Pakistan Markazi Muslim League - Lahore

Pakistan Markazi Muslim League - Lahore ہمارا مقصد خدمت انسانیت

 #نوجوان   سیاسی کارکن، نوجوان اور خوابوں کی سیاستتحریر فیصل مقصودسیاست کا مقصد اگر عوامی خدمت، میرٹ اور انصاف کا قیام ہ...
24/06/2026

#نوجوان




سیاسی کارکن، نوجوان اور خوابوں کی سیاست
تحریر فیصل مقصود

سیاست کا مقصد اگر عوامی خدمت، میرٹ اور انصاف کا قیام ہو تو یہ معاشروں کی تعمیر کا ذریعہ بنتی ہے، لیکن جب سیاست ذاتی مفادات، خاندانی اجارہ داری اور اقتدار کی ہوس کے گرد گھومنے لگے تو سب سے زیادہ نقصان عام کارکن اور نوجوان طبقہ اٹھاتا ہے۔

سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں میرٹ، روزگار، نوجوانوں کے حقوق اور مساوی مواقع کے دلکش نعرے پیش کرتی ہیں۔ نوجوانوں کو بہتر مستقبل، روزگار اور ترقی کے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ انہیں یقین دلایا جاتا ہے کہ اگر فلاں جماعت اقتدار میں آئی تو تعلیم، روزگار اور خوشحالی کے دروازے کھل جائیں گے۔ انہی امیدوں کے سہارے ہزاروں نوجوان سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، جلسوں میں جاتے ہیں، سوشل میڈیا پر دفاع کرتے ہیں اور اپنی توانائیاں جماعتی مفادات کے لیے صرف کرتے ہیں۔

لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ سیاسی کارکنوں کو مختلف وعدوں اور آسروں کے ذریعے متحرک رکھا جاتا ہے۔ کہیں نوکریوں کی امید دلائی جاتی ہے، کہیں مستقبل میں عہدوں اور مراعات کے خواب دکھائے جاتے ہیں اور کہیں وفاداری کے صلے میں خصوصی فوائد کی توقع پیدا کی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بہت سے نوجوان اپنی اصل ترجیحات کو پسِ پشت ڈال کر برسوں سیاسی سرگرمیوں میں کھپ جاتے ہیں۔

دوسری طرف جب نوکریوں، ترقیوں یا مراعات کی تقسیم کا وقت آتا ہے تو اکثر میرٹ کے بجائے سفارش، تعلقات، خاندانی اثر و رسوخ اور مالی طاقت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ کئی مواقع پر وہ لوگ آگے نکل جاتے ہیں جو اقتدار کے ایوانوں کے قریب ہوتے ہیں، جبکہ برسوں محنت کرنے والے کارکن صرف وعدوں اور تسلیوں تک محدود رہ جاتے ہیں۔ یوں نوجوانوں کے خواب ٹوٹتے ہیں اور ان کی قیمتی عمر واپس نہیں آتی۔

اسی طرح عوامی خدمت اور تنظیمی سرگرمیوں کے نام پر جمع ہونے والے وسائل اور فنڈز کے بارے میں بھی شفافیت کا فقدان اکثر سوالات کو جنم دیتا ہے۔ نچلی سطح کا کارکن قربانیاں دیتا ہے، وقت دیتا ہے اور اپنی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالتا ہے، لیکن اسے ہمیشہ یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ وسائل کہاں اور کس طرح استعمال ہو رہے ہیں۔

اس تمام صورتحال میں سب سے اہم چیز سیاسی شعور ہے۔ ایک کارکن کو کسی جماعت یا رہنما سے وابستگی رکھنے کا حق حاصل ہے، لیکن اسے اپنی عقل، سوچ اور تنقیدی صلاحیت کو کبھی گروی نہیں رکھنا چاہیے۔ باشعور انسان اپنے پسندیدہ رہنما کے درست فیصلوں کی حمایت کرتا ہے اور غلط فیصلوں پر تنقید کرنے کا حوصلہ بھی رکھتا ہے۔ شخصیت پرستی اور اندھی تقلید کسی بھی معاشرے کو ترقی نہیں دیتی، بلکہ اصولوں، میرٹ اور جوابدہی کا نظام ترقی کی بنیاد بنتا ہے۔

بحیثیت نوجوان میری نصیحت یہ ہے کہ اپنی زندگی کا محور کسی سیاسی شخصیت یا جماعت کو نہ بنائیں۔ سیاست میں دلچسپی ضرور رکھیں، ملکی معاملات سے باخبر رہیں، اپنے ووٹ اور رائے کا حق استعمال کریں، لیکن اپنی تعلیم، ہنر، کاروبار اور روزگار کو کبھی نظرانداز نہ کریں۔ جو وقت آپ اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر لگائیں گے، وہی وقت آپ کے مستقبل کی ضمانت بنے گا۔

یاد رکھیں، ایک مضبوط معاشرہ نعروں سے نہیں بلکہ تعلیم یافتہ، باصلاحیت، خوددار اور معاشی طور پر مستحکم نوجوانوں سے بنتا ہے۔ لہٰذا کسی کی کٹھ پتلی بننے کے بجائے اپنے علم، اپنے ہنر اور اپنے مستقبل میں سرمایہ کاری کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو آپ کو حقیقی آزادی، عزت اور کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔

#اعوانیات

 #مہنگائی  #غربت  #عوام  #انصاف    #مظلوم  #حکمران  #احتساب  #صبر  #اللہایسے بدترین حالات کے تناظر میں انسان جئے بھی تو ...
17/06/2026

#مہنگائی #غربت #عوام #انصاف #مظلوم #حکمران #احتساب #صبر #اللہ

ایسے بدترین حالات کے تناظر میں انسان جئے بھی تو کیسے؟
تحریر فیصل مقصود
گھر کے اخراجات، خوراک، بجلی اور گیس کے بل، بچوں کی تعلیم، مہمان داری، بیماریوں کے خرچے، سواری کے مسائل اور روزمرہ زندگی کی بے شمار ذمہ داریاں جب ایک ہی شخص کے کندھوں پر آ پڑیں تو وہ اپنے دکھ کا اظہار کرے بھی تو کس سے؟ اپنی فریاد سنائے بھی تو کہاں؟ اور اگر کوئی سن بھی لے تو کیا ان مسائل کا کوئی حل نکل آئے گا؟
یہی وہ سوالات ہیں جو انسان کے ذہن میں اضطراب، بے چینی اور انتشار پیدا کر دیتے ہیں۔ آج مہنگائی کے اس طوفان نے تقریباً ہر گھر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ میں ہر اس شخص کے درد کو محسوس کر سکتا ہوں جو حلال روزی کمانے کے باوجود اپنے گھر کے اخراجات پورے کرنے میں دشواری محسوس کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنی پریشانیاں دل میں دفن کیے ہوئے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ان کے آنسوؤں اور آہوں کا مداوا کرنے والا کوئی نہیں۔
ایسے حالات میں انسان کی نگاہ آخرکار اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھتی ہے، کیونکہ اسی کی ذات غریب، مجبور، لاچار، مظلوم اور بے سہارا لوگوں کی حقیقی مددگار ہے۔ جب زمین والوں سے امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں تو آسمان والے رب کی رحمت ہی دل کو سہارا دیتی ہے۔
لوگ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قربانیوں اور کردار کے قصے تو بڑے شوق سے بیان کرتے ہیں، مگر جب انصاف، دیانت، ایثار اور حق گوئی کا وقت آتا ہے تو اکثر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ آج بہت سے سیاست دان اقتدار حاصل کرنے کے لیے بڑے بڑے وعدے اور دعوے کرتے ہیں، لیکن جب انہیں اختیار مل جاتا ہے تو وہ اپنی رعایا کے مسائل اور تکالیف سے بے خبر دکھائی دیتے ہیں۔ بعض اوقات ان کی پالیسیوں اور غفلت کا بوجھ عام آدمی کی زندگی کو مزید دشوار بنا دیتا ہے۔
آخر ایک دن وہ بھی آئے گا جب نہ کوئی منصب کام آئے گا، نہ دولت، نہ طاقت اور نہ ہی ظاہری شان و شوکت۔ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں ہر شخص کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ وہاں یہ دیکھا جائے گا کہ جسے اختیار، طاقت اور ذمہ داری دی گئی تھی، اس نے اپنی رعایا، اپنے ماتحتوں اور اپنے معاشرے کے ساتھ کیسا سلوک کیا۔
کیا عبادتیں، حج، عمرے اور دیگر نیک اعمال اس وقت کافی ہوں گے اگر بندوں کے حقوق پامال کیے گئے ہوں؟ یہ فیصلہ تو اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا، مگر اتنا ضرور ہے کہ اسلام میں حقوق العباد کی اہمیت بہت زیادہ ہے، اور ظلم، ناانصافی اور غفلت ایسی چیزیں ہیں جن کے بارے میں انسان کو ہمیشہ فکر مند رہنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے، ہمارے معاشرے میں عدل و انصاف قائم کرے، مظلوموں کی مدد فرمائے اور ہر صاحبِ اختیار کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس عطا فرمائے۔ آمین۔

#اعوانیات

"میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیرگواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا"تحریر ملک فیصل اعوانآج پاکستان کا عام شہری ایک...
05/06/2026

"میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر
گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا"

تحریر
ملک فیصل اعوان

آج پاکستان کا عام شہری ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں جینا دن بدن مشکل اور زندگی ایک مسلسل آزمائش بنتی جا رہی ہے۔ ہر نیا دن ایک نئی مہنگائی، ایک نئے ٹیکس اور ایک نئے معاشی بوجھ کی خبر لے کر آتا ہے۔ بجلی کے بل، گیس کے بل، پانی کے بل، سیوریج کے اخراجات، کچرے کی فیس، پیٹرول پر ٹیکس، اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور روزمرہ زندگی کے بے شمار اخراجات نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

ریاست کو ہمیشہ ماں کا درجہ دیا جاتا ہے۔ ماں اپنے بچوں کی تکلیف کو محسوس کرتی ہے، ان کی ضرورتوں کا خیال رکھتی ہے اور مشکل وقت میں ان کے سروں پر شفقت کا ہاتھ رکھتی ہے۔ مگر آج ایک غریب پاکستانی یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہے کہ اگر ریاست واقعی ماں ہے تو پھر یہ ماں اپنے ہی بچوں پر اتنی سخت کیوں ہو گئی ہے؟ کیا اسے ان گھروں سے اٹھنے والی آہیں سنائی نہیں دیتیں جہاں رات کو والدین اپنے بچوں کی ضروریات پوری نہ کر سکنے کے باعث پریشان سو جاتے ہیں؟ کیا اسے وہ آنسو نظر نہیں آتے جو مہنگائی سے تنگ آئے ہوئے عوام کی آنکھوں سے بہہ رہے ہیں؟

آج ایک عام مزدور، ایک پرائیویٹ ملازم، ایک چھوٹا دکاندار یا ایک کلرک اگر 30 یا 40 ہزار روپے ماہانہ کماتا ہے اور روزانہ صرف 500 روپے کا پیٹرول ڈلواتا ہے تو مہینے کے تقریباً 15 ہزار روپے صرف آمدورفت پر خرچ ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد بچنے والی رقم سے وہ گھر کا کرایہ، بجلی کا بل، گیس کا بل، پانی کے اخراجات، بچوں کی تعلیم، دوائیاں، راشن اور دیگر ضروریات کیسے پوری کرے؟ یہ سوال کسی ایک شخص کا نہیں بلکہ لاکھوں پاکستانی خاندانوں کی مشترکہ فریاد ہے۔

مہنگائی کا یہ طوفان صرف بازاروں تک محدود نہیں رہا بلکہ ہر گھر کی دہلیز عبور کر چکا ہے۔ آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں، دودھ، گوشت اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ تنخواہیں وہیں کھڑی ہیں لیکن اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ متوسط طبقہ غریب بنتا جا رہا ہے اور غریب طبقہ بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہوتا جا رہا ہے۔

جس شخص نے بجلی کے مہنگے بلوں سے بچنے کے لیے اپنی جمع پونجی لگا کر سولر سسٹم نصب کیا، وہ بھی اب مختلف قسم کے اضافی چارجز اور پالیسیوں کے خدشات کا شکار ہے۔ عوام کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ بچت کا جو راستہ وہ اختیار کرتے ہیں، کچھ عرصے بعد اسی راستے پر بھی نئے بوجھ ڈال دیے جاتے ہیں۔

عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سوال کریں کہ قربانی صرف عام آدمی ہی کیوں دے؟ جب بجٹ خسارے کی بات ہوتی ہے، جب معاشی مشکلات کا ذکر ہوتا ہے، تو بوجھ ہمیشہ عوام پر ہی کیوں منتقل کیا جاتا ہے؟ کیا حکمران طبقہ، وزراء، مشیران، اعلیٰ بیوروکریسی اور مراعات یافتہ حلقے بھی اسی طرح قربانی دیتے ہیں؟

عوام کے ذہن میں یہ سوال شدت سے موجود ہے کہ منتخب نمائندوں، وزراء اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو حاصل مراعات، سرکاری گاڑیاں، پروٹوکول، رہائش گاہیں، ایندھن، سفری سہولتیں اور دیگر اخراجات میں کمی کیوں نہیں کی جاتی؟ اگر واقعی کفایت شعاری وقت کی ضرورت ہے تو اس کا آغاز اوپر سے ہونا چاہیے، نیچے سے نہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عوام کے ٹیکسوں سے چلنے والے نظام میں بعض مراعات اور سہولتوں پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ عوام یہ محسوس کرتے ہیں کہ قومی وسائل کا زیادہ حصہ عوامی فلاح، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات پر خرچ ہونا چاہیے تاکہ ہر شہری کو محسوس ہو کہ اس کے دیے گئے ٹیکس کا فائدہ اسے بھی پہنچ رہا ہے۔

انتخابی مہمات میں عوام کو بڑے بڑے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ سستی بجلی، روزگار، ریلیف، ترقی اور خوشحالی کے وعدے کیے جاتے ہیں۔ بعض وعدے ایسے بھی کیے گئے جن میں عوام کو بجلی کے حوالے سے خصوصی ریلیف دینے کی بات کی گئی، لیکن آج عام آدمی یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ ان وعدوں کا کیا ہوا؟ وہ وعدے جو عوام کی امید بنے تھے، وہ عملی شکل کیوں اختیار نہ کر سکے؟

غریب آدمی کتنی امیدوں کے ساتھ ووٹ دیتا ہے۔ وہ جلسوں میں جاتا ہے، انتخابی نعروں پر یقین کرتا ہے، بہتر مستقبل کے خواب دیکھتا ہے، اپنے پسندیدہ امیدواروں کے لیے وقت اور وسائل صرف کرتا ہے، اس امید کے ساتھ کہ شاید اس بار اس کے حالات بدل جائیں گے۔ لیکن انتخابات کے بعد جب مہنگائی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جائے، جب بل کم ہونے کے بجائے مزید زیادہ آنے لگیں اور جب زندگی پہلے سے زیادہ مشکل ہو جائے تو مایوسی جنم لینا فطری بات ہے۔

ماضی میں بھی مختلف حکومتوں کو مہنگائی اور معاشی مشکلات کی بنیاد پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ عوام نے تبدیلی کی امید میں نئے فیصلے کیے، نئی قیادتوں کو موقع دیا اور نئے وعدوں پر اعتماد کیا۔ لیکن آج بہت سے لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ مہنگائی، پیٹرول، بجلی، گیس اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں کا بوجھ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کے ذہنوں میں سوالات پیدا ہو رہے ہیں اور وہ اپنی مشکلات کے حل کے منتظر ہیں۔

ایک جمہوری معاشرے میں شہریوں کا حق ہے کہ وہ سوال کریں، اپنی رائے کا اظہار کریں اور اپنے مسائل حکمرانوں تک پہنچائیں۔ عوام کی آواز سننا اور ان کے مسائل کو سمجھنا ہی مضبوط ریاستوں کی پہچان ہوتا ہے۔ جب عوام خود کو سنا ہوا محسوس کرتے ہیں تو ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔

پاکستان کی اصل طاقت اس کے محلات، پروٹوکول یا سرکاری قافلے نہیں بلکہ اس کے کروڑوں محنت کش شہری ہیں۔ یہی مزدور، کسان، اساتذہ، دکاندار، ملازمین اور کاروباری افراد ملک کا پہیہ چلاتے ہیں۔ اگر یہی طبقہ پریشان اور مایوس ہو جائے تو معاشی ترقی کے تمام دعوے بے معنی ہو جاتے ہیں۔

عوام کسی عیاشی کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ انہیں عزت کے ساتھ جینے دیا جائے، ان کی محنت کا مناسب صلہ ملے، ان کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو، ان کے گھروں کے چولہے جلتے رہیں اور ان کی کمائی صرف بلوں اور ٹیکسوں کی نذر نہ ہو جائے۔

آخر کب تک عوام ہی ہر معاشی بحران کا بوجھ اٹھاتے رہیں گے؟آخر کب تک قربانی کا مطالبہ صرف عام آدمی سے کیا جاتا رہے گا؟آخر کبھفجفجفج وہ وقت آئے گا جب ریاست اپنے شہریوں کو بوجھ نہیں بلکہ اپنی سب سے بڑی ذمہ داری سمجھے گی؟

یہ سوال صرف ایک فرد کے نہیں، بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں کی آواز ہیں۔

#اعوانیات

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Markazi Muslim League - Lahore posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share