M A Urdu 17_19

M A Urdu 17_19 اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎? ppsc

Urdu lafz
24/05/2026

Urdu lafz

19/05/2026

Dr ISRAR talk to ABOUT Alama IQBAL POETRY

16/05/2026

سر ادبی اصطلاح میں موسیقیت کی تعریف کرے ، اور اس کی ساتھ ترنم کا بھی تعریف کرے۔شکریہ ادبی اصطلاح میں موسیقیت سے مراد کلام میں پائے جانے والے وہ صوتی آہنگ، لے اور تال ہیں جو کانوں کو بھلے لگیں اور پڑھنے یا سننے میں ایک خاص ترنم پیدا کریں۔ ترنم دراصل اسی موسیقیت کو آواز کے ذریعے ادا کرنے یا گنگنانے کے عمل کو کہتے ہیں، جس سے شعر یا عبارت میں جذبات اور روانی ابھرتی ہے۔موسیقیت (Musicality)تعریف: شاعری یا نثر میں الفاظ کا ایسا چناؤ اور ترتیب جو نغمگی اور لے پیدا کرے۔اہمیت: یہ کلام کے حسن اور اثر انگیزی کو بڑھاتی ہے۔ اردو شاعری میں بحور، اوزان، ردیف اور قافیہ بنیادی طور پر موسیقیت پیدا کرنے کے اہم ترین عناصر ہیں۔ترنم (Tarannum / Rhythm)تعریف: کلام کو لے اور سر کے ساتھ پڑھنے کا عمل ترنم کہلاتا ہے۔تعریفِ موسیقی: جب آپ کسی شعر کو مقررہ بحر کے مطابق اونچی یا دھیمی آواز میں گنگناتے ہیں یا پڑھتے ہیں، تو اسے ترنم میں پڑھنا کہتے ہیں۔موسیقیت اور ترنم میں فرق:موسیقیت کلام کی وہ اندرونی صفت (Quality) ہے جو لکھتے وقت الفاظ کی ترتیب سے پیدا ہوتی ہے، جبکہ ترنم اس کلام کو ادا کرنے کا طریقہ یا آواز کا اتار چڑھاؤ (Rhythm/Melody) ہے۔ دونوں مل کر ادب کو دلکش اور یادگار بناتے ہیں۔

Grammar
01/05/2026

Grammar

"سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کراٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اِس دعا کے بعد"28 اپریل: یومِ وفات آغا حشر کاشمیری - معروف...
29/04/2026

"سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اِس دعا کے بعد"

28 اپریل: یومِ وفات آغا حشر کاشمیری - معروف ڈرامہ نگار، ہدایت کار اور شاعر جنہیں ہندوستان کا شیکسپیئر بھی کہا جاتا ہے
(ولادت: 1 اپریل 1879ء - وفات: 28 اپریل 1935ء)

آغا حشر کاشمیری اردو ادب اور تھیٹر کی تاریخ کا ایک ایسا روشن ستارہ ہیں جنہیں ان کی بے مثال فنکارانہ صلاحیتوں کی بنا پر "ہندوستان کا شیکسپیئر" کہا جاتا ہے۔ یکم اپریل 1879ء کو بنارس میں پیدا ہونے والے آغا حشر نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے کیا، لیکن ان کی اصل پہچان ڈرامہ نگاری بنی۔ انہوں نے روایتی اردو تھیٹر کو نئی جہتوں سے روشناس کرایا اور اسے محض تفریح کے بجائے اصلاحی اور ادبی رنگ عطا کیا۔ ان کے مکالموں میں غضب کی گھرج، بلا کا نغمگی اور الفاظ کا ایسا جادو ہوتا تھا جو سامعین کو سحر زدہ کر دیتا تھا۔

ان کی شخصیت علم و ادب کا ایک سنگم تھی؛ وہ بیک وقت ایک باکمال شاعر، بلند پایہ ہدایت کار اور صاحبِ طرز ڈرامہ نگار تھے۔ آغا حشر نے اردو ڈرامے کو مغربی فنِ ڈرامہ نگاری سے روشناس کرایا اور شیکسپیئر کے کئی مشہور ڈراموں کو مقامی رنگ میں ڈھال کر پیش کیا۔ ان کے مشہور ڈراموں میں "یہودی کی لڑکی"، "رستم و سہراب"، "اسیرِ حرص" اور "آنکھ کا نشہ" جیسے شاہکار شامل ہیں، جو آج بھی اردو ڈرامے کی تاریخ کا قیمتی سرمایہ مانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں معاشرتی مسائل، انسانی نفسیات اور اخلاقی اقدار کا گہرا شعور ملتا ہے۔

آغا حشر کاشمیری کی شاعری بھی ان کے ڈراموں کی طرح پرتاثیر اور جذبوں سے بھرپور ہے۔ ان کی غزلوں اور نظموں میں جو سوز و گداز اور فلسفیانہ رنگ موجود ہے، وہ ان کی حساس طبیعت کا عکاس ہے۔ "سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر" جیسے اشعار ان کی شاعرانہ عظمت کی گواہی دیتے ہیں۔ 28 اپریل 1935ء کو لاہور میں وفات پانے والے اس عظیم فنکار نے اردو زبان و ادب کی جو خدمت کی، اس نے انہیں ابدی زندگی عطا کر دی ہے۔ ان کا تخلیقی کام آج بھی نئے لکھنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

17 شاعر اور ایک زمین.........1- مرزا اسد اللہ خان غالبیہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتااگر اور جیتے رہتے، یہی انتظا...
28/04/2026

17 شاعر اور ایک زمین.........
1- مرزا اسد اللہ خان غالب
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا
ترے وعدے پہ جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا
کبھی تُو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا
کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غمگسار ہوتا.............
2- نواب مرزا داغ دہلوی
عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتا
کبھی جان صدقے ہوتی، کبھی دل نثار ہوتا
کوئی فتنہ تاقیامت نہ پھر آشکار ہوتا
ترے دل پہ کاش ظالم مجھے اختیار ہوتا
جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا
تمہیں منصفی سے کہہ دو، تمہیں اعتبار ہوتا؟
غمِ عشق میں مزہ تھا جو اسے سمجھ کے کھاتے
یہ وہ زہر ہے کہ آخر، مئے خوشگوار ہوتا
نہ مزہ ہے دشمنی میں، نہ ہے لطف دوستی میں
کوئی غیر غیر ہوتا، کوئی یار یار ہوتا.....................
3- امیر مینائی
میرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا
یہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا
پس مرگ کاش یوں ہی مجھے وصل یار ہوتا
وہ سر مزار ہوتا، میں تہِ مزار ہوتا
ترا میکدہ سلامت، ترے خم کی خیر ساقی
مرا نشہ کیوں اُترتا، مجھے کیوں‌ خمار ہوتا
مرے اتقا کا باعث تو ہے مری ناتوانی
جو میں توبہ توڑ سکتا تو شراب خوار ہوتا
میں ہوں‌ نامراد ایسا کہ بلک کے یاس روتی
کہیں پا کے آسرا کچھ جو امیدوار ہوتا
نہیں پوچھتا ہے مجھ کو کوئی پھول اس چمن میں
دلِ داغدار ہوتا ہو گلے کا ہار ہوتا
وہ مزا دیا تڑپ نے کہ یہ آرزو ہے یارب
مرے دونوں پہلوؤں میں دل بیقرار ہوتا
دمِ نزع بھی جو وہ بُت مجھے آکے منہ دکھاتا
تو خدا کے منہ سے اتنا نہ میں شرمسار ہوتا
نہ مَلَک سوال کرتے، نہ لحد فِشار دیتی
سر راہِ کوئے قاتل جو مرا مزار ہوتا
جو نگاہ کی تھی ظالم تو پھر آنکھ کیوں چُرائی
وہی تیر کیوں نہ مارا جو جگر کے پار ہوتا
میں زباں سے تم کو سچا کہوں لاکھ بار کہہ دوں
اسے کیا کروں کہ دل کو نہیں اعتبار ہوتا
مری خاک بھی لحد میں نہ رہی امیر باقی
انہیں مرنے ہی کا اب تک نہیں اعتبار ہوتا..............
4- جگر مراد آبادی
یہ مزا تھا، خلد میں بھی نہ مجھے قرار ہوتا
جو وہاں بھی آنکھ کھُلتی، یہی انتظار ہوتا
میں جنونِ عشق میں یوں ہمہ تن فگار ہوتا
کہ مرے لہُو سے پیدا اثرِ بہار ہوتا
میرے رشکِ بے نہایت کو نہ پوچھ میرے دل سے
تجھے تجھ سے بھی چھُپاتا، اگر اختیار ہوتا
مری بےقراریاں ہی تو ہیں اس کی وجہ تسکیں
جو مجھے قرار ہوتا ، تو وہ بے قرار ہوتا
جسے چشمِ شوق میری کسی طرح دیکھ پاتی
کبھی حشر تک وہ جلوہ نہ پھر آشکار ہوتا
یہ دل اور یہ بیانِ غمِ عشق بے محابا
اگر آپ طرح دیتے، مجھے ناگوار ہوتا
کبھی یہ ملال، اس کا نہ دُکھے کسی طرح دل
کبھی یہ خیال، وہ بھی یونہی بےقرار ہوتا
مرا حال ہی جگر کیا، وہ مریضِ عشق ہوں میں
کہ وہ زہر بھی جو دیتا، مجھے سازگار ہوتا
---------------------------
5- اظہر ناظؔر

کبھی ہم نثار ہوتے ،کبھی دل نثار ہوتا
شب و روز عِید ہوتی ، سماں نو بہار ہوتا

یُوں بہشت کا بھی کر لیتے نظارہ دُنیا میں ہم
میں بھی تو نشاط ہوتا ، تُو بھی اِک خُمار ہوتا

یُوں لگانے کو لگا لیتے ہمی کہیں بھی دل کو
اگر اپنے دل پہ کُچھ اپنا بھی اختیار ہوتا

سو ہمارے بعد ہم کو بھی تو یاد کرتی دُنیا
اِسی شہرِ عشق میں اپنا بھی اِک مزار ہوتا
🍂🍁

-------------------------
6- یاسؔ یگانہ چنگیزی
اگر اپنی چشم نم پر مجھے اختیار ہوتا
تو بھلا یہ راز الفت کبھی آشکار ہوتا
ہے تنک مزاج صیاد کچھ اپنا بس نہیں ہے
میں قفس کو لے کے اڑتا اگر اختیار ہوتا
یہ ذرا سی اک جھلک نے دل و جاں کو یوں جلایا
تری برق حسن سے پھر کوئی کیا دوچار ہوتا
اجی توبہ اس گریباں کی بھلا بساط کیا تھی
یہ کہو کہ ہاتھ الجھا نہیں تار تار ہوتا
وہ نہ آتے فاتحہ کو ذرا مڑ کے دیکھ لیتے
تو ہجوم یاسؔ اتنا نہ سر مزار ہوتا
------------------------------
7- عزیز لکھنوی
غمِ عشق اگر ملِا تھا تو کبھی قرار ہوتا
کوئی زور دل پہ ہوتا، کوئی اختیار ہوتا
وہ کہیں اگر سرہانے دمِ احتضار قرار ہوتا
تو یقین تھا کہ مرنا مِرا یادگار ہوتا
مِرے بعد جمع کرتے وہ خطوطِ شوق میرے
یہ صحیفۂ محبت کبھی یادگار ہوتا
وہ کسی کا اٹھ کے جانا وہ مِرا یہ رو کے کہنا
تمہیں کیوں میں جانے دیتا اگر اختیار ہوتا
وہ عزیزؔ سے یہ کہہ کر پسِ پردہ چھپ گئی ہیں
تم ادا شناس ہوتے، تو کچھ اعتبار ہوتا
----------------------------------
8- ماجد صدیقی
سفرِ حیات اپنا بڑا لطف دار ہوتا
کسی اِک بدن پہ، اِک سا، اگر اختیار ہوتا
نہ حکومتی سلیقے ہمیں آ سکے دگرنہ
یہ جو اب ہے ایسا ویسا، نہ کوئی دیار ہوتا
نہ کجی کوئی بھی ہوتی کسی فرد کے چلن میں
جسے راستی کہیں سب، وہ اگر شعار ہوتا
کبھی گھٹ کے ہم بھی بڑھتے تو بجا ہے یہ ہمیں بھی
کسی چودھویں کے چندا سا بہم نکھار ہوتا
نہ ہُوا کہ ہم بھی کرتے بڑی زرنگاریاں، گر
زرِ گُل سا پاس اپنے زرِ مستعار ہوتا
کبھی رہنما ہمارا نہ بنا یہ قولِ غالب
’اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا،
کوئی ہے کمی جو ماجد ہے ہمیں میں ورنہ اپنا
وہ جو ہیں جہاں میں اچّھے، اُنہی میں شمار ہوتا
-------------------------------
9- ادیب سہارنپوری
مِرے شوق جستجو کا کسے اعتبار ہوتا
سرِ راہ منزلوں تک نہ اگر غبار ہوتا
میں تجھے خدا سمجھ کر نہ گناہگار ہوتا
اگر ایک بے نیازی ہی تِرا شعار ہوتا
جو ستم زدوں کا یا رب کوئ غمگسار ہوتا
تو غم حیات اتنا نہ دلوں پہ بار ہوتا
مِری زندگی میں شامل جو نہ تیرا پیار ہوتا
تو نشاطِ دو جہاں بھی مجھے ناگوار ہوتا
یہی مہر و ماہ و انجم کو گلہ ہے مجھ سے یا رب
کہ انہیں بھی چین ملتا، جو مجھے قرار ہوتا
نہ سکونِ دل کی چاہت میں تڑپ ادیبؔ اتنا
کسی اور کو تو ملتا جو کہیں قرار ہوتا

------------------------------------
10- --صفیؔ لکھنوی
کوئی زہر پی بھی لیتا تو وہ دل لگی سمجھتے
کوئی جان دے بھی دیتا تو نہ اعتبار ہوتا

کہیں روز حشر آتا کہ یہ سیر دیکھ لیتے
کوئی داد خواہ ہوتا کوئی شرمسار ہوتا

مری لاش کے سرہانے وہ کھڑے یہ کہہ رہے ہیں
اسے نیند یوں نہ آتی اگر انتظار ہوتا
-------------------------------
11- آلوک یادو
مری قربتوں کی خاطر یوں ہی بے قرار ہوتا
جو مری طرح اسے بھی کہیں مجھ سے پیار ہوتا
نہ وہ اس طرح بدلتے نہ نگاہ پھیر لیتے
جو نہ بے بسی کا میری انہیں اعتبار ہوتا
وہ کچھ ایسے ڈھلتا مجھ میں کہ غم اس کے میرے ہوتے
وہ جو سوگوار ہوتا تو میں اشک بار ہوتا
مجھے چین لینے دیتی کہاں انقلابی فطرت
نہ مصاحبوں میں ہوتا نہ میں شہ کا یار ہوتا
میں اسی کے نام کرتا یہ حیات موت سب کچھ
مجھے زندگی پہ آلوکؔ اگر اختیار ہوتا
------------------------------------
12-منظورحسین شور
دم برق و باد ہوتا نفس شرار ہوتا
کسی رنگ سے تو جینا مجھے سازگار ہوتا
مجھے اس کی بے رخی کا بھی جو اعتبار ہوتا
میں دعا کو ہاتھ اٹھا کر نہ گناہ گار ہوتا
نہ بلا سے اشک تھمتے نہ دعا قبول ہوتی
میں خلوص بندگی سے تو نہ شرمسار ہوتا
وہ نقاب اٹھ بھی جاتا تو نظر کہاں سے لاتے
ترے روبرو بھی تیرا وہی انتظار ہوتا
غم دوستاں غنیمت ہے وطن سے دور ورنہ
مرے دل پہ کیا گزرتی جو مرا دیار ہوتا
مجھے شورؔ دے رہے ہیں وہ فریب تیز گامی
کہ جو دو قدم بھی چلتے تو نہ اعتبار ہوتا
------------------------------------
13- سید غلام معین الدین شاہ مشتاق
یہ کہاں تھی میری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
میری طرح کاش انہیں بھی میرا انتظار ہوتا
یہ ہے میرے دل کی حسرت یہ ہے میرے دل کا ارماں
ذرا مجھ سے ہوتی الفت ذرا مجھ سے پیار ہوتا
اسی انتظار میں ہوں کسی دن وہ دن بھی ہوگا
تجھے آرزو یہ ہوگی کہ میں ہم کنار ہوتا
تیرا دل کہیں نہ لگتا تجھے چین کیونکر آتا
تو اداس اداس رہتا جو تو بے قرار ہوتا
تیری بات مان لیتا کبھی تجھ سے کچھ نہ کہتا
میرے بے قرار دل کو جو ذرا قرار ہوتا
یہی میری بے کلی پھر میری بے کلی نہ ہوتی
جو تو دل نواز ہوتا جو تو غمگسار ہوتا
کبھی اپنی آنکھ سے وہ میرا حال دیکھ لیتے
مجھے ہے یقین ان کا یہی حالِ زار ہوتا
کبھی ان سے جا لپٹتا کبھی ان کے پاوں پڑتا
سر رہگزر پہ ان کی جو مرا غبار ہوتا
تری مہربانیوں سے مرے کام بن رہے ہیں
جو تو مہرباں نہ ہوتا میں ذلیل و خوار ہوتا
یہ ہے آپ کی نوازش کہ ادھر ہے آپ کا رخ
نہ تھی مجھ میں‌کوئی خوبی جو امیدوار ہوتا
تری رحمتوں کی وسعت سرِ حشر دیکھتے ہی
یہ پکار اٹھا ہے زاہد میں‌گناہ گار ہوتا
بخدا کس اوج پر پھر یہ ادا نماز ہوتی
ترے پائے ناز پر جب سرِ خاکسار ہوتا
جو معین میرا ان سے کسی دن ملاپ ہوتا
کبھی جان صدقے ہوتی کبھی دل نثار ہوتا
-------------------------------------
14- شاہین فصیحؔ ربانی
تجھے اپنے جذبِ دل پر اگر اعتبار ہوتا
کوئی قافلہ یقیناً پسِ ہر غبار ہوتا
تری چاہتوں پہ مجھ کو جو نہ اعتبار ہوتا
ترے نام پر مرا دل یوں نہ بے قرار ہوتا
سرِ شام مجھ سے ملنا جو ترا شعار ہوتا
سرِ شام ہی سے مجھ کو ترا انتظار ہوتا
تری یاد او ستمگر! نہ اڑاتی میری نیندیں
مرے خواب کا تسلسل مرا اعتبار ہوتا
میں جہاں قیام کر لوں اسے روک لوں وہاں پر
مرے دل پہ کاش اتنا مجھے اختیار ہوتا
یہ جدائیوں کے لمحے یوں وبالِ جاں نہ ہوتے
مری بات مان لیتے تو نہ دل پہ بار ہوتا
مرے دل میں چاہتوں کے شب و روز پھول کھلتے
جو درونِ دل لہو کا کوئی آبشار ہوتا
تری بے رخی نے آخر مرا دل کیا مخالف
تو ستم اگر نہ ڈھاتا ترا جانثار ہوتا
میں فصیحؔ سوچتا ہوں، یہ حیات کیسے کٹتی
اگر ارد گرد ہر سو کوئی ریگزار ہوتا
-------------------------------------
15- ظفر ترمذی
کوئی وعدہٴ محبت اگر استوار ہوتا
یہی دل کے درد دل سے گل نوبہار ہوتا
یہ بہار زا ہوائیں یہ طرب فزا گھٹائیں
لب جوئبار ہوتا تیرا انتظار ہوتا
کسی پر فضا چمن میں کہیں آشیاں بناتے
جو کبھی قرار حاصل دل بے قرار ہوتا
میرے وحشتوں میں حائل کوئ مصلحت ہے ورنہ
یہ نظر جہاں ٹھہرتی وہیں شعلہ زار ہوتا
میرا سوز عشق کھلتا ظفر اہل معرفت پر
اگر ایک اور جلوہ سے کوہسار ہوتا
----------------------------------
16-ڈاکٹر سہیل ملک
جو سرابِ زندگی پر ہمیں اعتبار ہوتا
یہ ترنمِ بہاراں کہاں ناگوار ہوتا
نہ فغاں پہ بار ہوتا سوئے کارزار ہوتا
دلِ زار گر نہ ہوتا دلِ بیقرار ہوتا
مجھے کم نوائی لاحق تجھے زعمِ بے نیازی
کبھی موسمِ تکلّم یہاں سازگار ہوتا
مری کم نگاہی مجھ کو یہ فریب دے گئی ہے
جو نگاہ تیز رکھتا تو کہاں شکار ہوتا
نہ برابری کی باتیں نہ ہی عدل کے فسانے
جو نہ امتیاز ہوتا تو کوئی نہ خوار ہوتا
میں کہاں قبول کرتا یہ طریقِ بادشاہی
جو نظامِ آشیاں پر مرا اختیار ہوتا
بڑا شور اُٹھ رہا ہے مری بے کلی پہ دیکھو
مری نامرادیوں کا بھی کوئی شمار ہوتا
تجھے دیکھتا ہی رہتا پسِ روزنِ کفن بھی
تری دید پر ستمگر اگر اختیار ہوتا
----------------------------------
17- اِبنِ مُنیب
نہ تڑپ ہی دل میں ہوتی نہ ہی انتظار ہوتا
جو بہشت میں ہی ہوتے تو کہاں قرار ہوتا
یہ بدن جو خاک و خوں ہے یہ اگر غبار ہوتا
تیری خاکِ پا میں شامل تیرا خاکسار ہوتا
کہیں راہبر نے لُوٹا، کہیں راہزن نے تھاما
جو سفر نہ یوں گزرتا تو نہ یادگار ہوتا
رہے بیخودی سلامت، رہے میکشی سلامت
تجھے ہم بھُلا نہ پاتے اگر اختیار ہوتا
یہ نصیب کی ہیں باتیں کہ چلے ہیں سوئے مقتل
جو قلم جھکا کے لکھتے تو گلے میں ہار ہوتا
-------------------------------

مضمون اور انشائیہ میں فرق 📝اردو ادب میں مضمون اور انشائیہ دو اہم نثری اصناف ہیں جو بظاہر ایک جیسی معلوم ہوتی ہیں، لیکن ا...
28/04/2026

مضمون اور انشائیہ میں فرق
📝اردو ادب میں مضمون اور انشائیہ دو اہم نثری اصناف ہیں جو بظاہر ایک جیسی معلوم ہوتی ہیں، لیکن اپنی مقصدیت اور اسلوب کے لحاظ سے ایک دوسرے سے کافی مختلف ہیں۔
مضمون (Essay)
مضمون سے مراد ایسی نثری تحریر ہے جس میں کسی متعین موضوع پر خیالات کا اظہار مدلل اور منطقی انداز میں کیا جائے۔
موضوع کی قید: مضمون کسی بھی علمی، سیاسی، سماجی یا ادبی موضوع پر ہو سکتا ہے۔
اندازِ تحریر:اس میں سنجیدگی، تسلسل اور منطق کو اہمیت دی جاتی ہے۔
مقصد: مضمون کا بنیادی مقصد قاری تک معلومات پہنچانا یا کسی خاص نکتے پر اسے قائل کرنا ہوتا ہے۔
ساخت: اس کا ایک باقاعدہ آغاز، درمیانی حصہ (بحث) اور اختتام (نتیجہ) ہوتا ہے۔
انشائیہ (Light Essay)
انشائیہ مضمون ہی کی ایک لطیف اور شگفتہ صورت ہے، جسے اردو میں "انشائیہ" یا "ہلکا پھلکا مضمون" بھی کہا جاتا ہے۔
ذاتی نقطہ نظر:انشائیہ نگار کسی موضوع پر معلومات دینے کے بجائے اپنی شخصیت، تاثرات اور داخلی کیفیات کو بیان کرتا ہے۔
شگفتگی:اس میں شگفتہ بیانی، تازگی اور بے تکلفی پائی جاتی ہے۔
غیر رسمی انداز:انشائیہ میں خیالات کی ترتیب منطقی ہونا ضروری نہیں، بلکہ تحریر میں ایک خاص قسم کا آزادانہ بہاؤ ہوتا ہے۔
حیرت کا عنصر:انشائیہ نگار عام سی چیزوں میں سے کوئی انوکھا پہلو نکال لاتا ہے جو قاری کے لیے نیا اور حیران کن ہوتا ہے۔
خلاصہ
مضمون میں "بات" اہم ہوتی ہے جبکہ انشائیہ میں"بات کرنے کا انداز" اور لکھنے والے کی "شخصیت" نمایاں ہوتی ہے۔ مضمون اگر ایک سنجیدہ گفتگو ہے، تو انشائیہ ایک خوش مزاج دوست کے ساتھ بیٹھ کر کی جانے والی بے تکلفانہ گپ شپ ہے۔
اردو ادب میں سر سید احمد خان کو مضمون نگاری کا بانی مانا جاتا ہے، جبکہ انشائیہ نگاری میں پطرس بخاری، مشتاق احمد یوسفی اور ناصر عباس نیر کے نام نمایاں ہیں۔

 #سابقہ حل شدہ پرچہ جات  #اردو لیکچرار
05/04/2026

#سابقہ حل شدہ پرچہ جات
#اردو لیکچرار

05/04/2026
 #اردو کی ابتدا اور مختلف نام #اردو لیکچرار
29/03/2026

#اردو کی ابتدا اور مختلف نام
#اردو لیکچرار

Address

HCD Lahore
Lahore
TUTOR

Telephone

+923361916404

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M A Urdu 17_19 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category