14/03/2026
(ملکی سالانہ بجٹ اک دھوکہ ھے)
اگر آمدن اور اخراجات کو ایڈجسٹ کر لیا جائے تو سالانہ بجٹ ڈرامہ ختم ھو سکتا ھے جو بیوروکریسی نے پارلیمنٹ کو مصروف رکھنے کے لئے رچا رکھا ھے۔ آج کے کمپیوٹرائزڈ دور میں روزانہ بجٹ بن جاتا ھے۔ فقیر سے لے کر صدر تک ہر شہری ہر چیز پر اور ہر کام پر ہر روز ٹیکس دے رہا ھے۔ قوم کی کمائی سے چھینا گیا یہ پیسہ زیادہ تر سول و فوجی افسروں اور ججوں کی عیاشیوں پر خرچ ھوتا ھے۔ قوم کو اتنا دبا ڈرا کر رکھا ھوا ھے کہ عوامی نمائندے بدمعاش اداروں سے یہ بھی نہیں پوچھ سکتے کہ یہ ٹیکس کا پیسہ جاتا کہاں ھے اور مزید قرضے کیوں لیتے ھو۔ بیرونی قرضے کا بڑا حصہ سرکاری منی لانڈرنگ اور افسران کی بیرونی ٹریننگ (سیر سپاٹا) پر خرچ ھوتا ھے۔ یہ حقیقت ھے کہ بیرونی قرضہ اندرونی کاموں پر خرچ نہیں ھو سکتا کیونکہ ملک کے اندر تو روپیہ استعمال ھوتا ھے جو 40 فیصد ٹیکسوں کے ذریعے وافر مقدار میں موجود ھوتا ھے۔ کوئی سرکاری ادارہ اپنے استعمال کی کوئی چیز امپورٹ نہیں کر سکتا بلکہ وہ خود بنانے کا پابند ھوتا ھے۔ مگر کرپشن مافیا اتنا پاورفل ھے کہ پارلیمنٹ کی جرآت نہیں کہ ان کے کسی غلط کام کو روک سکے۔ سابقہ 40 سال کے دوران اداروں نے اپنی اتھارٹیاں بنا کر عوام سے ٹیکسوں کے علاوہ بھی پیسہ بٹورنا شروع کر دیا ھے۔ ریاستی اصول کے مطابق تمام اداروں نے اپنے اخراجات ٹیکس ریونیو سے پورے کرنے ھوتے ھیں۔ کوئی ادارہ الگ سے کسی کام کی فیس لوگوں سے نہیں لے سکتا اور نہ ہی ترقیاتی بجٹ کے نام پر الگ فنڈز لے سکتا ھے۔ موجودہ بجٹ میں دھوکہ دہی کے چند نکات درج ذیل ہیں۔
1. خسارے کا بجٹ بنا کر پرائیویٹ بنکوں سے قرضے لیئے جاتے ہیں۔ ان سیاسی قرضوں کا سود ٹیکس خزانے سے ادا کیا جاتا ھے جو گناہ کبیرہ ھے۔ حکمرانوں کی جگاشاہی کی وجہ سے گھر بیٹھی معصوم قوم سود کے گناہ میں ملوث کر دی جاتی ھے۔ دینی جماعتیں جابر بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا مکروہ سمجھتی ہیں۔یاد رکھیں! حکومت نہ کوئی قرضہ لے سکتی ھے اور نہ دے سکتی ھے۔
2. سرکلر ڈیٹ کے نام پر سودی قرضے لیئے جاتے ہیں حالانکہ بجلی پٹرول یا گیس کی خرید و فروخت حکومت کا کام نہیں یہ سارا پرائیویٹ لوگوں کا کاروبار ھے جس میں عوام کا روزگار ھے۔ بیرونی قرضہ بھی IMF سے پٹرول اور اسلحہ کی امپورٹ کے لیئے لیا جاتا ھے حالانکہ پٹرول ہمارے اپنے ملک سے بھی نکلتا ھے اور اسلحہ ہم خود بھی بنا سکتے ہیں مگر اپنے ڈالر کمشن کی خاطر امریکہ کی پرائیویٹ فیکٹریوں میں بنا اسلحہ امپورٹ کیا جاتا ھے۔
3. بڑے بڑے ادارے جو اتھارٹیوں کے ذریعے لوگوں سے مال کماتے ہیں وہ پیسہ ملک کے ٹیکس ریونیو میں شامل نہیں کیا گیا مگر بجٹ سے مزید اپنا حصہ لے لیا گیا ھے۔ اتھارٹی میں چونکہ پرائیویٹ قوانین لاگو ھوتے ھیں اسلئے چیئرمین وغیرہ کی تنخواہ پچاس لاکھ سے بھی زیادہ رکھی جاتی ھے۔
4. حقیقی بجٹ بنانے کی بجائے اڈوانس بجٹ یا ڈیفیسٹ بجٹ بنایا گیا ھے تاکہ ان کے پرائیویٹ بنکوں کا سودی کاروبار بھی چلتا رہے۔
5. پٹرول، گیس، کھاد، دوائی، بجلی اور زمین جیسے inputs پر ٹیکس لگانا اپنی معیشت کو تباہ کرنا ھے۔ سرکاری اخراجات پر ٹیکس لگانا قوم سے دھوکہ اور ملک سے غداری ھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔