16/12/2025
ہم انسانوں میں درندگی اور سفاکیت کس حد تک موجود ہوتی ہے اور کیسے اچانک ابھر کر ہم پر حاوی ہو جاتی ہے۔ ملاحظہ کیجیے۔
لاہور میں ڈی ایس پی عثمان گجر نے ہی اپنی بیوی اور انیس سالہ بیٹی کو گاڑی میں اپنے پستول سے قتل کر کے ان کی لاشیں شیخوپورہ اور لاہور کے گندے نالے/مضافاتی علاقے میں پھینک دی تھیں اور بعد میں ان کے اغوا کا پرچہ بھی جا کر تھانے میں رجسٹرد کرا کے دو ماہ تک نارمل انداز میں اپنی ڈیوٹی دیتا رہا۔
قتل کرنے سے پہلے بیوی اور بیٹی کو ڈی ایچ اے کے ریسٹورنٹ میں کھانا کھلایا۔ گاڑی میں بٹھایا، رنگ روڈ پر پہلے گولی بیوی کو ماری اور پھر بیٹی کو قتل کیا۔ پہلے بیٹی کی لاش ایک گندے نالے میں پھینک دی جسے بعد میں پولیس نے لاوارث سمجھ کر قبرستان میں دفن کر دیا تھا۔
دو ماہ سے ڈی ایس پی کی بیوی اور بیٹی کے اغوا کا ڈراپ سین اس وقت ہوا جب پولیس نے عثمان گجر کو گرفتار کیا اور وہ آج کل ڈی ایس پی کے عہدے سے ترقی پا کر سہالہ کالج میں ٹریننگ لے رہا تھا۔
انگریزی اخبار ڈان کے لاہور سے کرائم رپورٹر آصف چوہدری نے اپنی رپورٹ میں ایسے انکشافات کیے ہیں جنہیں پڑھ کر آپ کے رونگٹھے کھڑے ہو جائیں۔
تفصیلات کے مطابق ڈی ایس پی کی گرفتاری اس درخواست کے بعد عمل میں آئی جب ایک ماہ پہلے ڈی ایس پی کی بیوی کی بہن تہمینہ شوکت نے وزیراعلی مریم نواز کے نام درخواست دی کہ انہیں شک ہے ان کی بہن کو اس کے بہنوئی نے قتل کر دیا ہے اور بیٹی کو کہیں قید کر رکھا ہے کیونکہ وہ پہلے بھی اس پر تشدد کرتا تھا۔
تہمینہ نے اپنی درخواست میں الزام لگایا تھا کہ لاہور کی پولیس اپنے پیٹی بھائی عثمان گجر کو تحفظ دے رہی تھی اور اسے دھمکیاں دی جارہی تھیں کہ اگر وہ خاموش نہ ہوئی تو اسے سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے ۔ اسے بھی جعلی پولیس مقابلے میں مار دیا جائے گا اگر اس نے اپنی بہن اور بھانجی کے کیس پر کوئی آواز اٹھائی۔
رپورٹر آصف چوہدری نے ایس پی ایاز حسین کے حوالے سے لکھا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ معاملہ پرسرار ہوتا جارہا تھا تو پولیس نے کچھ نئے انداز میں تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا ۔
پولیس نے پہلے ڈی ایس پی کے فون کا ڈیٹا حاصل کیا جو اب اس کیس میں مشکوک ہوگیا۔ اس ڈیٹا سے پولیس کو امید پیدا ہوئی کہ اب یہ کیس حل ہوسکتا ہے۔
پولیس افسران/اہلکار جو اس کیس پر کام کررہے تھے ان کے لیے حیرانی کی بات تھی کہ جس کی بیوی اور بیٹی دو ماہ سے غائب تھے وہ نارمل زندگی گزار رہا تھا اور اپنے دفتر میں بھی نارمل ڈیوٹی دے رہا تھا۔
انہوں نے ڈی ایس پی پر ابزرویشن لگا دی۔ اس دوران پولیس نے کسی طرح اس کا سرکاری کیبن ڈالا قبضے میں لیا اور پسینجر سیٹ سے لیدر شیٹ کو ہٹایا تو نیچے خون کے دھبے نظر آئے جس سے کیس حل کرنے میں مدد ملی۔اس کے گھر سے بھی ٹشو پیپرز ملے جن پرخون لگا ہوا تھا۔ یہ سب سیمپل فرانزک لیب کو بھیجے گئے۔
پولیس ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ اس خاتون کو قتل کر دیا گیا تھا۔ معاملہ ہائی پولیس کمانڈ کے علم میں لایا گیا تو انہوں نے ڈی ایس پی سے تفتیش کی منظوری دے دی۔
یوں ہفتے کے روز اس کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر اسے گرفتار کر لیا گیا۔ تفتیش کے دوران عثمان گجر نے اپنی بیوی اور بیٹی کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا۔
رپورٹ کے مطابق بیوی اور بیٹی کو قتل کرنے کے بعد اس نے ان کی الگ الگ لاشیں لاہور رنگ روڈ کے قریب اور شیخوپورہ میں پھینک دیں ۔لاہور اور شیخوپورا پولیس کو ان نامعلوم لاشوں کی اطلاع ملی تو انہوں نے انہیں قبرستان میں جنازہ وغیرہ پڑھوانے کے بعد دفن کرا دی تھی۔ گرفتاری کے بعد پولیس ڈی ایس پی کو وہاں لے گئی جہاں اس نے وہ لاشیں پھینکیں تھیں۔
زرائع نے رپورٹرکو بتایا بریک تھرو اس وقت ہوا جب پولیس نے ڈی ایس پی کی گاڑی کا فرانزک کرنے کا فیصلہ کیا۔ ملزم نے پہلے بیوی کو نائین ایم ایم پسٹل سے گولی ماری اور پھر بیٹی پر فائر کیا۔ وہاں سے کاہنہ کی طرف گیا جہاں اس نے اپنی بیٹی کی لاش ایک گندے نالے میں پھینکی جو قصور ضلع کے قریب سنسنان جگہ واقع ہے۔ پھر وہاں سے بیوی کی لاش فیروزپور جا کر پھینک دی۔
پولیس کا کہنا ہے اس نے بیوی اور بیٹی کے ساتھ ڈی ایچ اے میں ڈنر کیا اور پھر گاڑی میں رنگ روڈ پر پسٹل سے دونوں کو قتل کیا۔ قتل کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بیوی اور بیٹی کو ڈی ایس پی کی دوسری شادی پر اعتراض تھا۔
قتل کرنے کے بعد دونوں کے اغوا کا مقدمہ بھی خود درج کرا کے نارمل انداز میں دو ماہ تک ڈیوٹی بھی دیتا رہا جیسے کچھ نہیں ہوا۔ جس دن بیوی اور بیٹی کو قتل کیا اس دن ڈی ایس پی نے ڈرائیور اور گن مین ساتھ نہیں رکھا تھا۔
گرفتاری کے وقت ڈی ایس پی عثمان گجر ڈی ایس پی سے پروموشن کے بعد سہالہ پولیس ٹریننگ کالج میں ایس پی عہدے کی ٹریننگ لے رہا تھا۔
رپورٹ آصف چوہدری/ڈان۔
فرخ شہباز وڑائچ کی وال سے۔