عوام بنام سرکار

عوام بنام سرکار Bridging the gap between the public and the law in Pakistan. � Know your rights and duties.

09/04/2026









27/02/2026

17/12/2025

‏پتہ نہیں یہ دشمنیاں کب ختم ہوں گی۔

‏ملکوال میں رائل نواب مارکی میں شادی کی تقریب کے دوران فائرنگ۔
‏فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد موقع پر جاں بحق اور تین شدید زخمی ہو گے۔
‏جاں بحق افراد کی شناخت انار اور طارق کے نام سے ہوئی ھے۔
‏ پولیس کے مطابق واقعہ پرانی دشمنی کا شاخسانہ ہو سکتا ہے۔

゚viralシ

17/12/2025

‏بھاری چلان سے تنگ شہری نے موٹر سائیکل کو آگ لگا دی

゚viralシ

16/12/2025

‏اسلام آباد میں ایک اور ٹریفک حادثہ، ذرائع کے مطابق، ایک عرب ملک کے سفارت خانہ کی گاڑی نے شہری کی مہران کو ہٹ کیا اور نکل گیا۔

16/12/2025

‏ساہیوال میں کم عمر بچے کا چلان
‏والدین ابھی بھی سمجھنے کو تیار نہیں

بلوچ رجمنٹ کا فخر لیفٹیننٹ آغا مقدس شہید خوبصورت نام خوبصورت چہرہ لیفٹیننٹ آغا وزیرستان میں خوارج کے ساتھ بہادری سے مقاب...
16/12/2025

بلوچ رجمنٹ کا فخر لیفٹیننٹ آغا مقدس شہید خوبصورت نام خوبصورت چہرہ لیفٹیننٹ آغا وزیرستان میں خوارج کے ساتھ بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جان اس دھرتی کے نام کر گئے تھے جب آپکی شہادت کی خبر آپکے والد کو دی گئی تو انہوں نے سجدہ شکر ادا کیا اللّٰہ تعالیٰ آپکے درجات بلند فرمائے آمین

ہم انسانوں میں درندگی اور سفاکیت کس حد تک موجود ہوتی ہے اور کیسے اچانک ابھر کر ہم پر حاوی ہو جاتی ہے۔ ملاحظہ کیجیے۔لاہور...
16/12/2025

ہم انسانوں میں درندگی اور سفاکیت کس حد تک موجود ہوتی ہے اور کیسے اچانک ابھر کر ہم پر حاوی ہو جاتی ہے۔ ملاحظہ کیجیے۔

لاہور میں ڈی ایس پی عثمان گجر نے ہی اپنی بیوی اور انیس سالہ بیٹی کو گاڑی میں اپنے پستول سے قتل کر کے ان کی لاشیں شیخوپورہ اور لاہور کے گندے نالے/مضافاتی علاقے میں پھینک دی تھیں اور بعد میں ان کے اغوا کا پرچہ بھی جا کر تھانے میں رجسٹرد کرا کے دو ماہ تک نارمل انداز میں اپنی ڈیوٹی دیتا رہا۔

قتل کرنے سے پہلے بیوی اور بیٹی کو ڈی ایچ اے کے ریسٹورنٹ میں کھانا کھلایا۔ گاڑی میں بٹھایا، رنگ روڈ پر پہلے گولی بیوی کو ماری اور پھر بیٹی کو قتل کیا۔ پہلے بیٹی کی لاش ایک گندے نالے میں پھینک دی جسے بعد میں پولیس نے لاوارث سمجھ کر قبرستان میں دفن کر دیا تھا۔

دو ماہ سے ڈی ایس پی کی بیوی اور بیٹی کے اغوا کا ڈراپ سین اس وقت ہوا جب پولیس نے عثمان گجر کو گرفتار کیا اور وہ آج کل ڈی ایس پی کے عہدے سے ترقی پا کر سہالہ کالج میں ٹریننگ لے رہا تھا۔

انگریزی اخبار ڈان کے لاہور سے کرائم رپورٹر آصف چوہدری نے اپنی رپورٹ میں ایسے انکشافات کیے ہیں جنہیں پڑھ کر آپ کے رونگٹھے کھڑے ہو جائیں۔

تفصیلات کے مطابق ڈی ایس پی کی گرفتاری اس درخواست کے بعد عمل میں آئی جب ایک ماہ پہلے ڈی ایس پی کی بیوی کی بہن تہمینہ شوکت نے وزیراعلی مریم نواز کے نام درخواست دی کہ انہیں شک ہے ان کی بہن کو اس کے بہنوئی نے قتل کر دیا ہے اور بیٹی کو کہیں قید کر رکھا ہے کیونکہ وہ پہلے بھی اس پر تشدد کرتا تھا۔
تہمینہ نے اپنی درخواست میں الزام لگایا تھا کہ لاہور کی پولیس اپنے پیٹی بھائی عثمان گجر کو تحفظ دے رہی تھی اور اسے دھمکیاں دی جارہی تھیں کہ اگر وہ خاموش نہ ہوئی تو اسے سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے ۔ اسے بھی جعلی پولیس مقابلے میں مار دیا جائے گا اگر اس نے اپنی بہن اور بھانجی کے کیس پر کوئی آواز اٹھائی۔
رپورٹر آصف چوہدری نے ایس پی ایاز حسین کے حوالے سے لکھا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ معاملہ پرسرار ہوتا جارہا تھا تو پولیس نے کچھ نئے انداز میں تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا ۔

پولیس نے پہلے ڈی ایس پی کے فون کا ڈیٹا حاصل کیا جو اب اس کیس میں مشکوک ہوگیا۔ اس ڈیٹا سے پولیس کو امید پیدا ہوئی کہ اب یہ کیس حل ہوسکتا ہے۔
پولیس افسران/اہلکار جو اس کیس پر کام کررہے تھے ان کے لیے حیرانی کی بات تھی کہ جس کی بیوی اور بیٹی دو ماہ سے غائب تھے وہ نارمل زندگی گزار رہا تھا اور اپنے دفتر میں بھی نارمل ڈیوٹی دے رہا تھا۔

انہوں نے ڈی ایس پی پر ابزرویشن لگا دی۔ اس دوران پولیس نے کسی طرح اس کا سرکاری کیبن ڈالا قبضے میں لیا اور پسینجر سیٹ سے لیدر شیٹ کو ہٹایا تو نیچے خون کے دھبے نظر آئے جس سے کیس حل کرنے میں مدد ملی۔اس کے گھر سے بھی ٹشو پیپرز ملے جن پرخون لگا ہوا تھا۔ یہ سب سیمپل فرانزک لیب کو بھیجے گئے۔
پولیس ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ اس خاتون کو قتل کر دیا گیا تھا۔ معاملہ ہائی پولیس کمانڈ کے علم میں لایا گیا تو انہوں نے ڈی ایس پی سے تفتیش کی منظوری دے دی۔

یوں ہفتے کے روز اس کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر اسے گرفتار کر لیا گیا۔ تفتیش کے دوران عثمان گجر نے اپنی بیوی اور بیٹی کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا۔

رپورٹ کے مطابق بیوی اور بیٹی کو قتل کرنے کے بعد اس نے ان کی الگ الگ لاشیں لاہور رنگ روڈ کے قریب اور شیخوپورہ میں پھینک دیں ۔لاہور اور شیخوپورا پولیس کو ان نامعلوم لاشوں کی اطلاع ملی تو انہوں نے انہیں قبرستان میں جنازہ وغیرہ پڑھوانے کے بعد دفن کرا دی تھی۔ گرفتاری کے بعد پولیس ڈی ایس پی کو وہاں لے گئی جہاں اس نے وہ لاشیں پھینکیں تھیں۔

زرائع نے رپورٹرکو بتایا بریک تھرو اس وقت ہوا جب پولیس نے ڈی ایس پی کی گاڑی کا فرانزک کرنے کا فیصلہ کیا۔ ملزم نے پہلے بیوی کو نائین ایم ایم پسٹل سے گولی ماری اور پھر بیٹی پر فائر کیا۔ وہاں سے کاہنہ کی طرف گیا جہاں اس نے اپنی بیٹی کی لاش ایک گندے نالے میں پھینکی جو قصور ضلع کے قریب سنسنان جگہ واقع ہے۔ پھر وہاں سے بیوی کی لاش فیروزپور جا کر پھینک دی۔

پولیس کا کہنا ہے اس نے بیوی اور بیٹی کے ساتھ ڈی ایچ اے میں ڈنر کیا اور پھر گاڑی میں رنگ روڈ پر پسٹل سے دونوں کو قتل کیا۔ قتل کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بیوی اور بیٹی کو ڈی ایس پی کی دوسری شادی پر اعتراض تھا۔
قتل کرنے کے بعد دونوں کے اغوا کا مقدمہ بھی خود درج کرا کے نارمل انداز میں دو ماہ تک ڈیوٹی بھی دیتا رہا جیسے کچھ نہیں ہوا۔ جس دن بیوی اور بیٹی کو قتل کیا اس دن ڈی ایس پی نے ڈرائیور اور گن مین ساتھ نہیں رکھا تھا۔
گرفتاری کے وقت ڈی ایس پی عثمان گجر ڈی ایس پی سے پروموشن کے بعد سہالہ پولیس ٹریننگ کالج میں ایس پی عہدے کی ٹریننگ لے رہا تھا۔

رپورٹ آصف چوہدری/ڈان۔
فرخ شہباز وڑائچ کی وال سے۔

16/12/2025

‏اس شخص کو وارڈن نے روکا یہ نہیں رکا اور پھر روکے جانے پر وارڈن کو مارنا شروع کردیا۔اب یہ کسی رحم کے مستحق ھے؟

لاہور نواب ٹائون میں خود کو سی سی ڈی کا اہلکار ظاہر کرکے شہری سے لاکھوں روپوں لوٹ لئے باوردی اہلکاروں نے شہری کو پولیس م...
16/12/2025

لاہور نواب ٹائون میں خود کو سی سی ڈی کا اہلکار ظاہر کرکے شہری سے لاکھوں روپوں لوٹ لئے
باوردی اہلکاروں نے شہری کو پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کی دھمکی دیکر لوٹ مار کی
مسعود الحق نادر شہری کو 11 دسمبر کی شام نجی یونیورسٹی کے پارکنگ گیٹ کے سامنے دو باوردی پولیس اہلکاروں نے روکا
پولیس اہلکار مجھے اپنی موٹرسائیکل بٹھا کر نرسری کے پاس ویران جگہ لے گئے اور مجھے پولیس مقابلھلے میں پار کرنے کی دھمکی دی ۔شہر ی
پولیس اہلکاروں نے پسٹل کے زور پر میرے بینک کارڈ لے لئے، ایک اہلکار نے قریبی اے ٹی ایم میں جا کر 95 ہزار روپے نکلوا لئے، شہری مسعود

پولیس والوں نے میرا موبائل فون لیکر میرے بنک اکاؤنٹ سے پانچ لاکھ روپے بھی اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر لئے۔شہری مسعود

پولیس نے مدعی مسعود الحق کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے دونوں اہلکاروں کو گرفتار کرلیا

گرفتار ملزمان یاسر فلائنگ سکواڈ میں اہلکار جبکہ وقار ایس پی یو میں تعینات ہے۔

ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔پولیس

Address

Awan-E-Adal
Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when عوام بنام سرکار posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category