Anmool Motti

Anmool Motti راہ نجات بشرط اعمال

18/04/2020

تصوف؟

جنید رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا:= تصوف کی بناء 8 خصائل پر ہیں
(جو8 پیغمبروں کی اقتداءہے)

1۔سخاوت جس میں حضرت ابراھیم علیہ السلام کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو فدا کیا۔

2۔رضا جس میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کہ انہوں نے برضائے خداوندی اپنی جان اللہ کو پیش کی۔

3۔صبر جس میں حضرت ایوب علیہ السلام کہ انہوں نے غیرت خداوندی پر صبر کیا اور کیڑوں کی مصیبت برداشت کی۔

4۔اشارات جس میں حضرت ذکریا علیہ السلام کہ جن کے لئے اللہ نے فرمایا (ال عمران:41)"تین دن لوگوں سے بات مت کرو مگر اشارے سے۔"

5۔غربت جس میں حضرت یحی علیہ السلام کہ وہ اپنے وطن میں بھی اپنوں سے بےگانہ تھے۔

6۔صوف پوشی جس میں حضرت موسی علیہ السلام کہ ان کا تمام لباس اون کا تھا۔

7۔سیر جس میں حضرت عیسی علیہ السلام کہ وہ راہ خدا میں اتنے مجرواورتنہا تھے کہ سامان زندگی میں سے صرف پیالہ اور کنگھی رکھتے تھے اور جب دیکھا کہ ایک آدمی ہاتھ سے پانی پی رہا ہے تو پیالہ پھینک دیا اور جب دیکھا کہ ایک آدمی انگیوں سے بال درست کر رہا ہے تو کنگھی بھی پھینک دی۔

8۔فقر جس میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کہ جن کو اللہ نے روئے زمین کے سب خزانوں کی چابیاں عطا فرمائیں اور حکم دیا کہ محنت و مشقت چھور کر شان و شوکت سے بسر کرو مگر حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے عرض کی اللہ میں خزانے نہیں چاہتا۔مجھے ایک روز سیر ہو کر کھانے کو دے اور دوسرے دن بھوکا رکھ۔
یہ آٹھ اصول راہ طریقت میں بہترین ہیں۔

(کشف المحجوب صفحہ 90۔)

05/04/2020

جب حضرت شمس الدین تبریزی رحمتہ ﷲ علیہ نے دعا کی کہ اے خدا شمس تبریز کا وقت آخر معلوم ہوتا ہے۔ میرے سینے میں آپ کی محبت کی آگ کی جو امانت ہے کوئی بندہ ایسا عطا فرما کہ اس کے سینے میں امانت کو منتقل کردوں، کوئی ایسا سینہ عطا کر دے جو اس قیمتی امانت کا اہل ہو، الہام ہوا کہ "اے شمس الدین ! قونیہ جاؤ، میرا ایک بندہ جلال الدین رومی ہے میری محبت کی آگ کی اس امانت کو جو زمین و آسمان سے زیادہ قیمتی ہے اس کے سینے میں منتقل کردو، اس کا سینہ اس کے قابل ہے۔ اور اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ امانت زمین و آسمان سے زیادہ قیمتی کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین و آسمان نے انکار کر دیا تھا۔ زمین و آسمان جیسی عظیم القامت مخلوق نے جن امانت کو اٹھانے سے انکار کردیا، ﷲ کے عاشقوں کے دل نے اسے قبول کرلیا جو ڈیڑھ چھٹانک کا ہے مگر اس کو ڈیڑھ چھٹانک کا نہ سمجھو۔ حضرت مولانا رومیؒ فرماتے ہیں ؎

در فراخ عرصۂ آں پاک جاں
تنگ آید عرصۂ ہفت آسماں

ﷲ والوں کی جانوں میں، ان کے قلوب میں اتنا پھیلاؤ اتنی وسعت ہے کہ ساتوں آسمان کی وسعت اس کے سامنے تنگ ہوجاتی ہے کیوں کہ وہ ﷲ کے خاص بندے ہیں۔ ﷲ ان کے قلب میں ایسی وسعت پیدا کردیتا ہے کہ ساتوں آسمان اس کے قیدی معلوم ہوتے ہیں۔

05/04/2020

جب حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمة اللہ علیہ کی وفات ہوئی کہرام مچ گیا۔

جنازہ تیار ہوا۔ ایک بڑے میدان میں جنازہ پڑھنے کیلئے لایا گیا۔ ایک خلقت جنازہ پڑھنے کیلئے نکل پڑی۔ انسانوں کا ایک سمندر تھا جو جہاں تک نگاہ جاتی تھی وہاں تک نظر آتا تھا, یوں معلوم ہوتا تھا کہ ایک بپھرے ہوئے دریا کی طرح یہ مجمع ہے۔

جب جنازہ پڑھانے کا وقت آیا ایک آدمی بڑھا۔ کہتا ہے کہ....!
میں وصی ہوں یعنی مجھے حضرت رحمة اللہ علیہ نے وصیت کی تھی۔ میں اس مجمع تک وہ وصیت پہنچانا چاہتا ہوں۔ مجمع خاموش ہو گیا‘ وصیت کیا تھی خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمة اللہ علیہ نے یہ وصیت (مرنے سے پہلے کی خاص نصیحت اور خواہش) کی کہ میرا جنازہ وہ شخص پڑھائے جس کے اندر چار خوبیاں ہوں۔

-پہلی خوبی یہ کہ زندگی میں اس کی تکبیر اولیٰ کبھی قضا نہ ہوئی ہو یعنی نماز شروع کرتے وقت جب امام صاحب تکبیر اول کہیں تو وہ شخص اسی وقت نماز میں شامل ہو۔ -دوسری شرط اس کی تہجد کی نماز کبھی قضا نہ ہوئی ہو۔
-تیسری بات یہ کہ اس نے غیر محرم پر کبھی بھی بری نظر نہ ڈالی ہو۔
-چوتھی بات یہ کہ اتنا عبادت گزار ہو کہ اس نے عصر کی فرض نماز سے پہلے کی سنتیں بھی کبھی نہ چھوڑی ہوں۔ جس شخص میں یہ چار خوبیاں ہوں وہ میرا جنازہ پڑھائے۔
جب یہ بات کی گئی تو مجمعے کو سانپ سونگھ گیا۔ سناٹا چھا گیا‘ لوگوں کے سر جھک گئے کون ہے جو قدم آگے بڑھائے.

کافی دیر گزر گئی حتیٰ کہ ایک شخص روتا ہوا آگے بڑھا۔ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمة اللہ علیہ کے جنازے کے قریب آیا جنازے سے چادر ہٹائی اور کہا قطب الدین بختیار کاکی رحمة اللہ علیہ آپ خود تو فوت ہو گئے مگر مجھے رسوا کر دیا۔ اس کے بعد بھرے مجمع کے سامنے اللہ کو حاضر ناظر جان کر قسم اٹھائی کہ میرے اندر یہ چاروں خوبیاں اللہ کے حکم اور فضل سے موجود ہیں۔ لوگوں نے دیکھا یہ وقت کا بادشاہ شمس الدین التمش تھا۔

اگر بادشاہی کرنے والے دینی زندگی گزار سکتے ہیں تو کیا ہم ایسی زندگی نہیں گزار سکتے؟
اللہ رب العزت ہمیں نیکی کی توفیق عطا فرمائے.آمین

05/04/2020

انسان کے چار وجود ہیں،(1)ناسوتی وجود یعنی موجوده جسمانی وجود،(2)ملکوتی وجود،(3)،جبروتی وجود اور (4)لاهوتی وجود

ان چاروں میں سے پہلے تین وجودوں کا تعلق عالم خلق سے هے اور یہ تینوں فانی ہیں اور ان میں صفات الہیہ کی معرفت سے فیض یاب هونے کی استعداد و صلاحیت موجود هے جبکہ چوتهے لاهوتی وجود کا تعلق عالم خلق سے نہیں بلکہ عالم امر سے اور یہ غیر فانی هے اور اس میں ذات الہیہ کی معرفت سے فیض یاب هونے کی صلاحیت و استعداد موجود هے

الله تعالی کی معرفت اور اس کے قرب کے حصول کے لیے ان چاروں وجودوں کی تعلیم و تربیت کے لیے علیحده علیحده نصاب مقرر هے حیوانی ناسوتی وجود کی تعلیم و تربیت کے لیے علم شریعت اور اعمال شریعت کا نصاب هے جس کی تدریس علمائے ظاہر کے ذمہ هے علم شریعت اور اعمال شریعت اختیار کیے بغیر ظاہری ناسوتی وجود اپنی سعادت و کامیابی سے محروم ره جاتا هے اور آخرت کے ابدی انعام جنت الماوی تک نہیں پہنچ پاتا کیوں کہ جنت الماوی اعمال شریعت کا ثمره هے اور یہ جنت عالم ناسوت کا پر تو هے

ملکوتی وجود کی تعلیم و تربیت کا نصاب "علم طریقت" هے یعنی کسی شیخ کامل کے هاته پر بیعت کر کے اس کے احکام و فرامین پر صدق دل سے عمل پیرا هونا اعمال طریقت سے اس ملکوتی وجود کی نمود هوتی هے جو عالم ملکوت میں پہنچ کر صفات الہیہ کے ملکوتی انوار سے فیض یاب ہو کر وہاں کے ثمر "جنت النعیم "سے بہره ور هوتا هے اعمال طریقت کے بغیر جنت نعیم کا حصول قطعا ناممکن هے

جبروتی وجود کی تعلیم و تربیت کے نصاب کا نام علم معرفت اور اعمال معرفت هے،اس نصاب کی تدریس بهی شیخ کامل کے ذمہ هے اعمال معرفت اختیار کر کے انسان جبروت میں داخل هو کر الله تعالی کی جبروتی صفات کی معرفت حاصل کرتا هے اور تقدیر الہیہ کو سمجه کر اس کی موافقت اختیار کرکے تسلیم و رضا کا رویہ اپناتا هے جس کا ثمر اسے "جنت الفردوس "کیصورت میں میسر آتا هے علم معرفت اور اعمال معرفت اختیار کیے بغیر "جنت الفردوس" تک رسائی قطعا ناممکن هے

گویا انسان کی کامیابی کا گریہ هے کہ پہلے وه اعمال شریعت کو اپنائے اور اس کے ساته ساته اعمال طریقت اختیار کر کے وجود کی نفی کرے تاکہ اس کا ملکوتی وجود ظاہر هو کر عالم ناسوت سے نکل کر عالم ملکوت میں واپس پہنچے عالم ملکوت میں پہنچ کر اعمال معرفت اختیار کرے تاکہ اس کے ملکوتی وجود کہ بهی نفی هو جائے اور اس کا جبروتی وجود ظاہر هو کر عالم جبروت میں واپس پہنچے لاهوتی وجود کی تعلیم و تربیت کے نصاب کا نام علم حقیقت اور اعمال حقیقت هے اور اس کی تدریس بهی شیخ کامل کے ذمہ هے علم حقیقت اور اعمال حقیقت اختیار کرنے سے جبروتی وجود کی نفی هو جاتی هے اور انسان بشریت سے کی قید سے نکل کر عالم امر کی قدوسی صورت میں عالم خلق کی تینوں قوسوں (ناسوت،ملکوت،جبروت)کو توڑتا هو الله تعالی کے مقام قرب یعنی عالم لاهوت کی جنت میں داخل هو جاتا هے جس کے متعلق حضور علیہ الصلواتہ والسلام نے فرمایا هے:

"ان الله جنته لا فیها حورو لا قصور و لا عسل ولا لبن بل ان ینظر الی وجه الله"

ترجمہ:
"تحقیق الله تعالی کے هاں ایک ایسی جنت بهی هے کہ نہ اس میں حورو قصور ہیں اور نہ شہد و دوده هے بلکہ اس میں ذات حق تعالی کا دیدار هے "

(انسانیت اور تکمیل انسانیت ص 12
مصنف سید امیر خان نیازی سروری قادری)

02/04/2020

موت کیا ہے۔
سب سے پہلے میری موت پر مجھ سے جو چھین لیا جائے گا وہ میرا نام ہوگا! !!
اس لئے جب میں مرجاوں گا تو لوگ کہیں گے کہ" لاش کہاں" ہے؟
اور مجھے میرے نام سے نہیں پکاریں گے ۔۔!
اور جب نماز جنازہ پڑھانا ہو تو کہیں گے "جنازہ لےآؤ "!!!
میرانام نہیں لینگے ۔۔!
اور جب میرے دفنانے کا وقت آجائےگا تو کہیں گے "میت کو قریب کرو" !!! میرانام بھی یاد نہیں کریں گے ۔۔۔!
اس وقت نہ میرا نسب اور نہ ہی قبیلہ میرے کام آئے گا اور نہ ہی میرا منصب اور شہرت۔۔۔
کتنی فانی اور دھوکہ کی ہے یہ دنیا جسکی طرف ہم لپکتے ہیں۔۔
پس اے زندہ انسان ۔۔۔ خوب جان لے کہ تجھ پر غم و افسوس تین طرح کا ہوتا ہے :

1۔ جو لوگ تجھے سرسری طور پر جانتے ہیں وہ مسکین کہکر غم کا اظہار کریں گے ۔
2۔ تیرے دوست چند گھنٹے یا چند روز تیرا غم کریں گے اور پھر اپنی اپنی باتوں اور ہنسی مذاق میں مشغول ہو جائیں گے ۔
3۔ زیادہ سے زیادہ گہرا غم گھر میں ہوگا وہ تیرے اہل وعیال کو ہوگا جو کہ ہفتہ، دو ہفتے یا دو مہینے اور زیادہ سے زیادہ ایک سال تک ہوگا ۔
اور اس کے بعد وہ تجھے یادوں کے پنوں میں رکھ دیں گے! !!

لوگوں کے درمیان تیرا قصہ ختم ہو جاۓ گا
اور تیرا حقیقی قصہ شروع ہو جاۓ گا۔ وہ ہے آخرت کا ۔

تجھ سے چھین گیا تیرا ۔۔۔
1۔ جمال ۔۔۔
2۔ مال۔۔
3۔ صحت۔۔
4۔ اولاد ۔۔
5۔ جدا ہوگئےتجھ سے مکان و محلات۔
6۔ بیوی ۔۔۔
7۔ غرض ساری دنیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور کچھ باقی نہ رہا تیرے ساتھ سوائے تیرے اعمال کے۔
اور حقیقی زندگی کا آغاز ہوا ۔

اب سوال یہاں یہ ہیکہ :

تو نے اپنی قبر اور آخرت کے لئے اب سے کیا تیاری کی ہے ؟
یہی حقیقت ہے جسکی طرف توجہ چاہئے ۔۔
اس کے لیے تجھے چاہئے کہ تو اہتمام کرے :
1۔ فرائض کا
2۔ نوافل کا
3۔پوشیدہ صدقہ اور صدقہ جاریہ کا۔۔۔۔۔
4۔ نیک کاموں کا
5۔ رات کی نمازوں کا
شاید کہ تو نجات پاسکے۔

اگر تو نے اس مقالہ سے لوگوں کی یاددہانی میں مدد کی جبکہ تو ابھی زندہ ہے
تاکہ اس امتحان گاہ میں امتحان کا وقت ختم ہونے سے تجھے شرمندگی نہ ہو اور امتحان کا پرچہ بغیر تیری اجازت کے تیرے ہاتھوں سے چھین لیا جائے
اور تو تیری اس یاددہانی کا اثر قیامت کے دن تیرے اعمال کے ترازو میں دیکھےگا
(اور یاددہانی کرتے رہئے بیشک یاددہانی مومنوں کو نفع دیگا)

میت صدقہ کو کیوں ترجیح دیتی ہے اگر وہ دنیا میں واپس لوٹا دی جائے۔۔
جیسا کہ قرآن میں ہے۔

*"اے رب اگر مجھے تھوڑی دیر* *کے* *لئے واپس لوٹا دے تو* *میں صدقہ کروں اور نیکوں ** *میں شامل ہو جاؤں** *(سورة المنافقون )*

یہ نہیں کہیگا کہ۔۔
عمرہ کروں گا
نماز پڑھوں گا
روزہ رکھوں گا

علماء نے کہا کہ :
میت صدقہ کی تمنا اس لئے کریگا کیوں کہ وہ مرنے کے بعد اس کا عظیم ثواب اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔

اس لئے صدقہ کثرت سے کیا کرو
بیشک مومن قیامت کے دن اپنے صدقہ کے سایہ میں ہوگا

02/04/2020

ایک بادشاہ تھے ان کے ایک پیر تھے - اور ان کے بہت بہت پیروکار اور مرید تھے ۔
بادشاہ نے بہت خوش ہو کر اپنے مرشد سے کہا کہ آپ بہت خوش نصیب آدمی ہیں آپ کے معتقدین کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ انھیں گنا بھی نہیں جا سکتا ۔
مرشد نے کہا ان میں سے صرف ڈیڑھ شخص ایسا ہے جو میری عقیدت والا ہے اور مجھ پر جاں نثاری کر سکتا ہے ، اور مجھ کو مانتا ہے اور باقی کے ایسے ہی ہیں ۔
بادشاہ بہت حیران ہوا کہ یہ پچاس ہزار میں سے صرف ڈیڑھ کیسے کہ رہا ہے ۔
مرشد نے کہا کہ ان کے نفس کا ٹیسٹ کرتے ہیں تب آپ کو پتا چلے گا ۔

تو انھوں نے کہا کہ اس میدان کے اوپر ایک ٹیلہ ہے اور اس ٹیلہ کے اوپر آپ مجھے ایک جھونپڑی بنوادیں فوراً رات کی رات میں بنوا دیں - بادشاہ نے جھونپڑی بنوا دی ۔

اس جھونپڑی میں اس بزرگ نے دو بکرے باندھ دیے - اور کسی کو پتا نہیں کہ اس میں دو بکرے باندھے گئے ہیں ۔

اور پھر وہ جھونپڑی سے باہر نکلا اور اونچی آواز میں کہا ۔

ہے کوئی میرے سارے مریدین میں سے جو مجھ پر جان چھڑکتا ہو ؟
میری بات دل کی گہرائیوں سے مانتا ہو ؟ بری اچھی میں ساتھ دینے والا ہو ۔
اور جو قربانی میں اس سے مانگوں وہ دے - اگر کوئی ایسا ہے تو میرے پاس آئے ۔

اب اس پچاس ہزار کے جم غفیر میں سے صرف ایک آدمی اٹھا ، وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا ،ڈھیلے پاؤں رکھتا ہوا اس کے پاس گیا

مرشد نے کہا تجھ میں یہ دم خم ہے ؟
اس نے کہا ، ہاں ہے ۔

کہا ، آ میرے ساتھ ۔

اس نے اس کی کلائی پکڑی اس کو جھگی کے اندر لے گیا اور وہاں کھڑا کر دیا ۔

اور کہا خاموشی کے ساتھ کھڑا رہ ۔

پھر اس نے ایک بکرے کو لٹایا ، چھری نکالی اور اسے ذبح کر دیا ، جھونپڑی کی نالی کے پاس ۔

اور جب وہ خون نکلا تو پچاس ہزار کے گروہ نے دیکھا اور وہ خون آلود چھری لے کر باہر نکلا اور کہا قربانی دینے والے شخص نے قربانی دے دی ۔
میں اس سے پوری طرح مطمئن ہوں اس نے بہت اچھا فعل کیا۔جب لوگوں نے یہ دیکھا تو حیران اور پریشان ہو گئے ۔

اب ان میں سے لوگ آہستہ آہستہ کھسکنے لگے ۔ کچھ جوتیاں پہن کر کچھ جوتیا چھوڑ کر ۔

تو انھوں نے کہا اے لوگو ! قول کے آدمی نہ بننا صرف مضبوطی اور استقامت کے ساتھ کھڑے رہنے کی کوشش کرنا ۔

اب میں پھر ایک اور صاحب سے کہتا ہوں وہ بھی اپنے آپ کو قربانی دینے کے لئے پیش کرے ، اور میرے پاس آئے کیونکہ یہ اس کے نفس کا ٹیسٹ ہے ۔

تو سناٹا چھایا ہوا تھا ۔ کوئی آگے نہ بڑھا ۔ اس دوران ایک عورت کھڑی ہوئی تو اس نے کہا !
" اے آقا میں تیار ہوں "۔

اس نے کہا ، بیبی آ ۔

چنانچہ وہ بیبی چلتے چلتے جھگی میں گئی ، اس بیچاری کے ساتھ بھی وہی ہوا جو پہلے کے ساتھ ہوا ۔
اندر اسے کھڑا کیا اور دوسرا بکرا ذبح کر دیا ، اور اس کے پرنالے سے خون کے فوارے چھوٹے۔

جب یہ واقعہ ہو چکا تو بادشاہ نے کہا آپ صحیح کہتے تھے ، کیونکہ وہ میدان سارا خالی ہوگیا تھا ۔
پچاس ہزار آدمی ان میں سے سے ایک بھی نہیں ہے ۔

انھوں نے کہا میں نے کہا تھا میرے ماننے والوں میں سے صرف ڈیڑھ شخص ہے ، جو مانتا ہے ۔
بادشاہ نے کہا ہاں میں بھی مان گیا ، اور سمجھ بھی گیا ، اور وہ شخص تھا وہ مرد تھا وہ پورا تھا ۔جب کہ وہ عورت جو تھی وہ آدھی تھی ۔

اس نے کہا نہیں بادشاہ سلامت یہ مرد آدھا تھا اور عورت پوری تھی ۔
پہلا جو آیا تھا اس نے کوئی خون نہیں دیکھا تھا ۔
اس بیبی نے دیکھا جو واقعہ گزرا پھر بھی اٹھ کر آنے کے لئے تیار ہوئی تھی اس لیے وہ خاتون سالم Entity پر ہے ۔اور آدھا وہ مرد ہے ۔

میرے ماننے والوں میں ڈیڑھ لوگ ہیں باقی سارے نفس کے بندے ہیں ۔“

از اشفاق احمد زاویہ ١ قول اور نفس صفحہ ٢٥١

02/04/2020

سخاوت کا واقعہ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں ایک شخص ملک شام سے سفر کرتا ہوا آیااور اپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا کہ آپ امیر بھی ہیں یعنی مالدار بھی ہیں اور امیر بھی یعنی مسلمانوں کے سربراہ بھی ہیں۔
عرض کرنے لگا حضور میرے اوپر قرضہ چڑھ گیا ہے میری مدد کریں ۔تو آپ اس کو اپنے گھر لے گئے شخص کہتا ہے کہ باہر سے دروازہ بہت خوبصورت تھا لیکن گھر پر ایک چارپائی بھی نہ تھی کھجور کی چھال کی چٹائیاں بچھی ہوئی تھیں اور وہ بھی پھٹی ہوئی فرماتے ہیں سیدناصدیق ابوبکر(رضی اللہ تعالی عنہ)نے مجھے چٹائی پر بٹھا لیا اور مجھے کہنے لگے یار ایک عجیب بات نہ بتاؤں میں نے کہا بتائے تو فرمانے لگے تین دن سے میں نے ایک اناج کا دانہ بھی نہیں کھایا کھجور پر گزارا کر لیتا ہوں آجکل میرے حالات کچھ ٹھیک نہیں ہے توشخص کہنے لگا حضور میں اب پھر کیا کروں میں تو بہت دور سے امید لگا کر آیا تھا۔
تو فرمانے لگے تو عثمان غنی کے پاس جا شخص کہنے لگا مجھےتو بہت سارے پیسے چاہیے ہیں۔تو آپ نے فرمایا تیری سوچ وہاں ختم ہوتی ہے جہاں سے عثمان کی سخاوت شروع ہوتی تو جو سوچتا ہے اتنے ملیں گے تیری سوچ ختم ہوتی ہیں وہاں سے عثمان کی سخاوت شروع ہوتی ہے تو جا ان کے پاس شخص کہنے لگا آپ کا نام لوں کے مجھے امیرالمومنین نے بھیجا ہے توفرمانا لگےاس کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔
صرف اتنا بتانا کہ میں مقروض ہو اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہ کا نوکر ہو۔سخص کہنے لگا کے وہ دلیل ،حوالہ مانگے گے فرمایا عثمان سخاوت کرتے وقت دلیل یا حوالے نہیں مانگتے عثمان اللہ کی راہ میں دیتے ہوئے تفتیشے نہیں کرتا ،اور سخاوت کرتے وقت ٹٹولنا عثمان کی عادت نہیں ۔
وہ شخص کہتا ہے کہ میں چلا گیا پوچھتا پوچھتے دروازے پر دستخط دی حضرت عثمان غنی کے اندر سے بولنے کی آواز آ رہی تھی "اپنے بچوں کو ڈانٹ رہے تھے کہ یار تم لوگ دودھ کے اندر شہد ملا کر پیتے ہوں خرچا تھوڑا کم کرو اتنا خرچا بڑھا دیا ہے دودھ میٹھا شہد بھی مٹھا ایک چیز استعمال کرلو تم کوئی بیمار تھوڑی ہوں"
شخص کہتا ہے میں نے کہا ابوبکر تو بڑی باتیں بتا رہے تھے یہاں تو دودھ اور شہد پر لڑائی ہو رہی ہے اور مجھے تو کئی ہزار دینار چاہیے کیا یہ دے دے گا۔ شخص کہتا ہے کہ میں ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اندر سے دروازہ کھلنے کی آواز آئ۔
وہ باہر آئے اور میں نے کہااسلام علیکم!انہوں نے سلام کا جواب دیں اور وہ سمجھ گئے کہ میں مسلمان ہوں اور مخاطب ہوکر کہنے لگے معاف کرنا بچوں کو ذرا ایک بات سمجھنی تھی آنے میں ذرا دیر ہو گئی۔ان کا پہلا جملہ ان کے بڑے پن کا مظاہرہ کر رہا تھا پھر دروازہ کھولا اور مجھے انہوں نے گھر بٹھایا اور میرے لئے جو پہلی چیز پیش کی گئی وہ دودھ میں شہد ڈال کر دیا گیا اور پھر کھجور کا حلوہ پیش کیا۔
شخص کہتا ہے کہ میرے دل میں خیال آیا عجیب شخص ہے گھر والوں کے ساتھ جھگڑا کر رہے تھے ایک چیز استعمال کیا کرو میرے لیے تین تین چیزیں آ گئی ہےلیکن ابھی میرا تصور جما نہیں تھا میں نے دل میں خیال کیا اتنا تگڑا نہیں جتنا ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا ہے۔وہ شخص کہتا ہے کہ کھلانے پلانے کے بعد پوچھنے لگے کیسے آئے ہو ۔
میں نے کہا کہ" میں مسلمان ہو اور ملک شام کے گاؤں کارہنے والا ہوں اور کچھ کاروباری مشکلات آئی تو مقروض ہوگیا ہوں اور میرے اوپر قرضہ ہےاور مجھے کچھ پیسوں کی حاجت ہے "

کہنے لگا تو میں نے کچھ پیسے کہا تو انہوں نے ایک آواز دی تو ایک غلام اونٹ پر سامان لدا ہوا لیکر حاضر ہوا۔شخص کہتا ہے کہ مجھے تین ہزار اشرفیاں چاہیے تھی۔ابھی میں نے بتایا نہیں تھا کیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کہنے لگے کہ" اس اونٹ پر تیرے لیے تیرے گھر والوں کے لئے میں نے کپڑے اور کھانے پینے کا سامان اور 6000 اشرفیاں رکھوا دی ہے اورتو پیدل آیا تھااب اونٹ لے کر جانا"
شخص کہنے لگا میں نے فورن سے کہا حضور یہ اونٹ انہیں واپس کرنے کون آئے گا۔حضرت عثمان فرمانےلگے واپس کرنے کے لیے دیا ہی نہیں یہ تحفہ ہے تو لے جا۔
شخص کہتا ہے کہ میں کہاں سے چلا تھا ڈھونڈتا ہوا اور پھر مدینے میں آیا اور جب مدینے میں آیا تو اللہ نے مجھے جھولی بھر کے عطا فرمایا کہتا ہے میری آنکھوں میں آنسوں آگئے اور میں نے کہا حضور آپ نے تو مجھے میری ضرورت سے کہیں بڑھ کر نواز دیا ہے معاف کیجئے گا میں سوچ رہا تھا دودھ شہد پر تو گھر میں لڑائی ہو رہی ہے۔۔۔
تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ نے جو پیسے عثمان کو دیے ہیں وہ اس لئے نہیں دیے کہ عثمان کی اولادیں عیش مستی کرتی پھیرے میرے مالک نے مجھے نوازا ہے تاکہ میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کہ نوکروں کی نوکری کروں۔
شخص کہتا ہے میں دروازے تک گیا تو میں نے کہا شکریہ!
کہتا ہے ابھی میں نے بتایا نہیں تھا کہ مجھے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے بھیجا ہے کہ آپ فرمانے لگے کہ شکریہ ابوبکرصدیق (رضی اللہ تعالی عنہ) کا ادا کرنا جس نے تجھے یہ راستہ دکھایا ہے۔
شخص کہتا ہے کہ میں نے کہا حضور آپ کو تو میں نے بتایا ہی نہیں کے مجھے ۔۔۔۔تو آپ رضی اللہ تعالی عنہہ مسکرا کر فرمانے لگے چھوڑوں آپ کا کام ہو گیا اس تفصیلات میں نہ پڑوں۔(سبحان اللہ)
یہ شان ہے خدمت گاروں کی
سرکار کا عالم کیا ہوگا۔
(ماخذ سیرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ)

02/04/2020

اسلام علیکم

30/03/2020

یہ آسان بات ہے ، میرا خیال ہے کہ مسلمانوں کے لیے قبر کا عذاب نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔ ہے ہی نہیں !!!
پہلے ماں باپ دعا کرنے والے ہیں کہ ہماری اولاد پر رحم کر ۔۔۔۔ پھر اولاد کہے گی کہ ہمارے ماں باپ پہ رحم ۔۔۔۔
جس جگہ ہم جائیں گے وہاں خیر خیریت والے لوگ ہونگے ۔۔۔۔ ارد گرد کے لوگ ہونگے ،،،، رونق ہو گی ،،،،
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عذاب ہی دینا ہے کیا ؟
نہیں ۔۔۔۔ مسلمان اگر جہنم میں گیا تو کافر شور مچا دینگے ۔۔۔۔ کیا یہ اسلام تھا ،
جس کی تم ہمیں دعوت دیتے تھے اور اب خود بھی یہاں آ گئے ۔۔۔ ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس دل میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت ہو وہ دوزخ میں نہیں جا سکتا ۔۔۔۔ اور مسلمانوں میں یہ محبت ہے ،،،،
ہم ایک دوسرے کی گواہی دیتے ہیں ،،،،

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ ۔۔۔۔ گفتگو ۔۔۔۔31 ) صفحہ ۔۔۔۔۔ 199 )

30/03/2020

دلچسپ اور سبق آموز واقعہ ۔۔۔۔۔۔

ہارون الرشید کے دور میں ایک بار بہت بڑا قحط پڑ گیا۔ اس قحط کے اثرات سمرقند سے لے کر بغداد تک اور کوفہ سے لے کر مراکش تک ظاہر ہونے لگے۔ ہارون الرشید نے اس قحط سے نمٹنے کیلئے تمام تدبیریں آزما لیں‘اس نے غلے کے گودام کھول دئیے‘ ٹیکس معاف کر دئیے‘ پوری سلطنت میں سرکاری لنگر خانے قائم کر دئیے اور تمام امراءاور تاجروں کو متاثرین کی مدد کیلئے حکم جاری کر دیا لیکن اس کے باوجود عوام کے حالات ٹھیک نہ ہوئے۔

ایک رات ہارون الرشید شدید پریشانی میں تھا‘ اسے نیند نہیں آ رہی تھی‘ اس عالم میں اس نے اپنے وزیراعظم یحییٰ بن خالد کو طلب کیا‘ یحییٰ بن خالد ہارون الرشید کااستاد بھی تھا۔اس نے بچپن سے بادشاہ کی تربیت کی تھی۔ ہارون الرشید نے یحییٰ خالد سے کہا ”استادمحترم آپ مجھے کوئی ایسی کہانی‘ کوئی ایسی داستان سنائیں جسے سن کر مجھے قرار آ جائے“ یحییٰ بن خالد مسکرایا اور عرض کیا ”بادشاہ سلامت میں نے اللہ کے کسی نبی کی حیات طیبہ میں ایک داستان پڑھی تھی داستان مقدر‘ قسمت اور اللہ کی رضا کی سب سے بڑی اور شاندار تشریح ہے۔
آپ اگراجازت دیں تو میں وہ داستان آپ کے سامنے دہرا دوں“بادشاہ نے بے چینی سے فرمایا”یا استاد فوراً فرمائیے۔ میری جان حلق میں اٹک رہی ہے“ یحییٰ خالد نے عرض کیا ” کسی جنگل میں ایک بندریا سفر کیلئے روانہ ہونے لگی‘ اس کا ایک بچہ تھا‘ وہ بچے کو ساتھ نہیں لے جا سکتی تھی چنانچہ وہ شیر کے پاس گئی اور اس سے عرض کیا ”جناب آپ جنگل کے بادشاہ ہیں‘ میں سفر پر روانہ ہونے لگی ہوں‘ میری خواہش ہے آپ میرے بچے کی حفاظت اپنے ذمے لے لیں“ شیر نے حامی بھر لی‘ بندریا نے اپنا بچہ شیر کے حوالے کر دیا۔

شیر نے بچہ اپنے کندھے پر بٹھا لیا‘ بندریا سفر پر روانہ ہوگئی‘ اب شیر روزانہ بندر کے بچے کو کندھے پر بٹھاتا اور جنگل میں اپنے روزمرہ کے کام کرتا رہتا۔ ایک دن وہ جنگل میں گھوم رہا تھا کہ اچانک آسمان سے ایک چیل نے غوطہ لگایا شیر کے قریب پہنچی‘ بندریا کا بچہ اٹھایا اور آسمان میں گم ہو گئی‘ شیر جنگل میں بھاگا دوڑا لیکن وہ چیل کو نہ پکڑ سکا“یحییٰ خالد رکا‘ اس نے سانس لیا اور خلیفہ ہارون الرشید سے عرض کیا ”بادشاہ سلامت چند دن بعد بندریا واپس آئی اور شیر سے اپنے بچے کا مطالبہ کر دیا۔
شیر نے شرمندگی سے جواب دیا‘تمہارا بچہ تو چیل لے گئی ہے‘ بندریا کو غصہ آگیا اور اس نے چلا کر کہا ”تم کیسے بادشاہ ہو‘ تم ایک امانت کی حفاظت نہیں کر سکے‘ تم اس سارے جنگل کا نظام کیسے چلاﺅ گے“شیر نے افسوس سے سر ہلایا اور بولا
”میں زمین کا بادشاہ ہوں‘ اگر زمین سے کوئی آفت تمہارے بچے کی طرف بڑھتی تو میں اسے روک لیتا لیکن یہ آفت آسمان سے اتری تھی اور آسمان کی آفتیں صرف اور صرف آسمان والا روک سکتا ہے۔

یہ کہانی سنانے کے بعد یحییٰ بن خالد نے ہارون الرشید سے عرض کیا ”بادشاہ سلامت قحط کی یہ آفت بھی اگر زمین سے نکلی ہوتی تو آپ اسے روک لیتے‘ یہ آسمان کا عذاب ہے‘ اسے صرف اللہ تعالیٰ روک سکتا ہے چنانچہ آپ اسے رکوانے کیلئے بادشاہ نہ بنیں‘ فقیر بنیں‘ یہ آفت رک جائے گی۔

دنیا میں آفتیں دو قسم کی ہوتی ہیں‘
آسمانی مصیبتیں اور زمینی آفتیں۔
آسمانی آفت سے بچنے کیلئے اللہ تعالیٰ کا راضی ہونا ضروری ہوتا ہے جبکہ زمینی آفت سے بچاﺅ کیلئے انسانوں کامتحد ہونا‘ وسائل کا بھر پور استعمال اور حکمرانوں کا اخلاص درکار ہوتا ہے۔
یحییٰ بن خالد نے ہارون الرشید کو کہا تھا

>>>>آسمانی آفتیں اس وقت تک ختم نہیں ہوتیں جب تک انسان اپنے رب کو راضی نہیں کر لیتا آپ اس آفت کامقابلہ بادشاہ بن کر نہیں کر سکیں گے چنانچہ
آپ فقیر بن جائیے۔
اللہ کے حضور گر جائیے
اس سے توبہ کیجئے‘
اس سے مدد مانگیے۔
دنیا کے تمام مسائل اوران کے حل کے درمیان صرف اتنا فاصلہ ہوتا ہے
جتنا ماتھے اور جائے نماز میں ہوتا ہے
لیکن افسوس ہم اپنے مسائل کے حل کیلئے سات سمندر پار تو جا سکتے ہیں لیکن ماتھے اور جائے نماز کے درمیان موجود چند انچ کا فاصلہ طے نہیں کر سکتے....

30/03/2020

#انسان

" ﻭﺍﻟﻌﺼﺮ ﺍﻥ ﺍﻻﻧﺴﺎﻥ ﻟﻔﯽ ﺧﺴﺮ "

"ﻗﺴﻢ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮐﯽ.! ﺗﺤﻘﯿﻖ کہ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺧﺴﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮬﮯ۔"

ﻣُﺮﯾﺪ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ مُرﺷﺪ فقیر ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ "ﺍﻟﻠّٰﮧ ﮐﮩﺘﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺧﺴﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮬﮯ ﻣﮕﺮ وہ ﻟﻮﮒ جو ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﺋﮯ۔ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺲ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺧﺴﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﺲ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﻻﻧﺎ ﮬﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﯾﺎ ﺟﺎﭼﮑﺎ ﮬﮯ۔"

ﻓﻘﯿﺮ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ "ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺧﺴﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺗُﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﻨﺘﺎ ﮬﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﮬﮯ۔؟" ﺳﺎﺋﻞ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮬﻮﺍ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﮬﮯ۔ ﻓﻘﯿﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ "تُو ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﯿﻮﮞ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ، ﺗُﻮ ﺟﺲ ﻗﺪﺭ ﺑﮭﯽ ﻣﺘﻘﯽ، ﭘﺮﮬﯿﺰﮔﺎﺭ، ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮔﺰﺍﺭ، ﺑﻦ ﺟﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺭﮬﮯ ﮔﺎ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮬﯽ، ﺍﻭﺭ ﺁﯾﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ تُو ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮬﻮ ﮐﺮ ﺧﺴﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮬﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ تُو "ﻟﻘﺪ ﺧﻠﻘﻨﺎﻻﻧﺴﺎﻥ ﻓﯽ ﺍﺣﺴﻦ ﺗﻘﻮﯾﻢ" ﮐﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺗُﻮ ﺧﺴﺎﺭﮮ ﺳﮯ ﺑﺎﮬﺮ ﻧﮑﻞ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﺣﺴﻦ ﺗﻘﻮﯾﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮬﮯ، ﺟﺲ ﭘﺮ اللّٰہ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺧﻠﻖ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ، ﮐﯿﺎ ﺗُﻮ ﻧﮯ ﭘﮍﮬﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ "ﺍللّٰہ ﮬﺮ ﭘﯿﺪﺍ ﮬﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﭽّﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﻦ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﻓﻄﺮﺕ ﭘﺮ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺮﭘﺮﺳﺖ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻘﺎﺋﺪ ﭘﺮ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ" ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﯾﺎ ﮐﺎﻓﺮ ﯾﺎ ﻣﺠﻮﺳﯽ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ۔ ﺍﺣﺴﻦ ﺗﻘﻮﯾﻢ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻦ ﮐﯽ ﻓﻄﺮﺕ ﯾﮧ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺗُﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺁﺩﻡ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺻﻔﺖ ﺍﻭﺭ ﺻﻮﺭﺕ ﭘﺮ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ۔ "ﺍﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﺧﻠﻖ ﺁﺩﻡ ﻋﻠٰﯽ ﺻﻮﺭﺗﮧ" ﺗﺤﻘﯿﻖ ﺧﻠﻖ ﮐﯿﺎ ﺁﺩﻡ ﺍﻭﭘﺮ ﺻﻮﺭﺕِ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺮ" تُو ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﺴﺎﺭﮮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﺗﯿﺮﺍ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮬﻮ ﮔﺎﺟﺐ تُو ﺍِﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﻣﻌﺮﻓﺖ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔"

ﻣﺮﯾﺪ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺟﻮ "ﻭﺗﻮﺍﺻﻮاﺑﻠﺤﻖ" ﺍﻭﺭ "ﻭﺗﻮﺻﻮﺍﺑﺎﻟﺼﺒﺮ" ﮬﮯ ﺍس کا ﮐﯿﺎ ﻣﻔﮭﻮﻡ ﮬﮯ۔؟"

ﻓﻘﯿﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ "ﯾﮩﯽ ﺗﻮ ﺁﯾﺖ ﮐﯽ ﻣﻌﺮﻓﺖ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ تُو ﺍِﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮔﺎ ﮐﮧ تُو ﺻﻔﺖِ الہٰی ﮐﺎ ﻣﻈﮩﺮ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﺴﺎﺭﮮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ، ﺗﻮ تُو ﺍﻭﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍُﺱ ﺧﺴﺎﺭﮮ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺍِﺱ ﻣﻌﺮﻓﺖ ﺍﻭﺭ ﺣﻖ ﮐﺎ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ، ﺟﻮ ﺗﺠﮫ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﯽ۔ ﺍِﺱ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ تُو ﺻﺮﻑ ﺍُﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮬﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﻔﺖ ﻭ ﺷﻨﯿﺪ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮫ ﺳﮑﮯ ﮔﺎ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺗﯿﺮﮮ ﺟﯿﺴﺎ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺮﻓﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮬﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﮬﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﻮ ﮔﮯ، ﺳﻤﺠﮭﻮ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺟﮯ ﮐﻮ ﻋﻤﺪﮦ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﺍﻭﺭ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺻﺒﺮ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺳﻮﺍ ﺍِﺱ ﻣﻌﺮﻓﺖ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ھے ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﺻﺒﺮ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺍِﺱ ﮐﯽ ﺗﻠﻘﯿﻦ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ اور اُس ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﻧﮯ والا ﺷﺎﺯ ﻭ ﻧﺎﺩﺭ ﮬﯽ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﻣﯿﺴّﺮ ﮬﻮ ﮔﺎ۔"

30/03/2020

رُوح کو دریافت کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ صرف رُوح کو دریافت کرنے والے رُوح کو دریافت کرتے ہیں۔اس کی مثال مولانا روم رح نے دی ہے۔
ایک شیر کا بچہ گُم ہو گیا اور بھیڑوں میں پلنے لگ گیا۔ وہ شیر تھا لیکن بھیڑوں میں رہ گیا اور بھیڑوں جیسی حرکتیں کرنے لگ گیا۔

ایک دن ایک بزرگ شیر نے دیکھا کہ ہے تو یہ شیر لیکن بھیڑوں میں رہ رہا ہے۔
اس نے بچے کو پکڑا اور کہا کہ تُو شیر ہے۔بچے نے کہا کہ میں تو بھیڑ ہوں۔شیر نے کہا کہ تُو اور ہے اور یہ لوگ اور ہیں کیونکہ تیری جنس اور ہے۔اس بچے نے کہا کہ مجھے کیا پتہ کہ میری جنس اور ہے، اور یہ مجھے کس طرح پتہ چلے گا۔

اس بزرگ شیر نے کہا کہ میں تمہیں تمہاری جنس دکھاتا ہوں۔اس نے ایک بھیڑ کو جھپٹا مارا اورکھا گیا، اور بچے کو کہا کہ میرا یہ عمل دیکھا ہے؟ اُس نے کہا کہ جی دیکھا ہے۔پھر وہ اس کو ایک تالاب پر لے گیا اور کہا کہ تالاب کے پانی میں دیکھو کہ میری شکل یہ ہے اور تیری شکل بھی میرے جیسی ہے۔

جب اس بچے نے اپنی شکل پانی کے آئینے میں دیکھی تو اسے پتہ چلا کہ وہ بھی شیر ہے۔تو اُس نے کہا کہ چل اب تُو بھی بھیڑ کو پکڑ اور کھا جا !!!

ایک بار آئینے میں پہنچنے کی دیر ہے اور آگے کھیل رُوح کا اپنا ہے۔بس آپ کی آئینے تک رسائی ہوتی ہےاور رُوح کو آئینے تک دریافت کرنا ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔ واصف علی واصف

Address

Kasur

Telephone

+923044204242

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Anmool Motti posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Anmool Motti:

Share