Azad Kashmir,Pakistan

Azad Kashmir,Pakistan Think from every side. besides 1 Side. Ideology to reduce mis-understanding between Pakistan & Kashmir. Inshaa Allah Pakistan & Kashmir will raise high..

--------Kashmir---------

The history of Kashmir, commonly known as Kashmir or Cashmere in the Asia and Western world is intertwined with the history of a larger region, comprising the areas of Central Asia, Afghanistan, India, Pakistan, Tajikistan, Tibet, China. Today, it denotes a larger area that includes the Indian-administered state of Jammu and Kashmir (which consists of Jammu, the Kashmir V

alley, and Ladakh), the Pakistan-administered territories of Azad Kashmir and Gilgit–Baltistan, and the Chinese-administered regions of Aksai Chin and the Trans-Karakoram Tract.


------Azad Kashmir -----

After the Partition of India in 1947, the princely states were given the option of joining either India or Pakistan. However, Hari Singh, the Sikh maharaja of the princely state of Kashmir, wanted Kashmir to remain independent. In order to buy some time, he signed a stand-still agreement, which sidestepped the agreement that each princely state would join either India or Pakistan.[4] Later there was a revolution by Kashmiri Muslims in the western part of the kingdom,[5] and raiders from the North-West Frontier Province and the northwestern Tribal Areas in Pakistan feared that Hari Singh might join the Indian Union. In October 1947, supported by the Pakistani Army, they attacked Kashmir and tried to take over control of Kashmir. Initially Hari Singh tried to resist their progress but failed. Hari Singh then requested the Indian Union to help. India responded that it could not help unless Kashmir acceded to India. On 26 October 1947, Kashmir's accession papers were signed (known as the Instrument of Accession) and Indian Army troops were airlifted to the capital Srinagar. Fighting ensued between the Indian Army and Pakistani Army, leading to the Indo-Pakistani War of 1947, with control stabilizing more or less around what is now the "Line of Control".[6]

Later, India approached the United Nations to solve the dispute and resolutions were passed to hold a plebiscite with regard to Kashmir's future. However, this plebiscite has not been held on either side, since the legal requirement for the holding of a plebiscite was the withdrawal of the Indian and Pakistani armies from the parts of Kashmir that were under their respective control— a withdrawal that never did take place.[7] In 1949, a cease-fire line separating and demarcating the Indian and Pakistani-controlled parts of Kashmir was formally put into effect. Following the 1949 cease-fire agreement, the government of Pakistan divided the northern and western parts of Kashmir, which it held, into the following two separately-controlled political entities; together, both these territories form the Pakistan-administered Kashmir region:

Azad Jammu and Kashmir (AJK) - the narrow southern part, 250 miles (400 km) long, with a width varying from 10 to 40 miles (16 to 64 km). Gilgit–Baltistan, formerly called the Federally Administered Northern Areas (FANA) - is the much larger area to the north of AJK, 72,496 square kilometres (27,991 sq mi); it was directly administered by Pakistan as a de facto dependent territory, i.e., a non-self-governing territory. However it was officially granted full autonomy on August 29, 2009.[8]
An area of Kashmir that was once under Pakistani control is the Shaksgam tract—a small region along the northeastern border of the Northern Areas that was provisionally ceded by Pakistan to the People's Republic of China in 1963 and which now forms part of China's Uygur Autonomous Region of Xinjiang. The part of Kashmir administered by India meanwhile is Jammu and Kashmir. In 1972, the then-current border between Pakistan and India, which held areas of Kashmir, was designated as the "Line of Control". The Line of Control has remained unchanged[9] since the 1972 Simla Agreement, which bound the two countries "to settle their differences by peaceful means through bilateral negotiations." Some claim that, in view of that pact, the only solution to the issue is mutual negotiation between the two countries without involving a third party, such as the United Nations. A devastating earthquake hit Azad Kashmir in 2005.

https://web.facebook.com/share/p/1CK5sErid2/
26/02/2026

https://web.facebook.com/share/p/1CK5sErid2/

سانحہ لنجوٹ۔۔۔..! نکیال آزادکشمیر 🚨
ایک درد بھری قیامت خیز رات۔۔۔۔۔24 اور 25 فروری 2000 کی درمیانی شب آزادکشمیر کے ضلع کوٹلی کی تحصیل نکیال میں ایل او سی کے عین اوپر واقعہ گاوں لنجوٹ میں ابھی شام کو سالانہ ختم سے فارغ ہو کر گاوں کے لوگ گھروں کو روانہ ہوئے تھے جبکہ امام مسجد مولوی فیض محمد رات پڑنے کی وجہ سے اسی گھر میں رک گئے تھے۔ یہ علاقہ کا ایک بڑا گھر تھا اس رات گھر میں عورتوں بچوں سمیت کل 18 افراد قیام پذیر تھے۔ گھر کی خواتین گھر کے صحن میں بیٹھی آپس میں باتیں کر رہی تھیں کہ انہیں گھر کے قریب جھاڑیوں میں سرسراہٹ محسوس ہوئی۔ جنگلی جانور سمجھ کو انہوں نے نظر انداز کر دیا۔ آہستہ آہستہ ہلکی ٹھنڈی شب کا اندھیرا گہرا ہوتا گیا اور گھر کے مکین کمروں میں چلے گئے۔ لائن آف کنٹرول پر حسب معمول کراس فائرنگ بھی جاری تھی۔ سب لوگ فائرنگ کی آوازوں میں سو گئے کہ یکایک فائرنگ کی آواز بہت تیز ہو گئی۔ بچے سوتے رہ گئے اور گھر میں موجود بڑے جاگ گئے۔ صحن میں کافی لوگوں کے بھاگنے کی آوازیں آنے لگیں پھر اچانک دروازے پر فائر لگے اور دروازے کی چٹخنی ٹوٹ گئی۔ بھارتی فوجی وردی میں ملبوس کافی تعداد میں فوجی گھر کے اندر گھسے اور گھر میں موجود سوتے جاگتے سب افراد پر فائر کھول دیا۔ گھر کے اندر موجود افراد نے بھاگنے کی کوشش کی مگر بے سود، گھر کے ایک جوان مرتضی کو دروازے میں لٹا کر زبحہ کیا گیا جبکہ بزرگ محمد عالم کا سر کاٹ کر انکی لاش کرسی پر بٹھا دی گئی۔ مرتضی کی نوبیاہتہ اہلیہ جو زخمی حالت میں نکل کر بھاگنے میں کامیاب ہو گئی تھی اسے گھر سے کچھ فاصلے پر پکڑا گیا اور پتھر کی جائے نماز پر لٹا کر زبحہ کیا گیا۔ اسکی لاش قریب درخت کے ساتھ کھڑی کر کے اسکا سر اور بازو کاٹ کر بھارتی کمانڈوز اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ محمد اشتیاق اور محمد یونس گولیاں لگنے کے باوجود کھڑکی سے باہر نکلے اور قریبی پہاڑی سے چھلانگ لگا کر قریبی آبادی تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے اور قریبی آبادی کے مکینوں کو سانحہ کی اطلاع دی جس پر مقامی آبادی گھٹاٹوپ اندھیرے میں سانحہ کی جگہ پہنچ گئی تب تک درندے اپنا درندگی کی داستان رقم کر کے جا چکے تھے۔
اطلاع ملنے پر سب سے پہلے اس گھر میں پہنچنے والے محمد شوکت اعوان نے جو مناظر دیکھے وہ بیان کرتے ہیں کہ
"24 اور 25 فروری2000 کی درمیانی شب بارہ بجے بجلی بند ہو گئی۔بجلی بند ہونے کے چند لمحوں بعد ہی ایک زوردار دھماکہ ہوا۔جس سے درودیوار ہل گئے۔ہم سب لوگ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے۔۔۔
اس دھماکے کیساتھ ہی۔۔۔۔گولہ باری اور شدید فائرنگ کا ایسا طوفان برپا ہوا۔۔۔کہ اگلے ڈیڑھ گھنٹے تک ہمیں اپنی آواز بھی سنائی نہ دی۔بظاہر جنگ کا ماحول ہی لگ رہا تھا۔اور ہم خوف میں ذہنی طور پر تیار تھے کہ دشمن پیش قدمی کر رہا ہوگا۔کسی سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔ہم نچلے محلے والے اپنی محدود حکمت عملی میں مصروف تھے کہ ہم نے کیا کرنا ہے۔۔۔بھاگ سکتے نہیں تھے۔اس لئے یہ کیا کہ گھروں سے نکل کر دائیں بائیں کچھ عارضی پناہ گاہوں میں چھپ کر حالات کا جائزہ لیتے رہے۔۔۔۔۔اور طوفان کے تھمنے کا انتظار کرتے رہے۔۔۔
اسی خوفناک صورتحال میں رات کے ڈیڑھ بج گئے۔پھر اچانک گولہ باری کا طوفان بالکل تھم گیااور ہر طرف خاموشی چھا گئی۔۔
خاموشی کے اولین لمحے میں ہمارے عقب سے کراہنے کی خوفناک آوز آئی۔تو ہم ڈر گئے۔۔لیکن ہمت کر کے پکارا۔۔۔
کون ہے؟؟ کون ہے؟؟؟
"میں اشتیاق ہوں۔مجھے گولی لگی ہے۔مجھے بچاو۔۔۔"
(اشتیاق عبد الحمید کا نواسہ تھا جو فوج میں تھا اور چھٹی پر تھا)
ہم بھاگ کر اشتیاق کی پاس پہنچے۔اسے چادر میں لپیٹا۔اور نیچے گھرلائے۔کپڑے سے اس کا خون بند کیا۔اتنی دیر میں شور بلند ہونے لگا تھا۔ایک اور فوجی نوجوان جو چھٹی پر گھر آیا ہوا تھا۔۔وہاں سے زخمی حالت میں بھاگنے میں کامیاب ہو چکا تھا ورایک محفوظ جگہ پر پہنچ چکا تھا۔۔
اشتیاق نے مختصرا بتایا کہ نانا جان کے گھر انڈین کمانڈوز نے سب کو ماردیا ہے۔۔۔۔
وہ پھر بےہوشی میں چلا گیا۔۔بہت شدید زخمی تھا۔سینے میں خوفناک سوراخ ہو چکا تھا۔اور سردی سے ٹھٹھر چکا تھا۔ہم نے اسے چادروں میں لپیٹااور چند ساتھیوں کےحوالے کیا کہ اسکو خاموشی کیساتھ فائرنگ رینج سے نکالو۔۔۔۔
اب کیا کیا جائے۔۔اوپر والے گھر پہنچنا تھا۔ایک دو نوجوان کمر بستہ ہو گئے۔ اور اوپر کی طرف چل پڑے۔۔جب قریب پہنچنے لگےتو ہماری پاک فوج کے جوان بھی پہنچ گئے۔انہوں نے آگے جانے سے روکنا چاہا۔۔لیکن ہم نے کہا کہ آپ ہمیں کور فائر دیں۔ہم آگے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم فائر نہیں کر سکتے۔ ہم نے پوزیشن لے لی ہے۔آگے جانے کی اجازت نہیں ہے۔فائر کیا تو واپس نکلنا مشکل ہو جائے گا۔انتہائی ضرورت میں فائر کر کے نیچے ہو جائیں گے۔۔۔آپ اپنے رسک پر جا سکتے ہیں۔
ہمیں خدشہ تھا کہ دشمن آس پاس ہوا تو ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے۔۔ بہرحال ہمت کر کے کچھ آگے بڑھے۔مکان کے بلکل قریب سے جائزہ لیا۔بلکل خاموشی تھی۔یعنی کسی کے زندہ بچنے کے کوئی آثار نہیں لگ رہے تھے۔۔
ہم نے اپنی ساری قوتوں کو مجتمع کیا۔کچھ اور لوگ بھی پہنچ گئے۔ آنے والی خواتین چیخ و پکار کرنے لگی۔مرد حضرات انکو چپ کرا رہے تھے۔بہرحال۔۔
یہ ایک خود کش ہمت والی بھرپور کوشش تھی کہ ہم تین چار لوگ ایک ساتھ گھر کے اندر داخل ہو گئے۔
مکان کے لکڑی کے بڑے بڑے دروازے کھلے ہوئے تھے۔ہمارے پاس ٹارچ تھی۔اندر داخل ہوتے ہی بارود کی بدبو نے ہمارا استقبال کیا۔اوپر سے دشمن یقینا ہمیں مانیٹر کر رہا تھا لیکن وہ خاموش تھا۔ٹارچ جلائی تو سامنے فرش پر ایک لاش پڑی تھی۔اسکی گردن ساتھ نہیں تھی۔پاس میں ایک چارپائی ٹوٹی ہوئی تھی جو اسکی طرف سے کی گئ مزاحمت کی عکاسی کر رہی تھی۔ ہم نے غور کیا تو یہ حال ہی میں شادی کے بندھن میں بندھنے والا نوجوان مرتضی تھا۔کچھ کاغذات وغیرہ اسکے سینے پر پڑے ہوئے تھے۔جو اسکی جیب سے نکلے تھے۔۔لیکن اسکی بیوی ہمیں نہ مل سکی۔
۔یہ مکان کا داخلی حصہ تھا جسکو اپنی زبان میں" پسار" کہتے ہیں۔وہاں ہمیں دو تین لاشیں اور بھی ملیں۔لیکن پہچان نہ ہو سکی۔جب ہم نے باتیں کرنا شروع کیں اور لاشوں کو پہچاننے کی کوشش کی۔تو نیچے سے ہمیں دو بچیاں زندہ سلامت مل گئیں۔انہیں بال برابر زخم نہیں تھا لیکن وہ شاک میں تھیں۔جب ہم نے ہلایا تو وہ چیخ پڑیں۔انکو اٹھا کر ہم نے نیچے بھیجا وہاں سے ہمیں دوبچے بھی زندہ ملے جو زخمی تھے اور شاک میں تھے۔بعد ازاں ہاسپٹل میں انکی بھی شہادت ہو گئی۔۔۔
اب ہم ایک اور کمرے میں داخل ہوئے۔اس کمرے میں دونوں بزرگ تھے۔90 سالہ بابا محمد عالم۔ اور انکے ہم عمر مولوی فیض۔
بابا عالم ایک صوفے پر بیٹھے تھے لیکن انکی گردن ساتھ نہیں تھی۔۔۔
ساتھ ہی دوسری کرسی پر سفید ریش مولوی فیض۔۔۔
ایسا لگا وہ بلکل زندہ سلامت ہیں۔لیکن خاموس تھے۔ہم نے ہلایا تو انکی گردن دوسری طرف ڈھلک گئی۔وہ بھی شہید ہو چکے تھے۔۔۔
اب تیسرے کمرے کی طرف بڑھے۔۔وہاں دو معصوم بچے فریاد اور عماد۔۔اپنی والدہ کی گود میں دم توڑ چکے تھے فریاد کا آدھا چہرہ اڑ چکا تھا اور اسکی والدہ کو کئی گولیاں لگی تھی۔وہ تینوں دم توڑ چکےہوئے تھے۔
ہم کسی شہید کو نہیں اٹھا رہے تھے۔بلکہ زندہ اور زخمیوں کو تلاش کر رہےتھے۔
اب آخری کمرے میں داخل ہوئے۔تو ایک خاموش زخمی خاتون نے اچانک چیخ ماری۔ہم پاس پہنچے۔اسکی 8 سالہ بچی اسکے پاس شہید پڑی تھی۔۔ہم نے اس خاتون کو اٹھانے کی کوشش کی۔تو اسنے بتایا کہ میرا پیٹ کٹا ہوا ہے۔مجھے نہ اٹھانا۔
دل دہلا دینےوالا منظر تھا۔وہ خاتون حاملہ تھی۔اسکا پیٹ پھاڑا ہوا تھا۔وہ زندہ تھی۔لیکن اس کی انتڑیاں باہر تھیں۔اسکو ایک چادر میں لپیٹا اور کچھ لوگ اسکو لیکر بھاگتے ہوئے فائرنگ رینج سے نکلنے لگے۔۔۔
اب زخمی اور زندہ لوگوں کو نکال چکے تھے۔یہ زخمی خاتون ۔۔۔زخمی نوجوان یونس کی اہلیہ تھی۔اسکو جب لیکر ہم تھوڑے نیچے پہنچے تو اس نے کہا کہ مجھے آگے نہ لے جاو۔ اپنے اکلوتے بچےسے ملوا دو۔ لیکن زخمی بچے کو ہم پہلے ہی روانہ کر چکے تھے۔
یہ خاتون چند لمحے زندہ رہی۔پھر اپنے زخمی خاوند کیساتھ باتیں کرتے کرتے شہادت کے رتبے پر فائز ہو گئی۔۔۔
اب ہم نے جو گنتی کی تھی اسکے مطابق ہمیں مرتضی کی
نو بیاہتا بیوی نہیں مل رہی تھی۔
جس کھڑکی سے اشتیاق اور یونس نکل کر بھاگے تھے۔اور بھاگتے ہوئے زخمی ہوئے تھے اسی کھڑکی سے وہ خاتون بھی نکلی اور چیخ و پکار کرتے جب بھاگی تو بھاگتےہوئے پہلے اسکو گولیاں ماری گئی۔پھر ادھر نماز کے لئے پتھروں سے ایک جگہ بنائی ہوئی تھی۔وہا اسکو ذبح کیا گیا اور دایاں بازوں اور گردن لیکر دشمن فرار ہو گیا۔اسکی لاش صبح کے وقت ملی۔"
اس سانحہ میں گھر میں موجود 18 افراد میں سے 14 کی شہادت ہو گئی۔ 2 بچیاں جو لاشوں کے نیچے تھیں اور بھارتی فوجی انہیں مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے تھے

آج اس سانحہ کو بیتے 25 سال پورے ہو چکے ہیں۔ شروع میں تو اس سانحہ کو سرکاری سطح پر یاد کیا جاتا تھا تاکہ نئی نسلوں کو پتہ چلے کشمیریوں نے خونی لکیر میں کس قدر خون کی ندیاں بہائی ہیں مگر پھر روایتی بے حسی حکمرانوں پر غالب آ گئی۔ شہداء کو ڈبسی کے مقام پر سپردخاک کیا گیا جہاں ایک صف میں 14 قبریں اور قبرستان کے دروازے پر لکھی عبارت اس داستان کو زندہ رکھے ہوئے ہے جبکہ لنجوٹ ہائی سکول اور گراونڈ کو شہدائے لنجوٹ سے منسوب کیا گیا......!

10/04/2023
17/01/2022

Address

Azad Kashmir
Kashmir

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Azad Kashmir,Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share