20/05/2026
بارش اُس رات کچھ زیادہ ہی ہو رہی تھی۔
اتنی کہ گلی کے کھمبوں پر جلتی زرد لائٹس بھی دھندلی پڑ گئی تھیں۔
میں اپنی دونوں بیٹیوں کو سلا کر ابھی کچن میں چائے بنانے گئی ہی تھی کہ دروازے پر تین بار زور سے دستک ہوئی۔
ٹھک… ٹھک… ٹھک…
میرا دل ایک دم دھڑکا۔
رات کے تقریباً ایک بج رہے تھے۔
میں گھر میں اکیلی تھی۔
میرے شوہر دوسرے شہر کام کے سلسلے میں گئے ہوئے تھے۔
اور اس وقت ہمارے محلے میں کوئی بھی کسی کے گھر نہیں آتا تھا۔
میں نے ہمت کر کے کھڑکی کے پردے کے کونے سے باہر دیکھا۔
دروازے کے سامنے ایک عورت کھڑی تھی۔
سفید کپڑے…
بھیگے ہوئے بال…
اور ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بچہ۔
میری سانس رک گئی۔
کیونکہ وہ عورت مجھے جانتی تھی۔
اس نے سیدھا کھڑکی کی طرف دیکھ کر کہا…
“سائرہ… دروازہ کھولو… پلیز…”
میں سُن ہوگئی۔
میں نے اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
پھر وہ میرا نام کیسے جانتی تھی؟
بارش تیز ہوتی جا رہی تھی۔
بچہ اس کی گود میں مسلسل رو رہا تھا۔
میرے دل میں عجیب سی بےچینی ہوئی۔
میں نے آہستہ سے مین گیٹ کھولا۔
وہ عورت فوراً اندر آگئی۔
جیسے اسے کسی چیز سے خوف ہو۔
“پانی… تھوڑا پانی دے دیں…”
اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
میں نے جلدی سے گلاس بھر کر دیا۔
وہ پانی پیتے ہوئے بار بار دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی۔
“کیا ہوا ہے آپ کو؟”
میں نے ہمت کر کے پوچھا۔
اس نے میری طرف دیکھا۔
اور جو اگلا جملہ اُس نے کہا…
اُس کے بعد میرے ہاتھ ٹھنڈے پڑ گئے۔
“وہ لوگ مجھے مار دیں گے…”
“کون لوگ؟”
“جنہوں نے میرے شوہر کو مارا…”
کمرے میں اچانک خاموشی چھا گئی۔
صرف دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی۔
میں نے محسوس کیا کہ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
بچہ بخار میں جل رہا تھا۔
“آپ پولیس کے پاس جائیں…”
وہ فوراً گھبرا گئی۔
“نہیں!”
اتنی زور سے چیخی کہ میری چھوٹی بیٹی کمرے سے اٹھ کر رونے لگی۔
میں اسے چپ کروانے اندر گئی۔
صرف دو منٹ۔
بس دو منٹ۔
جب واپس آئی…
تو ڈرائنگ روم خالی تھا۔
وہ عورت… غائب۔
بچہ… غائب۔
لیکن صوفے پر پانی کے قطرے ابھی بھی موجود تھے۔
میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
میں نے پورا گھر دیکھا۔
واش روم… اسٹور… صحن…
کوئی نہیں تھا۔
تبھی میری نظر ٹیبل پر پڑی۔
وہاں ایک پرانی تصویر رکھی تھی۔
کالی سفید تصویر۔
میں نے کانپتے ہاتھوں سے اٹھائی۔
تصویر میں ایک عورت کھڑی تھی…
گود میں بچہ…
اور اُس کے ساتھ ایک مرد۔
نیچے تاریخ لکھی تھی۔
1998
اور تصویر کے پچھلے حصے پر صرف ایک جملہ تھا:
“اگر یہ عورت دوبارہ تمہارے گھر آئے…
تو اسے اندر مت آنے دینا۔
کیونکہ وہ زندہ نہیں ہے…”
اگر آپ ایسی ہی دلچسپ اور مزیدار کہانیاں اور حکایات پڑھنا چاھتے ھیں تو میری آئی ڈی کو فالو کر لیں۔
تحریر عظمیٰ تنویر