24/06/2026
#نوجوان
سیاسی کارکن، نوجوان اور خوابوں کی سیاست
تحریر فیصل مقصود
سیاست کا مقصد اگر عوامی خدمت، میرٹ اور انصاف کا قیام ہو تو یہ معاشروں کی تعمیر کا ذریعہ بنتی ہے، لیکن جب سیاست ذاتی مفادات، خاندانی اجارہ داری اور اقتدار کی ہوس کے گرد گھومنے لگے تو سب سے زیادہ نقصان عام کارکن اور نوجوان طبقہ اٹھاتا ہے۔
سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں میرٹ، روزگار، نوجوانوں کے حقوق اور مساوی مواقع کے دلکش نعرے پیش کرتی ہیں۔ نوجوانوں کو بہتر مستقبل، روزگار اور ترقی کے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ انہیں یقین دلایا جاتا ہے کہ اگر فلاں جماعت اقتدار میں آئی تو تعلیم، روزگار اور خوشحالی کے دروازے کھل جائیں گے۔ انہی امیدوں کے سہارے ہزاروں نوجوان سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، جلسوں میں جاتے ہیں، سوشل میڈیا پر دفاع کرتے ہیں اور اپنی توانائیاں جماعتی مفادات کے لیے صرف کرتے ہیں۔
لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ سیاسی کارکنوں کو مختلف وعدوں اور آسروں کے ذریعے متحرک رکھا جاتا ہے۔ کہیں نوکریوں کی امید دلائی جاتی ہے، کہیں مستقبل میں عہدوں اور مراعات کے خواب دکھائے جاتے ہیں اور کہیں وفاداری کے صلے میں خصوصی فوائد کی توقع پیدا کی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بہت سے نوجوان اپنی اصل ترجیحات کو پسِ پشت ڈال کر برسوں سیاسی سرگرمیوں میں کھپ جاتے ہیں۔
دوسری طرف جب نوکریوں، ترقیوں یا مراعات کی تقسیم کا وقت آتا ہے تو اکثر میرٹ کے بجائے سفارش، تعلقات، خاندانی اثر و رسوخ اور مالی طاقت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ کئی مواقع پر وہ لوگ آگے نکل جاتے ہیں جو اقتدار کے ایوانوں کے قریب ہوتے ہیں، جبکہ برسوں محنت کرنے والے کارکن صرف وعدوں اور تسلیوں تک محدود رہ جاتے ہیں۔ یوں نوجوانوں کے خواب ٹوٹتے ہیں اور ان کی قیمتی عمر واپس نہیں آتی۔
اسی طرح عوامی خدمت اور تنظیمی سرگرمیوں کے نام پر جمع ہونے والے وسائل اور فنڈز کے بارے میں بھی شفافیت کا فقدان اکثر سوالات کو جنم دیتا ہے۔ نچلی سطح کا کارکن قربانیاں دیتا ہے، وقت دیتا ہے اور اپنی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالتا ہے، لیکن اسے ہمیشہ یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ وسائل کہاں اور کس طرح استعمال ہو رہے ہیں۔
اس تمام صورتحال میں سب سے اہم چیز سیاسی شعور ہے۔ ایک کارکن کو کسی جماعت یا رہنما سے وابستگی رکھنے کا حق حاصل ہے، لیکن اسے اپنی عقل، سوچ اور تنقیدی صلاحیت کو کبھی گروی نہیں رکھنا چاہیے۔ باشعور انسان اپنے پسندیدہ رہنما کے درست فیصلوں کی حمایت کرتا ہے اور غلط فیصلوں پر تنقید کرنے کا حوصلہ بھی رکھتا ہے۔ شخصیت پرستی اور اندھی تقلید کسی بھی معاشرے کو ترقی نہیں دیتی، بلکہ اصولوں، میرٹ اور جوابدہی کا نظام ترقی کی بنیاد بنتا ہے۔
بحیثیت نوجوان میری نصیحت یہ ہے کہ اپنی زندگی کا محور کسی سیاسی شخصیت یا جماعت کو نہ بنائیں۔ سیاست میں دلچسپی ضرور رکھیں، ملکی معاملات سے باخبر رہیں، اپنے ووٹ اور رائے کا حق استعمال کریں، لیکن اپنی تعلیم، ہنر، کاروبار اور روزگار کو کبھی نظرانداز نہ کریں۔ جو وقت آپ اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر لگائیں گے، وہی وقت آپ کے مستقبل کی ضمانت بنے گا۔
یاد رکھیں، ایک مضبوط معاشرہ نعروں سے نہیں بلکہ تعلیم یافتہ، باصلاحیت، خوددار اور معاشی طور پر مستحکم نوجوانوں سے بنتا ہے۔ لہٰذا کسی کی کٹھ پتلی بننے کے بجائے اپنے علم، اپنے ہنر اور اپنے مستقبل میں سرمایہ کاری کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو آپ کو حقیقی آزادی، عزت اور کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔
#اعوانیات