02/02/2023
کوہلو۔
تحصیل کاہان آبادکاری کے نام پر ہمارے زمینوں کو قبضہ کیا جارہا ہے آباد کاری کے صرف دعوے ہیں۔ علاقہ مکین شیرانی قبائل
کوہلو۔ (رپورٹ موسیٰ جان مری) تفصیلات کے مطابق بلوچستان ضلع کوہلو کے تحصیل کاہان سے تعلق رکھنے والے شیرانی قبائل کے مکینوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک عرصہ سے کاہان کے آبادکاری کی خبریں چل رہے تھے۔
جس سے دیکھ کر بےحد خوشی ہورہی تھی کہ ہم اپنے علاقے میں دوبارہ آباد ہونگے مگر نوابزادہ گزین مری کے منشیوں اور گارڈوں نے آبادکاری کے نام پر ہمارے زمینوں پہ زور زبردستی قبضہ جمالیا ہے ہمارے زمینوں پہ ایف سی کے 3 قلعوں کو قبضہ کرکے انکے سامان گارڈر، دروازے وغیرہ نکال کر فروخت کیا جارہا ہے۔
ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مقامی لوگ شیرانی قبائل کا مزید کہنا تھا کاہان میں ایف سی کے چلے جانے کے بعد نوابزادہ گزین مری کے منشیوں و گارڈوں نے ہمارے زمینوں پر قبضہ شروع کیا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحصیل کاہان میں ایف سی کے 3 بڑے قلعہ شیرانی قبائل کے زمینوں پہ مشتمل تھا جوکہ وہ قلعے شیرانی قبیلے کی ملکیت ہے مگر نوابزادہ گزین مری کے منشیوں اور مسلح گارڈوں نے تینوں قلعوں پر قبضہ جمالیا ہے اور تمام قلعوں کا کمروں کے گارڈر دروازے کھڑکیاں وغیرہ توڑ پھوڑ کر فروخت کررہے ہیں جوکہ ہر روز کئی ٹریکٹر پک اپ گاڑی لوڈ ہوکر کوہلو میں فروخت کیا جاتا ہے گزشتہ روز شیرانی قبائل کے معززین کا کاہان جانا ہوا تو دیکھا وہی غنڈہ گردی اور سردار شاہی کا نظام شروع ہوچکا ہے اور کاہان کے آباد کاری کی صرف باتوں تک محدود ہے ان کا مزید کہنا تھا قبضہ گیری صرف شیرانی قبائل کے زمینوں پہ کیا جارہا ہے اور کاہان کی آبادکاری باتیں محض باتیں ہیں اصل محرکات ایف سی کو کاہان سے نکال کر اپنا سردار شاہی اور وڈیرہ شاہی نظام شروع کرکے علاقے پر قبضہ جمانا ہے۔
یاد رہے تحصیل کاہان میں علی زرکون اور مسعود نامی شخص نے لوٹ ماری شروع کیا ہوا ہے ایف سی قلعوں کے دروازے کھڑکی اور گارڈر توڑ کر کوہلو شہر میں کچھ بااثر افراد کی سرپرستی سے فروخت کررہے ہیں آباد کاری کے بجائے لوٹ ماری چل رہی ہے اگر کاہان کو شروعات سے یہی لوٹ ماری جاری ہے اگر ایسا رہا تو آباد کاری بھی ممکن نہیں ہے۔
شیرانی قبائل و علاقہ مکین نے کہا گزین خان مری سے گزارش ہے کرتے ہوئے کہا کہ اپنے منشیوں کو لگام دیا جائے اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آباد کاری کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے مذید حالات کشیدہ ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آبادکاری کے نام پر اسی طرح لوٹ ماری قبضہ گیری شروع ہوا تو امن و امان قائم ہونے کے بجائے حالت مزید خراب ہوتے جائیں۔
تحصیل کاہان کے مکین شیرانی قبائل نے کہا ہم وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو، چیف آف آرمی سٹاف، آئی جی ایف سی بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان، کمشنر سبی وزیر تعلیم میرنصیب اللّٰہ مری، ایف سی کمانڈیٹ کوہلو عاطف صاحب، ونگ کمانڈر سید عمران نصیر، ڈپٹی کمشنر کوہلو و دیگر بالا احکام سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ اس حوالے سے جلد نوٹس لیکر قبضہ گیری کا نظام ختم کیا جائے۔