M A Urdu 17_19

M A Urdu 17_19 اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎? ppsc

پریس کونسل آف انڈیا کے سابق چیئرمین اور سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو کا ایک مضمون "فراق گورکھپوری کا شعر اور...
05/08/2026

پریس کونسل آف انڈیا کے سابق چیئرمین اور سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو کا ایک مضمون "فراق گورکھپوری کا شعر اور آج کا ہندوستان" کے عنوان سے روزنامہ 'سیاست' حیدرآباد میں شائع ہوا ہے۔

مضمون نگار نے فراق گورکھپوری کے اس مشہور شعر:
ہر ذرے پہ اب کیفیتِ نیم شبی ہے
اے ساقیِ دوراں یہ گناہوں کی گھڑی ہے

کی روشنی میں نہ صرف موجودہ ہندوستان کا المیہ بیان کیا ہے، بلکہ اسے "اردو کا عظیم شعر" بھی قرار دیا ہے۔

اس سے قطعِ نظر کہ یہ شعر کتنا عظیم ہے، یہ جان کر بے حد مسرت ہوئی کہ جسٹس صاحب نہ صرف اردو زبان پر گہری گرفت رکھتے ہیں، بلکہ اردو شعر و ادب سے بھی ان کا ذوق و شغف انتہائی پاکیزہ ہے۔

جسٹس صاحب کا اردو سے یہ والہانہ عشق دیکھ کر حیرت بھی ہوتی ہے اور خوشی بھی۔ انھوں نے بلا خوف و جھجھک ان عناصر کو متعصب اور نادان قرار دیا ہے، جو اردو کو اس کی اپنی ہی جنم بھومی میں دفن کرنے کے درپے ہیں۔ ان کا اردو پریم اور اس کے تحفظ کے لیے جذبہ دیکھ کر بے اختیار یہ شعر یاد آتا ہے:
سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں

30/07/2026

وے ماھیا تیرے ویکھن نُوں
چُک چَرخہ گَلی دے وِچ ڈَاھواں

مَیں لوکاں پاھنے مَیں کَتدِی
تَند تیریاں یاداں دے پاواں

بابل دی سَونھ چِت نئیں لگدا
ساڑے سیک ھجر دِی اَگ دا

اج میرا جی کَردا
گھر چھڈ کے مَلنگ بَن جاواں

چرخے دی کُوکر دے اوہلے
پیار تیرے دا تُونبہ بولے

میں نِمّا نِمّا گِیت چھیڑ کے
تَند کِھچدی ہُلارے کھاواں

تکھ نئیں دیندے سَوہرے پیکے
ھر دم تیرے پَین پُلیکھے

ھور کَم کار کوئی نا
رَہواں تَکدی سَجن دیاں رَاہواں

وے ماہیا تیرے ویکھن نُوں
چُک چَرخہ گَلی دے وِچ ڈَاہواں

کلام حضرت بابا بلھے شاہ رحمتہ الله علیہ

23/07/2026

اقبال اور میر
ناصر کاظمی
اقبال اپنے بنیادی فلسفۂ حیات میں میر سے کس قدر قریب ہیں ۔ کلیاتِ میر کو بھی دیکھ لیجیۓ ۔ وہاں میر کے ایسے سینکڑوں اشعار ملیں گے جن میں فلسفۂ اقبال کے بنیادی عناصر تہ در تہ سمٹے ہوۓ ہیں ۔ یہاں یہ کہنے کی گنجائش ہے کہ یہ تو مسلمانوں کے بنیادی تصورات ہیں اور پھر اقبال نے یہ باتیں میر سے نہیں لیں بلکہ فارسی اور عربی روایات سے اخذ کی ہیں ۔ مگر یہ بھی تو دیکھیۓ کہ میر کی نظرِ انتخاب بھی انہیں بنیادی قدروں پر کیوں پڑی ۔ اقبال جب ملا اور صوفی کے خلاف آواز بلند کرتے تھے تو ان پر کفر کا فتویٰ لگایا جاتا تھا ۔ میر بھی اپنے زمانے کے مجتہد تھے ۔ وہ بھی جب لب کشا ہوتے تھے تو خانقاہیں زیر و زبر ہو جاتی تھیں
تسبیہیں ٹوٹیں خرقے مصلے پھٹے جلے
کیا جانے خانقاہ میں کیا میر کہہ گۓ
اقبال مسئلِ تصوف کے خلاف ہیں میر بھی ان مسائل کو مسل دیتے ہیں ( مجھ مست کو کیا نسبت اے میر مسائل سے ) اقبال نے نۓ زمانے نۓ صبح و شام پیدا کرنے کا پیغام دیا تھا ۔ میر چرخِ چنبری کی نئ بنیاد رکھنے کا اعلان کرتے تھے ۔ اقبال نے اپنے زمانے کو خارا تراشی کا زمانہ کہا تھا ۔ میر نے اپنی شاعری میں خارا تراشی کو انسانی عزم کا استعارہ بنادیا بلکہ وہ تو فرہاد کے ہنر کو بھی اپنے ناخن کا ایک ادنیٰ سا کرشمہ کہتے ہیں ۔
اب میرِ خارہ تراش کے شعر سنیۓ
کس زور سے فرہاد نے خارہ شکنی کی
ہر چند کہ وہ بے کس و بے تاب و تواں تھا
فرہاد پہلوانِ محبت پہاڑ تھا
بے طاقتی جو دل نے بہت کی پچھڑ گیا
تیشے سے کوہ کن کے دلِ کوہ جل گیا
نکلے ہے سنگ سنگ سے اکثر شرر ہنوز
خارا شگاف و سینہ خراش ایک سے نہیں
لیکن نظر نہیں ہے تجھے کام کی طرف
اقبال نے فرہاد کی خارا تراشی سے پیغامِ عمل لیا ہے مگر وہ ' طریقِ کوہکن ' کے ' پرویزی حیلوں ' کو نہیں سراہتے ۔ میر کی شاعری میں بھی خارا تراشی انسانی عمل کا استعارہ ہے مگر وہ بھی دیوانگئ عشق اور ہنر مندی کو محض ہتھوڑا چلانے تک محدود نہیں رکھتے بلکہ ان کے نزدیک ' جگر کاوی ' اور ' سینہ خراشی ' بھی تخلیقی عمل ہیں ۔ ' طبقاتی شعور ' والوں کا یہ دعویٰ ہے کہ آج کی شاعری میں مجنوں کی جگہ فرہاد و جم نے لے لی ہے کہ انسان کی محنت کشی کا تصور اس زمانے کا طرۂ امتیاز ہے ۔ میر کا پڑھنا تو خیر ایک ٹیڑھی کھیر ہے ، انہوں نے اقبال ہی کو دیکھ لیا ہوتا کہ ان کا کلام ہمارے عہد میں مختلف حیثیتوں سے پڑھا جارہا ہے ۔ بہرحال میں یہاں میر اور اقبال کے بنیادی فلسفۂ حیات کے عناصر میں باہمی رشتہ تلاش کر رہا تھا ۔ چوں کہ میر کو اس نظر سے اب تک کسی نے نہیں دیکھا اس لۓ میں دو چار اور باتیں کروں گا ۔ اقبال نے بھی میر کی طرح اپنی شاعری کے بارے میں جا بجا کچھ اشارے کۓ ہیں ۔ اس سلسلے میں ان کا ایک شعر خصوصیت سے قابلِ ذکر ہے
میں کہ مری غزل میں ہے آتشِ رفتہ کا سراغ
میری تمام سرگزشت کھوۓ ہوؤں کی جستجو
یہ " آتشِ رفتہ ' ایک وسیع روایت ہے جس میں میر بھی ایک شررِ زندہ کی حیثیت سے شامل ہیں ۔ میر نے یہ دعویٰ یوہی تو نہیں کیا تھا
ہے ہمارے بھی طور کا عاشق
جس کسی کو کہیں ہوا ہے عشق
میر و اقبال کے تقابلی مطالعے کی روشنی میں اس شعر کو دیکھیۓ کہ اقبال کے بہت سے اشعار پڑھتے وقت میر کے کتنے ہی اشعار دل میں چٹکیاں سی لینے لگتے ہیں ۔ اقبال کے جہانِ تازہ ، مردِ آفاقی ، امام بے حضور ، عشق یزداں شکار ، صدق مقال ، با شعور جنوں اور ایسی بہت سی تراکیب کے مقابلے میں میر کے یہاں جہانِ دیگر ، انسانِ کامل ، جگر دار آدمی ، عشق اللہ صیاد ، حق بات با شعور جنوں ایسی مشترک اقدار ہیں جو محض الفاظ ہی نہیں بلکہ ان کے پیچھے پورا فلسفۂ حیات ہے ۔ اقبال اور میر دونوں کے یہاں انسان کو اولیت حاصل ہے ۔ اقبال نے تیشے کو اہمیت دی ، میر نے بھی اے انسانی عمل کا استعارہ بنایا ، اقبال نے فقر کی تلوار اٹھائ ، میر بھی صولتِ فقر کے زور پر بے تیغ لڑتے رہے ۔ اقبال نے شاہین کو درویشی اور طاقت کا اسم بنایا تو میر نے اژدر ، فرہاد اور خارا شکن کے استعاروں سے کام لیا ۔ یہ درست ہے کہ اقبال نے دنیا کے انسانوں اور بالخصوص مسلمان قوم کو عشق ، عمل اور زندگی کا جو وسیع تصور دیا ہے اسے بعینہہ کہیں اور تلاش کرنا بے سود ہے مگر یہ بھی صحیح نہیں کہ اقبال کے علاوہ ہمارے تمام شاعر قنوطی اور غم پرست ہیں ۔ میر کو نہ تو ویسا سازگار ماحول ملا اور نہ ہی ان کے زمانے میں تحصیلِ علم اور وسیع دنیا کے سیرو سفر کے وہ مواقع بہم تھے جواقبال کو میسر تھے ۔ مگر یہ کہنا کہ میر کے دل میں قم کا درد نہیں تھا ، ان کی شاعری محض ذاتی دکھوں کا رونا ہے ، بے بصیرتی ہے ، میرکے سامنے کوئ زندہ معاشرہ تھا ہی نہیں کہ وہ باقاعدہ طور پر لولۂ تازہ کے کر میدان میں آتے ۔ انہوں نے مرنے والوں پر آنسو بھی بہاۓ اور جو مر رہے تھے انہیں کبھی رلا کر کبھی ہنسا کر کبھی غیرت دلا کر ان کی کمزوریوں سے آگاہ کیا مگر وہ اپنی قوم سے مایوس بھی نہیں تھے
یوں تو ہم عاجز ترینِ خلقِ عالم ہیں ولے
دیکھنا قدرت خدا کی گر ہمیں قدرت ہوئس

05/07/2026

ہَنوز(فارسی)
ابھی تک، اب تک، اس وقت تک، ابھی، الی الآن

ترکیب: تا ہنوز: اب تک
ہنوز دلّی دور است
ابھی دلّی دور ہے، ابھی منزل دور ہے۔

عمر گزری دوائیں کرتے میرؔ
درد دل کا ہوا نہ چارہ ہنوز

میر تقی میر

حروف کی تبدیلی سے معانی بدل جاتے ہے
05/07/2026

حروف کی تبدیلی سے معانی بدل جاتے ہے

07/06/2026

باغ و بہار کا فنی و فکری جائزہ

تعارف

باغ و بہار اردو ادب کی ایک اہم اور تاریخی کتاب ہے جسے میر امن دہلوی نے فورٹ ولیم کالج کلکتہ کے زیرِ اہتمام 1801ء کے قریب تصنیف کیا۔ یہ دراصل فارسی کی مشہور داستان "قصۂ چہار درویش" کا اردو روپ ہے۔ اس کتاب کا مقصد ایسی سادہ اور عام فہم اردو نثر پیش کرنا تھا جو عوام اور طلبہ آسانی سے سمجھ سکیں۔ باغ و بہار اردو نثر کے ارتقا میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور آج بھی اردو ادب کی بہترین نثری تصانیف میں شمار ہوتی ہے۔

فنی جائزہ

1۔ زبان و بیان

باغ و بہار کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی سادہ، شستہ اور رواں زبان ہے۔ میر امن نے دہلی کی خالص روزمرہ زبان استعمال کی ہے جس کی وجہ سے عبارت میں فطری پن اور دلکشی پیدا ہوگئی ہے۔ زبان میں نہ تصنع ہے اور نہ ہی غیر ضروری مشکل الفاظ کا استعمال۔

2۔ محاورات اور ضرب الامثال

میر امن نے اپنی تحریر میں اردو کے محاورات اور ضرب الامثال کو بڑی خوبصورتی سے استعمال کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باغ و بہار کو اردو محاورے کی بہترین کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ محاورات عبارت کو مؤثر، دلکش اور زندہ بنا دیتے ہیں۔

3۔ قصہ گوئی کا فن

باغ و بہار ایک داستانوی کتاب ہے جس میں قصہ گوئی کا فن اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔ واقعات میں تسلسل، تجسس، دلچسپی اور روانی پائی جاتی ہے۔ قاری ابتدا سے آخر تک کہانی کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔

4۔ کردار نگاری

مصنف نے مختلف کرداروں کو انفرادی خصوصیات کے ساتھ پیش کیا ہے۔ بادشاہ، درویش، شہزادے، شہزادیاں اور دیگر کردار اپنے اعمال اور گفتگو کے ذریعے زندہ محسوس ہوتے ہیں۔

5۔ منظر نگاری

باغ و بہار میں محلات، باغات، بازاروں، تقریبات اور مختلف مقامات کی نہایت خوبصورت منظر کشی کی گئی ہے۔ مصنف کے بیان سے قاری کے ذہن میں مکمل منظر ابھر آتا ہے۔

6۔ مکالمہ نگاری

کرداروں کے درمیان مکالمے نہایت فطری، دلچسپ اور مؤثر ہیں۔ مکالمے کرداروں کی نفسیات اور حالات کی عکاسی کرتے ہیں اور کہانی کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

فکری جائزہ

1۔ اخلاقی تعلیمات

باغ و بہار میں اعلیٰ اخلاقی اقدار کو فروغ دیا گیا ہے۔ سچائی، وفاداری، شرافت، دیانت داری، صبر اور ہمت جیسے اوصاف کی تلقین کی گئی ہے۔

2۔ محبت اور وفا

کتاب میں محبت کو ایک پاکیزہ جذبے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مختلف کردار محبت میں وفاداری، قربانی اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

3۔ امید اور حوصلہ

باغ و بہار کا ایک اہم پیغام یہ ہے کہ انسان کو مشکلات اور مصائب میں مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ صبر اور استقامت سے کام لینا چاہیے۔

4۔ معاشرتی عکاسی

اس کتاب میں اس دور کی معاشرت، رسم و رواج، رہن سہن، لباس، تہذیب و ثقافت اور سماجی رویوں کی جھلک نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ کتاب اپنے دور کی معاشرتی دستاویز بھی ہے۔

5۔ انسانی نفسیات

مصنف نے انسانی جذبات، خواہشات، خوف، محبت، حسد اور خوشی جیسے مختلف نفسیاتی پہلوؤں کو نہایت کامیابی سے پیش کیا ہے۔

ادبی اہمیت

باغ و بہار اردو نثر کی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کتاب نے اردو نثر کو ایک باقاعدہ اور معیاری شکل دی۔ بعد کے نثر نگاروں نے اس کے اسلوب، زبان اور طرزِ بیان سے بہت فائدہ اٹھایا۔ آج بھی یہ کتاب اردو ادب کے نصاب کا حصہ ہے اور اردو نثر کے بہترین نمونوں میں شمار ہوتی ہے۔

نتیجہ

باغ و بہار اپنی سادہ و شستہ زبان، دلکش اسلوب، بہترین قصہ گوئی، مؤثر کردار نگاری اور اعلیٰ اخلاقی و فکری اقدار کے باعث اردو ادب کا ایک لازوال شاہکار ہے۔ یہ صرف ایک داستان نہیں بلکہ اردو زبان و ادب کی ترقی میں ایک اہم سنگِ میل بھی ہے۔ اسی لیے باغ و بہار کو اردو نثر کی بنیاد رکھنے والی اہم ترین کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

Urdu lafz
24/05/2026

Urdu lafz

19/05/2026

Dr ISRAR talk to ABOUT Alama IQBAL POETRY

Address

HCD Lahore
Lahore
TUTOR

Telephone

+923361916404

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M A Urdu 17_19 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category