M.Riaz Qaiser

M.Riaz Qaiser Journalist | Writer | Poet
Telling stories that matter, giving voice to truth, and turning emotions

الحاج ڈاکٹر لیاقت علی سدا شاد اور آباد رہو‎‎شاعر۔ ایم ریاض قیصر‎‎ڈاکٹر لیاقت علی قدرت نے آپ پر بے شمار احسان کر دیا ہے‎ ...
11/05/2026

الحاج ڈاکٹر لیاقت علی سدا شاد اور آباد رہو

‎شاعر۔ ایم ریاض قیصر

‎ڈاکٹر لیاقت علی قدرت نے آپ پر بے شمار احسان کر دیا ہے
‎ آپ کے خوبصورت باغبان چمن کو گلستان کر دیا ہے۔

‎یہ سب انعام و اکرام آپ کو خدا تعالیٰ نے بخشا ہے
‎آپ کے گلشن کو خوشیوں کا پرستان کردیا ہے

‎یہ سب کچھ سرکار مدینہ کا آپ پر خاص فضل ہے
‎آج خدا تعالی نے آپ کے علی بیٹے کو جوان کر دیا ہے

‎ویسے تو آپ کے گلشن میں پھولوں کلیوں کی بہار ہے
مگر علی بیٹے کی شادی نے آپ کا مکمل خاندان کر دیا ہے

‎بہو رانی کی آمد نے آپ کے آنگن کو گلزار کر دیا ہے
‎ مگر اس کی دلکش خوشبو نے گھر کو شبستان کردیا ہے

‎آپ کے باغبانِ چمن میں جو بھی موسم بہار ہے
‎پھولوں کلیوں کی مہک نے آپکو پھر سے اعلیٰ عنوان کر دیا ہے

‎چوہدری معظم لیاقت علی بھی پیدا آپ کا نام کرے گا
قدرت نے اسے بھی میدان عمل میں پروان کر دیا ہے

‎الہی اس نیک گھرانے کو سلامت تا قیامت آباد رکھنا
قیصر کی پر خلوص دعاؤں نے خوش رب رحمان کردیا ہے

توازن: فلسفۂ زندگی کا حسنزندگی ایک حسین مگر پیچیدہ سفر ہے، جس میں ہر موڑ پر نئے تجربات، چیلنجز اور مواقع ہمارا انتظار ک...
11/05/2026

توازن: فلسفۂ زندگی کا حسن
زندگی ایک حسین مگر پیچیدہ سفر ہے، جس میں ہر موڑ پر نئے تجربات، چیلنجز اور مواقع ہمارا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ کبھی خوشیوں کی روشنی ہمیں سرشار کر دیتی ہے تو کبھی غم کے بادل دل پر سایہ فگن ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی چیز ہمیں سنبھالتی، نکھارتی اور آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے تو وہ ہے توازن۔ توازن ہی دراصل زندگی کا وہ سنہری اصول ہے جو انسان کو ہر حال میں معتدل، پُرسکون اور کامیاب بناتا ہے۔
توازن کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہم اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو برابر وقت دیں، بلکہ اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ ہم اپنے جذبات، خیالات، خواہشات اور ذمہ داریوں کے درمیان ایک ہم آہنگی قائم رکھیں۔ جب انسان اس ہم آہنگی کو سمجھ لیتا ہے تو وہ نہ صرف اپنی ذات کو بہتر بنا لیتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی آسانی اور سکون کا باعث بنتا ہے۔
آج کے تیز رفتار دور میں، جہاں ہر شخص کسی نہ کسی دوڑ میں مصروف ہے، توازن کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ ہم اکثر کامیابی کی تلاش میں اپنی صحت، رشتے اور ذہنی سکون کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بظاہر ہم کامیاب نظر آتے ہیں، مگر اندر سے خالی اور بے چین ہوتے ہیں۔ اگر ہم زندگی میں حقیقی خوشی چاہتے ہیں تو ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ کس طرح کام اور آرام، خواہش اور صبر، اور دنیا و آخرت کے درمیان توازن قائم رکھا جائے۔
توازن کا سب سے اہم پہلو جذباتی توازن ہے۔ انسان کے جذبات اس کی زندگی کا محور ہوتے ہیں۔ اگر جذبات بے قابو ہو جائیں تو وہ انسان کو غلط فیصلوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ غصہ، حسد، خوف یا حد سے زیادہ خوشی—یہ سب اگر حد میں نہ رہیں تو نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ ایک متوازن انسان وہ ہوتا ہے جو ہر حالت میں خود پر قابو رکھتا ہے، نہ زیادہ مایوس ہوتا ہے اور نہ ہی حد سے زیادہ خوش فہمی کا شکار۔
اسی طرح ذہنی توازن بھی نہایت ضروری ہے۔ ذہن کا سکون انسان کی کارکردگی کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ جب ذہن بکھرا ہوا ہو تو انسان نہ تو درست فیصلے کر سکتا ہے اور نہ ہی اپنی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے استعمال کر سکتا ہے۔ مراقبہ، مثبت سوچ اور شکر گزاری جیسے عوامل ذہنی توازن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ جب انسان اپنے ذہن کو غیر ضروری خیالات سے آزاد کر لیتا ہے تو وہ زندگی کو زیادہ واضح اور خوبصورت انداز میں دیکھنے لگتا ہے۔
جسمانی توازن بھی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ صحت مند جسم ہی ایک صحت مند زندگی کی بنیاد ہے۔ اگر انسان اپنی جسمانی صحت کا خیال نہ رکھے تو وہ زندگی کے کسی بھی میدان میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ متوازن غذا، مناسب نیند اور باقاعدہ ورزش جسمانی توازن کے بنیادی ستون ہیں۔ یہ نہ صرف جسم کو طاقت دیتے ہیں بلکہ ذہن کو بھی تازگی بخشتے ہیں۔
سماجی توازن بھی زندگی میں سکون کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ انسان ایک معاشرتی مخلوق ہے اور اسے دوسروں کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا ہوتے ہیں۔ اگر انسان صرف اپنی ذات تک محدود ہو جائے یا دوسروں کی ضروریات کو نظر انداز کرے تو وہ تنہائی اور بے سکونی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایک متوازن زندگی وہ ہے جس میں انسان اپنے خاندان، دوستوں اور معاشرے کے ساتھ مثبت تعلقات قائم رکھتا ہے۔
روحانی توازن زندگی کو ایک گہرائی اور مقصد عطا کرتا ہے۔ جب انسان اپنے خالق کے ساتھ تعلق مضبوط کرتا ہے تو اس کے دل کو ایک عجیب سا سکون ملتا ہے۔ عبادات، دعا اور ذکر انسان کو نہ صرف اندرونی سکون دیتے ہیں بلکہ اسے مشکلات کا سامنا کرنے کی طاقت بھی فراہم کرتے ہیں۔ روحانی توازن انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ دنیا کی کامیابیاں عارضی ہیں، اصل کامیابی وہ ہے جو دل کو مطمئن کر دے۔
توازن قائم کرنا آسان نہیں، مگر ناممکن بھی نہیں۔ اس کے لیے خود آگاہی سب سے پہلا قدم ہے۔ جب انسان اپنی کمزوریوں اور طاقتوں کو پہچان لیتا ہے تو وہ بہتر فیصلے کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ وقت کی صحیح تقسیم، ترجیحات کا تعین اور خود پر قابو پانا وہ اوزار ہیں جن کی مدد سے توازن حاصل کیا جا سکتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ توازن زندگی کا حسن ہی نہیں بلکہ اس کی ضرورت بھی ہے۔ یہ وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں روشنی دیتا ہے، وہ سہارا ہے جو مشکل وقت میں حوصلہ دیتا ہے، اور وہ راستہ ہے جو انسان کو حقیقی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔ اگر ہم اپنی زندگی میں توازن پیدا کر لیں تو نہ صرف ہم خود خوش رہ سکتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی خوشیوں کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
زندگی کا اصل حسن اسی میں ہے کہ ہم ہر لمحے کو توازن کے ساتھ جئیں—نہ حد سے زیادہ کسی چیز میں ڈوبیں اور نہ ہی کسی چیز کو مکمل طور پر نظر انداز کریں۔ یہی اعتدال، یہی ہم آہنگی اور یہی توازن دراصل ایک کامیاب اور پُرسکون زندگی کی پہچان ہے۔

روحِ حاجی افتخار چوہدری مرحوم کے نام ‎‎03211452851‎‎شاعر۔ ایم ریاض قیصر سٹی پریس کلب کنگن پورقصور‎‎حاجی افتخار چوہدری ان...
07/05/2026

روحِ حاجی افتخار چوہدری مرحوم کے نام

‎03211452851

‎شاعر۔ ایم ریاض قیصر سٹی پریس کلب کنگن پورقصور

‎حاجی افتخار چوہدری انسانیت سے بیحد پیار کرتا تھا
‎ معاشرے میں محبت اور اخوت کا ادا اہم کردار کرتا تھا

‎ صحافت کی دنیا کا ایک بیش قیمت سرمایہ تھا
‎ غریب اور نادر لوگوں سے حقیقی پیار کرتا تھا

‎وہ مقدر کا سکندرجو آج ہم سے بچھڑ گیا ہے
‎ اپنے قلم سے سچ اور جھوٹ کا نکھار کرتا تھا

‎ضلع اوکاڑہ کی تاریخ میں اور بھی صحافت کے پھول ہیں
‎ مگر یہ تاریخ کے اوراق پہ کُھل کے اظہار کرتا تھا

‎حاجی افتخار چوہدری جیسے فرشتہ صفت انساں ہمیشہ زنده رہتے ہیں
‎ ان کا ماضی اور حال انکو بلند شمار کرتا تھا

‎انسانیت کی خدمت میں ہی تمام عمر گزار دی
‎در حقیقت حاجی افتخار چوہدری اپنی آخرت استوار کرتا تھا

‎الٰہی حاجی افتخار چوہدری کے درجات بلند رکھنا
‎قیصر سرکارِ مدینہﷺ سے یہ بیحد پیار کرتا تھا

05/05/2026
مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا مثبت کردار: وزیراعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی بصیرتتحریر: ایم ر...
22/04/2026

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا مثبت کردار: وزیراعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی بصیرت
تحریر: ایم ریاض قیصر

مشرقِ وسطیٰ گزشتہ کئی دہائیوں سے سیاسی کشیدگی، جنگوں اور علاقائی تنازعات کا مرکز رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں اس خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کو بھی شدید خطرات سے دوچار کیا ہے۔ ایسے نازک حالات میں اگر کوئی ملک غیر جانبدار، متوازن اور مؤثر ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے تو وہ پاکستان ہے۔ پاکستان کی قیادت، بالخصوص وزیراعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نے حالیہ حالات میں جو سفارتی حکمت عملی اختیار کی ہے، وہ نہایت قابلِ تحسین اور مثالی ہے۔

پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلق بہت گہرا ہے۔ سعودی عرب، ایران، متحدہ عرب امارات، قطر اور ترکیہ جیسے ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نہ صرف دوستانہ ہیں بلکہ ان میں باہمی اعتماد اور احترام بھی پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

وزیراعظم میاں شہباز شریف نے اپنی سفارتی بصیرت اور تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک کے ساتھ قریبی رابطے قائم کیے ہیں۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے نہ صرف کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی بلکہ بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا۔ وزیراعظم کی یہ پالیسی کہ "تنازعات کا حل طاقت کے بجائے مذاکرات میں ہے" ایک حقیقت پسندانہ اور پائیدار امن کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

دوسری جانب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک پیشہ ور سپاہی ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی اسٹریٹجک سوچ اور علاقائی معاملات پر گہری نظر نے پاکستان کو ایک مضبوط اور مؤثر پوزیشن میں کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے دفاعی اور سفارتی سطح پر ایسے اقدامات کیے ہیں جن سے نہ صرف پاکستان کی ساکھ میں اضافہ ہوا بلکہ خطے میں امن کی کوششوں کو بھی تقویت ملی۔

پاکستان کی قیادت نے خاص طور پر ایران اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے جو اقدامات کیے، وہ قابلِ ذکر ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ دونوں ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات رکھے ہیں اور کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کے بجائے غیر جانبداری کی پالیسی اپنائی ہے۔ یہی توازن پاکستان کو ایک مؤثر ثالث بناتا ہے۔

اس کے علاوہ فلسطین کے مسئلے پر بھی پاکستان کا مؤقف واضح اور اصولی رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی فورمز پر فلسطینی عوام کے حقوق کی بھرپور حمایت کی ہے، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی اس مسئلے پر پاکستان کے دفاعی اور اخلاقی موقف کو مضبوطی سے پیش کیا ہے۔ یہ ہم آہنگی پاکستان کی قیادت کی یکجہتی اور سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔

پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ کسی بھی تنازعے میں فوجی مداخلت کے بجائے سفارتی ذرائع کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ پالیسی نہ صرف عالمی اصولوں کے مطابق ہے بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کی علامت بھی ہے۔ پاکستان کی یہی حکمت عملی اسے دیگر ممالک سے ممتاز کرتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کے اس مثبت کردار کے کئی فوائد بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ایک طرف جہاں پاکستان کی عالمی ساکھ میں اضافہ ہو رہا ہے، وہیں دوسری طرف اقتصادی اور تجارتی تعلقات بھی مضبوط ہو رہے ہیں۔ خلیجی ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کی موجودگی اور سرمایہ کاری کے مواقع بھی اس مثبت سفارتکاری کے نتیجے میں بڑھ رہے ہیں۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان ایک ذمہ دار، سنجیدہ اور مؤثر عالمی کردار کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ان کی مشترکہ کاوشوں نے نہ صرف پاکستان کو ایک مضبوط سفارتی مقام دیا ہے بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ امن، مکالمہ اور باہمی احترام ہی مسائل کا حقیقی حل ہیں۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر پاکستان اپنی موجودہ پالیسیوں پر مستقل مزاجی کے ساتھ عمل کرتا رہا تو وہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی امن کا ایک اہم ستون بن سکتا ہے۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کا یہ کردار مستقبل میں مزید مضبوط اور مؤثر ہو سکتا ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہوگی۔

اگر امریکہ واقعی ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے تو سب سے پہلا قدم اسے اپنی دھمکی آمیز پالیسی ترک کرنے کی صورت می...
22/04/2026

اگر امریکہ واقعی ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے تو سب سے پہلا قدم اسے اپنی دھمکی آمیز پالیسی ترک کرنے کی صورت میں اٹھانا ہوگا۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ دھونس، دباؤ اور پابندیوں کے ذریعے کسی بھی خودمختار ریاست کو مذاکرات کی میز پر بامعنی اور دیرپا حل کے لیے آمادہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایران بارہا اس مؤقف کا اظہار کر چکا ہے کہ جب تک امریکہ اپنی جارحانہ حکمت عملی اور دھمکیوں کا سلسلہ بند نہیں کرتا، اس وقت تک کسی بھی قسم کے مذاکرات بے معنی اور غیر مؤثر ہوں گے۔

ایران اور امریکہ کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ رہے ہیں۔ اس کشیدگی کی بنیادی وجہ اعتماد کا فقدان ہے، جو وقت کے ساتھ مزید گہرا ہوتا گیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں، عسکری دھمکیاں اور خطے میں طاقت کے استعمال کی پالیسی نے ایران کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ کسی دباؤ میں آ کر اپنے قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا، چاہے اس کے لیے اسے معاشی مشکلات ہی کیوں نہ برداشت کرنی پڑیں۔

دوسری طرف امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام، میزائل ٹیکنالوجی اور خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہوگا۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ یہ مطالبات ایک ایسے لہجے میں پیش کرتا ہے جو مذاکرات کے بجائے حکم دینے کے مترادف محسوس ہوتا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں ایران کو یہ خدشہ لاحق ہوتا ہے کہ امریکہ کا اصل مقصد مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنا نہیں بلکہ اپنی شرائط مسلط کرنا ہے۔

بین الاقوامی سفارتکاری کا اصول یہ ہے کہ مذاکرات برابری کی سطح پر کیے جاتے ہیں، نہ کہ کسی ایک فریق کی بالا دستی کے تحت۔ اگر امریکہ واقعی ایران کے ساتھ بامعنی مذاکرات چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے اعتماد سازی کے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ ان اقدامات میں اقتصادی پابندیوں میں نرمی، عسکری بیانات میں کمی، اور ایران کی خودمختاری کا احترام شامل ہے۔ جب تک یہ بنیادی اقدامات نہیں کیے جاتے، اس وقت تک مذاکرات کا عمل محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جائے گا۔

ایران کی قیادت کا مؤقف واضح ہے کہ وہ عزت اور وقار کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن کسی بھی قسم کی دھمکی یا دباؤ کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ ایران یہ سمجھتا ہے کہ امریکہ کی پالیسیوں میں تضاد پایا جاتا ہے؛ ایک طرف وہ مذاکرات کی بات کرتا ہے، جبکہ دوسری طرف پابندیوں اور دھمکیوں میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ دوغلی پالیسی نہ صرف مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ خطے میں کشیدگی کو بھی بڑھاتی ہے۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی ایک نازک صورتحال سے گزر رہا ہے۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ان دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ توانائی کی عالمی منڈی، بین الاقوامی تجارت، اور علاقائی امن سب اس کشیدگی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری بھی یہ چاہتی ہے کہ دونوں ممالک تحمل کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں۔

مذاکرات کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے خدشات کو سنجیدگی سے سمجھیں۔ امریکہ کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ایران ایک خودمختار ریاست ہے جس کے اپنے سیکیورٹی خدشات اور قومی مفادات ہیں۔ اسی طرح ایران کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ عالمی برادری کو اس کے بعض اقدامات پر تحفظات ہیں۔ تاہم، یہ تمام معاملات صرف اسی صورت میں حل ہو سکتے ہیں جب مذاکرات ایک مثبت اور باہمی احترام کے ماحول میں کیے جائیں۔

اگر امریکہ واقعی سنجیدہ ہے تو اسے اپنی پالیسی میں واضح تبدیلی لانا ہوگی۔ اسے یہ پیغام دینا ہوگا کہ وہ ایران کے ساتھ برابری کی بنیاد پر بات چیت کرنا چاہتا ہے، نہ کہ اسے دباؤ میں لا کر اپنی شرائط منوانا چاہتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے اپنے لہجے اور رویے میں نرمی پیدا کرے۔ دھمکیوں کا خاتمہ ہی وہ پہلا قدم ہے جو اعتماد کی بحالی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا راستہ کھلا ضرور ہے، لیکن اس پر آگے بڑھنے کے لیے سنجیدگی، بردباری اور باہمی احترام ناگزیر ہیں۔ اگر امریکہ اپنی دھمکی آمیز پالیسی ترک کر دیتا ہے تو یہ نہ صرف مذاکرات کی راہ ہموار کرے گا بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی ایک مثبت پیش رفت ثابت ہوگا۔ بصورت دیگر، کشیدگی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور مذاکرات محض ایک خواب بن کر رہ جائیں گے۔

تحریر: ایم ریاض قیصر

اسرائیل اور امن معاہدے: اقوامِ متحدہ کی قراردادیں اور نامکمل وعدےتحریر: ایم ریاض قیصرمشرقِ وسطیٰ کی تاریخ گزشتہ کئی دہائ...
20/04/2026

اسرائیل اور امن معاہدے: اقوامِ متحدہ کی قراردادیں اور نامکمل وعدے
تحریر: ایم ریاض قیصر

مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ گزشتہ کئی دہائیوں سے تنازعات، جنگوں اور نامکمل امن معاہدوں سے بھری پڑی ہے۔ اسرائیل کے قیام کے بعد سے لے کر آج تک متعدد امن معاہدے، اقوامِ متحدہ کی قراردادیں اور مختلف عالمی طاقتوں کی جانب سے پیش کیے گئے فارمولے سامنے آئے، مگر ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جن پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ رہی کہ فریقین، خصوصاً اسرائیل، بعض اہم نکات پر عمل کرنے سے گریز کرتا رہا، جس کے باعث خطے میں مستقل امن قائم نہ ہو سکا۔

اقوامِ متحدہ نے 1947 میں فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ پیش کیا جسے قرارداد 181 کہا جاتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایک یہودی اور ایک عرب ریاست کے قیام کی تجویز دی گئی تھی۔ یہودی قیادت نے اس منصوبے کو قبول کیا، مگر عرب ممالک اور فلسطینی قیادت نے اسے مسترد کر دیا کیونکہ ان کے نزدیک یہ تقسیم غیر منصفانہ تھی۔ اس کے بعد 1948 میں اسرائیل کے قیام کے ساتھ ہی پہلی عرب اسرائیل جنگ چھڑ گئی، جس نے خطے میں عدم استحکام کی بنیاد رکھ دی۔

1967 کی جنگ کے بعد اقوامِ متحدہ کی قرارداد 242 سامنے آئی، جس میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان علاقوں سے واپس ہو جائے جن پر اس نے جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا، جن میں مغربی کنارہ، غزہ، مشرقی یروشلم اور گولان کی پہاڑیاں شامل تھیں۔ اس کے بدلے عرب ممالک کو اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے کی بات کی گئی۔ تاہم، اس قرارداد کی تشریح پر اختلافات پیدا ہو گئے، اور اسرائیل نے مکمل انخلا سے گریز کیا، جس کے باعث یہ مسئلہ آج تک حل طلب ہے۔

اسی طرح 1973 کی جنگ کے بعد قرارداد 338 منظور کی گئی، جس میں فوری جنگ بندی اور قرارداد 242 پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا۔ اگرچہ اس کے بعد مصر اور اسرائیل کے درمیان 1979 میں کیمپ ڈیوڈ معاہدہ طے پایا، جس کے نتیجے میں مصر نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا اور بدلے میں اسرائیل نے جزیرہ نما سینا واپس کر دیا، لیکن فلسطینی مسئلہ بدستور حل نہ ہو سکا۔

1993 میں اوسلو معاہدہ ایک بڑی پیش رفت سمجھا گیا۔ اس معاہدے کے تحت فلسطینی اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا اور اسرائیل نے محدود خودمختاری دینے پر اتفاق کیا۔ تاہم، یہ معاہدہ بھی مکمل امن کا ضامن ثابت نہ ہو سکا کیونکہ اس میں اہم مسائل جیسے یروشلم کی حیثیت، پناہ گزینوں کی واپسی اور یہودی بستیوں کا خاتمہ شامل نہیں تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان بستیوں میں اضافہ ہوتا گیا، جس نے امن عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

2000 میں کیمپ ڈیوڈ مذاکرات کا ایک اور دور ہوا، مگر یہ بھی ناکام رہا۔ فلسطینی قیادت اور اسرائیل کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار رہے، خاص طور پر یروشلم کی حیثیت اور سرحدوں کے تعین کے حوالے سے۔ اس کے بعد دوسری انتفاضہ شروع ہوئی، جس نے خطے کو مزید خونریزی کی طرف دھکیل دیا۔

2002 میں عرب لیگ نے عرب امن اقدام پیش کیا، جس کے تحت تمام عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے پر آمادہ تھے، بشرطیکہ وہ 1967 کی سرحدوں تک واپس چلا جائے اور فلسطینی ریاست کے قیام کو تسلیم کرے۔ اسرائیل نے اس پیشکش کو مکمل طور پر قبول نہیں کیا، حالانکہ اسے ایک تاریخی موقع سمجھا جاتا تھا۔

اقوامِ متحدہ کی متعدد دیگر قراردادیں بھی سامنے آئیں، جن میں اسرائیلی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا، مگر ان پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ اسرائیل نے اپنی سکیورٹی خدشات کو بنیاد بنا کر ان فیصلوں کو نظرانداز کیا، جبکہ فلسطینی عوام اسے اپنے حقوق کی کھلی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔

یہ کہنا مکمل طور پر درست نہیں کہ تمام ناکامیوں کی ذمہ داری صرف ایک فریق پر عائد ہوتی ہے، مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اسرائیل نے کئی مواقع پر بین الاقوامی دباؤ کے باوجود مکمل عملدرآمد سے گریز کیا۔ خاص طور پر بستیوں کی تعمیر، فوجی کارروائیاں اور سرحدی کنٹرول جیسے معاملات میں اس کا مؤقف سخت رہا ہے۔

دوسری جانب، فلسطینی قیادت کے اندرونی اختلافات، حماس اور فتح کے درمیان تقسیم، اور بعض اوقات تشدد کے واقعات نے بھی امن عمل کو نقصان پہنچایا۔ عالمی طاقتوں کی دوہری پالیسیوں نے بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا، جہاں ایک طرف امن کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف عملی اقدامات میں تضاد نظر آتا ہے۔

نتیجتاً، آج بھی مشرقِ وسطیٰ ایک مستقل اور منصفانہ امن سے محروم ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں، امن معاہدے اور سفارتی کوششیں اپنی جگہ موجود ہیں، مگر جب تک ان پر خلوص نیت سے عملدرآمد نہیں ہوتا، تب تک یہ صرف کاغذی دستاویزات ہی رہیں گی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریقین، خصوصاً اسرائیل اور فلسطینی قیادت، سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آئیں اور بین الاقوامی قوانین اور قراردادوں کا احترام کریں۔ اسی صورت میں خطے میں پائیدار امن کا خواب حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے۔

ایران امریکہ مذاکرات: دوسرے مرحلے میں تاخیر کیوں؟ ڈیڈ لاک کہنا قبل از وقتتحریر: ایم ریاض قیصرایران اور امریکہ کے درمیان ...
20/04/2026

ایران امریکہ مذاکرات: دوسرے مرحلے میں تاخیر کیوں؟ ڈیڈ لاک کہنا قبل از وقت
تحریر: ایم ریاض قیصر

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات عالمی سیاست کا ایک نہایت اہم اور حساس موضوع بن چکے ہیں۔ حالیہ عرصے میں ان مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں تاخیر نے مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے، جہاں بعض حلقے اسے ڈیڈ لاک قرار دے رہے ہیں، وہیں دیگر ماہرین کے نزدیک یہ تاخیر ایک فطری سفارتی عمل کا حصہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مرحلے پر ڈیڈ لاک کا لفظ استعمال کرنا قبل از وقت محسوس ہوتا ہے، کیونکہ پیچیدہ بین الاقوامی معاملات میں وقت لینا اکثر بہتر اور دیرپا نتائج کا پیش خیمہ بنتا ہے۔

ایران اور امریکہ کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے کشیدہ رہے ہیں، خصوصاً 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) کے بعد امید کی ایک کرن پیدا ہوئی تھی۔ تاہم 2018 میں امریکہ کی جانب سے اس معاہدے سے علیحدگی نے حالات کو دوبارہ تناؤ کی طرف دھکیل دیا۔ اب جب دوبارہ مذاکرات کا آغاز ہوا ہے تو دونوں فریقین نہایت احتیاط اور باریک بینی سے ہر پہلو کا جائزہ لے رہے ہیں، جس کی وجہ سے پیش رفت سست دکھائی دیتی ہے۔

دوسرے مرحلے میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ اعتماد کا فقدان ہے۔ ایران کو خدشہ ہے کہ ماضی کی طرح امریکہ دوبارہ کسی بھی وقت معاہدے سے پیچھے ہٹ سکتا ہے، جبکہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کی شفافیت اور اس کی حدود کے حوالے سے مکمل یقین دہانی چاہتا ہے۔ ان بنیادی اختلافات کو حل کیے بغیر کسی بھی حتمی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں، اسی لیے مذاکرات میں احتیاط برتی جا رہی ہے۔

مزید برآں، خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال بھی اس تاخیر کی ایک اہم وجہ ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، اسرائیل اور ایران کے درمیان تناؤ، اور عالمی طاقتوں کے مفادات اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں کسی بھی جلد بازی کا فیصلہ نہ صرف معاہدے کو کمزور بنا سکتا ہے بلکہ خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

یہ بھی اہم ہے کہ مذاکرات صرف دو ممالک کے درمیان نہیں بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر مرتب ہوتے ہیں۔ یورپی یونین، روس اور چین جیسے اہم عالمی کھلاڑی بھی اس عمل میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اپنی اپنی ترجیحات کے مطابق اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کثیر الجہتی سفارت کاری میں وقت کا لگنا ایک فطری امر ہے۔

پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صورتحال ایک موقع بھی ثابت ہو رہی ہے۔ پاکستان نے حالیہ برسوں میں اپنی متوازن خارجہ پالیسی کے ذریعے خطے میں ایک ذمہ دار اور معتدل کردار ادا کیا ہے۔ ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھنا پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے، جس کی بدولت اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان نہ صرف ایک ایٹمی طاقت ہے بلکہ اس کی جغرافیائی حیثیت بھی اسے خطے میں ایک اہم کھلاڑی بناتی ہے۔ افغانستان کی صورتحال، چین کے ساتھ اقتصادی راہداری (CPEC)، اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات نے پاکستان کو ایک ایسا پل بنا دیا ہے جو مختلف طاقتوں کو جوڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران امریکہ مذاکرات کے تناظر میں بھی پاکستان کی پوزیشن پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط نظر آتی ہے۔

تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان اس موقع کو دانشمندی سے استعمال کرے۔ کسی ایک فریق کی کھلی حمایت کرنے کے بجائے غیر جانبداری اور توازن برقرار رکھنا ہی اس کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ سفارتی سطح پر بیک چینل رابطے، ثالثی کی پیشکش، اور علاقائی استحکام کے لیے کوششیں پاکستان کے کردار کو مزید مضبوط بنا سکتی ہیں۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایران امریکہ مذاکرات میں تاخیر کو فوری طور پر ناکامی یا ڈیڈ لاک قرار دینا حقیقت پسندانہ تجزیہ نہیں۔ یہ ایک پیچیدہ اور طویل عمل ہے جس میں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا جا رہا ہے۔ اگر دونوں فریقین سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ آگے بڑھتے رہے تو مستقبل میں ایک ایسا معاہدہ ممکن ہے جو نہ صرف ان دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔

اسی طرح، پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنی سفارتی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے نہ صرف اپنی عالمی حیثیت کو مزید مستحکم کرے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے قیام میں بھی مثبت کردار ادا کرے۔

مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی طاقت کا توازن: کیا امریکہ واقعی ایران سے ہار چکا ہے اور اسرائیل جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کیوں کر رہ...
14/04/2026

مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی طاقت کا توازن: کیا امریکہ واقعی ایران سے ہار چکا ہے اور اسرائیل جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کیوں کر رہا ہے؟
تحریر: ایم ریاض قیصر

مشرقِ وسطیٰ ہمیشہ سے عالمی سیاست کا مرکز رہا ہے، جہاں طاقت، مفادات اور نظریات کا ٹکراؤ مسلسل جاری رہتا ہے۔ حالیہ برسوں میں یہ تاثر زور پکڑ رہا ہے کہ امریکہ خطے میں اپنی گرفت کھو رہا ہے جبکہ ایران ایک مضبوط علاقائی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اسی تناظر میں بعض حلقے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ امریکہ دراصل ایران کے ہاتھوں “جنگ ہار چکا ہے”۔ ساتھ ہی اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مگر حقیقت کیا ہے؟ اس سوال کا جواب جذبات سے نہیں بلکہ حقائق سے تلاش کرنا ضروری ہے۔

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کبھی بھی روایتی معنوں میں براہِ راست جنگ نہیں ہوئی۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ضرور رہی ہے، لیکن یہ زیادہ تر “پراکسی وار” (بالواسطہ جنگ) کی صورت میں لڑی گئی ہے۔ عراق، شام، لبنان اور یمن جیسے ممالک میں ایران نے اپنے اتحادی گروہوں کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھایا، جبکہ امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ذریعے اس کا مقابلہ کیا۔ اس تناظر میں اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ امریکہ “ہار چکا ہے”، تو یہ ایک سیاسی یا تجزیاتی رائے تو ہو سکتی ہے، مگر اسے حتمی حقیقت قرار دینا درست نہیں۔

البتہ یہ بات ضرور قابلِ غور ہے کہ امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ میں ترجیحات بدل رہی ہیں۔ وہ اب اپنی توجہ چین اور ایشیا پیسیفک خطے کی طرف منتقل کر رہا ہے۔ افغانستان سے انخلا، عراق میں فوجی کردار میں کمی، اور خطے میں براہِ راست مداخلت سے گریز—یہ سب اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ امریکہ اپنی پالیسی تبدیل کر رہا ہے۔ اس خلا کو ایران نے بڑی مہارت سے پُر کرنے کی کوشش کی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس کا اثر و رسوخ بڑھتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

ایران نے خاص طور پر “محورِ مزاحمت” (Axis of Resistance) کے ذریعے اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے، جس میں لبنان کی حزب اللہ، عراق کے بعض ملیشیاز اور یمن کے حوثی شامل ہیں۔ یہ گروہ ایران کی پالیسیوں کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس حکمت عملی نے ایران کو بغیر براہِ راست جنگ لڑے ایک طاقتور کھلاڑی بنا دیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کی پالیسی کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اسرائیل خود کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کرتا ہے جو مسلسل خطرات میں گھرا ہوا ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہ اس کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ اسی لیے اسرائیل اکثر پیشگی حملوں (pre-emptive strikes) کی حکمت عملی اپناتا ہے۔

جہاں تک جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا تعلق ہے، تو اس کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں۔ سب سے اہم وجہ اعتماد کی کمی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی زیادہ تر جنگ بندیاں کمزور بنیادوں پر قائم ہوتی ہیں۔ جب فریقین ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے، تو معمولی واقعات بھی بڑے تصادم میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ جنگ بندی اکثر کسی ایک گروہ کے ساتھ ہوتی ہے، جبکہ میدان میں کئی دیگر مسلح گروہ بھی موجود ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی ایک تنظیم کے ساتھ جنگ بندی ہو جائے، تو ضروری نہیں کہ دوسرے گروہ بھی اس کی پابندی کریں۔ اس صورت میں اسرائیل کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لیے کارروائی کرتا ہے، جسے جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔

اسرائیل کی اندرونی سیاست بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وہاں کی حکومتیں اکثر سخت مؤقف اپناتی ہیں تاکہ عوامی حمایت برقرار رکھ سکیں۔ سیکیورٹی کے معاملات میں نرمی دکھانا سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے بعض اوقات فوجی کارروائیاں سیاسی مجبوری بھی بن جاتی ہیں۔

اسی طرح امریکہ کا کردار بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ وہ اب بھی اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی ہے اور اسے سفارتی، فوجی اور مالی حمایت فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ امریکہ براہِ راست جنگ میں شامل نہیں ہوتا، لیکن اس کی پالیسیوں کا اثر خطے پر واضح ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ناقدین کہتے ہیں کہ اسرائیل کو امریکہ کی پشت پناہی حاصل ہونے کی وجہ سے وہ زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کرتا ہے۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی دراصل ایک بڑی “شیڈو وار” (سایہ جنگ) کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس میں سائبر حملے، خفیہ آپریشنز اور پراکسی گروپس کے ذریعے ایک دوسرے کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس جنگ میں کھلی محاذ آرائی کم، مگر اثرات زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔

موجودہ صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ روس اور چین بھی مشرقِ وسطیٰ میں اپنا کردار بڑھا رہے ہیں، جس سے امریکہ کی روایتی بالادستی کو چیلنج ملا ہے۔ اس بدلتی ہوئی دنیا میں ایران جیسے ممالک کے لیے مواقع پیدا ہوئے ہیں کہ وہ اپنی پوزیشن مضبوط کریں۔

آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو سادہ الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ “امریکہ ہار گیا” یا “اسرائیل بلاوجہ جنگ بندی توڑ رہا ہے” جیسے بیانات حقیقت کا مکمل عکس پیش نہیں کرتے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک پیچیدہ طاقت کا کھیل ہے، جس میں ہر ملک اپنے مفادات کے تحت فیصلے کرتا ہے۔

جب تک خطے میں بنیادی مسائل—جیسے فلسطین کا تنازع، ایران اور اسرائیل کی دشمنی، اور عالمی طاقتوں کی مداخلت—حل نہیں ہوتے، اس قسم کی کشیدگی اور جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رہیں گی۔ امن کا قیام صرف طاقت سے نہیں بلکہ سنجیدہ مذاکرات، اعتماد سازی، اور انصاف پر مبنی حل سے ہی ممکن ہے۔

تحریر: ایم ریاض قیصر

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی: اگر اسرائیل باز نہ آیا تو ترکیہ کا ممکنہ ردِعملتحریر: ایم ریاض قیصرمشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر...
14/04/2026

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی: اگر اسرائیل باز نہ آیا تو ترکیہ کا ممکنہ ردِعمل
تحریر: ایم ریاض قیصر
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، جہاں اسرائیل، ایران اور لبنان کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے خطے کو ایک ممکنہ بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں اسرائیل کی جانب سے شام، لبنان اور ایران سے وابستہ اہداف پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں خطے کے دیگر اہم ممالک خصوصاً ترکیہ نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسرائیل اپنی جارحانہ پالیسیوں سے باز نہ آیا تو کیا واقعی ترکیہ براہِ راست اسرائیل کے خلاف فوجی کارروائی کر سکتا ہے؟
اسرائیل کا مؤقف یہ ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں جیسے حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے۔ اسرائیلی حکام بارہا یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایران شام اور لبنان کے راستے اپنی عسکری طاقت کو بڑھا رہا ہے، جو اسرائیل کے لیے خطرہ ہے۔ اسی بنیاد پر اسرائیل نے متعدد فضائی حملے کیے، جن میں ایرانی تنصیبات اور حزب اللہ کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب ایران ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور اسرائیل کی کارروائیوں کو خطے میں عدم استحکام کی بڑی وجہ قرار دیتا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں اپنے اتحادیوں کی مدد کر رہا ہے اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ لبنان میں حزب اللہ بھی واضح طور پر اعلان کر چکی ہے کہ اگر اسرائیل نے حملے جاری رکھے تو وہ سخت ردعمل دے گی۔
یہی وہ صورتحال ہے جس نے ترکیہ کو بھی میدان میں لا کھڑا کیا ہے۔ ترکیہ، جو کہ ایک مضبوط فوجی طاقت اور نیٹو کا اہم رکن ہے، گزشتہ کچھ سالوں میں فلسطین کے مسئلے پر کھل کر اسرائیل کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ ترک قیادت نے بارہا اسرائیلی کارروائیوں کو “ظلم” اور “انسانی حقوق کی خلاف ورزی” قرار دیا ہے۔ حالیہ بیانات میں ترکیہ کے صدر نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی نہ کی تو خطے میں بڑے نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
ترکیہ کی پالیسی کو سمجھنے کے لیے اس کے جغرافیائی اور سیاسی مفادات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ترکیہ خود کو نہ صرف ایک علاقائی طاقت بلکہ مسلم دنیا کا ایک اہم نمائندہ سمجھتا ہے۔ شام کی جنگ، عراق کی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں دیگر تنازعات میں ترکیہ کا کردار پہلے ہی نمایاں رہا ہے۔ ایسے میں اگر اسرائیل ایران اور لبنان کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کرتا ہے تو ترکیہ کے لیے خاموش رہنا مشکل ہو سکتا ہے۔
تاہم یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا ترکیہ واقعی اسرائیل کے خلاف براہِ راست جنگ کا خطرہ مول لے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ ایسا فیصلہ انتہائی پیچیدہ ہوگا۔ اسرائیل نہ صرف ایک مضبوط فوجی طاقت ہے بلکہ اسے امریکہ اور مغربی ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ترکیہ اگر براہِ راست حملہ کرتا ہے تو یہ صرف ایک دو طرفہ جنگ نہیں رہے گی بلکہ ایک وسیع علاقائی یا حتیٰ کہ عالمی تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
مزید برآں، ترکیہ کی معیشت اس وقت مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، اور ایک بڑی جنگ اس کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ اسی طرح نیٹو کی رکنیت بھی ترکیہ کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے، کیونکہ کسی بھی بڑی عسکری کارروائی کے عالمی اثرات مرتب ہوں گے۔
دوسری طرف عوامی دباؤ اور سیاسی بیانات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ترکیہ میں عوام کی ایک بڑی تعداد فلسطینیوں اور خطے کے دیگر مظلوم مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہے۔ اگر اسرائیل کی کارروائیاں جاری رہتی ہیں اور انسانی نقصان بڑھتا ہے تو ترکیہ کی حکومت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ وہ زیادہ سخت اقدامات کرے۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں ترکیہ کی جانب سے فوری طور پر اسرائیل پر براہِ راست حملہ کرنے کے امکانات کم ہیں، لیکن یہ امکان مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ ترکیہ سفارتی دباؤ، اقتصادی پابندیوں اور بین الاقوامی فورمز پر اسرائیل کے خلاف آواز بلند کرے گا۔ اس کے علاوہ ترکیہ خطے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ حکمت عملی بھی اختیار کر سکتا ہے۔
اگر حالات مزید بگڑتے ہیں اور اسرائیل، ایران یا لبنان کے درمیان براہِ راست جنگ چھڑ جاتی ہے، تو ترکیہ کو بھی اپنی پوزیشن واضح کرنی پڑے گی۔ ایسی صورتحال میں کسی بھی غلط فیصلے کے نتائج نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ اسرائیل، ایران، لبنان اور ترکیہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک بڑے بحران کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ اگر تمام فریقین نے تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ تنازع ایک بڑی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔
دنیا کو اس وقت ضرورت ہے کہ سفارتکاری کو فروغ دیا جائے، تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے اور انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔ بصورت دیگر، ایک چھوٹی سی چنگاری پورے خطے کو آگ کی لپیٹ میں لے سکتی ہے، جسے بجھانا کسی کے بس میں نہیں ہوگا

Address

Kanganpur
Kasur
55000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M.Riaz Qaiser posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share