20/07/2025
📜 حدیثِ ذاتُ أنواط اور ہمارے معاشرے میں رائج شرک و بدعات
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
اسلام کی بنیاد "توحید” پر ہے – یعنی صرف اللہ کی عبادت، اسی سے مدد، اسی پر بھروسہ اور اسی کے سامنے عاجزی۔ مگر افسوس! آج اُمتِ مسلمہ کا بڑا طبقہ انہی اعمال میں مبتلا ہے جن کو نبی کریم ﷺ نے شرک یا شرک کے اسباب قرار دیا۔ حدیثِ ذاتُ أنواط اس باب میں ایک روشنی کا مینار ہے، جو ہمیں خبردار کرتی ہے کہ کسی غیراللہ سے امید رکھنا، مدد مانگنا، یا برکت لینا سابقہ امتوں کی گمراہیوں کی یاد دلاتا ہے۔
🌴 حدیثِ ذاتُ أنواط
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:
خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِلَى حُنَيْنٍ وَنَحْنُ حُدَثَاءُ عَهْدٍ بِكُفْرٍ، وَلِلْمُشْرِكِينَ سِدْرَةٌ يَعْكُفُونَ عِنْدَهَا، وَيُنِيطُونَ بِهَا أَسْلِحَتَهُمْ، يُقَالُ لَهَا: ذَاتُ أَنْوَاطٍ، فَمَرَرْنَا بِسِدْرَةٍ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ، كَمَا لَهُمْ ذَاتُ أَنْوَاطٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: اللَّهُ أَكْبَرُ! إِنَّهَا السُّنَنُ! قُلْتُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى: اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ، قَالَ: إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ، لَتَرْكَبُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ.
ابو واقِد لیثی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوۂ حنین کے لیے نکلے، اور ہم نئے نئے اسلام لائے ہوئے تھے۔ مشرکوں کا ایک بیری کا درخت تھا جس پر وہ اعتکاف کرتے تھے اور اپنے ہتھیار اس پر لٹکاتے تھے۔ اسے "ذاتُ أنواط” کہا جاتا تھا۔
جب ہم بھی ایک بیری کے درخت کے پاس سے گزرے تو ہم نے کہا:
"یا رسول اللہ! ہمارے لیے بھی ایک ذاتُ أنواط مقرر فرما دیں، جیسے ان کے پاس ہے!”
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ اکبر! یہ تو وہی طریقے ہیں! قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم نے وہی بات کہی جو بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی: ’ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دو جیسے ان کے معبود ہیں۔‘ موسیٰؑ نے کہا: بے شک تم جاہل لوگ ہو۔ تم ضرور ان ہی لوگوں کے طریقے اختیار کرو گے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں!”
📚 تخریج حدیث:
◈ جامع الترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی اتباع سنن من کان قبلکم، حدیث نمبر: 2180
◈ سنن النسائی الکبریٰ: 8612
◈ مسند احمد: 21309