12/02/2026
آج یونیورسٹی کے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ایک نہایت قابلِ مذمت، غیر اخلاقی اور غیر قانونی اقدام سامنے آیا ہے، جس میں امتحان سے قبل طلبہ سے موبائل فون زبردستی لے کر آفس میں جمع کروائے گئے اور بعد ازاں طلبہ سے دو ہزار، پانچ ہزار حتیٰ کہ دس ہزار روپے تک کی ناجائز رقم کا مطالبہ کیا گیا۔ طلبہ کو یہ کہا گیا کہ جب تک وہ رقم ایزی پیسہ کے ذریعے ادا نہیں کریں گے، نہ تو ان کے موبائل واپس کیے جائیں گے اور نہ ہی انہیں امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے گی۔
یہ عمل سراسر بلیک میلنگ، کرپشن اور طلبہ کے بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو طلبہ کو سہولیات فراہم کرنی چاہئیں، نہ کہ انہیں لوٹنے اور ذہنی دباؤ میں ڈالنے کا ذریعہ بنے۔
انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن اس ظلم، ناانصافی اور کرپٹ نظام کو کسی صورت قبول نہیں کرتی۔ ہم واضح الفاظ میں اعلان کرتے ہیں کہ طلبہ سے بھتہ وصول کرنے، امتحانات کو بزنس بنانے اور خوف کے ذریعے فیصلے مسلط کرنے کی ہر کوشش کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:
اس واقعے میں ملوث تمام ذمہ داران کے خلاف فوری انکوائری کی جائے
طلبہ سے وصول کی گئی تمام رقم فوری واپس کی جائے
آئندہ کسی بھی طالبعلم کو اس طرح ہراساں نہ کیا جائے
اگر ہمارے مطالبات کو نظرانداز کیا گیا تو انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن ہر آئینی، قانونی اور جمہوری پلیٹ فارم پر اس مسئلے کو اٹھائے گی اور ذمہ داران کو بے نقاب کیا جائے گا۔
صدر
فضل مجید
انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کسٹ کوہاٹ