19/05/2026
وہ شہر جہاں کتابوں کی قیمت سونے سے زیادہ تھی ــ جہاں تک پہنچنے کے لیے لوگ صحرا میں ہی مر جاتے تھے۔ـ
کیونکہ
دنیا کے سب سے بڑے راز اکثر اُن جگہوں میں دفن ہوتے ہیں… جنہیں لوگ ویران سمجھ لیتے ہیں۔
افریقہ کے مغربی حصے میں موجود Timbuktu آج بظاہر ایک خاموش اور گرد آلود شہر دکھائی دیتا ہے… مگر ایک وقت تھا جب یہ دنیا کے امیر ترین، علمی اور پراسرار شہروں میں شمار ہوتا تھا۔
یہ شہر موجودہ ملک Mali کے شمالی حصے میں دریائے نائجر کے قریب اور عظیم صحرائے صحارا کے جنوبی کنارے پر واقع ہے۔ اسی محلِ وقوع نے اسے صدیوں تک تجارت کا مرکز بنائے رکھا۔
شمالی افریقہ سے آنے والے اونٹوں کے قافلے نمک، سونا، کپڑا اور قیمتی اشیاء لے کر یہاں پہنچتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس دور میں بعض اوقات نمک کی قیمت سونے کے برابر سمجھی جاتی تھی۔
تاریخی شواہد کے مطابق تیمبکٹو کی بنیاد تقریباً 1100 عیسوی کے آس پاس طوارق قبائل نے رکھی۔ ابتدا میں یہ ایک موسمی تجارتی پڑاؤ تھا جہاں صحرا عبور کرنے والے قافلے آرام کیا کرتے تھے۔ مگر 13ویں صدی تک یہ مغربی افریقہ کی تجارت کا اہم مرکز بن چکا تھا۔
یہ شہر پہلے Mali Empire کا حصہ رہا۔ 1324 میں مالی سلطنت کے مشہور بادشاہ منسا موسی (Mansa Musa) نے حج کا تاریخی سفر کیا۔ اس سفر میں وہ اتنا سونا ساتھ لے کر گیا کہ مصر کی معیشت کئی سال متاثر رہی۔
اسی دور میں تیمبکٹو کو غیر معمولی ترقی ملی۔ 1327 میں عظیم Djinguereber Mosque تعمیر کی گئی، جسے اندلس کے معمار ابو اسحاق الساحلی نے ڈیزائن کیا تھا۔
15ویں اور 16ویں صدی میں تیمبکٹو اپنی علمی عظمت کے عروج پر تھا۔ اس دور میں یہاں کی آبادی تقریباً 70 ہزار سے 100 ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے، جبکہ ہزاروں طلبہ یہاں تعلیم حاصل کرتے تھے۔
شہر میں مختلف نسلی گروہ آباد تھے، جن میں طوارق، سونگھائی، عرب، منڈے اور فولانی شامل تھے۔ یہاں کا معاشرتی نظام تجارت، اسلامی تعلیمات اور علمی روایت پر قائم تھا۔ قاضی، علما اور تاجر شہر کے طاقتور طبقات سمجھے جاتے تھے۔
خواتین بھی تجارت اور جائیداد کے معاملات میں حصہ لیتی تھیں، جو اس دور کے لحاظ سے ایک نہایت ماڈرن اور غیر معمولی بات تھی۔
یہاں کے مدارس اور لائبریریاں پورے افریقہ اور اسلامی دنیا میں مشہور تھیں۔ خاص طور پر Sankore Madrasah ایک عظیم تعلیمی مرکز تھا جہاں فلکیات، ریاضی، فقہ، طب، جغرافیہ اور فلسفہ پڑھایا جاتا تھا۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق اس شہر میں سات لاکھ سے زائد نایاب مخطوطات موجود تھے۔ اسی لیے کہا جاتا تھا کہ۔۔۔
“تیمبکٹو میں کتابوں کی تجارت سونے سے زیادہ منافع دیتی ہے۔”
بعد میں یہ شہر Songhai Empire کے زیرِ اقتدار آگیا۔ مگر 1591 میں ایک تباہ کن واقعہ پیش آیا۔
مراکش کے سلطان احمد المنصور نے سونے کی دولت پر قبضہ کرنے کے لیے تیمبکٹو اور سونگھائی سلطنت پر حملہ کردیا۔ “جنگِ تونڈیبی” میں مراکشی فوج نے بارود اور بندوقوں کی مدد سے سونگھائی فوج کو شکست دے دی۔
اس حملے کے بعد تیمبکٹو کی علمی اور سیاسی طاقت آہستہ آہستہ ختم ہونا شروع ہوگئی۔ بہت سے علما قتل یا جلاوطن کردیے گئے اور کئی علمی مراکز تباہ ہوئے۔
19ویں صدی میں یورپی دنیا میں تیمبکٹو کو ایک افسانوی “سنہری شہر” سمجھا جاتا تھا۔ کئی مہم جو صحرا عبور کرتے ہوئے اسے تلاش کرنے نکلے مگر راستے میں مارے گئے۔
آخرکار 1828 میں فرانسیسی مہم جو رینی کایئے یہاں پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ مگر اس نے دیکھا کہ شہر مٹی کی عمارتوں، خاموش گلیوں اور زوال پذیر معیشت کا شکار ہوچکا تھا۔
1893 میں فرانسیسی افواج نے تیمبکٹو پر قبضہ کرلیا اور یہ فرانسیسی نوآبادیاتی سلطنت کا حصہ بن گیا۔ بعد میں 1960 میں مالی کی آزادی کے بعد یہ مستقل طور پر جدید ریاست مالی کا حصہ بن گیا۔
پھر 2012 میں ایک اور سانحہ پیش آیا۔ شمالی مالی میں شدت پسند گروہوں نے تیمبکٹو پر قبضہ کرلیا۔
ان گروہوں میں انصار الدین اور القاعدہ سے وابستہ جنگجو شامل تھے۔ انہوں نے قدیم مزارات، مقبروں اور تاریخی مقامات کو “غیر اسلامی” قرار دے کر تباہ کرنا شروع کردیا۔
یونیسکو کے مطابق کئی تاریخی مزارات اور قدیم عمارتوں کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا۔ دنیا کو سب سے بڑا خوف یہ تھا کہ شہر کے لاکھوں نایاب مخطوطات جلا دیے جائیں گے۔
مگر تب ایک حیران کن واقعہ ہوا۔
شہر کے عام لوگوں، لائبریری مالکان اور مقامی نوجوانوں نے رات کے اندھیرے میں ہزاروں قدیم کتابیں لکڑی کے صندوقوں میں چھپا کر خفیہ راستوں سے باہر منتقل کردیں۔
تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد مخطوطات تباہ ہونے سے بچا لیے گئے۔ بعض لوگ اس مشن کے دوران اپنی جان سے بھی گئے۔
آج تیمبکٹو کی آبادی تقریباً 55 ہزار کے قریب ہے۔ اگرچہ اب یہ دنیا کا عظیم ترین علمی مرکز نہیں رہا… مگر اس کی مٹی میں آج بھی وہ تاریخ دفن ہے جب صحرا کے بیچ ایک ایسا شہر آباد تھا ۔۔۔
جہاں لوگ سونا نہیں… علم جمع کرنے آتے تھے۔