17/04/2021
[4/17, 18:17] Syed Fawad Shah: سر
بوقت 1600تا 1645بجے تک بمقام کراچی پریس کلب کے اندر پریس کانفرنس
منجانب آل پاکستان کیٹرز ڈیکوریٹرز ایسوسی ایشن اور کراچی بینکوئٹس ایسوسی ایشن کی مشترکہ پریس کانفرنس
زیر صدارت قیص منصور شیخ ،راؤ وقاص
تعداد 7/8 افراد
شرکاء نے ہاتھ جوڑ کر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے کے لاک ڈائون کے بعد شادی ہالز کھولے تھے
سندھ سمیت کراچی میں کرونا کیسسز انتہائی کم ہیں
کراچی کے تمام ریسٹورنٹس کھلے ہیں لیکن شادی ہالز بند ہیں کیوں ؟
ریسٹورنٹس کو آئوٹ ڈور کی اجازت ھے ہمیں بھی اوپن ائیر کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دی جائے
مسلسل شادی ہالز کی بندش سے اس شعبے سے وابستہ 10 لاکھ افراد کا روزگار دائو پر لگ گیا ہے
*ھم 15 رمضان المبارک سے شادی ہالز کھول دینگے
شادی ہالز کی بندش سے مالی مشکلات بڑھ گئی ہیں ۔۔کراچی بینکوئٹس ایسوسی ایشن
این سی او سی کے مطابق 8 فیصد زائد کرونا کی کیسسز کی شرح جہاں ہو وہاں بندش کی جائے
کراچی میں کرونا کیسسز انتہائی کم ہیں
کرونا کیسسز میں کمی سندھ حکومت کی کامیابی ھے
[4/17, 18:17] Syed Fawad Shah: طارق روڈ پر واقع انٹرنیشنل موٹر ورلڈ نام سے قائم شوروم انویسٹرز کے ابھی تک کی غیر مستند اطلاعات کے مطابق 35/70سے کروڑ روپے کا غبن کر کے راتوں رات فرار ھو گئے اس کے مالکان میں فہد سہیل اور اسکا بھائ حماد سہیل شامل ھے زرائع کے مطابق بروز پیر کو آخری بار سات بجے صبح شوروم کھولا گیا اور سب کیمروں کی تاریں بھی کاٹ دی گئی اور DVR وغیرہ سب نکال کر لے گئے اور انکا گھر شوروم کے سامنے واقع بلڈنگ میں تھا گھر سے جاتے ھوئے دیکھا گیا فیملی سمیت روڈ کراس کر کے الگ الگ گاڑیوں میں روانہ ھوتے دیکھا گیا اب سب موبائل وغیرہ بند ہیں اور روپوش ھو گئے ذرائع نے بتایا کہ انوسٹرز میں ایک مشہور ریسٹورنٹ کہ مالکان بھی شامل ہیں جنکی پیمنٹ بھی کروڑوں میں تھی وہ بھی ڈوب گئی خالد بن ولید کی کار شوروم کی یونین کہ رکن اونگزیب آفریدی کا واٹس اپ میسج بھی وائرل ھوا ھے جس میں ان بھائیوں کہ متعلق بتایا گیا ھے اور یونین عہدیداروں سے گزارش کی ہے کہ مارکیٹ میں ایک لاحہ عمل طریقہ کار طے کیا جائے کہ نیا شوروم کوئ کھولے گا تو کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے کہ کوئ چیٹر فراڈیا پھر اس کام کو بدنام نہ کر سکےسٹی کرائم نیوز کو بیان موصول ھو گیا مزید معلومات پر پتہ چلا کہ یہ سب دوستوں یاروں نے مل کہ انویسٹ کی ھوئی تھی اور پانچ لاکھ ماہانہ کرایہ پر جگہ لی گئی تھی شروع میں چند دوستوں نے اعتراض بھی کیا کہ اتنا کرایہ کیسے ادا کر سکتے مگر ان کو کہا گیا جب اتنا کام کرینگے تو کوئ مسلہ نہیں کرایہ ادا کرنا اور ان ھی انوسٹرز کی پیمنٹ سے کرایہ ادا کیا جاتا رہا
واضح رہے اب سے کوئی چھ ماہ قبل یہ جگہ لی گہی تھی اور ایک عالیشان دعوت رکھ کہ اس کام کو شروع کیا گیا تھا تا کہ لوگ یہ سب دیکھ کر اس کام کے لئیے راغب ھوں اور مستقل دعوتوں کا سلسلہ رہا تمام لوگ فارم ہاوس وغیرہ اور ہوٹلنگ میں آتے جاتے رہتے تھے جہاں تمام تر آسائشیں میسر کی جاتی رہیں
اتنی بڑی رقم لیکر رفع چکر ھونے کہ باوجود ابھی تک کسی نے رابطہ قائم نہیں کیا قانوں نافذ کرنے والوں سے شاید رقم کے زرائع ظاہر کرنے کہ خوف سے نیب ایف آئی اے اور دیگر اداروں کی ممکنہ پوچھ گوچھ متاثرین کو روک رہی ھے اور ایف اے ٹی ایف کے معاملات بھی وجہ ھو سکتے کہ پیسے گئے انکوائری کی زد میں نہ آ جائیں علاقہ پولیس فیروز آباد کے علم میں بات آ چکی ھے مگر جب تک کوئی مدعی بن کہ نہ جائے پولیس کوئی کاروائ نہیں کر سکتی سٹی کرائم نیوز نے مزید تحقیقات کی کہ کیسے اتنی رقم ھو سکتی ھے تو ذرائع نے بتایا کہ آج کل گاڑیوں کی قیمتیں کروڑوں میں ہیں 70/80 لاکھ کی تو ٹویوٹا کی ڈبل کیبن گاڑی ھے جسکو RIVO کہتے ہیں اور LX570 نامی گاڑی کی قیمت 6/7 کروڑ بنتی ہے یہ کرتے یہ تھے کہ ایک انوسٹر سے کہتے کہ گاڑی لے لی ہے جاپان میں آنے میں دو ماہ تک کا ٹائم لگتا ہے اور پھر دوسرے سے بھی پیمنٹ لیتے کسی کہ پاس گاڑی رکھا دیتے اور فائل روک کر آدھی پیمنٹ لیکر فائل کسی کہ پاس رکھا کر اس پارٹی سے بھی رقم لے لی جاتی دونوں تینوں پارٹیاں خوش تھیں کہ اب گاڑی لے لی ھے سستے میں اب منافع ملے گا ڈبل اور شوروم کے ڈسپلے پر ہی ایک وقت میں 6/8کروڑ کی گاڑیاں کھڑی ھوتی تھیں جسکو شوروم کی زبان میں مال کہا جاتا ہے کہ 6/8کھوکے کا تو صرف مال ہی کھڑا ہے آخر میں آ کر بیچ چوراہے میں ہانڈی پھوٹ گئی کوئی فائل لیکر بیٹھا ھے کوئ گاڑی روک کہ بیٹھا ھے کسی کہ پاس بل آف انٹری نام کہ کاغزات ہیں یونین میں جو لوگ متاثرین گئے ہیں انکے پاس کوئ دستایزی ثبوت موجود نہیں اتنی بڑی رقم کے لین دین کا ٹوٹل گڈ ول پر
یہ کام ھو رہا تھا
ان مالکان نے اپنے قریبی دوستوں تک کو استعمال کیا اندھیرے میں رکھا چلانے کو گاڑیاں مل جاتی جسکو دکھا کر ہر کوئی انویسٹر اپنے ریفرنس پر لے آیا اب وہ کوئ 50/25/30 لاکھ والے انکے گلے کا ہار بن گئے ہیں وہ تھوڑے کمیشن کے چکر میں چھپتے پھر رہے ہیں کہ کہاں سے لوگوں کی پیمنٹ اتاریں گے کیونکہ ان لوگوں کا یہ پلان تھا کیونکہ اپنے انویسٹرز سے اکثر کہتے تھے کہ میں جوا ہار گیا ھوں 12کروڑ کا دل کر رہا ھے خودکشی کر لوں تو انوسٹرز سہارا بننے کا کہتے دل چھوٹا مت کرو ھم لوگ سنبھال لینگے مسلے کو آپس میں بیٹھ کر کیونکہ چند مہینے پہلے ایک زیرو میٹر گاڑیوں کا کام کرنے والے کار ڈیلر نے بھی خوکشی کر لی تھی جو کہ 63 کروڑ کی مارکیٹ میں آواز آئی تھی
کہتے ہیں جب تک بے وقوف زندہ ہے عقلمند بھوکا نہیں مر سکتا حیرت کا مقام ہے شہر میں ملک میں اتنے زرائع ابلاغ کی موجودگی سب سے بڑھ کر سوشل میڈیا اب ہر کسی کی رسائی میں ہے روز کی بنیاد پر اکثر ایسی داستانیں ڈبل شاہ کے نام سے آتی ہیں مگر لالچ بری بلا ھے اس واقع پر مثال صادق آتی ھے
[4/17, 18:17] Syed Fawad Shah: *PRO OFFICE*
*HYDERABAD POLICE*
*NEWS ALERT*
*حیدرآباد:
*خود کو حساس ادارے کا آفیسر ظاہر کرنے والا جعلساز کینٹ پولیس کے ہاتھوں گرفتار*
*ایس ایس پی حیدرآباد عبدالسلام شیخ صاحب کے احکامات پر ASP کینٹ کی سربراہی میں کینٹ پولیس کی کامیاب کاروائی*
*تھانہ کینٹ*
ایس ایچ او انسپیکٹر سید تنویر حسین شاہ کی ASI عمران اور دیگر اسٹاف کے ہمراہ کاروائی
دوران پیٹرولنگ مخفی اطلاع پر کاروائی کرتے ہوئے ٹنڈو جہانیاں انکم ٹیکس آفس کے قریب سے سفید رنگ کی کار میں سوار ملزم بنام دانش اقبال ولد صغیر احمد شیخ کو گرفتار کرلیا
گرفتار ملزم کے قبضے سے حساس ادارے کے جعلی گارڈ سمیت مختلف گارڈز, اسٹیمپز, چیک بکس، ATM کارڈ، کیش رقم 837,750 روپے اور 4 عدد 6 لاکھ کی مالیت کے چیکس 1 عدد 30 بور پسٹل برآمد ہوئی
تفصیلات کے مطابق پولیس کو شکایات موصول ہوئی کہ ایک جعلساز خود کو حساس ادارے کا آفسر ظاہر کرکے معصوم شہریوں سے بھاری رقم کے عوض سرکاری نوکریوں کا جھانسہ دلاکر لوٹتا ہے
کینٹ پولیس نے گرفتار ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا
*32/2021 u/s 140,170,171,419,420,468 PPC*
گرفتار ملزم کے قبضے سے برآمد کار PREMIO نمبر LEE-13, انجن نمبر 1ZZ-FE, چیچز نمبر ZZ-2450034886 کو زیر دفعہ 550-CRPC کے تحت پولیس تحویل میں لے لیا گیا
گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے
[4/17, 18:21] Syed Fawad Shah: کراچی سے آپریٹ ہونے والا حوالہ ہنڈی کا نیٹ ورک بے نقاب
ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل نے چودہ شہروں میں پھیلے ہوئے نیٹ ورک کے کارندوں کا سراغ لگا لیا
بے نامی اکاؤنٹس، خفیہ سافٹ ویئر، اور انٹرنیشنل ایجیٹس کے نام بھی سامنے آگئے
کراچی سے آپریٹ ہونے والا نیٹ ورک قمبر، شہداد کوٹ، لاڑکانہ رتو ڈیرو، دوڑ، نوابشاہ، گمبٹ ،خضدار بلوچستان، مورو تک پھیلا ہوا ہے
ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل نے تمام ایجنٹوں کے نام حاصل کر لیے
ملزمان کا گروہ کراچی سے آپریٹ ہونے والے حوالہ ہنڈی میں ملوث ملزم عبدالفتح کے نیٹ ورک کا حصہ ہیں
ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کی داؤد پوٹہ روڈ پر کارروائی
تین ملزمان گرفتار
ملزمان میں کراچی سے تعلق رکھنے والے عبد الفتح، لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے سید جاوید اور گمبٹ سے تعلق رکھنے والے لطیف ڈینو شامل ہیں
ایف آئی اے کے چھاپے کے دوران دو ہزار بیس سے دو ہزار اکیس تک حوالہ ہنڈی کی گئی ٹرانزیکشنز کی تفصیلات حاصل کر لی گئی
چھاپے کے دوران بینکوں میں جمع کرائی گئی رقم کی تفصیلات بھی حاصل کرلی گئی ہیں ،
حوالہ ہنڈی سے منسلک گرو سوفٹ ویئر busy infotech استعمال کرتا تھا
ایف آئی اے نے اس سوفٹ وئیر کی تفصیلات بھی حاصل کرلی
حوالہ ہنڈی کے کاروبار سے منسلک گروہوں کے کارندوں کے کئی بے نامی اکاؤنٹس بھی سامنے آگئے ،
ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل نے تمام ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا
[4/17, 18:21] Syed Fawad Shah: *DISTRICT KEAMARI POLICE*
*DATED 17-04-2021*
*ITTEHAD TOWN POLICE ARRESTED ACCUSED PERSON INVOLVED IN STREET CRIME*
*ایس ایس پی ضلع کیماڑی فدا حسین جانوری کی سربراہی میں ضلع کیماڑی پولیس کا جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری*
▪️امروز ایس ایچ او تھانہ اتحاد ٹاؤن سب انسپیکٹر سید ظفر علی شاہ کی پولیس پارٹی کے ہمراہ کامیاب کاروائی،
▪️اتحاد ٹاؤن سے اسٹریٹ کرائم و ڈکیتی کی وارداتوں میں مطلوب ملزم گرفتار۔
▪️دو مسلح ملزمان ابوہریرہ مدرسہ کے پاس ممکنہ طور پر ڈکیتی کی نیت سے موٹرسائیکل پر گشت کر رہے تھے۔
▪️پولیس نے مشتبہ جانتے ہوئے ایک ملزم عبدالمجید ولد عبدالغنی کو پیچھا کرکے گرفتار کیا جبکہ ملزم کا ایک ساتھی بنام اسامہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
▪️گرفتار ملزم کے قبضہ سے غیرقانونی پستول بمعہ لوڈ میگزین اور زیر استعمال موٹرسائیکل برآمد ہوئی۔
▪️ملزم نے دوران انٹروگیشن اسٹریٹ کرائم کی متعدد وارداتوں کا انکشاف کیا جبکہ ملزم کے قبضہ سے برآمدہ موٹرسائیکل تھانہ ناظم آباد کے مقدمہ الزام نمبر 35/21 بجرم دفعہ 397/34 ت پ میں مطلوب ہے۔
▪️ملزمان کے خلاف مقدمہ الزام نمبر 215/21 بجرم دفعہ 23(i)A سندھ آرمز ایکٹ کا اندراج کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔
_*PRO TO SSP KEAMARI*_