28/07/2026
ایک سمجھدار اور دیانت دار بادشاہ اپنے ملک کے ایک شہر کے دورے پر گیا، لیکن کچھ ہی وقت بعد بہت سارے لوگ شاہی رہائشگاہ کے سامنے جمع ہوگئے، بادشاہ بات سننے باہر آیا تو گورنر کی شکایت کی گئی، کہا گیاکہ گورنر فصلوں کے بیج اور بار دانے وغیرہ کیلئے قرض دینے میں کڑی شرائط رکھتا ہے، کاروبار کے لیے قرض لینا بھی خاصا مشکل ہے لہذا آپ گورنر کو تبدیل کردیں۔
بادشاہ نے تحمل سے بات سنی اور کہا کہ فی الحال میں تھکا ہوا ہوں، معاملہ میرے نوٹس میں آگیا ہے، کل تک گورنر سے متعلق فیصلہ ہوجائے گا اور شام کے اسی پہر سنا بھی دیا جائے گا، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ رہائشگاہ کے سامنے والا تالاب (سوئمنگ پول) کچھ ہی وقت میں خالی کردیا جائے گا، ہر شہری رات میں اس تالاب میں ایک ایک پیالہ دودھ ڈالے گا، اس کے بعد تمام شہری خوشی خوشی گھر چلے گئے کہ اب گورنر سے جان چھوٹ جائے گی۔
رات ہوئی تو شبیر نائی کی بیوی نے مشورہ دیا کہ سب لوگ تالاب میں دودھ ڈالیں گے، آپ پانی کا پیالہ بھر کر لے جائیں، رات میں کسی کو پتہ نہیں چلے گا، اتنے سارے دودھ میں ایک پیالہ پانی کی بادشاہ کو خبر بھی نہیں ہوگی، شبیر نائی کو بات سمجھ آئی اور وہ پانی پیالہ بھر کر تالاب میں ڈال آیا۔
اگلی شام بادشاہ تالاب کے پاس کھڑا تھا، تالاب پانی سے لبا لب بھرا تھا کیوں کہ شہر بھر کے لوگوں نے شبیر نائی والے فارمولے پر عمل کیا تھا، سبھی لوگ رات کے اندھیرے میں پانی کا پیالہ تالاب میں انڈیل گئے تھے۔
بادشاہ نے لوگوں کو مخالب کیا اور کہا: قوم، شہر یا گھر لوگوں کی اپنی دیانت داری سے بہترین بنتے ہیں، مجھے اپنے گورنر پر فخر ہے لیکن مجھے اس شہر کے لوگوں کی بد دیانتی پر افسوس بھی ہے، اگر گورنر آپ پر سختی کرتا ہے تو وہ بالکل ٹھیک کرتا ہے، اگر وہ سختی نہ کرے تو خزانہ خالی ہوجائے گا، لہذا فیصلہ یہ ہے کہ میں گورنر کے اختیارات بڑھا رہا ہوں، جب آپ لوگ ٹھیک ہوجائیں گے تو گورنر کا رویہ بھی ٹھیک ہوجائے گا کیوں کہ میں نے خاصا سمجھدار اور ملک کے ساتھ وفادار پایا ہے۔