10/05/2025
ایک نظر انکی مکاری پر بھی
یہ ہمارے ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان ہیں — ایک صدرِ پاکستان، ایک سابق وزیر اعظم اور ایک تیسرا جو کبھی تبدیلی کا نعرہ لگاتا تھا۔
ان کے فیس بک پیجز دیکھیں، سب ایکٹو ہیں۔ تصویریں ہیں، تقریبات کی، استقبالیوں کی، سرکاری نشستوں کی۔ لیکن جو چیز نظر نہیں آتی وہ حقیقت ہے۔
نہ آپریشن "بنیان مرصوص" پر کوئی پوسٹ، نہ انڈیا کی دہشت گردی پر کوئی سخت مؤقف، نہ مودی کی کھلم کھلا مسلم دشمنی پر کوئی ردِعمل۔
صدرِ پاکستان جو ریاست کا نمائندہ ہوتا ہے، وہ تک خاموش۔ نواز شریف، جن کا خاندان آج بھی اقتدار کا حصہ ہے، وہ بھی چپ۔ عمران خان، جن کی جماعت پچھلے 15 سال سے کے پی میں حکومت کر رہی ہے، وہ بھی خاموش۔
اور افسوس کی بات یہ ہے کہ:
نہ اسرائیل کے ظلم پر آواز، نہ فلسطین کے حق میں کوئی دو ٹوک مؤقف۔
یہ سب جانتے ہیں کہ ان کے الفاظ کی کتنی اہمیت ہے، ان کا ایک بیان عالمی میڈیا میں جگہ بنا سکتا ہے، لیکن وہ بولتے نہیں — کیونکہ ان کی سیاست، ان کا مفاد، ان کی کرسی سب سے پہلے ہے، قوم اور امت بعد میں۔
سوال ان سے نہیں، ان کے کارکنان سے ہے: کیا آپ بھی اس خاموشی کا حصہ بننا چاہتے ہیں؟ کیا آپ کے لیڈر انسانیت، ظلم اور حق و باطل کے درمیان فرق نہیں کر پا رہے؟ یا پھر سب کچھ دیکھ کر بھی جان بوجھ کر خاموش ہیں؟
آصف علی زرداری کا آفیشل پیج
https://www.facebook.com/share/1EhWTjveJ6/
عمران خان کا آفیشل پیج
https://www.facebook.com/share/1AW9HHwv8S/
نواز شریف کا آفیشل پیج
https://www.facebook.com/share/1AbRGtLjjD/
خود بھی پیج وزٹ کریں اور احتجاج ریکارڈ کروایں