Party

29/08/2026

هي وڊيو وڌ کان وڌ ونڊ ڪيو ڪنهن جي مدد ٿي ويندي



20/08/2026

mujhy ab dar nahen lagta............

17/08/2026

بخدمت جناب
ايڊيٽر/ بيورو چيف
ميڊيا ڪوريج لاءِ درخواست
جيئن ته پريا ايڪشن ڪميٽي پاران سڀاڻي ڪراچي پريس ڪلب ۾ شام پنجين5 وڳي معصوم ٻارڙي پريا ڪماري سميت سڄي سنڌ مان اغوا ٿيل ٻارڙن جي آزاديء لاءِ ڪراچي کان سکر ۽ سکر کان وري واپس ڪراچي تائين سائيڪل مارچ ڪندڙ نوجوان نويد علي ڀنڊ کي ڀليڪار ڪرڻ لاءِ ۽ گم يا اغوا ٿيل ٻارن جي آزاديء لاءِ پريس ڪانفرنس ڪئي ويندي ۽ احتجاجي مظاهرو ڪيو ويندو.

ڪنوينر
پريا ايڪشن ڪميٽي

لياقت جلباڻي
رابطو:
+92 343 3098155

13/08/2026

سڀ ڪجھ ڪراچي ۾ سنڌ جي ٻين شهرن ڳوٺن مان اچي ٿو ڪراچي سنڌ جي دل آهي جنهن جو رڳون سموري سنڌ ۾ آهن ڇو ٿا دل بند ڪري يا ٽوڙي ماڻهو ماريو ڪراچي 6 ڏينهن به گذارو نه ڪري سگهندو ساڙولا ماڻهو هاڻي ماٺ ڪري سڪون ڪيو ۽ امن ڏيو
پريا ايڪشن ڪميٽي

09/08/2026

Full fill my desires then I will give you salary :TMO Kandyaro




08/08/2026
یہ صحافی ہیں یا فیصلوں کے منصف؟ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــسندھ کی آٹھ کروڑ عوام اور سولہہ کروڑ ہاتھ  اپ...
08/08/2026

یہ صحافی ہیں یا فیصلوں کے منصف؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سندھ کی آٹھ کروڑ عوام اور سولہہ کروڑ ہاتھ اپنی وحدت اور وجود کے خود مالک ہے ۔ خود پارلیمنٹ ہے ۔ خود آئین و قانون ہے ۔ خود ہی اپنے فیصلے کرنےکا اختیار رکھتے ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ہمیں حیرت تو نہیں ہو رہی لیکن ان حضرات جیسے کرداروں کو اپنی آلودہ سوچ اور عمل پر زرہ سی بھی شرمندگی بھی محسوس نہیں ہوتی ۔
دیکھتے آ رہے ہیں کہ مسٹر مالک، کامران خان اور بعض اردو میڈیا ہاؤسز کے مالکان اور کرائے دار صحافی حضرات مسلسل سندھ دشمن اور اردو بولنے والے سندھیوں کے مفادات کے خلاف بیانیہ آگے بڑھا رہے ہیں۔
پہلے یہ بتایا جائے: نئے صوبوں کا مطالبہ کس کا ہے؟
پیپلز پارٹی کا؟ نون لیگ کا؟ پی ٹی آئی کا؟
بلوچستان کا، خیبرپختونخوا کا یا پنجاب کے عوام کا؟
یا سندھ کی زمین و عوام کا؟
جواب ملتا ہے کسی بھی نہیں ۔!!!!!
پھر یہ تمہارا ذاتی ایجنڈا ہے، یا اُن قوتوں کا جو آپ
کی فکری کفالت کر رہے ہیں۔؟؟؟
اگر یہ کسی سیاسی جماعت کا باضابطہ مطالبہ نہیں، تو پھر کس آئینی، عوامی یا سیاسی مینڈیٹ کے تحت آپ اور آپ جیسے بیشمار صحافت کے نام پر صحافت پر داغ کردار ٹی وی اسکرین سے صوبوں کے فیصلے صادر کر رہے ہیں؟
مائیک تمہارے ہاتھ میں ہے،
مینڈیٹ نہیں۔
لہٰذا فقط سوال کرو، رائے مت دو،فیصلے مت سناؤ۔

یہ کیسی صحافت ہے تمہاری؟
کیا کسی صحافی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ پورے صوبوں کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ صادر کریں؟
کیا تم اور تم جیسے بیشمار صحافی سپریم کورٹ آف پاکستان ہیں؟
کیا آپ پارلیمنٹ ہاؤس ہیں؟
کیا آپ صوبائی اسمبلیوں کا آئینی مینڈیٹ ہیں؟
یا پھر پگھاردار صحافت کی طرح صرف اپنی رائے کو عوام کے فیصلے پر مسلط کرنے کی کوشش کرنے والے؟

کیا آپ اپنے کردار کی مالکی کرنے کی اخلاقیات بھی نہیں ہے! کہ صحافتی منصب کا مطلب یہ ہے جو آپ کر رہے ہو؟ مسٹر ۔مائیک آپ کے ہاتھ میں ہے، مینڈیٹ نہیں۔
آپ سوال اٹھا سکتے ہیں،
دلیل دے سکتے ہیں،
اختلاف کر سکتے ہیں۔
مگر کسی قوم کے جغرافیے اور سیاسی مستقبل پر فیصلہ سنا دینا آپ کا اختیار نہیں۔
اور اگر آپ کا موقف واقعی اتنا مضبوط ہے تو پھر اسے اعداد، تاریخ، آئین اور عوامی مینڈیٹ کے سامنے رکھیں۔

یہ کیسی منطق ہے کہ
صوبوں کے درمیان اختلاف کو ختم کرنے کے بجائے اختلاف کا فیصلہ ہی ٹی وی اسکرین پر صادر کردیا جائے؟
صحافت کا کام سوال کرنا ہے، عدالت لگانا نہیں۔
صحافی کا قلم عوامی مینڈیٹ کا متبادل نہیں۔
اور یاد رکھیں:
جو صحافی طاقتور کے سامنے سوال کرنا چھوڑ دے،
وہ صحافت کی کرسی پر بیٹھا ضرور ہوسکتا ہے،
مگر صحافت کے منصب پر نہیں۔
لہٰذا مائیک سنبھال کر رکھیے۔
سندھ کو آپ کے فیصلے کی نہیں، سندھ فقط تمہیں سوال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

اور سب سے بڑا سوال:
یہ ہے کہ سندھ اسی سالوں سے آج تک تمہاری سیاسی اور معاشی کفالت کار اور پالنہار رہا ہے ۔ سندھ نے ہی تمہاری کفالت کی ہے
اس لئے کسی اینکر، کسی جماعت، کسی طاقت کے مرکز یا کسی ٹی وی اسٹوڈیو کو سندھ کے مستقبل کا فیصلہ صادر کرنے کا اختیار نہیں
لہٰذا سندھ کی آٹھ کروڑ عوام اور سولہہ کروڑ ہاتھ اپنی وحدت کی وجود کی خود مالک ہے ۔ خود پارلیمنٹ ہے ۔ خود آئین و قانون ہے ۔ خود ہی اپنے فیصلے کرنےکا اختیار رکھتی ہے ۔

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Suhini Paras posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Suhini Paras:

Shortcuts

Share

Category