Government of Khyber Pakhtunkhwa

Government of Khyber Pakhtunkhwa Official page of Khyber Pakhtunkhwa Government

03/09/2026

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی پانچ روزہ دورۂ سندھ پر رحیم یار خان کے لیے روانہ

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی 27 ستمبر کی اسٹریٹ موومنٹ کے لیے سندھ میں بھرپور سیاسی و عوامی رابطہ مہم کریں گے
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی 27 ستمبر لانگ مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں سیاسی و مقامی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے اور اسٹریٹ موومنٹ کی قیادت کریں گے
3 سے 7 ستمبر دورۂ سندھ، 27 ستمبر کی لانگ مارچ کے لیے سیاسی صف بندی تیز کرنے کا اہم مرحلہ ہے، سہیل آفریدی

02/09/2026

ڈیجیٹل اور کیش لیس خیبر پختونخوا کی جانب اہم پیش رفت!

چیئرمین عمران خان کا وژن ہے کہ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی قیادت میں اسی وژن کے تحت ڈیجیٹل گورننس، ڈیجیٹل ادائیگیوں، سرکاری خدمات کی ڈیجیٹل فراہمی اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔

ڈیجیٹل تبدیلی کے شعبے کی نمایاں پیش رفت:

🔹 70 فیصد: دسمبر 2026 تک ڈیجیٹلائزڈ سرکاری خدمات میں کاغذی کارروائی کم کرنے کا ہدف

🔹 112 فیصد: 2026 میں Paymir سے منسلک ڈیجیٹل ریونیو کے ہدف کے حصول کی شرح

🔹 112 فیصد: KPITB کے FinTech یونٹ کے ذریعے ادائیگی کی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن میں پیش رفت

🔹 2 سال: KPITB AI Innovation Hub 2026–2028 کے منصوبے کی مقررہ مدت

🔹 219 خدمات: Cashless KP کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مکمل طور پر فعال اور آپریشنل

🔹 34 محکمے: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) اور 1Link کے ساتھ جوائنڈر معاہدوں کے ذریعے Cashless KP سے منسلک

🔹 149 خدمات: KPITB کے FinTech یونٹ کے ذریعے ڈیجیٹلائزڈ، جبکہ ہدف 133 خدمات تھا

یہ اقدامات سرکاری خدمات کی ڈیجیٹل فراہمی، آسان اور شفاف ڈیجیٹل ادائیگیوں اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے گورننس کو مزید مؤثر بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔

یہ صرف ڈیجیٹلائزیشن نہیں، بلکہ بہتر گورننس، شفاف نظام اور شہریوں کے لیے تیز، آسان اور قابلِ رسائی سرکاری خدمات کی بنیاد ہے۔

02/09/2026

عمران خان کا خیبر پختونخوا!

چیئرمین عمران خان کے عوام دوست وژن اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی قیادت میں خیبرپختونخوا سٹیز امپرومنٹ پراجیکٹ کے تحت ایبٹ آباد کے شہریوں کو جدید سہولیات، صحت مند سرگرمیوں اور بہتر قدرتی ماحول کی فراہمی کے لیے نئے ایبٹ آباد پارک کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔

یہ پارک ایبٹ آباد کے شہریوں کے لیے تفریح، کھیل، صحت اور قدرتی حسن کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔

ایبٹ آباد پارک کی نمایاں خصوصیات:

🔹 702 کنال پر محیط جدید اور خوبصورت ایبٹ آباد پارک
🔹 موجودہ 13,000 درختوں کا تحفظ، جبکہ مزید 6,000 نئے پودے لگائے گئے
🔹 بچوں کے لیے جدید کھیل کے میدان
🔹 نوجوانوں کے لیے کرکٹ گراؤنڈ
🔹 مرد و خواتین کے لیے الگ الگ مساجد
🔹 شہریوں کے لیے ریسٹورنٹ اور کیفے ٹیریا کی سہولت
🔹 3 پارکنگ ایریاز، جہاں بیک وقت 250 گاڑیاں پارک کی جا سکتی ہیں
🔹 جاگنگ اور ٹریکنگ کے شوقین افراد کے لیے 6 واکنگ ٹریکس
🔹 ایڈونچر کے شوقین افراد کے لیے 365 میٹر طویل زِپ لائن

سرسبز ایبٹ آباد، خوشحال ہزارہ - ترقی یافتہ خیبرپختونخوا!

خیبرپختونخوا کی جیلوں میں قیدیوں کو معیاری اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ٹیلی میڈیسن سروس کے قیام کی جانب اہم پی...
02/09/2026

خیبرپختونخوا کی جیلوں میں قیدیوں کو معیاری اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ٹیلی میڈیسن سروس کے قیام کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت اور معاونِ خصوصی برائے جیل خانہ جات افتخار اللہ کی خصوصی توجہ سے جیلوں میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی کا منصوبہ؛ پولیس سروسز ہسپتال پشاور مرکزی ٹیلی میڈیسن ہب جبکہ پشاور، مردان اور ہری پور کی جیلیں ابتدائی پائلٹ اسپوکس ہوں گی

پشاور: خیبرپختونخوا کی جیلوں میں قیدیوں کو بروقت، معیاری اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ٹیلی میڈیسن سروس کے قیام کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ یہ اقدام وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت اور معاونِ خصوصی برائے جیل خانہ جات افتخار اللہ کی خصوصی توجہ، رہنمائی اور قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے ان کے مشترکہ وژن کا عکاس ہے۔

اس اقدام کا مقصد جیلوں میں مقید افراد کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ماہر ڈاکٹرز اور مختلف شعبہ جات کے اسپیشلسٹس سے بروقت طبی مشاورت فراہم کرنا اور قیدیوں کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کرنے کی ضرورت اور اس سے وابستہ انتظامی و سیکیورٹی مشکلات کو کم کرنا ہے۔

محکمہ داخلہ و قبائلی امور، محکمہ جیل خانہ جات اور محکمہ صحت کے باہمی تعاون سے Hub-and-Spoke Model کے تحت ٹیلی میڈیسن سروس قائم کی جائے گی۔ پولیس سروسز ہسپتال پشاور کو مرکزی ٹیلی میڈیسن ہب جبکہ پشاور، مردان اور ہری پور کی جیلوں کو ابتدائی پائلٹ اسپوکس کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

مجوزہ نظام کے تحت قیدیوں کو مختلف طبی شعبہ جات کے ماہر ڈاکٹرز اور کنسلٹنٹس سے آن لائن طبی مشاورت کی سہولت حاصل ہوگی۔ ضرورت پڑنے پر مریضوں کو مزید علاج اور طبی سہولیات کے لیے تدریسی، tertiary care یا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز (DHQ) ہسپتالوں کو ریفر بھی کیا جا سکے گا۔

ٹیلی میڈیسن نیٹ ورک ابتدائی طور پر تین طریقہ کار کے ذریعے خدمات فراہم کرے گا، جن میں براہِ راست ویڈیو مشاورت (Live Video Consultation)، اسٹور اینڈ فارورڈ سروسز (Store-and-Forward) اور ریموٹ پیشنٹ مانیٹرنگ (Remote Patient Monitoring) شامل ہیں۔

ابتدائی مرحلے میں میڈیسن، سائیکاٹری/کلینیکل سائیکالوجی، گائناکالوجی، کارڈیالوجی، آپتھلمولوجی، ای این ٹی، ریڈیالوجی اور ڈرماٹولوجی سمیت آٹھ طبی شعبہ جات کے ماہرین کی خدمات فراہم کی جائیں گی۔

اس منصوبے سے قیدیوں کو ماہر طبی سہولیات تک رسائی میں نمایاں بہتری آئے گی، جبکہ قیدیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے دوران درپیش سیکیورٹی خطرات، ٹرانسپورٹ اور سیکیورٹی اسکواڈ کی ضروریات میں کمی آئے گی۔ اس کے علاوہ بڑے سرکاری ہسپتالوں پر مریضوں کے اضافی بوجھ کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

معاونِ خصوصی برائے جیل خانہ جات افتخار اللہ نے جیل اصلاحات میں قیدیوں کی صحت، فلاح و بہبود اور بنیادی ضروریات کو ترجیح دینے کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی خصوصی توجہ جیلوں کے اندر طبی سہولیات، بحالی اور انسانی بنیادوں پر خدمات کے معیار کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔ ٹیلی میڈیسن سروس کا قیام اسی وژن کی عملی شکل ہے، جس کے ذریعے جیلوں میں رہنے والے افراد کو جدید طبی سہولیات زیادہ آسان اور مؤثر انداز میں فراہم کی جا سکیں گی۔

ابتدائی پائلٹ منصوبے میں ایک مرکزی ہب اور تین اسپوکس شامل ہوں گے، جبکہ کامیاب تجربے کے بعد اس نظام کو صوبے کی دیگر جیلوں تک توسیع دینے کی گنجائش بھی موجود ہوگی۔

اس سلسلے میں محکمہ جیل خانہ جات اور محکمہ صحت کی جانب سے ضروری انتظامی و تکنیکی اقدامات کیے جائیں گے، جن میں متعلقہ نوٹیفکیشنز کا اجرا، ٹیکنیکل اور پروکیورمنٹ کمیٹیوں کی تشکیل، ضروری آلات کی خریداری، تکنیکی عملے کی تعیناتی اور دیگر متعلقہ انتظامات شامل ہیں۔

محکمہ صحت پولیس سروسز ہسپتال پشاور کو مرکزی ٹیلی میڈیسن ہب کے طور پر فعال کرے گا جبکہ پائلٹ جیلوں میں ایکسرے اور کارڈیالوجی ٹیکنیشنز کی تعیناتی کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ سنٹرل جیل مردان میں ایک خاتون میڈیکل آفیسر کی تعیناتی سمیت دیگر ضروری طبی و تکنیکی انتظامات بھی کیے جائیں گے۔

معاونِ خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت نے کہا کہ صوبائی حکومت جیلوں میں صحت، بحالی اور انسانی فلاح سے متعلق سہولیات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیدی بھی معاشرے کا حصہ ہیں اور انہیں بروقت، معیاری اور باوقار طبی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔

طارق سعید مروت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ داخلہ و قبائلی امور، محکمہ جیل خانہ جات اور محکمہ صحت کے درمیان مؤثر رابطہ اور تعاون کے ذریعے جیلوں میں طبی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے قیدیوں کو معیاری طبی خدمات کی فراہمی، جیل اصلاحات اور انسانی فلاح کے اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

افتخار اللہ نے کہا کہ جیل اصلاحات کا مقصد صرف محفوظ حراست تک محدود نہیں بلکہ قیدیوں کی صحت، بحالی، عزت اور بنیادی انسانی ضروریات کو بھی یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن جیسی جدید ٹیکنالوجی جیلوں میں طبی خدمات کو زیادہ مؤثر، قابلِ رسائی اور بروقت بنانے کے ساتھ ساتھ محکمہ جیل خانہ جات اور محکمہ صحت کے درمیان بہتر رابطے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔

دونوں معاونینِ خصوصی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبرپختونخوا کی جیلوں میں قیدیوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی، جیل اصلاحات، بحالی اور انتظامی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے متعلقہ محکموں کے درمیان تعاون اور اصلاحاتی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

01/09/2026

خیبرپختونخوا کے مدارس میں علم، مطالعہ اور تحقیق کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت!

چیئرمین عمران خان کا وژن ہے کہ ایک فلاحی ریاست میں تعلیم کے ہر شعبے اور ہر طالب علم کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع اور ضروری سہولیات میسر ہوں۔ مدارس کے طلبہ بھی ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہیں، اس لیے ان کے لیے معیاری تعلیمی ماحول اور جدید سہولیات کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اسی وژن کے تحت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی قیادت میں صوبے کے مدارس میں تعلیمی، مطالعاتی اور تحقیقی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

محکمہ اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور کے تحت صوبے کے 210 رجسٹرڈ مدارس میں نصابی کتب اور لائبریری فرنیچر کی فراہمی مکمل کر لی گئی ہے۔

🔹 210 رجسٹرڈ مدارس جن میں 140 بندوبستی اضلاع اور 70 ضم شدہ اضلاع میں واقع ہیں۔

🔹 11,760 نصابی کتب 8 تعلیمی درجات کے لیے فراہم کی جا رہی ہیں۔

🔹 ہر مدرسے کے لیے نصابی معاونت کے 7 سیٹس فراہم کیے جا رہے ہیں۔

🔹 2,940 فرنیچر آئٹمز جن میں 420 بک شیلف، 420 لائبریری ٹیبلز اور 2,100 کرسیاں شامل ہیں۔

ان اقدامات کا مقصد مدارس کے طلبہ کے لیے علم تک بہتر رسائی، مطالعے کے لیے سازگار ماحول اور تحقیق کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ ایک روشن مستقبل کی تعمیر اُس وقت ممکن ہے جب ہر بچے اور ہر طالب علم کو علم، تعلیم اور آگے بڑھنے کے یکساں مواقع میسر ہوں۔

01/09/2026

عمران خان کا گرین وژن، خیبرپختونخوا کا سرسبز مستقبل!

چیئرمین عمران خان کے ماحول دوست وژن اور بلین ٹری سونامی کی کامیابی کو آگے بڑھاتے ہوئے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت نے 5 سالہ بلین ٹریز پلس منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس پر 6 ارب 48 کروڑ 70 لاکھ روپے لاگت آئے گی۔

اس منصوبے کے تحت 7,150 ہیکٹر رقبے پر شجرکاری اور جنگلات کی بحالی، 1,200 کنال جنگلی پھلوں کے باغات، تقریباً 4 کروڑ 40 لاکھ پودوں کی فارمز کے لیے مفت فراہمی، 278 ہیکٹر سے زائد محکمانہ نرسریاں اور مربوط زمینی بحالی کے منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔

یہ صرف درخت لگانے کا منصوبہ نہیں بلکہ ماحولیاتی نظام کی بحالی، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، کاربن کے جذب، چراگاہوں کی بحالی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی ہے۔ جدید جغرافیائی معلوماتی نظام (GIS) میپنگ، جنگلی حیات کے سروے، جدید نگرانی کے نظام اور کاربن کریڈٹ اقدامات کے ذریعے جنگلات اور قدرتی وسائل کے تحفظ کو سائنسی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا۔

جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے 7 وائلڈ لائف پارکس اور بریڈنگ سینٹرز کی بحالی، بڑے شکاری جانوروں کے تحفظ کا منصوبہ اور مختلف علاقوں کے ماحولیاتی جائزے بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں۔

عمران خان کے دور میں شروع کیے گئے بلین ٹری اور 10 بلین ٹری پروگرامز کے نتیجے میں خیبرپختونخوا میں جنگلات کا رقبہ 20 فیصد سے بڑھ کر 26.3 فیصد ہو چکا ہے۔ بلین ٹریز پلس کے ذریعے اسے مزید 26.8 فیصد تک لے جانے اور مستقبل میں 30 فیصد جنگلاتی رقبے کا ہدف حاصل کرنے کا عزم ہے۔

یہ عمران خان کے گرین وژن ایک ایسا خیبرپختونخوا جہاں جنگلات محفوظ ہوں، حیاتیاتی تنوع پروان چڑھے، کاربن کا اخراج کم ہو، موسمیاتی خطرات کا مقابلہ کیا جائے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک سرسبز، محفوظ اور پائیدار مستقبل یقینی بنایا جائے۔

01/09/2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت محکمہ توانائی و برقیات کے جاری منصوبوں اور اہم امور سے متعلق اجلاس

خیبرپختونخوا کی ہائیڈل بجلی، تیل، گیس اور ایل پی جی کے وسائل ملکی ضروریات کا اہم حصہ پورا کر رہے ہیں، سہیل آفریدی

خیبرپختونخوا ملک کی مجموعی ہائیڈل بجلی پیداوار کا 70 فیصد سے زائد نیشنل گرڈ کو فراہم کر رہا ہے، وزیراعلیٰ

صوبائی ٹرانسمیشن لائن نہ ہونے کے باعث خیبرپختونخوا اپنی پیدا کردہ بجلی وفاق کو فروخت کرنے پر مجبور ہے، سہیل آفریدی

دوسری طرف اے جی این کازی فارمولے کے تحت وفاق کے ذمے این ایچ پی کے بقایاجات 2300 ارب سے تجاوز کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ

پہلے عبوری انتظام کے تحت باقاعدہ این ایچ پی کی مد میں بھی وفاق کے ذمے 78 ارب روپے سے زائد بقایاجات ہیں، بریفنگ

ملک کی 70 فیصد سے زائد ہائیڈل بجلی پیدا کرنے کے باوجود این ایچ پی کی مد میں پنجاب کو خیبرپختونخوا سے زیادہ رقوم مل رہی ہیں، بریفنگ

گزشتہ تین سال میں خیبرپختونخوا کو این ایچ پی کی مد میں 87.7 ارب روپے ملے، جبکہ پنجاب کو 160.8 ارب روپے، بریفنگ

این ایچ پی کی ادائیگی میں تاخیر اور عدم تناسب سے خیبرپختونخوا کی مالی صورتحال متاثر ہو رہی ہے، سہیل آفریدی

خیبرپختونخوا بجلی کی قابل اعتماد ترسیل اور صنعتی ضروریات کے لیے صوبائی ٹرانسمیشن و گرڈ نظام قائم کر رہا ہے، بریفنگ

وزیراعلیٰ کی صوبائی ٹرانسمیشن لائن کا منصوبہ سرمایہ کار کانفرنس میں پیش کرنے کی ہدایت،

صوبائی ٹرانسمیشن لائن کا منصوبہ انتہائی منافع بخش ہے، متعدد ممالک اس میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، سہیل آفریدی

قدرتی وسائل اور توانائی کی پیداوار کے باوجود خیبرپختونخوا کے عوام کو ان کے وسائل کا فائدہ نہ ملنا آئین کی خلاف ورزی ہے، وزیراعلیٰ

خیبرپختونخوا یومیہ 530 ایم ایم سی ایف ڈی قدرتی گیس پیدا کر رہا ہے جبکہ صوبے کی کھپت 200 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، بریفنگ

آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت گیس پیدا کرنے والے صوبے کو اپنی ضروریات پوری کرنے میں ترجیح حاصل ہے، وزیراعلی

خیبرپختونخوا یومیہ 850 ٹن ایل پی جی پیدا کر رہا ہے جبکہ صوبے کی یومیہ کھپت 600 ٹن ہے، بریفنگ

خیبرپختونخوا ملکی خام تیل کا 48 فیصد اور ایل پی جی کا 38 فیصد فراہم کرتا ہے، بریفنگ

اپنے وسائل کے باوجود خیبرپختونخوا کے عوام کو جائز فائدہ نہ ملنا آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے، وزیراعلیٰ

صوبے کے حقوق کے تحفظ کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ مضبوط اور باضابطہ طور پر معاملہ اٹھایا جائے، وزیراعلیٰ

وزیر اعلی کی وفاقی حکومت سے ریلیف نہ ملنے کی صورت میں خیبرپختونخوا کے حقوق کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنے کی ہدایت

01/09/2026

صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور خیبرپختونخوا محمد عدنان قادری نے محکمہ اوقاف کی خصوصی تقریب میں صوبے کے 210 رجسٹرڈ دینی مدارس میں نصابی کتب اور لائبریری فرنیچر تقسیم کیا۔ اس منصوبے کا مقصد مدارس کے طلبہ کو بہتر تعلیمی و مطالعاتی سہولیات اور معیاری مطالعہ کا ماحول فراہم کرنا ہے۔

منصوبے کے تحت 140 مدارس بندوبستی اضلاع جبکہ 70 مدارس ضم شدہ اضلاع میں شامل ہیں۔ ہر منتخب مدرسے کو منظور شدہ نصابی کتب کے 7 سیٹس فراہم کیے جا رہے ہیں۔ مجموعی طور پر 11,760 نصابی کتب تقسیم کی جا رہی ہیں، جن میں درجہ اولیٰ، ثانیہ، ثالثہ، رابعہ، خامسہ، سادسہ، موقوف علیہ اور دورہ حدیث کے نصابی درجات کی کتب شامل ہیں۔

مدارس میں لائبریریوں کے قیام کے لیے مجموعی طور پر 2,940 فرنیچر آئٹمز فراہم کیے جا رہے ہیں، جن میں 420 بک شیلف/الماریاں، 420 لائبریری ٹیبلز اور 2,100 کرسیاں شامل ہیں۔ ہر مدرسے کو 2 بک شیلف، 2 لائبریری ٹیبلز اور 10 کرسیاں فراہم کی جا رہی ہیں۔

صوبائی وزیر محمد عدنان قادری نے کہا کہ دینی مدارس کے طلبہ کو معیاری تعلیمی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ لائبریریوں کے قیام سے طلبہ کو نصابی کتب کے ساتھ ساتھ مطالعہ، علمی سرگرمیوں اور تحقیق کے لیے بہتر ماحول میسر آئے گا۔

یہ منصوبہ طلبہ کی علمی و تحقیقی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ حکومت خیبرپختونخوا مدارس میں تعلیمی سہولیات کی بہتری اور طلبہ کے لیے بہتر مواقع کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔

تقریب میں سیکرٹری اوقاف و مذہبی امور عطاءالرحمان، متحدہ علماء بورڈ کے سربراہ مولانا احسان الحق اور دیگر علماء کرام و متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔

31/08/2026

خیبرپختونخوا میں ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب اہم پیش رفت!

چیئرمین عمران خان کا وژن ہے کہ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی قیادت میں اسی وژن کے تحت ڈیجیٹل گورننس، ڈیجیٹل ادائیگیوں، سرکاری خدمات کی ڈیجیٹل فراہمی اور نوجوانوں کی ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔

ڈیجیٹل تبدیلی کے شعبے کی نمایاں پیش رفت:

🔹 462 خدمات: KPITB کی مکمل ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پائپ لائن میں شامل

🔹 795 سرکاری خدمات: کیش لیس خیبر پختونخوا کے تحت اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹل فراہمی کے لیے میپ کی جا چکی ہیں

🔹 800 خدمات: ڈیجیٹل ری ڈیزائن کے لیے بزنس پروسیس ری انجینئرنگ کے مرحلے میں ہیں

🔹 870 نوجوان: ضم شدہ اضلاع سے روزگار کے قابل ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت مکمل کر چکے ہیں

🔹 6.8 ارب روپے: Cashless KP پلیٹ فارمز کے ذریعے صوبے بھر میں ڈیجیٹل لین دین

🔹 726 ملین روپے: مارچ، اپریل 2026 میں Paymir کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیوں سے حاصل شدہ آمدن

🔹 4.3 ارب روپے: مارچ 2026 تک کیش لیس کے ریونیو چینلز کے ذریعے وصول شدہ آمدن

🔹 40 ملین روپے: Frontiers in Science پروگرام میں فی کنسورشیم زیادہ سے زیادہ ریسرچ گرانٹ

یہ اقدامات ایک ایسے جدید اور شہری دوست طرزِ حکمرانی کی بنیاد رکھ رہے ہیں جہاں ٹیکنالوجی کے ذریعے سرکاری خدمات کو مزید آسان، تیز، شفاف اور قابلِ رسائی بنایا جا رہا ہے۔

یہ صرف ڈیجیٹلائزیشن نہیں، یہ بہتر گورننس، نوجوانوں کے لیے نئے مواقع اور خیبرپختونخوا کے ڈیجیٹل مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔

ٹیکنالوجی سے سہولت، ڈیجیٹل نظام سے شفافیت، اور نوجوانوں کی مہارت سے ایک جدید خیبرپختونخوا کی تعمیر کا سفر جاری!

31/08/2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی سے بونیر کے تمباکو کاشتکاروں کے وفد کی ملاقات!

صوبائی وزیر ریاض خان، ایم پی اے عبد الکبیر خان، سید سالار باچا ، سیکرٹری ایکسائز اور دیگر شریک۔

🔹 بونیر کے تمباکو کاشتکاروں کو درپیش مسائل اور فصل کی عدم خریداری پر وزیراعلیٰ کو تفصیلی بریفنگ

🔹 وزیراعلیٰ کی پاکستان ٹوبیکو بورڈ کے چیئرمین کے ساتھ اجلاس منعقد کرکے کاشتکاروں کے مسائل سے آگاہ کرنے کی ہدایت

🔹 اجلاس میں تمباکو کاشتکاروں کے دو مقامی نمائندوں کی شرکت یقینی بنانے کی ہدایت

🔹 تمباکو کی تیار فصل کی بروقت خریداری کا معاملہ ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت

🔹 تمباکو کی خریداری کا کوٹہ بڑھانے کا معاملہ بھی متعلقہ اجلاس میں زیر بحث لانے کی ہدایت

🔹 تمباکو کی خریداری کا عمل تیز کرکے کاشتکاروں کو ممکنہ مالی نقصان سے بچانے کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جائے. تمباکو کاشتکاروں کے مسائل مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں. وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی

🔹 کسانوں کے حقوق کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہے، ضرورت پڑنے پر قانونی فریم ورک میں ترامیم بھی کی جا سکتی ہیں. بونیر کے تمباکو کاشتکاروں کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا.

🔹 صوبائی حکومت عوامی مسائل کے پائیدار حل اور انسانی ترقی میں سرمایہ کاری کے لیے کوشاں ہے. پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت عوامی مسائل کے پائیدار حل پر یقین رکھتی ہے.

Address

Khyber

Telephone

+92919210640

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Government of Khyber Pakhtunkhwa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Government of Khyber Pakhtunkhwa:

Shortcuts

Share