17/03/2026
1993 میں روسی ٹریکٹر بیلارس پاکستانی مارکیٹ میں ساڑھے چار لاکھ روپے کا فروخت ہو رہا تھا۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو سنٹرل ایشیائی ممالک سے پاکستان کی تجارت بڑھانے پر فوکس کر رہی تھیں۔ انہوں نے بائیلورشیا کا دورہ کیا ۔ بائیلو رشیا اپنے ٹریکٹر ماضی میں سوویت یونین کے ذریعے بیچا کرتا تھا ۔ آزادی کے بعد بائیلو رشیا کی حکومت کو اپنے ٹریکٹر کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔
شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے ان کے ساتھ صرف ڈیڑھ لاکھ روپے میں ٹریکٹر خریدنے کا معاہدہ کیا ۔ اور دو کمپنیوں بیلارس ۔ ارسس سے 40 ہزار ٹریکٹر خریدنے کا معاہدہ کیا۔ یہ ٹریکٹر ڈیڑھ لاکھ روپے میں کسانوں کو دیئے گئے اور پاکستانی مارکیٹ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت ٹوٹنے سے اگلے روز یہ ٹریکٹر ساڑھے چھ لاکھ روپے کا بک رہا تھا ۔
تصور کیجئے 17 سال تک ان ٹریکٹروں کی خرید میں مبینہ کک بیک لینے کا مقدمہ چلایا گیا ۔ کسی نے آج تک یہ نہیں پوچھا کہ اگر ڈیڑھ لاکھ روپے میں کک بیکس موجود تھے تو پہلے ساڑھے چار لاکھ روپے اور بعد میں ساڑھے چھ لاکھ روپے میں بیچنے والوں کا کک بیک اور کمیشن کس قدر تھا ۔
ایسے مبینہ جھوٹے ۔ فرضی ۔ تصوراتی مقدمات پر
50 سال تک زرداری کرپٹ اور مقدمات کا پروپیگنڈا ریاست اور ریاست کی ناجائز اولاد کرتی رہی تھی۔
آج بھی ڈائیلاگ شروع ہوتے ہی پھدو کھاتے عمران خان ۔ نواز شریف اور زرداری کے مقدمات ایک جیسے منوانے کا پھدو کھاتہ چلایا جاتا ہے۔
تحریر
شبیر احمد