Syed Muhammad Ahsan Danish

Syed Muhammad Ahsan Danish Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Syed Muhammad Ahsan Danish, Karachi.

03/02/2024

پرانے زمانے کے قصے کہانیاں!!!
‏دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان میں بے انتہا غربت تھی، 1960تک ان کے بچے خوراک کی قلت کا شکار تھے، یہ بچے لاغر اور کم زور پیدا ہوتے تھے اور ان کی پرورش میں بھی کمی رہ جاتی تھی۔

لہٰذا ان کے قد چھوٹے، ہڈیاں کم زور، وزن کم اور رنگ پیلے تھے، جاپانی اس دور میں 24 گھنٹے میں صرف ایک کھانا ‏کھاتے تھے، انھوں نے اس دور میں اندازہ کیا ہم اگر دن تین بجے کھانا کھائیں تو چوبیس گھنٹے گزار سکتے ہیں چناں چہ یہ دن تین بجے کھانا کھاتے تھے اور اگلی خوراک کی باری اگلے دن آتی تھی۔

اس وقت ان کی حالت یہ ہوتی تھی پاکستان نے 1957میں چاولوں سے بھرا ہوا ایک بحری جہاز ٹوکیو بھجوایا ‏جہاز پر جاپان کی امداد کے لیے پاکستان کا تحفہ لکھا ہوا تھا اور اس کی تصویریں باقاعدہ اخبارات میں شایع ہوئیں اور پورے جاپان نے ہاتھ جوڑ کر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا، جاپانیوں کو آج بھی پاکستان کا یہ احسان یاد ہے۔

میں نے عرفان صاحب سے عرض کیا، جاپان دنیا کے ان چار ملکوں میں ‏شمار ہوتا ہے جن کے ساتھ پاکستان کے تعلقات شروع دن سے حیران کن رہے، ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن پاکستان اور بھارت کو 15 اگست 1947 کو آزادی دینا چاہتے تھے۔

اس کی وجہ جاپان تھا، جاپان نے 1945میں 15 اگست کو امریکا کے سامنے سرینڈر کیا تھا، اتحادی فوجیں (امریکا، برطانیہ ‏اور یورپی ملک) 15 اگست کو یوم فتح کے طور پر مناتے تھے۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی خواہش تھی 15 اگست 1947 کو جب پورا برطانیہ یوم فتح منا رہا ہوتو بھارت اور پاکستان کی پیدائش اس وقت ہوتاکہ ہر سال جب ان دونوں ملکوں کے لوگ آزادی کی تقریبات منائیں تو اس وقت جاپانی افسردہ ہوں اور یہ کھیل ‏تاابد جاری رہے۔

یہ منصوبہ جب قائداعظم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے فوراً انکار کر دیا، قائد کا کہنا تھا "ہم اپنا یوم آزادی کسی دوسری قوم کے یوم شکست پر نہیں رکھیں گے"
جاپانی آج تک پاکستان کا یہ احسان نہیں بھولے، دوسری جنگ عظیم میں شکست کے بعد جاپان نے تاوان ادا کرنا شروع کیا ‏(یہ آج بھی امریکا کو ہر سال 10 بلین ڈالر ادا کرتا ہے)، پاکستان کا اس تاوان میں چھٹا حصہ تھا، قائداعظم نے اس وقت اپنا یہ حصہ بھی جاپان کو معاف کر دیا تھا جب ہمارے پاس سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے لیے رقم نہیں تھی۔

جاپانی آج تک یہ احسان بھی نہیں بھولے اور پاکستان نے اپنے ابتدائی ‏دنوں میں جاپان کو نقد امداد بھی دی اور جاپان کو آج تک یہ بھی یاد ہے چناں چہ کہنے کا مقصد یہ ہے ایک پاکستان ایسا بھی ہوتا تھا۔

ہماری دریا دلی صرف جاپان تک محدود نہیں تھی، ہم نے 1950 کی دہائی میں جرمنی کو پانچ کروڑ روپے قرض دیا تھا، پولینڈ کے متاثرین کو پناہ دی تھی، چین کا دنیا کے ‏ساتھ رابطہ کرایا تھا، پی آئی اے دنیا کی پہلی ائیرلائین تھی جس نے چین کی سرزمین کو چھوا تھا اور ماؤزے تنگ اور چو این لائی نے ائیرپورٹ آ کر ہماری فلائیٹ کا استقبال کیا تھا۔

ہم نے ماؤزے تنگ کو ذاتی استعمال کے لیے جہاز بھی گفٹ کیا تھا، یہ جہاز آج بھی چین کے میوزیم میں پاکستان کے ‏شکریے کے ساتھ کھڑا ہے، ہم نے اپنے ترک بھائیوں کی قیام پاکستان سے پہلے بھی مدد کی تھی اور قیام کے بعد بھی، ترکی کے زیادہ تر امرائ، فوجی افسروں اور سیاست دانوں کے بچے پاکستان میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔

ہم نے استنبول میں پہلا بوئنگ طیارہ اتارا تھا اور ترکی نے اس کے لیے ائیرپورٹ پر ‏نیا رن وے بنایا تھا اور پوری کابینہ اس کے استقبال کے لیے ائیرپورٹ گئی تھی، ہم نے مراکو، تیونس اور الجزائر کی آزادی میں بھی مرکزی کردار ادا کیا، پاکستان نے ان کی سیاسی قیادت کو پاسپورٹ بھی دیے اور اقوام متحدہ میں اپنے بینچ سے انھیں خطاب کا موقع بھی دیا۔

چین اور امریکا کا پہلا ‏رابطہ اور ہنری کسنجر اور صدر رچرڈ نکسن کے چین کے پہلے دورے کا انتظام بھی ہم نے کیا تھا، چین میں لوہے کا پہلا کارخانہ پیکو کی طرز پر لگا تھا اور چو این لائی اسے دیکھنے کے لیے اپنے ماہرین کے ساتھ 1960کی دہائی میں لاہور آئے تھے، ایران کی ترقی اور یورپ اور امریکا کے ساتھ تعلقات میں ‏بھی پاکستان نے اہم کردار ادا کیا تھا، شاہ ایران ہر دوسرے ماہ پاکستان کا دورہ کرتے تھے اور پاکستان کی ترقی کو حیرت سے دیکھتے تھے۔

فلسطین کے لیے پہلی عالمی آواز بھی ہم نے اٹھائی تھی، شام، اردن اور مصر کی سفارت کاری، آزادی اور بحالی میں بھی پاکستان کا اہم کردار تھا، سعودی عرب ‏میں 1970 تک پاکستان سے زکوٰۃ جاتی تھی اور سعودی شہری خانہ کعبہ میں پاکستانیوں کے رزق میں اضافے کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے۔

یو اے ای کی ترقی میں بھی پاکستان کا اہم کردار تھا، دنیا کی چوتھی بہترین ائیرلائین ایمریٹس کا کوڈ (ای۔ کے) ہے، اس کا "کے" کراچی ہے، یہ ائیر لائین کراچی سے ‏اسٹارٹ ہوئی تھی، ہم نے انھیں جہاز بھی دیا تھا اور عملہ بھی لہٰذا یہ آج بھی ای۔ کے (امارات کراچی) ہے، مالٹا کے بچوں کے سلیبس میں پی آئی اے کا پورا باب ہے۔

سنگا پور ائیرلائین اور پورٹ دونوں پاکستانیوں نے بنائیں، انڈونیشیا اور ملائیشیا کی اشرافیہ کے بچے پاکستان میں پڑھتے تھے ‏ملائیشیا کا آئین تک پاکستانی وکلاء نے لکھا تھا، جنوبی کوریا کی گروتھ میں محبوب الحق کے پانچ سالہ منصوبے کا اہم کردار تھا، بھارت 1990کی دہائی میں پاکستان سے بجلی خریدتا رہا اور من موہن سنگھ نے "شائننگ انڈیا" کا پورا منصوبہ پاکستان سے لیا تھا

دنیا کی تین بڑی انجینئرنگ فرمز نے1960ء ‏کی دہائی میں کنسورشیم بنا کر منگلا ڈیم کی "بڈ" کی تھی اور ہارورڈ یونیورسٹی کی انجینئرنگ کلاس کے طالب علم جہاز بھر کر مطالعے اور مشاہدے کے لیے منگلا آتے تھے اور اس منصوبے کوحیرت سے دیکھتے تھے۔

مسلم دنیا کے 27 ملکوں کے فوجی افسر پاکستانی اکیڈمیوں میں ٹرینڈ ہوئے اور بعدازاں اپنے ‏اپنے ملکوں میں آرمی چیف بنے، یو اے ای کے فرمانروا زید بن سلطان النہیان 1970 کی دہائی تک پاکستان کے دورے پر آتے تھے تو ان کا استقبال کمشنر راولپنڈی کرتا تھا، ہمارے وزیر بھی ائیرپورٹ نہیں جاتے تھے اور سب سے بڑھ کر 1961میں جب ایوب خان امریکا کے دورے پر گئے تھے تو پوری امریکی کابینہ
‏نے صدر جان ایف کینیڈی سمیت ائیرپورٹ پر ان کا استقبال کیا اور صدر ایوب خان ائیرپورٹ سے وائٹ ہاؤس کھلی گاڑی میں گئے اور سڑک کی دونوں سائیڈز پر امریکی عوام پھول لے کر کھڑے تھے اور پاکستان زندہ باد اور ویل کم، ویل کم کے نعرے لگا رہے تھے۔

پاکستان نے ایک دور ایسا بھی دیکھا جب دنیا ‏حیرت سے اس کی طرف دیکھتی تھی اور یہ جرمنی اور جاپان جیسے ملکوں کو قرضے اور امداد دیتا تھا لیکن پھر اس ملک پر ایک ایسا دور آیا جس میں ہم ایک ارب ڈالر کے لیے دنیا کے دروازے پر بھکاری بن کر بیٹھے ہیں اور دنیا ہمیں غرور اور نفرت سے دیکھ رہی ہے۔

ایک وقت تھا جب ہم ویزے کے بغیر پوری ‏دنیا میں سفر کرتے تھے اور ایک وقت اب ہے جب ہمیں افغانستان کے ویزے کے لیے بھی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے، ایسا کیوں ہوا؟ ہم نے کبھی سوچا؟ ہمیں ماننا پڑے گا ہم نے بڑی محنت اور جدوجہد سے اس ملک کو برباد کیا ہے، ہم نے اس کی عزت اور وقار کو ایڑی چوٹی کا زور لگا کر مٹی میں ملایا ہے
‏مگر سوال پھر وہی ہے کیا ہمارے پاس واپسی کی کوئی گنجائش ہے۔

کیا آپ کے پاس اس کا جواب ہے ؟؟؟

14/05/2022
21/01/2022

*مجھے یاد ہے۔۔
*
ہمارے گھروں میں جب کوئی باہر سے عورتیں آتیں،
امی بیٹوں کو کہتی ہیں، تم ادھر جا کر بیٹھو یہاں خواتین بیٹھیں گی
جس کمرے میں بہنیں سوئی ہوں،
بھائیوں کو اجازت نہیں ہوتی تھی کہ بےدھڑک وہاں گھس جائیں،
اگر راستے میں کسی عورت کو مدد چاہیئے تو ماں کہتی کہ بیٹا جاؤ، "تمہاری ماں جیسی ہے اس کی مدد کرو"
بیٹا ماں ہی سمجھ کر ایسا کرتا
کسی کی جوان بیٹی کو کوئی کام ہوتا تو امی یوں کہتیں "جاؤ تمہاری بہن جیسی ہے، بلکل اس کے جتنی ہی ہے، فلاں کام کر دو، یا وہاں چھوڑ آؤ
بیٹے کے دل میں بیٹھ جاتا کہ "میری بھی اتنی ہی بہن ہے ایسی ہی بہن ہے، یہ بھی میری بہن جیسی ہے"
بہنوں کی سہیلیاں گھر آتیں تو ان کا بہنوں ہی کی طرح احترام کیا جاتا
منگنیاں ہوجاتی تھیں بیٹوں کو پتا تک نہ ہوتا تھا،
شادی ماں کی پسند سے کر لیتے مرتے دم تک نبھاتے خوش رہتے کبھی ڈپریشن نہ ہوتا تھا،

یہ تربیت ہوتی تھی، یہ ہمارا معاشرہ تھا جو ماؤں نے تشکیل دیا تھا
اب تو لگتا ہے
نئی نسلوں کی مائیں
روٹی سالن میں ہی کھو گئی ہیں،
ٹی وی ڈرامہ، مارننگ شوز دیکھنے میں مصروف رہتی ہیں۔
وہ تربیت کرنا بھول گئی ہیں💔💔😔* تین فطری قوانین جو کڑوے لیکن حق ہیں :-

پہلا قانون فطرت:
اگر کھیت میں" دانہ" نہ ڈالا جاۓ تو قدرت اسے "گھاس پھوس" سے بھر دیتی ہے....
اسی طرح اگر" دماغ" کو" اچھی فکروں" سے نہ بھرا جاۓ تو "کج فکری" اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔ یعنی اس میں صرف "الٹے سیدھے "خیالات آتے ہیں اور وہ "شیطان کا گھر" بن جاتا ہے۔

دوسرا قانون فطرت:
جس کے پاس "جو کچھ" ہوتا ہے وہ" وہی کچھ" بانٹتا ہے۔ ۔ ۔
* خوش مزاج انسان "خوشیاں "بانٹتا ہے۔
* غمزدہ انسان "غم" بانٹتا ہے۔
* عالم "علم" بانٹتا ہے۔
* دیندار انسان "دین" بانٹتا ہے۔
* خوف زدہ انسان "خوف" بانٹتا ہے۔

تیسرا قانون فطرت:
آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو اسے "ہضم" کرنا سیکھیں، اس لۓ کہ۔ ۔ ۔
* کھانا ہضم نہ ہونے پر" بیماریاں" پیدا ہوتی ہیں۔
* مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں" ریاکاری" بڑھتی ہے۔
* بات ہضم نہ ہونے پر "چغلی" اور "غیبت" بڑھتی ہے۔
* تعریف ہضم نہ ہونے کی صورت میں "غرور" میں اضافہ ہوتا ہے۔
* مذمت کے ہضم نہ ہونے کی وجہ سے "دشمنی" بڑھتی ہے۔
* غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں "مایوسی" بڑھتی ہے۔
* اقتدار اور طاقت ہضم نہ ہونے کی صورت میں" خطرات" میں اضافہ ہوتا ہے۔

اپنی زندگی کو آسان بنائیں اور ایک" با مقصد" اور "با اخلاق" زندگی گزاریں، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں

خوش رہیں۔۔۔خوشیاں بانٹیں۔۔۔۔

بہترین لوگ وہ ہیں جو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے اور اللہ کی مخلوق کی بے لوث خدمت کرے

Send a message to learn more

02/01/2022

*صوفی حیدر علی کا بیٹا ٹیپو سلطان وہابی ہو گیا ہے۔*
آصف محمود | ترکش | روزنامہ 92 نیوز

تاریخ بھی ایک عبرت کدہ ہے۔ حیران کر دیتا ہے۔

یہ 1799 کا مارچ تھا' نماز جمعہ پڑھ کر لوگ نکلے تو منادی کرنے والے نے منادی کی : ’’ اے مسلمانو! سنو، میسور کے صوفی بادشاہ حیدر علی کا بیٹا فتح علی ٹیپو وہابی ہو گیا ہے‘‘۔۔۔۔ یہ اعلان کرناٹکا کے مقبوضہ مضافات سے لے کر نظام کی ریاست حیدر آباد کے گلی کوچوں میں پڑھ کر سنایا گیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی بہادر، مرہٹے اور نظام آف حیدر آباد میسور کے ٹیپو سلطان کے خلاف چوتھی جنگ لڑنے جا رہے تھے اور یہ اسی جنگ کی تیاری ہو رہی تھی۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کو سلطان ٹیپو کے ہاتھوں شکست ہوئی اور انہوں نے ریاست میسور کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کیا تو اسے مٹانے کے لیے انہوں نے صرف عسکری منصوبہ بندی نہیں کی ، وہ ہر محاذ پر بروئے کار آئے۔ایسٹ انڈیا کمپنی نے سلطان ٹیپو کے خلاف مذہبی کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے یہ بات پھیلا دی کہ ٹیپو سلطان تو وہابی ہو گیا ہے۔

اس کے بعد دوسرا مرحلہ ’’ وہابی سلطان‘‘ کے خلاف فتووں کا تھا۔ ریاست حیدر آباد کے ’’ مفتی ‘‘ صاحبان سے سینکڑوں فتوے لیے گئے کہ صوفی حیدر علی کا بیٹا ٹیپو سلطان وہابی ہو گیا ہے اور اب اس کے خلاف لڑائی واجب ہو چکی ہے اور اس لڑائی میں جو بھی شریک ہو گا عند اللہ ماجور ہو گا۔ اجر پائے گا اور ثواب کا حقدار ہو گا۔چنانچہ جب ایسٹ انڈیا کمپنی مرہٹوں اور نظام آف حیدر آباد سے مل کر میسور پر حملہ آور ہوئی تو اس کے ساتھ وہ مسلمان جنگجو بھی شامل تھے جو ثواب دارین کی خاطر سلطان ٹیپو سے لڑنے چلے آئے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں تین ریاستوں میں تین اعلانات ہو رہے تھے۔ کہیں اعلان ہو رہا تھا ٹیپو وہابی ہو گیا ہے تو کہیں اعلان کیا جا رہا تھا ٹیپو شیعہ ہو گیا ہے۔
یاد رہے کہ ایسا ہی ایک فتوی ڈیڑھ سال بعد سلطان عثمانیہ کے خلاف بھی لیا گیا جب ترکوں سے لڑنے کے لیے بر صغیر سے مسلمان فوجیوں کی ضرورت تھی اور ان فوجیوں کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ سلطنت عثمانیہ اور خلیفہ کے خلاف جارحیت میں انگریز سرکار کا ساتھ کیسے دیا جائے۔چنانچہ ایک ’’تاریخی‘‘ فتوی لیا گیا کہ عثمانی ترکوں کے پاس مقامات مقدسہ کا نظم و نسق سنبھالنے کا کوئی استحقاق نہیں اور یہ استحقاق تو اصل میں شریف مکہ کا ہے۔
تاریخ ایک پورا عبرت کدہ ہے۔ القدس میں عثمانی ترکوں کو شکست دے کر برطانوی لشکر گھسا تو اس کے اولین دستوں میں ہندوستان کے مسلمان بھی شامل تھے۔ اسی ہندوستان میں پھر تحریک خلافت چلائی جاتی رہی۔عربوں نے عرب مزاحمت کے پرچم تلے ترکوں سے بغاوت کی اور نتیجہ یہ نکلا کہ القدس برطانیہ کے پاس چلا گیا، وہی عرب بغاوت کا پرچم تھام کر آج فلسطینی اسی آزادی کو تلاش کر رہے ہیں جو اسی پرچم تلے گنوائی گئی تھی اور سلطان ٹیپو کو کسی نے وہابی اور کسی نے شیعہ سمجھ کر مرہٹوں اور ایسٹ انڈیا کمپنی کا ساتھ دیا لیکن اسی سلطان کے مزار پر لکھا ہے : ٹیپو بنام دینِ محمد شہید شد۔ سلطان ٹیپو امر ہوگیا اور سلطان کے شہید ہونے کے بعد آج ان ’’سہولت کاروں‘‘ کی دھول کا بھی کوئی نشان نہیں ہے۔
مذہبی کارڈ نہ صرف کل استعمال ہوا بلکہ آج بھی ابلاغ کے میدان میں مسلم معاشروں کی فالٹ لائنز کا تذکرہ اہتمام سے کیا جاتا ہے۔ یہی کام ٹیپو سلطان کے ساتھ بھی ہوا۔ حالانکہ سلطان ٹیپو کسی بھی قسم کی فرقہ واریت سے بلند انسان تھا۔اس کی کہانی تو بس اتنی سی تھی کہ ’’ٹیپو بنام دین محمد شہید شد‘‘۔ مسلمانوں کے مکاتیب فکر کی عصبیت تو کجا اس نے تو ہندوئوں کے ساتھ بھی کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا کہ وہ ایک حکمران کے طور پر سب کے لیے خیر تھا۔ سلطان کے دربار میں ہندوئوں کے پاس اہم مناصب تھے۔ سلطان کا وزیر خزانہ کرشنا چاریا پورنیا ہندو تھا۔ یہی ہندو ریاست میسور کا پہلا دیوان یعنی ویر اعظم بھی تھا۔ سلطان کے خزانے سے 156 مندروں کی مالی مدد کی جاتی تھی۔
ٹیپو کے خزانے کے سونے اور چاندی کے سکوں کے نام مذہبی یک جہتی کا استعارہ تھے۔ سب سے قیمتی سکے کا نام سرکار دوجہاں ﷺ کی نسبت سے احمدی تھا۔ اس کے بعد قیمتی ترین سکہ صدیقی تھا جسے صدیق اکبر سے نسبت تھی۔ تیسرے سکے کا نام فاروقی تھا۔ ایک سکے کے نام عثمانی اور ایک کا نام حیدری تھا۔ ٹیپو کے خاص دستے کا نام اسد اللہی تھا۔ یہی ٹیپو سلطنت عثمانیہ کو لکھ بھیجتا ہے کہ فرات سے نجف تک نہر کھودیے اس کا خرچ ریاست میسور دے گی۔ یہ سفارت جب واپس میسور پہنچی تو ٹیپو دفن ہو چکا تھا۔ٹیپو بنام دین محمد شہید شد۔
لیکن جب تزویراتی ضرورت محسوس ہوئی تو اسی ٹیپو کے خلاف مذہبی بنیادوں پر پروپیگنڈا شروع کر دیا گیا۔ جہاں جو الزام سود مند ثابت ہو سکتا تھا، علاقہ اور لوگوں کے رجحانات دیکھ کر ٹیپو پر وہی الزام عائد کیا گیا۔ فرقہ وارانہ منافرت کا برصغیر میں یہ پہلا تزویراتی استعمال تھا۔ اس بیانیے میں لفظ ’’صوفی حیدر علی‘‘ کا استعمال بھی بڑا دلچسپ ہے۔ یہ گویا تاثر دیا جا رہا تھا کہ سلطان حیدر علی کی فکر سے اس کے بیٹے نے بغاوت کر رکھی ہے اور حیدر علی کے وفاداروں کو اب اس کے بیٹے کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔
میسور کی فتح کے بعد انگریزوں نے سلطان کے کتب خانے کا معائنہ کیا تو وہاں سے صوفی ازم پر 115 کتابیں نکلیں۔ چارلس سٹیورٹ نے سلطان کے کتب خانے کی مکمل فہرست شائع کر دی جو ‘A descriptive catalog of the oriental library of the late Tippoo Sultan کے نام سے پاکستان آرکائیوز میں بھی محفوظ ہے۔ لیکن اب کسی نے کوئی اعلان نہ کیا کہ صوفی حیدر علی کے وہابی بیٹے کی لائبریری سے صوفی ازم کی 115 کتابیں نکلی ہیں۔ اب کی بار ایک نیا اعلان فرمایا جانے لگا۔
تخت پر اب کرشنا راجا بیٹھا تھا اور سلطنت میسور کو غدار پورنیا چلا رہا تھا اور اس کی سر پرستی ایسٹ انڈیا کمپنی کر رہی تھی۔ ادھر نظام آف حیدر آباد کی ریاست میں عام آدمی دل گرفتہ تھا کہ سلطان ٹیپو شہید ہو گیا اور ہماری فوج نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ مل کر اسے شہید کیا۔ چنانچہ اب نیا اعلان اور نیا پراپیگنڈا کیا جانے لگا۔
خطبوں میں، مساجد میں بتایا جانے لگا کہ سلطان ٹیپو تو محض اقتدار کے لیے اسلام کا نام استعمال کر رہا تھا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس کے کتب خانے میں شاعری کی 190 کتابیں نکلیں جب کہ قرآن و حدیث کی کتابیں اس سے آدھی بھی نہیں تھیں۔ اس دور کے ریاست حیدر آباد کے ’’علمائے کرام‘‘ اور ’’مفتیان عظام‘‘ نے جو مضامین باندھے (یا بندھوائے گئے) کبھی ان کا کوئی مجموعہ پاکستان میں شائع ہو جائے تو چودہ نہ سہی آٹھ دس طبق ضرور روشن ہو جائیں گے کہ تاریخ میں مذہبی منافرت کا تزویراتی استعمال کیسے کیسے کیا جاتا رہا۔

کاش کوئی لکھنے والا ٹیپو سلطان پر لکھے جیسے اس پر لکھے جانے کا حق ہے۔ ٹیپو بنام دینِ محمد شہید شد۔

Send a message to learn more

01/01/2022

خدا کرے کے میری عرض پاک پے اترے

وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے کھلا رہے صدیوں
یہاں سے خزاں کو گزارنے کی مجال نہ ہو

یہاں جو سبزہ اگے ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کے جس کی کوئی مثال نہ ہو

خدا کرے کے نہ خام ہو سر وقار وطن
اور اس کے حسن کو تشوش ماہ وسا ل نہ ہو

ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوج و کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

خدا کرے میرے ایک بھی ہم وطن کے لئے
حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو.
آمین

تمام اہل وطن کو سال نو مبارک ہو

بہن کی شادی کو 6 سال ہو گئے ہیں میں کبھی اس کے گھر نہیں گیا عید شب رات کبھی بھی  ابو یا امی جاتے ہیں میری بیوی ایک دن مج...
05/11/2021

بہن کی شادی کو 6 سال ہو گئے ہیں
میں کبھی اس کے گھر نہیں گیا عید شب رات کبھی بھی ابو یا امی جاتے ہیں
میری بیوی ایک دن مجھے کہنے لگی
آپ کی بہن جب بھی آتی ہے
اس کے بچے گھر کا حال بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں
خرچ ڈبل ہو جاتا ہے
اور تمہاری ماں
ہم۔سے چھپ چھپا کر کبھی اس کو صابن کی پیٹی دیتی ہے کبھی کپڑے کبھی صرف کے ڈبے
اور کبھی کبھی تو چاول کا تھیلا بھر دیتی ہے
اپنی ماں کو بولو یہ ہمارا گھر ہے کوئی خیرات سینٹر نہیں

مجھے بہت غصہ آیا میں مشکل سے خرچ پورا کر رہا ہوں اور ماں سب کچھ بہن کو دے دیتی ہے
بہن ایک دن گھر آئی ہوئی تھی اس کے بیٹے نے ٹی وی کا ریموٹ توڑ دیا
میں ماں سے غصے میں کہہ رہا تھا
ماں بہن کو بولو یہاں عید پہ آیا کرے بس
اور یہ جو آپ صابن صرف اور چاول کا تھیلا بھر کر دیتی ہیں نا اس کو بند کریں سب
ماں چپ رہی
لیکن بہن نے ساری باتیں سن لی تھیں میری
بہن کچھ نہ بولی

4 بج رہے تھے اپنے بچوں کو تیار کیا اور کہنے لگی بھائی مجھے بس سٹاپ تک چھوڑ او
میں نے جھوٹے منہ کہا رہ لیتی کچھ دن
لیکن وہ مسکرائی نہیں بھائی بچوں کی چھٹیاں ختم ہونے والی ہیں

پھر جب ہم دونوں بھائیوں میں زمین کا بٹوارا ہو رہا تھا تو
میں نے صاف انکار کیا بھائی میں اپنی زمیں سے بہن کو حصہ نہیں دوں گا
بہن سامنے بیٹھی تھی
وہ خاموش تھی کچھ نہ بولی ماں نے کہا بیٹی کا بھی حق بنتا ہے لیکن میں نے گالی دے کر کہا کچھ بھی ہو جائے میں بہن کو حصہ نہیں دوں گا
میری بیوی بھی بہن کو برا بھلا کہنے لگی
وہ بیچاری خاموش تھی

بڑابھای علدہ ہوگیا کچھ وقت کے بعد
میرے بڑے بیٹے کو ٹی بی ہو گئی
میرے پاس اس کا علاج کروانے کے پیسے نہیں تھا
بہت پریشان تھا میں
قرض بھی لے لیا تھا لاکھ روپیہ

بھوک سر پہ تھی
میں بہت پریشان تھا کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا شاید رو رہا تھا حالات پہ
اس وقت وہی بہن گھر آگئی
میں نے غصے سے بولا اب یہ آ گئی ہے منحوس
میں نے بیوی کو کہا کچھ تیار کرو بہن کےلیے
بیوی میرے پاس آئی
کوئی ضرورت نہیں گوشت یا بریانی پکانے کی اس کے لیئے

پھر ایک گھنٹے بعد وہ میرے پاس آئی
بھائی پریشان ہو
بہن نے میرے سر پہ ہاتھ پھیرا بڑی بہن ہوں تمہاری
گود میں کھیلتے رہے ہو
اب دیکھو مجھ سے بھی بڑے لگتے ہو
پھر میرے قریب ہوئی
اپنے پرس سے سونے کے کنگن نکالے میرے ہاتھ میں رکھے
آہستہ سے بولی
پاگل توں اویں پریشان ہوتا ہے
بچے سکول تھے میں سوچا دوڑتے دوڑتے بھائی سے مل آؤں۔
یہ کنگن بیچ کر اپنا خرچہ کر
بیٹے کا علاج کروا
شکل تو دیکھ ذرا کیا حالت بنا رکھی تم۔نے
میں خاموش تھا بہن کی طرف دیکھے جا رہا تھا
وہ آہستہ سے بولی کسی کو نہ بتانا کنگن کے بارے میں تم۔کو میری قسم ہے
میرے ماتھے پہ بوسہ کیا اور ایک ہزار روپیہ مجھے دیا جو سو پچاس کے نوٹ تھے

شاید اس کی جمع پونجی تھی
میری جیب میں ڈال۔کر بولی بچوں کو گوشت لا دینا
پریشان نہ ہوا کر

جلدی سے اپنا ہاتھ میرے سر پہ رکھا دیکھ اس نے بال سفید ہو گئے

وہ جلدی سے جانے لگی
اس کے پیروں کی طرف میں دیکھا ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی
پرانا سا دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا جب بھی آتی تھی وہی دوپٹہ اوڑھ کر آتی

بہن کی اس محبت میں مر گیا تھا
ہم بھائی کتنے مطلب پرست ہوتے ہیں بہنوں کو پل بھر میں بیگانہ کر دیتے ہیں اور بہنیں
بھائیوں کا ذرا سا دکھ برداشت نہیں کر سکتیں
وہ ہاتھ میں کنگن پکڑے زور زور سے رو رہا تھا

اس کے ساتھ میری آنکھیں بھی نم تھیں
اپنے گھر میں خدا جانے کتنے دکھ سہہ رہی ہوتی ہیں
کچھ لمحے بہنوں کے پاس بیٹھ کر حال پوچھ لیا کریں
شاید کے ان کے چہرے پہ کچھ لمحوں کے لیئے ایک سکون آ جائے، ،،،

بہنیں ماں کا روپ ہوتی ہیں❤️❤️😢😢

#...❤️

04/08/2021

اس جہالت کے نظام کو بدلنا لازم ہے

١: ایک پاکستانی سیاستدان دو یا دو سے زائد حلقوں سے بیک وقت الیکشن لڑ سکتا هے، مگر ایک پاکستانی شهری دو حلقوں میں ووٹ نهیں ڈال سکتا.

٢: ایک شخص جو جیل میں هے ووٹ نهیں دے سکتا مگر ایک پاکستانی سیاستدان جیل میں هونے کے باوجود بھی الیکشن لڑ سکتا ھے

٣: ایک شخص جو کبھی جیل گیا هو کبھی سرکاری ملازمت نهیں حاصل کرسکتا مگر ایک پاکستانی سیاستدان کتنی بار بھی جیل جاچکا هو صدر، وزیراعظم، ایم پی اے، ایم این اے یا کوئی بھی عهده حاصل کرسکتا هے.

٤: بینک میں ایک معمولی ملازمت کیلیئے آپ کاگریجویٹ هونا لازمی هے مگر ایک پاکستانی سیاستدان فنانس منسٹر بن سکتاهے چاهے وه انگوٹھا چھاپ هی کیوں نه هو.

٥: فوج میں ایک عام سپاهی کی بھرتی کیلیئے دس کلو میٹر کی دوڑ لگانے کے ساتھ ساتھ جسمانی اور دماغی طور پر چست درست هونا بھی ضروری هے البته ایک پاکستانی سیاستدان اگرچه ان پڑھ، عقل سے پیدل، لاپرواه، پاگل، لنگڑا یا لولا هی کیوں نه هو وه وزیراعظم یا وزیر دفاع بن کر آرمی، نیوی اورایئر فورس کے سربراهان کا باس بن سکتاهے.

٦: اگر کسی کسی سیاستدان کے پورے خاندان میں کوئی کبھی اسکول گیا هی نه هو تب بھی ایسا کوئی قانون نهیں جو اسے وزیر تعلیم بننے سے روک سکے اور.....

٧: ایک پاکستانی سیاستدان پر اگرچه هزاروں مقدمات عدالتوں می اس کے خلاف زیر التوا هوں وه تمام قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا وزیر داخله بن کر سربراه بن سکتا هے.

اگر آپ سمجھتے هیں که اس نظام کو بدلنا چاهیئے، ایسے نظام سے جس میں ایک عام آدمی اور ایک سیاستدان پر یکساں قانون لاگو هو تو پاکستان کی عوام میں زیاده سے زیاده آگاهی کیلیئے اس پیغام کو دوسروں تک پهنچانے میں تعاون کریں.همیں درحقیقت اس نظام کو بدلنے کی ضرورت هے.

19/07/2021

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کبھی کوئی خواہش نہیں کی
ایک دن مچھلی کھانے کو دل چاہا تو اپنے غلام یرکا سے اظہار فرمایا۔۔
یرکا آپ کا بڑا وفادار غلام تھا ایک دن آپ نے فرمایا یرکا آج مچھلی کھانے کو دل کرتا ہے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے آٹھ میل دور جانا پڑے گا دریا کے پاس مچھلی لینے اور آٹھ میل واپس آنا پڑے گا مچھلی لے کے ۔۔
پھر آپ نے فرمایا رہنے دو کھاتے ہی نہیں ایک چھوٹی سی خواہش کیلئے اپنے آپ کو اتنی مشقت میں ڈالنا اچھا نہیں لگتا کہ اٹھ میل جانا اور اٹھ میل واپس آنا صرف میری مچھلی کے لئے؟
چھوڑو یرکا۔۔۔۔۔۔۔ اگر قریب سے ملتی تو اور بات تھی۔
غلام کہتا ہے میں کئی سالوں سے آپ کا خادم تھا لیکن کبھی آپ نے کوئی خواہش کی ہی نہیں تھی پر آج جب خواہش کی ہے
تو میں نے دل میں خیال کیا کہ حضرت عمر فاروق نے پہلی مرتبہ خواہش کی ہے اور میں پوری نہ کروں۔؟
ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔
غلام کہتے ہیں جناب عمرؓ ظہر کی نماز پڑھنے گئے تو مجھے معلوم تھا ان کے پاس کچھ مہمان آئے ہوئے ہیں عصر انکی وہیں ہوجائے گی۔
غلام کہتا ہے کہ میں نے حضرت عمرؓ کے پیچھے نماز پڑھی اور دو رکعت سنت نماز پڑھ کرمیں گھوڑے پر بیٹھا عربی نسل کا گھوڑہ تھا دوڑا کر میں دریا پر پہنچ گیا..
عربی نسل کے گھوڑے کو آٹھ میل کیا کہتے ؟؟
وہاں پہنچ کر میں نے ایک ٹوکرا مچھلی کا خریدا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی عصر کی نماز ہونے سے پہلے میں واپس بھی آگیا اور گھوڑے کو میں نے ٹھنڈی چھاؤں میں باندھ دیا تاکہ اس کا جو پسینہ آیا ہوا ہے وہ خشک ہو جائے اور کہیں حضرت عمر فاروق دیکھ نا لیں

غلام کہتا ہے کے کہ گھوڑے کا پسینہ تو خشک ہوگیا پر پسینے کی وجہ سے گردوغبار گھوڑے پر جم گیا تھا جو واضح نظر آرہا تھا کہ گھوڑا کہیں سفر پہ گیا تھا پھر میں نے سوچا کہ حضرت عمرؓ فاروق دیکھ نہ لیں ۔۔
پھر میں جلدی سے گھوڑے کو کنویں پر لے گیا اور اسے جلدی سے غسل کرایا اور اسے لا کر چھاؤں میں باندھ دیا۔۔ (جب ہماری خواہشات ہوتی ہیں تو کیا حال ہوتا ہے لیکن یہ خواہش پوری کر کے ڈر رہے ہیں کیونکہ ضمیر زندہ ہے)
فرماتے ہیں جب عصر کی نماز پڑھ کر حضرت عمر فاروق آئے میں نے بھی نماز ان کے پیچھے پڑھی تھی۔

گھر آئے تو میں نے کہا حضور اللہ نے آپ کی خواہش پوری کردی ہے۔
مچھلی کا بندوبست ہوگیا ہےاور بس تھوڑی دیر میں مچھلی پکا کے پیش کرتا ہوں۔
کہتا ہے میں نے یہ لفظ کہے تو جناب عمر فاروق اٹھے اور گھوڑے کے پاس چلے گئے گھوڑے کی پشت پہ ہاتھ پھیرا،
اس کی ٹانگوں پہ ہاتھ پھیرا اور پھر اس کے کانوں کے پاس گئے اور گھوڑے کا پھر ایک کان اٹھایا اور کہنے لگے یرکا تو نے سارا گھوڑا تو دھو دیا لیکن کانوں کے پیچھے سے پسینہ صاف کرنا تجھے یاد ہی نہیں رہا۔۔
اور یہاں تو پانی ڈالنا بھول گیا۔۔
حضرت عمرؓ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گئے اور کہنے لگے
"اوہ یار یرکا ادھر آ تیری وفا میں مجھے کوئی شک نہیں ہے
اور میں کوئی زیادہ نیک آدمی بھی نہیں ہوں،
کوئی پرہیز گار بھی نہیں ہوں ،
میں تو دعائیں مانگتا ہوں
اے اللہ میری نیکیاں اور برائیاں برابر کرکے مجھے معاف فرما دے۔۔
میں نے کوئی زیادہ تقوی اختیار نہیں کیا اور بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمانے لگے یار اک بات تو بتا اگر یہ گھوڑا قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں فریاد کرے کہ یا اللہ عمر نے مجھے اپنی ایک خواہش پوری کرنے کے لیے 16 میل کا سفر طے کرایا
اے اللہ میں جانور تھا،
بےزبان تھا
16 میل کا سفر ایک خواہش پوری کرنے کیلئے
تو پھر یرکا تو بتا میرے جیسا وجود کا کمزور آدمی مالک کے حضور گھوڑے کے سوال کا جواب کیسے دے گا؟"
یرکا کہتا ہے میں اپنے باپ کے فوت ہونے پر اتنا نہیں رویا تھا جتنا آج رویا میں تڑپ اٹھا کے حضور یہ والی سوچ (یہاں تولوگ اپنے ملازم کو نیچا دکھا کر اپنا افسر ہونا ظاہر کرتے ہیں)غلام رونے لگا حضرت عمرؓ فاروق کہنے لگے اب اس طرح کر گھوڑے کو تھوڑا چارہ اضافی ڈال دے اور یہ جو مچھلی لے کے آئے ہو اسے مدینے کے غریب گھروں میں تقسیم کر دو اور انہیں یہ مچھلی دے کر کہنا کے تیری بخشش کی بھی دعا کریں اور عمر کی معافی کی بھی دعا کریں۔“
صرف آپ ہی پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں بلکہ اوروں کو بھی شریک کریں, یہ صدقہ جاریہ ہوگا, اس میں آپ کی تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو .. جزاک اللہ خیرا۔۔

18/05/2021


*ایک جج صاحب اپنی بیوی کو*
*طلاق کیوں دے رہے ہیں*، ؟؟؟؟
رونگٹے کھڑے کر دینے والا
سچا واقعہ۔۔
کل رات ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے زندگی کی کئی پہلوؤں کو چھو لیا۔
قریب شام کے7بجےہونگے ،موبائل کی گھنٹی بجی۔ اٹھایا تو ادھر سے رونے کی آواز ۔۔۔
میں نے چپ کرایا اور پوچھا کہ بھابی جی آخر ہوا کیا ؟؟
ادھر سے آواز آئی آپ کہاں ہیں؟ اور کتنی دیر میں آ سکتے ہیں؟
میں نے کہا آپ پریشانی بتائیں اور بھائی صاحب کہاں ہیں؟ ۔ اور ماں کدھر ہیں۔آخر ہوا کیا ہے؟
لیکن ادھر سے صرف ایک ہی رٹ کہ آپ فوراً آجائیے۔
میں اسے مطمئن کرتے ہوئے کہا کہ ایک گھنٹہ لگے گا پہنچنے میں۔ جیسے تیسے گھبراہٹ میں پہونچا۔۔
دیکھا کہ بھائی صاحب، (جو ہمارے جج دوست ہیں ) سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔
بھابی جی رونا چیخنا کر رہی ہیں؛ ١٢ سال کا بیٹا بھی پریشان ہے اور ٩ سال کی بیٹی بھی کچھ کہہ نہیں پا رہی ہے۔
میں نے بھائی صاحب سے پوچھاکہ" آخر کیا بات ہے"؟
بھائی صاحب کچھ جواب نہیں دے رہے تھے۔۔
پھر بھابی جی نے کہا؛ یہ دیکھیے طلاق کے کاغذات۔
کورٹ سے تیار کرا کر لائے ہیں۔ مجھے طلاق دینا، چاہتے ہیں َ۔
میں نے پوچھا " یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟؟؟ اتنی اچھی فیملی ہے ؛ دو بچے ہیں۔ سب کچھ سیٹلڈ ھے۔ پہلی نظر میں مجھے لگا کے یہ مذاق ہے۔
لیکن میں نے بچوں سے پوچھا دادی کدھر ھے ۔ تو بچوں نے بتایا ؛ پاپا انہیں ٣ دن پہلے نوئیڈا کے "اولڈ ایج ہوم" میں شفٹ کر آئے ہیں۔
میں نے نوکر سے کہا؛ مجھے اور بھائی صاحب کو چائے پلاؤ
کچھ دیر میں چائے آئی َ بھائی صاحب کو میں نے بہت کوشش کی چائے پلانے کی۔ مگر انہوں نے نہیں پیا۔ اور کچھ ہی دیر میں وہ معصوم بچے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ اور بولے میں نے ٣ دنوں سے کچھ بھی نہیں کھایا ہے۔ میں اپنی 61سال کی ماں کو کچھ لوگوں کے حوالے کر کے آیا ھوں۔
پچھلے سال سے میرے گھر میں ماں کے لیے اتنی مصیبتیں ہوگئیں کہ بیوی نے قسم کھا لی کہ "میں ماں جی کا دھیان نہیں رکھ سکتی"
نا تو یہ ان سے بات کرتی تھی اور نہ میرے بچے ان سے بات کرتے تھے۔
روز میرے کورٹ سے آنے کے بعد ماں بہت روتی تھی۔
نوکر تک بھی ان سے خراب طرح سے پیش آتے تھے۔ اور اپنی من مانی کرتے تھے۔
ماں نے ۱۰ دن پہلے بول دیا ۔۔۔۔۔، تو مجھے اولڈ ایج ھوم میں ڈال دے۔۔ میں نے بہت کوشش کی پوری فیملی کو سمجھانے کی، لیکن کسی نے ماں سے سیدھے منہ بات تک نہیں کی۔
جب میں دو سال کا تھا تب ابو انتقال کرگئے تھے۔ ماں نے دوسروں کے گھروں میں کام کر کے *مجھے پڑھایا* اس قابل بنایا کے میں آج ایک جج ھوں،
لوگ بتاتے ہیں کہ ماں دوسروں کے گھر کام کرتے وقت کبھی بھی مجھے اکیلا نہیں چھوڑتی تھی۔
اس ماں کو میں آج اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آیا ہوں۔ میں اپنی ماں کی ایک ایک دکھ کو یاد کرکے تڑپ رہا ہوں جو انھوں نے صرف میرے لئے اٹھائے تھے۔
مجھے آج بھی یاد ھے جب میں میٹرک کے امتحان دینے والا تھا۔ ماں میرے ساتھ رات رات بھر بیٹھی رہتی تھی۔
ایک بار جب میں اسکول سے گھر آیا تو ماں کو بہت زبردست بخار میں مبتلا پایا۔۔۔پورا جسم گرم اور تپ رہا تھا۔ میں نے ماں سے کہا تجھےتیز بخار ہے۔ تب ماں ہنستے ہوئے بولی ابھی کھانا بنا کر آئی ہوں اس لئے گرم ہے۔
لوگوں سے ادھار مانگ کر مجھے دھلی یونیورسٹی سے *ایل ایل بی* تک پڑھایا۔
مجھے ٹیوشن تک نہیں پڑھانےدیتی تھی۔ کہیں میرا وقت برباد نہ ہو جائے۔
کہتے کہتے رونے لگے۔۔ ۔۔ اور کہنے لگے۔ جب ایسی ماں کے ہم نہیں ھو سکے تو اپنے بیوی اور بچوں کے کیا ہونگے۔
ہم جنکے جسم کے ٹکڑے ہیں، آج ہم ان کو ایسے لوگوں کے حوالے کر آئے '؛ '''جو انکی عادت، انکی بیماری، انکے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ہیں۔۔ جب میں ایسی ماں کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتا تو میں کسی اور کے لئے بھلا کیا کر سکتا ہوں۔
آذادی اگر اتنی پیاری ھے اور ماں اتنی بوجھ ہے تو، میں پوری آزادی دینا چاہتا ہوں۔
جب میں بغیر باپ کے پل گیا تو یہ بچے بھی پل جاینگے۔اسی لیے میں طلاق دینا چاہتا ہوں۔
ساری پراپرٹی میں ان لوگوں کے حوالے کرکے اس اولڈ ایج ھوم میں رہوں گا۔ وہاں کم سے کم ماں کے ساتھ رہ تو سکتا ہوں۔
اور اگر اتنا سب کچھ کر نے کے باوجود ماں، آشرم میں رہنے کے لئے مجبور ہے ۔
تو ایک دن مجھے بھی آخر جانا ہی پڑے گا۔
ماں کے ساتھ رہتے۔ رہتے عادت بھی ھو جائےگی۔
ماں کی طرح تکلیف تو نہیں ہوگی۔
جتنا بولتے اس سے بھی زیادہ رو رہے تھے۔
اسی درمیان رات کے 12:30ھوگیے۔ میں نے بھابی جی کے چہرے کو دیکھا۔
انکے چہرے پچھتاوے کے جذبات سے بھرے ہوئےتھے۔
میں نے ڈرائیور سے کہا " ابھی ہم لوگ نوئیڈا چلیں گے۔ بھابی جی ؛ بچے، اور ہم سارے لوگ نوئیڈا پہونچے،
بہت زیادہ گزارش کرنے پر گیٹ کھلا۔
بھائی صاحب نے گیٹ کیپر کے پیر پکڑ لیے ۔ بولے میری ماں ہے۔ میں اسے لینے آیا ہوں۔
چوکیدار نے پوچھا "کیا کرتے ہو صاحب" ؟
بھائی صاحب نے کہا۔ میں ایک جج ہوں۔
اس چوکیدار نے کہا "جہاں سارے ثبوت سامنے ہے۔ تب تو آپ اپنی ماں کے ساتھ انصاف نہیں کر پائے ۔ اوروں کے ساتھ کیا انصاف کرتے ہونگے صاحب۔
اتنا کہ کر ہم لوگوں کو وہیں روک کر وہ اندر چلا گیا۔
اندر سے ایک عورت آئی جو وارڈن تھی۔ اس نے بڑے زہریلے لفظ میں کہا۔ 2 بجے رات کو آپ لوگ لے جاکے کہیں اسے مار دیں تو میں اللہ کو کیا جواب دونگی، ؟
میں نے وارڈن سے کہا "بہن آپ یقین کیجئے یہ لوگ بہت پچھتاوے میں جی رہے ہیں، ۔
آخر میں کسی طرح انکے کمرے میں لے گئی
۔ کمرے کا جو نظارہ تھا اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔
صرف ایک فوٹو جس میں پوری فیملی ہے۔، وہ بھی ماں کے بغل میں جیسے بچے کو سلا رکھا ھے۔
مجھے دیکھی تو اسے لگا کہیں بات نہ کھل جائے۔
لیکن جب میں نے کہا کہ ھم لوگ آپ کو لینے آے ھیں۔ تو پوری فیملی ایک دوسرے سے لپٹ کر رونے لگی۔ آس پاس کے کمروں میں اور بھی بزرگ تھے۔ سب لوگ جاگ کر باہر تک ہی آگئے۔ انکی بھی آنکھیں نم تھیں۔
کچھ وقت کے بعد چلنے کی تیاری ھوئی۔ پورے آشرم کے لوگ باہر تک آے۔ کسی طرح ہم لوگ آشرم کے لوگوں کو چھوڑ پائے ۔
سب لوگ اس امید سے دیکھ رہے تھے، شاید انہیں بھی کوئی لینے آئے۔
راستے بھر بچے اور بھابی جی تو چپ چاپ رہے۔ مگر ماں اور بھای صاحب ایک دوسرے کے جذبات کو اپنے پرانے رشتے پر بٹھا رہے تھے۔ گھر آتے آتے قریب 3:45 ھو گیا۔
بھابی جی بھی اپنی خوشی کی چابی کہاں ہے۔ یہ سمجھ گئی تھیں۔
میں بھی چل دیا لیکن راستے بھر وہ ساری باتیں اور نظارے آنکھوں میں گھومتے رھے۔
*ماں صرف ماں ھے*
اسکو مرنے سے پہلے نہ ماریں۔
ماں ہماری طاقت ہے۔ اسے کمزور نہیں ھونے دیں۔ اگر وہ کمزور ہو گئی تو ثقافت کی ریڑھ کمزور ھو جاۓگی ۔ اور بنا ریڑھ کا سماج کیسا ھوتا ھے۔ یہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ھے۔
اگر آپ کے آس پاس یا رشتہ دار میں اسطرح کی کوئی مسئلہ ھو تو؛ انھیں یہ ضرور پڑھوایں اور اچھی طرح سمجھایں ؛ کچھ بھی کرے لیکن ھمیں جنم دینے والی ماں کو بے گھر ، بے سہارا نہیں ہونے دیں۔ اگر ماں کی آنکھ سے آنسو گر گئے تو یہ قرض کئی جنموں تک رہے گا۔
یقین مانیں سب ھوگا تمہارے پاس لیکن سکون نہیں ھوگا۔
سکون صرف ماں کے آنچل میں ھوتا ھے۔ اس آنچل کو بکھرنے مت دینا۔

عمر بن عبدالعزیز نے اپنے ایک قاصد کو شاہ روم کے پاس کسی کام سے بھیجا قاصد پیغام پہنچانے کے بعد محل سے نکلا اور ٹہلنے لگا...
17/05/2021

عمر بن عبدالعزیز نے اپنے ایک قاصد کو شاہ روم کے پاس کسی کام سے بھیجا قاصد پیغام پہنچانے کے بعد محل سے نکلا اور ٹہلنے لگا ٹہلتے ٹہلتے اسکو ایک جگہ سے تلاوت کلام پاک سنائی دی آواز کی جانب گیا تو کیا منظر دیکھا کہ ایک نابینا شخص چکی پیس رہا ہے اور ساتھ میں تلاوت بھی کر رہا ہے آگے بڑھ کے سلام کیا جواب نہیں ملا دوبارہ سلام کیا جواب نہیں ملا تیسری بار سلام کیا نابینا شخص نے سر اٹھا کر کہا شاہ روم کے دربار میں سلام کیسے قاصد نے کہا پہلے یہ بتا کہ شاہ روم کے دربار میں اللہ تعالیٰ کا کلام کیسے،اس نے بتایا کہ کہ وہ یہاں کا مسلمان ہے بادشاہ نے مجبور کیا کہ اسلام چھوڑ دے انکار پے سزا کے طور پے دونوں آنکھیں نکال دی گئ اور چکی پیسنے پے لگا دیا
معاملات طے کرنے کے بعد قاصد واپس آیا تو عمر بن عبد العزیز کے سامنے اس قیدی کی بات بھی رکھ دی ،
"کیا لوگ تھے وہ بھی "عمر بن عبد العزیز نے کوئی مذمتی بیان جاری نہیں کیا ،پانچ یا دس منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کا حکم نہیں دیا اجلاس نہیں بلایا،،بلکہ کاغذ قلم لیا اور یہ تحریر شاہ روم کولکھ بھیجی،، *اے شاہ روم میں نے سنا ہےکہ تیرے پاس ایک مسلمان قید ہے اور تو اس پے ظلم روا رکھتا ہے میری یہ تحریر تیرے پاس پہنچنے کے بعد تو نے اس قیدی کی رہائی کا پروانہ جاری نہیں کیا تو پھر ایسے لشکر جرار کا سامنا کرنا جسکا پہلا فرد تیرے محل میں ہوگا اور آخری میرے دربار میں*،،،،،سوال یہ ہےکہ ایک اسلامی مملکت کے سربراہ نےاتنا بڑا قدم کیوں اٹھایا ایک شخص کے لئے جو اسکےملک کا باشندہ بھی نہیں اپنی سالمیت خطرے میں ڈال دی پتہ ہے کیوں؟ کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اگر ایک مسلمان کی حرمت خانہ کعبہ سے بڑھ کر ہےتو جغرافائی حدود سے بھی بڑھکر ہے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے صرف ایک صحابی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے لئے پندرہ سو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے موت پہ بیعت لی تھی،،انہیں معلوم تھا کہ ہادی عالم یہ فرما گئے ہے کہ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہے،ایک حصے پے تکلیف ہوتی ہے تو تمام جسم تڑپتا ہے انہیں معلوم تھا کہ نحن الامہ ہم ایک امت ہے ،،اور جب سے یہ نظریہ ہم سے اٹھا ہے ذلیل و رسواء ہورہے ہے،آج باوجود اسکے کی دنیا میں ڈیڑھ ارب مسلمان موجود ہے لیکن شامی بچی آخری ہچکیاں لیتی ہوئی کہتی ہے میں رب کو جا کر سب کچھ بتاؤنگی،عراق جنگ میں ایک لڑکی جان بچانے کے لئے بھاگتے ہوئے صحافی سے فریاد کرتی ہے کہ انکل میری تصویر نہیں لینا میں بے حجاب ہوں،ایک فلسطینی بچہ بھوک کی شدت سے نڈھال فریاد کر رہا ہے کہ اے اللہ مجھے جنت بیھج دے مجھے بہت بھوک لگی ہے صرف چند لاکھ آبادی کا حامل ایک ملعون ملک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا ہے یہ سب کیوں ہورہا ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے ہم میں سے کوئی پاکستانی ہے کوئی ہندوستانی کوئی سعودی اماراتی اور کوئی ملائیشن ،،،مسلمان ہوتے تو ایک دوسرے کے لئے تڑپ ہوتی ،،،
اور مقابلے میں کفر نیٹوں کی صورت متحد ہے
اور حد تو یہ ہے کہ اسلامی مملکت کے سر براہان کہتے ہے کہ ہم نیٹو کے فرنٹ لائن اتحادی ہیں صرف عشق کی نہیں ذلت کی بھی انتہاء نہیں ہوتی،،،

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Syed Muhammad Ahsan Danish posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share