Alert

Alert Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Alert, Karachi.

28/08/2022

We are a group of safety professionals, with vast experience in the field of fire, work area, health, aviation and cargo safety.

27/08/2022
27/08/2022

پاکستان اس وقت اک مشکل دور سے گزر ریا ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ رب کائناتِ ہمیں اس امتحان میں بھی کامیاب کرے گا اور مشکل کی اس گھڑی کو آسان کر دے گا ۔بس ہمت اور کوشش ہماری یقینی جیت ہے۔
ملک غزیز سے دعاوں کہ ساتھ امداد کی اپیل ہے ۔کپڑے،جوتے ،چادر،بسکٹ اپنی مدد اپ کہ تحت امدای کمپ پر جلدازجلد درکار ہیں
شکریہ
https://www.facebook.com/alertsafetyservices/

We are a group of safety professionals, with vast experience in the field of fire, work area, health, aviation and cargo safety.

اک پیغام ہماری امدای کارکنوں کہ نام جو سیلاب متاثرین کی مدد کر رہے ہیں
27/08/2022

اک پیغام ہماری امدای کارکنوں کہ نام جو سیلاب متاثرین کی مدد کر رہے ہیں

Planting chang environmental effects
01/06/2020

Planting chang environmental effects

This lady here applied sanitizer on her arms and went to the kitchen to cook. The moment she turn on the stove, her hand...
23/03/2020

This lady here applied sanitizer on her arms and went to the kitchen to cook. The moment she turn on the stove, her hand caught fire due to the alcohol contained in the sanitizer. All please be careful!
23 March 2020

Safe hands
22/03/2020

Safe hands

21/03/2020

احتیاط، احتیاط، احتیاط کریں

کرونا وائرس، اصل خطرہ کیا ہے؟
فوجی گاڑیوں کی یہ قطار کسی ملک میں فوجی انقلاب کی نوید نہیں ہے بلکہ یہ ترقی یافتہ یورپ کا مڈل کلاس ملک اٹلی ہے، جہاں کورونا اپنے پنجے گاڑ چکا ہے۔ آج دفتر سے نکلتے وقت اٹلی میں اموات کی تعداد چین سے زیادہ ہوچکی تھی ۔۔ اب وہاں یہ حال ہے کہ میتیں اٹھانے کے لیے گاڑیاں نہیں ہیں سو فوجی ٹرکوں میں میتیں بھر کر بغیر کسی غسل وکفن اور آخری رسومات کے دفن کی جارہی ہیں، ایران میں ہر دس منٹ میں کورونا سے ایک موت ہورہی ہے۔ وہ دوائیں خریدنے کے لیے ساری دنیا سے بھیک مانگ رہا ہے کہ بس پابندیاں ہٹالو۔۔

اب آتے ہیں پاکستان میں جہاں پوری قوم کو یہ سب کھیل تماشا لگ رہا ہے، کچھ چیخ رہے ہیں کہ یہ سب بند کیوں کیا گیا ہے تو کچھ شہر بند ہونے کی خوشی میں دعوتیں کررہے ہیں۔۔

میں آپ کو بتاؤں اصل خطرہ کیا ہے؟ اصل خطرہ یہ ہے مرض جب بگڑتا ہے تو سوائے وینٹی لیٹر کے کوئی چارہ باقی نہیں رہتا اور وینٹی لیٹر نہ ملنے کا مطلب موت ہے۔۔

دستیاب اعداد وشمار کے مطابق پورے ملک میں کل ملا کر جو وینٹی لیٹر ہیں وہ ڈھائی ہزار سے زیادہ نہیں ہیں۔۔
آپ نے یقیناً یہ تعداد پہلی بار سنی ہوگی سو اب تھوڑا گبھرا لیں۔۔

پنجاب میں سرکاری اور غیرسرکاری ملا کر کل 1700 سو وینٹی لیٹر ہیں، بلوچستان میں کل 49 ، کے پی میں 150.. سندھ کے صحیح اعداد مجھے نہیں مل سکے لیکن اندازہ ہے کہ یہاں یہ تعداد کل چھ سو سے آٹھ سو کے لگ بھگ ہے۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں جہاں ہزاروں پرائیویٹ اسپتال ہیں، ان اسپتالوں کے پاس وینٹی لیٹرز کی کل تعداد 175 ہے باقی تمام اسپتال محض نزلے کھانسی اور بخار کے علاج کے لیے ہیں۔۔

اب اگر یہ وبا پھیلتی ہے، جو کہ پھیل رہی ہے، رات گئے تک مریضوں کی تعداد پانچ سو کے قریب ہوچکی تھی ۔۔ تو ان میں سے ایک خاطر خواہ تعداد کو وینٹی لیٹر درکار ہوں گے۔ یہ ڈھائی تین ہزار وینٹی لیٹر تو اس ملک کی اشرافیہ کی ضرورت کے لیے بھی ناکافی ہیں کجا یہ کہ عام آدمی کو مل جائیں۔۔

اس لیے اسکول بند کیے، کالج یونیورسٹی بند اور مارکیٹیں بھی بند کردیں۔۔ اب بھی اگر عوام نے سنجیدگی اختیار نہیں کی تو حکومت کرفیو لگانے کا سوچ رہی ہے۔۔

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کو دباؤ دے کر کاروبارِ زندگی بحال کر لیں گے وہ ذرا ہوش کریں۔۔

ایک لاکھ پچھتر ہزار وینٹی لیٹر ہیں امریکا کے پاس اور وہ خوف سے لرز رہا ہے۔۔ بھارت جو ہم سے بہت آگے ہے، وہ اتوار سے کرفیو نافذ کررہا ہے۔۔ آسٹریلیا نے اپنے ملک میں داخلہ آج سے بند کردیا ہے۔ چین جیسے ٹیکنالوجی کے سپر پاور نے اس جنگ میں فتح محض لاک ڈاؤن پر عمل کرکے ہی حاصل کی ہے۔ جنوبی کوریا وغیرہ نے لاک ڈاؤن کرکے ہی خود کو بچایا ہے۔

مجھے معلوم ہے کہ معاشی نقصان بے حد شدید ہوگا یہاں آجر سفاک ہے، دوکاندار اپنے ملازم کو بغیر کام کے تنخواہ نہیں دے گا، روز دہاڑی والے مزدور کا چولہا دو دن سے بند پڑا ہے۔۔

لیکن اگر یہ نہیں کریں گے، تو تصویر کا دوسرا رخ بھیانک ہے، یاد کریں ذرا ہیٹ اسٹروک کو، وہ صرف ایک شہر کراچی کی روداد تھی، چار دن میں حشر یہ تھا کہ نہ کفن تھا نہ دفن کرنے والے تھے، مردہ خانے بھر چکے تھے، نمائش چورنگی پر جے ڈی سی ٹینٹ لگا کر میتیں رکھے بیٹھا تھا۔۔

مزدور اور دہاڑی دار طبقے کے لیے مڈل کلاس اٹھے، اور اپنے ساتھ کم از کم ایک خاندان کو ایک وقت کا راشن دلوادے۔۔ لیکن یہ جو ہدایات ہیں کہ ہاتھ نہ ملائیں، اجتماعات نہ کریں، گھروں میں رہیں۔ بلا سبب گھر سے باہر نہ آئیں، ان پر خدارا عمل کریں۔۔

یہ سب مذاق نہیں ہے، یہ ساری دنیا پاگل نہیں ہے جو اپنے کاروبار سمیٹ کر بیٹھ گئی ہے، آپ اللہ توکل کریں لیکن اپنے انتظامات کرنے کے بعد۔۔ یہ وقت فیس بک پر میمز بنانے اور ٹویٹر پر عثمان بزدار کو رگڑنے کا نہیں ایک قوم بن کر اس بحران سے نبٹنے کا ہے ۔۔ یہ وبا ہے، یہ تیسری عالمی جنگ کے درجے کی ایمرجنسی ہے، اسے سمجھیں اور اپنا کھلنڈرا پن ایک طرف رکھ کر پوری قوم سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔۔

اگر آپ خود گھر میں نہیں بیٹھیں گے تو فوج آپ کو ڈنڈے مار کر گھروں میں رکھے گی ۔۔ اگر آپ وبا کے معاملے میں اللہ پرہی بھروسا کرنا چاہتے ہیں تو پھر رزق کے معاملے میں بھی کریں۔۔

تنگی تو یقیناً ہوگی، غذائی قلت اس وقت سب سے بڑا خطرہ بن کر سامنے کھڑی ہے۔۔ ایسے حالات میں ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہمیں خوراک کے معاملے میں محتاط ہونا ہے، فضول ضیاع کو روکیں۔۔ فالتو کی دعوتیں بند کردیں، باہر نہیں جاسکتے تو یہ مطلب نہیں کہ ڈیلیوری بوائے سے کھانا منگوا کر کھایا جائے۔۔ فوڈ کا بحران اس وقت دوسرا بڑا چیلنج ہے وینٹی لیٹر کے بعد ۔۔ یاد رکھیں حکومت تنہا اس معاملے سے نہیں نبٹ پائے گی ۔۔ آپ کو، مجھے ہم سب کو مل کر ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔۔۔

باقی آپ سب کی مرضی ۔۔ وما علینا الاالبلاغ...

(نوٹ : اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں تاکہ۔جن میں عقل۔کی۔کمی ہے انہیں تھوڑی عقل آجائے اور وہ کرونا وائرس کو ہنسی مزاق میں اڑانے کے بجائے اللہ توبہ کریں)

19/03/2020

معروف فزیشن اور شاہدہ اسلام میڈیکل کالج کے *پروفیسر ڈاکٹر اذفر فروغ* کی کرونا وائرس کے حوالے سے معلومات اور ہدایات:

کورونا وائرس ۔۔ عوام کیسے بچیں

آج ہمیں جس عذابِ الٰہی کا سامنا ہے اس سے بچنے کے لیے ہمیں کام بھی جنگی بنیادوں پر کرنا ہو گا۔ اس بیماری کو مذاق نہ سمجھیں اور اس کے بارے میں غیر سنجیدہ رویہ اختیار نہ کریں ورنہ یہ دنوں میں سینکڑوں لوگوں کو لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

ہمارے ہاں دو قسم کی آراء چل رہی ہے۔
ایک وہ لوگ ہیں جو سخت ڈرے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری حکومت اور ہیلتھ سسٹم میں اتنا دم ہی نہیں کی ہمیں بچا سکے اس لیے سخت اقدامات کر کے اپنے آپ کو مشکل میں ڈالے ہوئے ہیں۔
اور دوسرے وہ ہیں جو کہتے ہیں کسی احتیاط کا کوئی فائدہ نہیں جب اللہ کا حکم آئے گا تو بیماری اور موت سے کوئی نہیں بچا سکتا اس لیے کچھ نہ کرو۔

اس سلسے میں عرض یہ ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ پہلے اسباب اختیار کرو اور پھر ان اسباب کا انجام مسبب الاسباب اللہ کے سپرد کر دو۔

لہذا ممکن حد تک احتیاط ضرور کریں اور اس کے نتیجے اور بیماری سے بچاؤ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیں۔

اب آتے ہیں اصل عنوان کی طرف، اس سے پہلے کہ میں آپ کو احتیاطی تدابیر بتاؤں پہلے یہ بات کہ ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ ہمیں کورونا انفیکشن تو نہیں ہو گئی تاکہ ہم فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

اگر مندرجہ ذیل چار علامات میں سے کوئی تین علامات آپ کے اندر اکٹھی موجود ہوں تو ضرور medical advise لیں ورنہ پریشانی کی کوئی بات نہیں آپ کو سادہ نزلہ زکام ہے اپنا علاج گھر پر ہی کر لیں۔

1. تیز بخار (اگر بخار 100 ڈگری فارنہائٹ سے کم ہے تو آپ کو یہ علامت نہیں)

2. خشک کھانسی (اگر کھانسی کے ساتھ بلغم آ رہی ہے تو آپ کو یہ علامت نہیں ہے)

3. سانس لینے میں دشواری (10 سیکنڈ سانس روک کر اگر آپ کو کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی تو آپ کو یہ علامت نہیں ہے)

4. بند ناک (اگر آپ کی ناک بہہ رہی ہے یا بہت چھینکیں آتی ہیں تو آپ کو یہ علامت نہیں ہے)

نوٹ:
# اگر آپ کو شوگر، دل کی بیماری یا گردے خراب کا مسئلہ ہے تو پھر اوپر دی گئی علامات میں سے دو کی موجودگی میں بھی ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

# اگر آپ کو ان میں سے پہلی دو علامت کے ساتھ الٹی، متلی اور موشن ہیں تب بھی ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

اب آئیے ان اسباب کی طرف جن پر ہم سب کو سختی سے عملدرآمد کرنا ہو گا تاکہ ہم اپنے اور اپنی نسلوں کے تحفظ کی کوشش کر سکیں۔

1. ہر ممکن حد تک اپنے گھر کے اندر رہیں۔

2. ہوٹلز، پارکس، مالز وغیرہ میں غیر ضروری نکلنے سے مکمل پرہیز کریں۔

3. صرف اس لیے کہ چھٹیاں ہیں شہر یا شہر سے باہر سیر کی غرض یا صرف دوستوں، رشتہ داروں وغیرہ سے ملنے مت جائیں۔

4. گھر کے ضروری سامان اور راشن وغیرہ خریدنے کی زمہ داری صرف ایک فرد پر ڈالیں، گھر کا ہر شخص شاپنگ کے لیے نہ نکلے سوائے اس کے کہ بہت مجبوری ہو۔

5. جو بھی چیز خرید کر لائیں اگر خراب ہونے والی نہیں تو اس کو گھر سے باہر گاڑی یا موٹر سائیکل پر 12 گھنٹے پڑا رہنے دیں پھر اس کو گھر کے اندر لائیں۔ وگرنہ اس کو ایسی جگہ پر رکھیں جہاں اس کو کوئی نہ چھوئے۔ کیونکہ کسی بھی چیز پر یہ وائرس 12 گھنٹے سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا۔

6- سبزی، پھل اور اسی طرح کی دیگر خراب ہونے والی چیزوں کو لانے والا شخص کسی سے ملے بغیر سیدھا کچن میں جائے، شاپر وغیرہ ڈسٹ بن میں ڈال دے اور چیزوں کو کھلے پانی سے اچھی طرح دھو لے اور پھر اپنے ہاتھ اور بازو صابن سے دھو لے۔ بہتر یہ ہے کہ وہ نہا لے اور پھر گھر والوں سے ملے۔

7. گھر سے باہر کسی سے مصافحے اور معانقے سے پرہیز کریں۔

8. گھر کے اندر داخل ہو کر سب سے پہلے صابن سے ہاتھ دھوئیں پھر گھر والوں سے ملیں۔

9. اپنے چہرے، منہ اور آنکھوں کو حتی الامکان چھونے سے گریز کریں۔

10. اگر چھینک یا کھانسی آئے تو اپنی کہنی منہ اور ناک کے آگے کریں۔ اپنے ہاتھوں اور رومال وغیرہ پر نہ چھینکیں۔ اگر ٹشو استعمال کریں ہے تو اس کو فوراً ڈسٹ بن میں پھینک دیں اور ہاتھوں کو صابن سے دھوئیں یا sanitizer استعمال کریں۔

11- اگر کوئی آپ کے قریب کھانسے یا چھینکے تو اگر ممکن ہو تو اپنے کپڑے تبدیل کر لیں ورنہ کم از کم اپنا ہاتھ اور منہ صابن سے دھو لیں۔ ساتھ ہی ساتھ اس شخص کو کہیں کہ ایسا کرتے ہوئے وہ اپنی کہنی منہ اور ناک کے سامنے رکھے تاکہ مزید لوگ تنگ نہ ہوں۔

12. ماسک صرف وہ شخص استعمال کرے جس کو کھانسی ہے ورنہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے ماسک کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ یہ وائرس ہوا کے ذریعے ہمارے ناک یا منہ میں نہیں جاتا بلکہ یہ ہمارے ہاتھوں کے ذریعے ہمارے ناک، منہ (اور کچھ حد تک آنکھوں) سے ہمارے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ اسی لیے پوائنٹ نمبر 8 پر سختی سے عمل کریں۔

13. مارکیٹ میں sanitizer نہیں مل رہے تو آپ گھر میں سپرٹ یا after shave کو، sterile پانی یا ابال کر ٹھنڈے کیے ہوئے پانی میں 50/50 کے حساب سے ملا کر sanitizer بنا سکتے ہیں۔

14. صابن سے 20 سکینڈ ہاتھ دھوئیں یہ sanitizer سے بہتر حفاظت فراہم کرتا ہے۔ مگر یاد رہے کی صابن کی ٹکیہ کو 20 سکینڈ آپ نے ہاتھ میں رکھتے ہوئے ہاتھوں کو رگڑتے رہنا ہے۔ اس کے لیے آپ 20 تک آہستہ آہستہ گنتی گن کر ٹائم پورا کر سکتے ہیں۔

15. اپنے دفتر یا کام کی جگہ کے ٹیبل، شیلف اور دیگر ایسی جگہوں کو جہاں مختلف لوگوں کے ہاتھ لگتے رہتے ہیں، Dettol یا اسی طرح کے دوسرے antiseptic کو پانی میں مکس کر کے بار بار صاف کرتے رہیں۔

16. لفٹ، سیڑھیوں، پبلک کے استعمال کے دروازوں وغیرہ کو استعمال کرنے کے بعد اپنے ہاتھ ضرور دھوئیں یا sanitizer سے صاف کریں۔

17. کپڑے روزانہ تبدیل کریں اور اتارے ہوئے کپڑوں کو دھو کر 1-2 گھنٹے دھوپ میں سکھائیں۔ کوشش کریں کہ اترے ہوئے کپڑوں کو 12 گھنٹے کوئی ہاتھ نہ لگائے۔

18. کھانا گھر پر ہی پکائیں۔ اگر مجبوراً باہر سے کھانا منگوانا پڑے تو جو شخص اس کو وصول کرے وہ فوری طور پر کھانے کو کسی گھر کے برتن میں منتقل کرے اور اس کی پیکنگ اور شاپر کو ڈسٹ بن میں ڈال کر اپنے ہاتھ دھو لے۔ بہتر ہو گا کہ کھانے کو دوبارہ تیز گرم کر لیں تاکہ وائرس سے پاک کیا جا سکے۔

19. غیر ضروری طور پر یا کسی پرانی بیماری کے لیے ہسپتال جانے سے گریز کریں۔ صرف ایمرجنسی کی صورت میں ہسپتال جائیں کیونکہ وہاں پر وائرس کے ممکنہ مریض کثرت سے آ رہے ہیں اور آپ کو خطرہ ہے۔

20. اگر آپ کا کوئی مریض ایمرجنسی کی وجہ سے ہسپتال داخل ہے تو بھی بچے، 50 سال سے اوپر کے لوگ اور شوگر، دل، گردے، جگر اور سانس کے مریض، داخل مریض کی عیادت یا خدمت کے لیے ہسپتال نہ جائیں۔

21. کسی بھی قسم کے بخار کی صورت میں صرف اور صرف پیراسٹامول (panadol) یا عام زبان میں شیر والی گولی استعمال کریں۔ کسی بھی قسم کے NSAID جیسے Brufen, Ponston, Dicloran, Disprin وغیرہ استعمال نہ کریں کیونکہ اگر آپ کے جسم میں کورونا وائرس ہے تو یہ NSAIDs اس کے نقصان کو کئی گنا بڑھا دیں گے۔

22. مساجد میں داخل ہوتے ہوئے اگر آپ اپنے جوتوں کو ہاتھ لگاتے ہیں تو پہلے ہاتھ دھوئیں پھر نماز میں شامل ہوں۔ اسی طرح مسجد سے نکلتے ہوئے بھی اگر ہاتھ دھو لیں تو بہتر ہے ورنہ پوائنٹ نمبر 7 پر تو عمل ضرور کریں۔

23. مساجد کے امام حضرات کو کہیں کہ اس آفت سے محفوظ رہنے کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں۔

24. کثرت سے استغفار کرتے رہیں اور اللہ سے رحم مانگتے رہیں۔

ان چیزوں کو دوسروں تک پہنچائیں تاکہ ہم سب محفوظ رہ سکیں۔
اللہ پاک ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے
آمین، ثم آمین۔
دعاؤں کا طالب
ڈاکٹر اذفر
(ہر ممکن کوشش کی ہے کہ کوئی غلط معلومات نہ ہوں مگر پھر بھی بندہ بشر ہے لہٰذا اگر کوئی بات تصحیح طلب ہو تو ضرور آگاہ کیجئے گا۔ شکریہ)

احتیاط افسوس سے بہتر ہے
17/03/2020

احتیاط افسوس سے بہتر ہے

04/03/2020

Hygiene
Good personal hygiene is important for both health and social reasons. It entails keeping your hands, head and body clean so as to stop the spread of germs and illness. Your personal hygiene benefits your own health and impacts the lives of those around you, too.

Address

Karachi

Telephone

+923333536404

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Alert posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Alert:

Share