Ilm Sarai

Ilm Sarai -Daily Islamic History

جملہ قارئین کو عید کی ڈھیروں مبارک باد۔....
21/03/2026

جملہ قارئین کو عید کی ڈھیروں مبارک باد۔

.
...

..چاند کو ہاتھ لگا آئے ہیں اہلِ ہمّتان کو یہ دُھن ہے کہ اب جانبِ مَرّیخ بڑھیںایک ہم ہیں کہ دِکھائی نہ دیا چاند ہمیںہم اِ...
20/03/2026

..

چاند کو ہاتھ لگا آئے ہیں اہلِ ہمّت
ان کو یہ دُھن ہے کہ اب جانبِ مَرّیخ بڑھیں

ایک ہم ہیں کہ دِکھائی نہ دیا چاند ہمیں
ہم اِسی سوچ میں ہیں عید پڑھیں یا نہ پڑھیں

انور مسعود
......

آج 21 رمضان کو سیدنا علی ابنِ ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ کا یومِ شہادت ہے۔ آپ پر 19 رمضان 40 ہجری کو مسجدِ کوفہ میں فجر کی ...
11/03/2026

آج 21 رمضان کو سیدنا علی ابنِ ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ کا یومِ شہادت ہے۔ آپ پر 19 رمضان 40 ہجری کو مسجدِ کوفہ میں فجر کی نماز کے دوران "عبدالرحمٰن ابنِ ملجم خارجی" نے جنگِ نہروان کا بدلہ لینے کی نیت سے حملہ کیا۔ اس حملے کے تیسرے روز یعنی 21 رمضان کو آپ شہید ہو گئے۔ آپ کے جسمِ اطہر کی تدفین نجف میں ہوئی۔

حدیث کے مطابق سیدنا علیؓ کا قاتل سب سے زیادہ بد بخت انسان

حضرت عمار بن یاسرؓ فرماتے ہیں کہ "غزوۂ ذی العشیرۃ ‘‘ کے موقع پر ایک بار رسول اللہؐ نے ان سے اور سیدنا علیؓ سے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ان دو آدمیوں کی خبر نہ دوں جو سب سے زیادہ بدبخت ہیں؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہؐ ! آپؐ نے فرمایا: "پہلا شخص اُحیمِر قوم ثمود سے تھا جس نے حضرت صالح ؑ کی اونٹنی کو نا حق ذبح کیا۔ اور دوسرا بدبخت وہ شخص ہے جو علیؓ پر حملہ کرے گا حتیٰ کہ ان کے سر کے خون سے ان کی داڑھی سرخ ہو جائے گی۔"

مستدرک للحاکم، 4679

جبکہ اس کے علاوہ ذیل میں سیدنا علی کی شان میں تین سب سے معتبر متفق علیہ احادیث درج ہیں۔

"متفق علیہ اس حدیث کو کہتے ہیں جسے امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ دونوں نے نقل کیا ہو۔"

ان تینوں احادیث کے راوی سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللّٰہ عنہ ہیں۔

حدیث-1

"اے علی! کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے حضرت ہارون علیہ السلام تھے۔"

---(صحیح بخاری۔۔ حدیث۔ 3706)---

حدیث-2

رسول اللہؐ غزوہ تبوک کے لیے تشریف لے گئے تو حضرت علیؓ کو مدینہ میں اپنا نائب بنایا۔ علیؓ نے عرض کی کہ آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑے جا رہے ہیں؟ نبی کریمؐ نے فرمایا کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ "میرے لیے تم ایسے ہو جیسے موسیٰ کے لیے ہارون تھے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔"

---(صحیح بخاری۔۔ حدیث۔ 4416)---

حدیث-3

"اے علی! تمھارا میرے ساتھ وہی مقام ہے جو ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھا مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔"

---(صحیح مسلم۔۔ حدیث۔ 6217)---

رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے 20 رمضان 8 ہجری بمطابق 11 جنوری 630ء  کو شہر مکہ فتح کیا۔ اس کا پس منظر کچھ یوں...
10/03/2026

رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے 20 رمضان 8 ہجری بمطابق 11 جنوری 630ء کو شہر مکہ فتح کیا۔ اس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ جب مشرکینِ مکہ نے اپنے اتحادی قبیلے "بنو بکر" کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے اتحادی قبیلے "بنو خزاعہ" پر حملہ کیا تو اس حملے کو قریشِ مکہ کی جانب سے "صلح حدیبیہ" کے نام سے مشہور معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا گیا۔ اس خلاف ورزی کے جواب میں نبی اکرم نے ایک عظیم الشان لشکر تیار کیا جو "10 ہزار" صحابہ کرام رضون اللّٰہ اجمعین پر مشتمل تھا۔ لشکر آگے بڑھتا رہا اور یہاں تک کہ مکہ پہنچ گیا اور بغیر کسی مزاحمت کے (سوائے ایک معمولی سی جھڑپ کے) مکہ میں پُر امن طریقے سے داخل ہو گیا۔ جب نبی اکرم مکہ شہر میں داخل ہوئے تو آپ نے اہلِ مکہ کے لیے "عام معافی" کا اعلان کرتے ہوئے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنے سب سے بڑے دشمنوں "ابوسفیان بن حرب" اور اس کی بیوی "ہند بنتِ عتبہ"، "عِکرمہ بن ابو جہل"، "سہیل بن عمرو" سمیت دیگر کو بھی معاف کر دیا۔ یہ تاریخِ انسانی کی پہلی اور سب سے روشن مثال تھی کہ کسی فاتح نے بغیر خون بہائے کوئی شہر فتح کیا اور اس کے باشندوں کو عام معافی دی۔

علامہ اقبال نے اسی واقعے کو اپنے فارسی شعری مجموعے "اسرارِ خودی" میں یوں بیان کیا ہے:

آں کہ بر اعدا در رحمت گشاد
مکہ را پیغام لا تثریب داد

تشریح:
"رسول اللّٰہ ﷺ نے اپنے تمام دشمنوں پر رحمت کے دروازے کھول دیے اور ان کے لیے عام معافی کا اعلان کیا۔" دوسرے مصرعے میں "لا تثریب" اشارہ ہے قرآن کریم کی "سورۃ یوسف" کی آیت 92 کی طرف، جس میں " سیدنا یوسفؑ " اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ "آج تم پر کچھ ملامت (الزام) نہیں، اللّٰہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے۔" نبی اکرم ﷺ نے ہو بہو یہی آیت اہلِ مکہ کے سامنے تلاوت کی اور انہیں معاف کیا۔...

سترہ رمضان 58ھ / 12 جولائی 678ء کو ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ کا انتقال ہوا۔ آپ وہ شخصیت ہیں جن کی پاکدامنی کی شہادت ...
07/03/2026

سترہ رمضان 58ھ / 12 جولائی 678ء کو ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ کا انتقال ہوا۔ آپ وہ شخصیت ہیں جن کی پاکدامنی کی شہادت خود اللّٰہ نے قرآن میں دی۔ آپ رسول اللّٰہؐ کی تیسری زوجہ تھیں اور علمی اعتبار سے بھی آپ کا مرتبہ بلند ہے۔ اسی بنا پر آپ سے آئمہ کرام نے 2210 احادیث نقل کیں۔ .

سترہ رمضان 2 ہجری کو عین غزوۂ بدر کے روز رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی دوسری صاحبزادی اور سیدنا عثمان بن عفان...
07/03/2026

سترہ رمضان 2 ہجری کو عین غزوۂ بدر کے روز رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی دوسری صاحبزادی اور سیدنا عثمان بن عفان کی زوجہ سیدہ رقیہ کا وصال ہوا۔ آپ کی تیمار داری کے لیے رسول اللہ نے سیدنا عثمان جو غزوۂ بدر میں شریک ہونے سے منع کیا۔ لیکن رسول اللّٰہؐ نے غزوہ میں شریک جنگجووں کی طرح انہیں مالِ غنیمت میں سے حصہ دیکر ان کا شمار بھی بدری صحابہ میں کیا۔.

سترہ رمضان 2 ہجری کو 313 مسلمانوں نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی قیادت میں اپنے سے تین گنا بڑے کفار کے لشکر...
07/03/2026

سترہ رمضان 2 ہجری کو 313 مسلمانوں نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی قیادت میں اپنے سے تین گنا بڑے کفار کے لشکر کو غزوۂ بدر میں عبرت ناک شکست دی۔ اس جنگ کے بعد جزیرہ نما عرب میں مسلمانوں کی ہیبت اور ایک مقام قائم ہوا۔.

آج 15 رمضان کو سیدنا امام حسن مجتبیٰؓ کا یومِ پیدائش ہے۔ آپ ہجرت کے تیسرے سال مدینہ میں پیدا ہوئے۔آپ کی شانِ اقدس میں عل...
05/03/2026

آج 15 رمضان کو سیدنا امام حسن مجتبیٰؓ کا یومِ پیدائش ہے۔ آپ ہجرت کے تیسرے سال مدینہ میں پیدا ہوئے۔

آپ کی شانِ اقدس میں علامہ اقبال کا ایک فارسی شعر دیکھیے

تا نشیند آتش پیکار و کس
پشت یا زد بر سرِ تاج و نگین

سیدنا حسنؓ وہ شخص ہیں جنہوں نے ملت میں افتراق و انتشار کی آگ کے شعلوں کو بجھانے کے لیے تاج و تخت کو ٹھوکر ماری۔ یعنی کہ آپ امت کی بہتری کے لیے خلافت سے دستبردار ہو گئے اور ایک بڑے انتشار کے آگے بند باندھ لیا۔ اس شعر کا مآخذ صحیح بخاری کی حدیث 2704 ہے جس میں رسول اللّٰہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ "میرا یہ بیٹا سردار ہے، اللّٰہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کروائے گا۔" دراصل یہ صلح آپؓ نے امیرِ معاویہؓ سے کی اور آپؓ نے خلافت کے عظیم عہدے سے دستبردار ہو کر حکومت کی باگ ڈور امیر معاویہؓ کے سپرد کر دی۔ یوں اموی ملوکیت کا آغاز ہوا۔

نظم: در معنی اینکہ سیدة النساء فاطمة الزہراء
کتاب: رموزِ بے خودی

۔۔
۔۔

04/03/2026
بیت المقدس (یروشلم) سیدنا عمر بن خطاب کے دورِ خلافت کے تیسرے سال یعنی 15 ہجری میں فتح ہوا۔ جبکہ شہر کی باضابطہ حوالگی کے...
03/03/2026

بیت المقدس (یروشلم) سیدنا عمر بن خطاب کے دورِ خلافت کے تیسرے سال یعنی 15 ہجری میں فتح ہوا۔ جبکہ شہر کی باضابطہ حوالگی کے لیے عیسائی پادریوں نے یہ شرط رکھی کہ خلیفتہ المسلمین خود آئیں، پھر شہر مکمل طور پر مسلمانوں کے حوالے ہو گا۔ یوں سیدنا ابو عبیدہ بن جراح کے خط کے نتیجے میں سیدنا عمر بن الخطاب 13 رمضان 15 ہجری کو یروشلم پہنچے۔ اس سے قبل آپ نے شہر سے کچھ فاصلے پر عیسائیوں کے بڑوں سے صلح کی اور انہیں امان دے دی۔

سیدنا عمر کی یروشلم کی عیسائی عوام کو دی گئی امان دورِ جدید کے انسانی حقوق کے چارٹر سے ہم آہنگ ہے۔ آپ نے نہ صرف عیسائی عوام کو مذہبی آزادی دی بلکہ ہر حوالے سے امن و امان کی فضا قائم رکھنے کے لیے اہم فیصلے کیے۔

اس پوسٹ میں سیدنا عمر کی اس امان کا اردو اور انگریزی ترجمہ پڑھ سکتے ہیں۔
....

آج تیموری سلطنت کے تیسرے سلطان "الغ بیگ مرزا" کا یومِ شہادت ہے۔ الغ بیگ کو 10 رمضان 853ھ بمطابق 27 اکتوبر 1449ء کو ان کے...
28/02/2026

آج تیموری سلطنت کے تیسرے سلطان "الغ بیگ مرزا" کا یومِ شہادت ہے۔ الغ بیگ کو 10 رمضان 853ھ بمطابق 27 اکتوبر 1449ء کو ان کے اپنے باغی بیٹے نے قتل کروایا۔ الغ بیگ امیر تیمور کے پوتے تھے۔ الغ بیگ مرزا سلطان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑے ریاضی دان اور ماہرِ فلکیات بھی تھے۔ انہوں نے اجرامِ فلکی کی ماہیت اور ان کی گردش و رفتار جاننے کے لیے سمرقند میں ایک رصد گاہ بھی تعمیر کروائی۔

رصد گاہ ایک ایسی عمارت جہاں ریاضی دان اور ماہرینِ فلکیات و علمِ نجوم اجرامِ فلکی پر تحقیق کرتے ہیں
۔۔.

----(یومِ شہادتِ خواجہ نظام الملک طوسی)----سلجوقی سلطنت کے نامور وزیر اور عالمِ اسلام کے فلسفی سیاستدان خواجہ نظام الملک...
28/02/2026

----(یومِ شہادتِ خواجہ نظام الملک طوسی)----

سلجوقی سلطنت کے نامور وزیر اور عالمِ اسلام کے فلسفی سیاستدان

خواجہ نظام الملک 1018ء کو ایران کے شہر طوس میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام "ابو علی حسن ابن علی" تھا۔ ان کے والد پہلے "غزنوی سلطنت" اور پھر "سلجوقی سلطنت" کے ساتھ منسلک ہوئے۔ یہاں سلجوق سلطنت میں نظام الملک "داؤد چغری بیگ" (الپ ارسلان کے والد) کے قبیلے "کِنَک" میں قاضی و مشیر اور الپ ارسلان کے اتالیق مقرر ہوئے۔ 1063ء میں جب "سلطان طغرل" کی وفات کے بعد "الپ ارسلان" تخت نشین ہوئے تو نظام الملک سلطنت کے وزیر بنے۔ پھر جب 1072ء میں الپ ارسلان فوت ہوئے تو نظام الملک الپ ارسلان کے بیٹے "سلطان ملک شاہ اوّل" کے بھی وزیر مقرر ہوئے۔ نظام الملک کا شمار عالمِ اسلام کے ممتاز فلسفی سیاستدانوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے ملک شاہ اوّل کے دور میں فنِ حکمرانی پر ایکم مشہورِ زمانہ کتاب "سیاست نامہ" لکھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے پوری سلطنت میں اعلیٰ تعلیم کے لیے مدرسے تعمیر کروائے جو "مدرسہ نظامیہ" کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ علم و حکمت میں مہارت کے سوا نظام الملک بہترین جنگجو بھی تھے۔ ان کی شہادت "حسن بن صباح" کے گروہ "حشاشین" کے ایک حملے کے دوران 10 رمضان 485ھ بمطابق 14 اکتوبر 1092ء کو ہوئی جبکہ ان کی تدفین اصفہان میں ہوئی۔

۔۔۔۔۔

Address

Gali Fauji Zahoor Wali, Imtiaz Town
Lalian

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ilm Sarai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Ilm Sarai:

Share