20/03/2026
🌙 رازِ تصوف — فقرِ ابوذرؓ
زہد کا وہ درویش جو آخر میں تنہا رہ گیا
اسلام کی تاریخ میں کچھ ایسے لوگ بھی گزرے ہیں
جنہوں نے دنیا کو صرف دیکھا نہیں…
بلکہ اس کی حقیقت کو پہچان لیا تھا۔
ان لوگوں کے دل
دنیا کے بازار میں رہ کر بھی
دنیا سے خالی تھے۔
انہی میں ایک نام ہے
حضرت ابوذر غفاریؓ۔
وہ صحابی
جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
“زمین و آسمان نے ابوذر سے زیادہ سچا انسان نہیں دیکھا۔”
ابوذرؓ کی زندگی
سچائی، فقر اور زہد کا ایک جلتا ہوا چراغ تھی۔
وہ دنیا کی دولت سے نہیں
بلکہ اللہ کی رضا سے محبت کرتے تھے۔
جب انہوں نے اسلام قبول کیا
تو مکہ کے بازار میں کھڑے ہو کر
بلند آواز میں اعلان کیا:
“اشهد أن لا إله إلا الله.”
لوگوں نے مارا
پتھروں سے زخمی کیا
مگر ابوذرؓ کی زبان سے کلمہ نہ چھین سکے۔
ان کے دل میں
دنیا کے مال کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔
وہ ہمیشہ کہتے تھے
“مجھے تعجب ہے اس شخص پر
جس کے پاس کھانے کو نہیں
پھر بھی وہ ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا۔”
اسی حق گوئی کی وجہ سے
وہ ہمیشہ دنیا داروں کو کھٹکتے رہے۔
وقت گزرا
اور ایک دن وہ لمحہ بھی آیا
جب ابوذرؓ کو مدینہ چھوڑ کر
ربذہ کے سنسان صحرا میں رہنا پڑا۔
وہی ابوذرؓ
جو کبھی رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں بیٹھتے تھے
اب ایک ویران صحرا میں رہنے لگے۔
کوئی لشکر نہیں
کوئی شہر نہیں
کوئی دنیاوی عزت نہیں۔
صرف ایک چھوٹا سا خیمہ
اور ایک درویش دل۔
کہتے ہیں
ان کی وفات کے وقت
وہ تقریباً اکیلے تھے۔
مگر یہ تنہائی بھی عجیب تھی۔
کیونکہ وہ تنہا ہو کر بھی
اپنے رب کے قریب تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے پہلے ہی فرمایا تھا
“ابوذر تنہا جئیں گے
تنہا مریں گے
اور تنہا ہی اٹھائے جائیں گے۔”
اور واقعی ایسا ہی ہوا۔
جب ان کا وقتِ وصال آیا
تو ایک قافلہ وہاں سے گزرا
اور انہی کے ہاتھوں
اس درویش صحابی کی تدفین ہوئی۔
صوفیا کہتے ہیں
تصوف کی اصل یہی ہے۔
دنیا کے بیچ رہ کر بھی
دل کو دنیا سے آزاد رکھنا۔
یہ وہی فقر ہے
جو ابوذرؓ کے دل میں تھا۔
یہ وہی زہد ہے
جو اصحابِ صفہ کے پاس تھا۔
اصحابِ صفہ
وہ لوگ تھے
جو مسجدِ نبوی کے ایک چبوترے پر رہتے تھے۔
نہ گھر
نہ مال
نہ دنیا کی آسائشیں۔
مگر ان کے پاس
ایک دولت تھی۔
رسول اللہ ﷺ کی قربت۔
وہ دن رات
علم، ذکر اور عبادت میں رہتے تھے۔
کبھی کئی کئی دن
بھوک میں بھی گزر جاتے۔
مگر ان کے دلوں میں
اللہ کا نور تھا۔
اسی لیے
اہلِ تصوف کہتے ہیں
جس نے فقرِ ابوذرؓ کو سمجھ لیا
اور اصحابِ صفہ کی زندگی کو جان لیا
وہ تصوف کے دروازے پر پہنچ گیا۔
کیونکہ تصوف کا مطلب
صرف درویش بننا نہیں۔
بلکہ یہ ہے
دنیا ہاتھ میں ہو
مگر دل صرف اللہ کے پاس ہو۔
🌙 راہِ تصوف
وہ راستہ
جہاں ابوذرؓ کا فقر
اور اصحابِ صفہ کی بھوک
دل کو اللہ کے قریب لے جاتی ہے۔
سیدہ غلام غوثیہ 🤲🏻
ؓ
#تصوف