Detective Babur Awan

Detective Babur Awan *DETECTIVES* is an accredited group of elite investigators nationwide We are here to resolve client’s problem through skilled experts.

We are maintaining the highest level of confidence of the client. We offer viable solution to our clients need. We protect the interest of our client and collect information and evidence as per requirement. We feel pride to take an honest effort each time as assignment is undertaken by us. We are most cost effective consultant company with unmatched quality and foremost services. Our services are

of wide range as you can see on “Services Page”. If some important aspects are neglected at the right time that may cause a huge harm to you or your institution. It has been our experience that if the situation is important and affects your personal, financial future or business is in danger then strong consideration should be given to an investigative verification. We often do not trust our instincts enough. They are usually very accurate. Your sudden notice, in your office, institution, bank or just you as an individual, that important and confidential information leaks out, pilferage in departments or you incur financial loss, all this can be stopped if right steps are taken at the right time. This is where we come into play to avoid such mishaps. Moreover, in case of any problem regarding heavy assessment of Income Tax / Custom & Sales Tax Cases, non issuance of refund claims from Income Tax & Customs and on any issue regarding filing of appeals against orders passed by these departments in the higher courts, are part of our services. Our experts, senior retired officers of these departments, can provide you consultancy of any kind. One of the most important aspect for hiring us is TRUST. You must feel comfortable and believe that we will attend your request with the utmost effort. Do not be afraid to ask any question before you hire us and have patience and relax after assigning us your problem/issue.

Dukky Bhai کی گرفتاری اور ایک مشہور پاکستانی کرکٹر کے خلاف انکوائری نے سب کو حیران کر دیا ہے۔اس ویڈیو میں ہم آپ کو بتائی...
20/08/2025

Dukky Bhai
کی گرفتاری اور ایک مشہور پاکستانی کرکٹر کے خلاف انکوائری نے سب کو حیران کر دیا ہے۔
اس ویڈیو میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ گرفتاری کیوں ہوئی، کیس کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے، اور کیسے ایک بھارتی جوا مافیا کے ساتھ تعلقات کے شواہد سامنے آئے۔
آج صبح 9 بجے
📌 دیکھئے مکمل تفصیل اور حقائق اسی ویڈیو میں۔
صرف اپنے یوٹیوب چینل پر
"Insights With Awan"

14 August 2025Pakistan first Long live Pakistan
14/08/2025

14 August 2025
Pakistan first
Long live Pakistan

12/08/2025

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد

تھے بہت بے درد لمحے ختمِ درد عشق کے
تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد

دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی
کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد

ان سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کیئے
ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد

11/08/2025

Ra*e Incident

11/08/2025

PAKISTAN FIRST
I'm a proud first class citizen of PAKISTAN
I love Pakistan My unique Identity My world My Land
Pakistan Zindabad
Babur Awan

08/08/2025

انگریز گزٹ 1911 کے مطابق کشمیر میں 431 افراد اعوان قبیلے سے تھے۔ آج آدھا کشمیر اعوان ہے۔ حیرت انگیز اضافہ
( صدر تنظیم الاعوان )

15/07/2025

دشمنانِ امام حسینؑ نے سروں کو نیزے پر کیوں بلند کیا؟

تاریخی منابع کے مطابق ابن زیاد نے، ایک دن یا بعض روایات کے مطابق چند دن تک، شہداء کے سروں کو کوفہ کی گلیوں اور محلّوں میں پھرانے کے بعد یزید کے حکم پر انہیں شام روانہ کر دیا۔ اس کے بعد اسیرانِ کربلا کو "مخضّر بن ثعلبہ عائذی" اور "شمر بن ذی الجوشن" کی نگرانی میں ۱۹ محرم کو یزید کے دربار کی طرف بھیجا گیا۔

سر کیوں کاٹے گئے؟

واقعۂ کربلا میں شہداء کے سروں، خصوصاً امام حسین علیہ السلام کے سر کو نیزے پر بلند کرنے کا مقصد صرف قتل نہیں تھا بلکہ اس عمل کو دشمنوں نے ایک ظالمانہ تماشے اور نفسیاتی دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کیا۔

یہ اقدام چند اہم مقاصد کے لیے کیا گیا:

دشمنوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے،امام حسینؑ کی تحریک کو تحقیر اور کمزور دکھانے کے لیے،اپنی ظاہری فتح کا اعلان کرنے کے لیے،مخالفین کو خبردار کرنے کے لیے کہ جو بھی حکومت وقت کے خلاف اٹھے گا، اس کا انجام بھی ایسا ہوگا۔ یعنی یہ عمل محض جسمانی قتل نہ تھا بلکہ ایک علامتی پیغام تھا کہ طاقت، اقتدار اور انتقام کا کھیل یہاں کس قدر بےرحمانہ ہو سکتا ہے۔

شیخ مفید اور سید ابن طاؤوس کے مطابق: عمر بن سعد نے عصرِ عاشورہ کے بعد امام حسین علیہ السلام کا سر خولی بن یزید اصبحی (قبیلہ حمیر سے) اور حمید بن مسلم ازدی کے ساتھ ابن زیاد کے پاس کوفہ بھیجا۔ وہ رات کو کوفہ پہنچے تو قصر کا دروازہ بند تھا، اس لیے خولی سرِ مبارک کو اپنے گھر لے گیا اور اسے اپنے چولہے کے نیچے چھپا دیا۔ اس کی بیوی نوار بنت مالک حضرمی نے پوچھا: تم کیا لے کر آئے ہو؟ خولی نے جواب دیا: ایسی چیز لایا ہوں جس سے ہمیشہ کے لیے مالدار ہو جاؤں گا؛ یہ حسینؑ کا سر ہے جو اب تمہارے گھر میں ہے! اس کی بیوی نے نفرت سے کہا: افسوس تم پر! لوگ سونا چاندی لاتے ہیں اور تم رسول خدا کے بیٹے کا سر لے آئے ہو؟!

بلاذری نے لکھا ہے کہ گیارہویں محرم کے دن باقی شہداء کے سر بھی کاٹے گئے، اور جب عمر بن سعد نے اہلِ بیتؑ کو کوفہ کی طرف روانہ کیا، تو ان سروں کو نیزوں پر بلند کرکے ساتھ لے جایا گیا۔

معجزہ: سرِ مبارک امام حسین علیہ السلام کا قرآن کی تلاوت کرنا

قرآن خوانی کا یہ عظیم معجزہ کہ امام حسینؑ کا سرِ مطہر نیزے پر قرآن پڑھ رہا تھا، شیعہ اور سنی دونوں مکاتب فکر کے علماء کے ہاں ثابت شدہ ہے اور معتبر سند کے ساتھ روایت ہوا ہے۔

ابن شہر آشوب مازندرانی نے اپنی کتاب مناقب آل ابی طالب میں لکھا ہے کہ امام حسینؑ کے متعدد معجزات میں سے ایک "مشہد الرأس" یعنی وہ مقامات ہیں جہاں سرِ مبارک کو لے جایا گیا۔ یہ جگہیں کربلا سے لے کر عسقلان، موصل، نصیبین، حماہ، حمص اور دمشق تک شامل ہیں، جن میں یہ کرامتیں ظاہر ہوئیں۔

۱. خولی کی پہلی بیوی کا مشاہدہ

خولی کی پہلی بیوی جو ایک باایمان عورت تھی، نے رات کے وقت دیکھا کہ امام حسینؑ کے سرِ مبارک سے ایک نور آسمان کی طرف بلند ہو رہا ہے۔ جب وہ قریب گئی تو اس نے سنا کہ امامؑ کا سر قرآن کی تلاوت کر رہا ہے، یہاں تک کہ صبح کا وقت ہو گیا۔

آخری آیت جو اس نے سنی، یہ تھی:"وَ سَیَعْلَمُ الَّذِینَ ظَلَمُوا أَیَّ مُنْقَلَبٍ یَنْقَلِبُونَ"(یعنی: عنقریب ظالموں کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس انجام کو پلٹائے جائیں گے)

اس رات کچھ ایسے واقعات پیش آئے کہ آخرکار خولی نے اپنی ہی بیوی کو قتل کر دیا۔

۲. زید بن ارقم کی گواہی

زید بن ارقم کہتے ہیں:میں ایک بالاخانے میں بیٹھا تھا کہ امام حسینؑ کا سر مبارک نیزے پر میرے سامنے سے گزرا۔

جب وہ برابر میں آیا تو میں نے سنا کہ امامؑ یہ آیت پڑھ رہے تھے:"أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْکَهْفِ وَالرَّقِیمِ کَانُوا مِنْ آیَاتِنَا عَجَبًا"(یعنی: کیا تم نے گمان کیا کہ اصحابِ کہف اور رقیم ہماری نشانیوں میں سے کوئی عجیب نشانی تھے؟)

خدا کی قسم! میرا بدن کانپ اٹھا اور میں نے کہا: اے رسولِ خدا کے فرزند! آپ کا سر نیزے پر ہونا، یقیناً اصحابِ کہف سے زیادہ عجیب بات ہے۔

۳. ابومخنف کی روایت

ابومخنف، شعبی سے روایت کرتے ہیں:جب امام حسینؑ کا سرِ مبارک کوفہ کو زر فروشوں کی مارکیٹ میں لٹکایا گیا،تو سرِ مبارک نے کھنکارا اور سورہ کہف کی تلاوت شروع کی، یہاں تک کہ یہ آیت تلاوت فرمائی: "إِنَّهُمْ فِتْیَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى"(یعنی: وہ کچھ جوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے، اور ہم نے ان کی ہدایت میں اضافہ کیا)۔ یہ تلاوت ظالموں کی گمراہی میں مزید اضافہ کا سبب بنی۔

ایک اور روایت میں ہے کہ جب سرِ مبارک کو درخت پر لٹکایا گیا، تو یہ آیت بھی تلاوت فرمائی: "وَسَیَعْلَمُ الَّذِینَ ظَلَمُوا أَیَّ مُنقَلَبٍ یَنقَلِبُونَ"

دمشق میں بھی لوگوں نے سنا کہ امامؑ فرما رہے ہیں: "لا قوّة الا بالله" اور ایک اور آیت بھی سنی گئی: "أَنَّ أَصْحَابَ الْکَهْفِ وَالرَّقِیمِ کَانُوا مِنْ آیَاتِنَا عَجَبًا"

۴. سَلمہ بن کہیل کی شہادت

سلمہ بن کہیل کہتے ہیں کہ انہوں نے خود سرِ مبارک کو نیزے پر یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا:"فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ" (یعنی: اللہ ان سے تمہاری کفایت کرے گا اور وہ سب سننے اور جاننے والا ہے)

۵. حرث بن وکیدہ کا واقعہ

حرث بن وکیدہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ امام حسینؑ کا سرِ مبارک سورہ کہف کی تلاوت فرما رہا ہے۔ مجھے شک ہوا کہ یہ آواز سر سے آ رہی ہے یا کسی اور جگہ سے،تبھی اچانک سرِ مبارک خاموش ہوا اور مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا:"اے حرث بن وکیدہ! کیا تم نہیں جانتے کہ ہم آئمہ زندہ ہیں، اور اپنے رب کے حضور رزق پاتے ہیں؟" یہ سن کر میں نے دل میں ارادہ کیا کہ سرِ مبارک کو چرا کر دفن کر دوں،تو امامؑ نے فرمایا: "اے ابن وکیدہ! تجھے اس کام کی اجازت نہیں۔ ان ظالموں کا میرا خون بہانا، میرے سر کو نیزے پر لے جانے سے زیادہ سنگین گناہ ہے۔ انہیں چھوڑ دو، ان کے لیے وہ وقت آنے والا ہے جب زنجیریں ان کی گردنوں میں ہوں گی، اور انہیں گھسیٹا جائے گا۔" “اذ الاغلال فی أعناقهم و السلاسل یسحبون( غافر.۷۱)

۶. مسجد الحنانہ

ابن شہر آشوب کے مطابق: جب اسیران کربلا کا قافلہ ۱۲ محرم کی رات کوفہ کے کنارے پہنچا تو شہر میں داخل نہ ہوا۔ ابن زیاد چاہتا تھا کہ قافلہ ہتھیاروں اور فوج کے ساتھ بھرپور نمائشی انداز میں شہر میں داخل ہو۔ اس جگہ کو آج "مسجد الحنانہ" کہا جاتا ہے جو نجف کے شمال مشرق میں ہے۔

محدث قمی فرماتے ہیں کہ یہاں امام حسینؑ کا سرِ مبارک رکھا گیا تھا۔ اس جگہ کو "حنّانه" کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جب سر کو وہاں رکھا گیا تو زمین نے گریہ کیا اور قرآن کی آیات اور ذکر کی آواز سنائی دی۔

۷. ابن زیاد کا قاصد

ابن زیاد لعین نے زَحر بن قیس کو بلایا اور امام حسینؑ اور دیگر شہداء کے سر یزید بن معاویہ کے پاس بھیجنے کا حکم دیا۔ زحر کے ساتھ ابوبرده بن عوف اور طارق بن ابی‌ظبیان بھی تھے۔

۸. دیرِ راہب کا واقعہ

قافلہ شام جاتے ہوئے ایک نصرانی راہب کے دیر (گرجا) پر رکا۔ امامؑ کا سر مبارک ایک صندوق میں رکھ کر دیر میں رکھا گیا۔ راہب نے اس سر سے آسمان کی طرف نور نکلتے دیکھا۔جب اس نے سچائی جانی تو راہب نے پیسے دے کر ایک رات کے لیے سر مانگا، اس نے سرِ مبارک کو مشک و گلاب سے دھویا، ساری رات سر پر رکھ کر روتا رہا۔ صبح ایمان لایا اور اپنے شاگردوں کے ساتھ امام سجادؑ کی خدمت میں آیا، اور دشمنوں کے خلاف جنگ کی پیشکش کی، لیکن امامؑ نے فرمایا: "تم ایسا نہ کرو، اللہ خود ان سے انتقام لے گا۔"

۹. یہودی کا اسلام قبول کرنا

اسیرانِ اہل بیتؑ کا قافلہ جب شام کی طرف جا رہا تھا، تو راستے میں ایک یہودی شخص "یحیی حرّانی" ان سے ملا۔اس نے دیکھا کہ ایک سرِ مبارک کے لب ہل رہے ہیں۔ قریب جا کر سنا تو یہ آیت پڑھ رہا تھا: "وَ سَیَعْلَمُ الَّذِینَ ظَلَمُوا أَیَّ مُنْقَلَبٍ یَنْقَلِبُونَ" اس نے پوچھا: یہ کس کا سر ہے؟ کہا گیا: یہ حسین بن علیؑ کا سر ہے، جن کی ماں حضرت فاطمہؑ بنت رسولؐ ہیں۔یہ منظر دیکھ کر وہ فوراً مسلمان ہو گیا۔

۱۰. منہال بن عمرو کی گواہی

منہال بن عمرو کہتے ہیں:میں نے دمشق میں امام حسینؑ کا سر نیزے پر دیکھا،جو سورہ کہف کی تلاوت فرما رہا تھا، یہاں تک کہ اس آیت تک پہنچا:"أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْکَهْفِ وَالرَّقِیمِ کَانُوا مِنْ آیَاتِنَا عَجَبًا"

پھر فرمایا:"اصحابِ کہف کا واقعہ عجیب ہے، مگر میرا قتل اور میرا سر نیزے پر ہونا اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔"

۱۱. یزید اور سفیرِ روم

جب رومی سفیر نے امام حسینؑ کے ساتھ ہونے والے ظلم کو دیکھا اور مسلمان ہو گیا، یزید نے اس کے قتل کا حکم دیا۔تب امام حسینؑ کا سر بلند آواز سے گویا ہوا:"لا حول و لا قوة الا بالله"

منابع:

ارشاد شیخ مفید (ره)

لهووف سید بن طاووس (ره)

مقتل الحسین علیه السلام سید عبدالرزاق مقرم (ره)

مناقب آل ابیطالب ابن شهر آشوب ر(ه)

انساب الاشراف احمدبن یحیی بلاذری

پایگاه اطلاع رسانی حوزه

16/04/2025

تھانہ کلچر کی تبدیلی اور کرپشن کا خاتمہ
زمینی خداؤں سے مکمل نجات
تھانہ کی تنظیم نو...
تمام تھانوں کو آٹھ گھنٹہ اوقات کار کے حساب سے شیڈول کیا جائے۔
تھانہ صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک کھلے، جبکہ شیڈول کی چھٹی میں بھی تھانہ بند رکھا جائے۔
تھانہ کو ریکارڈ مینٹیننس اور شکائیت کنندہ کی رہنمائی اور متعلقہ آفیسر کے لائیزون تک محدود کیا جائے۔

انویسٹیگیشن یونٹ کو موثر بنانے کی اشد ضرورت ہے,
انچارج شعبہ تفتیش کو اسٹیشن ہاؤس آفیسر یعنی SHO تعینات کیا جائے۔
انویسٹیگیشن یونٹ شکائیت کنندہ سے از خود رابطہ میں رہیں اور PFSA ٹیم اس یونٹ کا حصہ ہو
8/8 گھنٹے کی تین شفٹس میں 3 انسپکٹر ایس ایچ او تعینات کیئے جائیں۔
آپریشنز ونگ عملہ واچ اینڈ وارڈ اور کرائم ریسپانس یونٹ ڈولفن کے سپرد کیا جائے۔
ڈولفن کو مزید فعال بنا کر تین شفٹس میں تقسیم کیا جائے اور ہر شفٹ کا انچارج انسپکٹر مقرر ہو
ڈی ایس پی سرکل آفیسر ڈولفن اور ایس پی ڈویژن لیول پر کام کریں
ڈولفن کرائم ریسپانس یونٹ خودکار نظام کے تحت کرائم رپورٹ پولیس ڈیٹابیس کو منتقل کرے۔
Babur Awan Crime Analyst

15/03/2025

اسلام علیکم۔
کیا آپ ہماری سوشل میڈیا ٹیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں؟
اگر آپ ہاں میں سوچ رہے ہیں تو براہ کرم ہم سے رابط کریں۔ سوشل میڈیا کا علم رکھنے والے خواتین و حضرات ہماری میڈیا ٹیم کا حصہ بن سکتے ہیں۔
1. ٹور گائیڈ حضرات و خواتین
2. کرائم رپورٹنگ کا علم رکھنے والے دوست
3. خوش خوراک کھابوں کے شوقین
4. ملبوسات کے شوقین خواتین و حضرات
5. تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے دوست
فیسبک میسنجر میں نام، شہر کا نام اور رابطہ نمبر شیئر کریں۔ شکریہ

لاہور انڈر پاس سیکورٹی اہلکار اور نوجوان کی جنگ کیوں ہوئی، حقیقی پس منظر اور نتیجہلاہور کے ڈی آئی جی ایڈمن عمران کشور کا...
14/03/2025

لاہور انڈر پاس سیکورٹی اہلکار اور نوجوان کی جنگ کیوں ہوئی، حقیقی پس منظر اور نتیجہ
لاہور کے ڈی آئی جی ایڈمن عمران کشور کا آئی جی پنجاب کو احتجاجی مراسلہ، اصل حقائق کیا ہیں۔
اس سے قبل بھی سید قلب عباس اور پرویز راٹھور PSP صاحبان نے ایک انوکھا احتجاج کیا تھا، وہ کیا تھا؟ جانیئے آج کی ویڈیو میں۔
صرف میرے ڈیجیٹل چینل پر ۔
"Insights With Awan"

Address

390 A1
Lahore
00000000

Opening Hours

Monday 11:00 - 16:00
Tuesday 11:00 - 16:00
Wednesday 11:00 - 16:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Detective Babur Awan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share