31/03/2026
حیدرعلی خان ایڈووکیٹ کا ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی پر مؤقف
جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کا آغاز کیا، تو انہوں نے اسے چند دنوں میں ختم ہونے والا جنگ قرار دیا، لیکن اب چار ہفتے گزرنے کے باوجود کوئی اہم ہدف حاصل نہیں ہوا۔ امریکی اور اسرائیلی اہداف، جیسے ایران کی حکومت کا تختہ پلٹنا یا غیر مشروط ہتھیار ڈالنا، ناکام رہے۔ ایران نے اپنی حکومت کو مضبوطی سے برقرار رکھا اور عوام کی حمایت حاصل کی، باوجود اس کے کہ کئی سینئر رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران نے بحیرہ ہرمز پر عملی کنٹرول قائم کر لیا، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ متاثر ہوئی اور خطے میں ایران کی حکمرانی مستحکم ہوئی۔ کم لاگت، جدید ٹیکنالوجی جیسے ڈرونز اور ہائپر سونک میزائلز نے امریکی اور اسرائیلی مہنگے ہتھیار ناکارہ کر دیے، جبکہ امریکی فوجی اڈے غیر فعال یا کمزور ہو گئے اور بحری بیڑے دور کھڑے ہیں۔
جنگ کے طویل اثرات سے عالمی معیشت اور توانائی کی قیمتیں شدید خطرے میں ہیں، جبکہ امریکی قرضوں اور مالیاتی صورتحال مزید نازک ہو گئی ہے۔ ایران نے ہتھیاروں اور ڈرونز کے ذریعے مؤثر روک تھام قائم کر لی ہے، اور کسی بھی بڑھتے ہوئے امریکی حملے کو کامیابی سے روکا جا سکتا ہے۔
اب امریکی حکمت عملی صرف ہرمز کو کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے تک محدود ہو گئی ہے۔ اگر امریکہ جنگ کو مزید بڑھاتا ہے، تو اسے بھاری فوجی نقصان، اقتصادی بحران اور عالمی طاقت میں کمی کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ ایران نے اپنے بیشتر اہداف حاصل کر کے خطے میں اپنا اثر و رسوخ مستحکم کرلیا ہے۔