11/03/2026
آج 21 رمضان کو سیدنا علی ابنِ ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ کا یومِ شہادت ہے۔ آپ پر 19 رمضان 40 ہجری کو مسجدِ کوفہ میں فجر کی نماز کے دوران "عبدالرحمٰن ابنِ ملجم خارجی" نے جنگِ نہروان کا بدلہ لینے کی نیت سے حملہ کیا۔ اس حملے کے تیسرے روز یعنی 21 رمضان کو آپ شہید ہو گئے۔ آپ کے جسمِ اطہر کی تدفین نجف میں ہوئی۔
حدیث کے مطابق سیدنا علیؓ کا قاتل سب سے زیادہ بد بخت انسان
حضرت عمار بن یاسرؓ فرماتے ہیں کہ "غزوۂ ذی العشیرۃ ‘‘ کے موقع پر ایک بار رسول اللہؐ نے ان سے اور سیدنا علیؓ سے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ان دو آدمیوں کی خبر نہ دوں جو سب سے زیادہ بدبخت ہیں؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہؐ ! آپؐ نے فرمایا: "پہلا شخص اُحیمِر قوم ثمود سے تھا جس نے حضرت صالح ؑ کی اونٹنی کو نا حق ذبح کیا۔ اور دوسرا بدبخت وہ شخص ہے جو علیؓ پر حملہ کرے گا حتیٰ کہ ان کے سر کے خون سے ان کی داڑھی سرخ ہو جائے گی۔"
مستدرک للحاکم، 4679
جبکہ اس کے علاوہ ذیل میں سیدنا علی کی شان میں تین سب سے معتبر متفق علیہ احادیث درج ہیں۔
"متفق علیہ اس حدیث کو کہتے ہیں جسے امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ دونوں نے نقل کیا ہو۔"
ان تینوں احادیث کے راوی سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللّٰہ عنہ ہیں۔
حدیث-1
"اے علی! کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے حضرت ہارون علیہ السلام تھے۔"
---(صحیح بخاری۔۔ حدیث۔ 3706)---
حدیث-2
رسول اللہؐ غزوہ تبوک کے لیے تشریف لے گئے تو حضرت علیؓ کو مدینہ میں اپنا نائب بنایا۔ علیؓ نے عرض کی کہ آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑے جا رہے ہیں؟ نبی کریمؐ نے فرمایا کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ "میرے لیے تم ایسے ہو جیسے موسیٰ کے لیے ہارون تھے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔"
---(صحیح بخاری۔۔ حدیث۔ 4416)---
حدیث-3
"اے علی! تمھارا میرے ساتھ وہی مقام ہے جو ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھا مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔"
---(صحیح مسلم۔۔ حدیث۔ 6217)---