LSO BAWAR LORALAi. باور ایل ایس او

LSO BAWAR LORALAi. باور ایل ایس او social work

20/12/2025

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

میں یہ تحریر انتہائی مجبوری، کرب اور امید کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔
میں بھی لورالائی کا رہائشی ہوں، اسی مٹی میں پیدا ہوا، اسی شناخت کے ساتھ جانا جاتا ہوں، مگر میرا مسلسل کاروبار اور روزگار آبا و اجداد کے زمانے سے سندھ میں ہے۔ میں آج جس کرب سے گزر رہا ہوں، وہ شاید الفاظ میں مکمل بیان نہ ہو سکے، لیکن پھر بھی یہ فریاد آپ سب کے سامنے رکھ رہا ہوں۔

میرے اوپر لورالائی کے ایک باشندے نے جھوٹا اور بے بنیاد ایف آئی آر درج کروایا ہے، جو لورالائی سٹی تھانہ میں قائم ہے۔ میں اللہ کو حاضر و ناظر جان کر پورے یقین سے کہتا ہوں کہ جس وقت وہ واقعہ پیش آیا، میں اس وقت وہاں موجود ہی نہیں تھا۔ اس بات کے واضح اور ٹھوس ثبوت میرے پاس موجود ہیں۔ اگر میں گناہگار ہوتا تو کبھی خود جا کر پولیس کے سامنے پیش نہ ہوتا، ضمانت کرواتا اور قانون کا سامنا نہ کرتا۔

اس مقدمے میں ہم نو افراد نامزد کیے گئے ہیں، جن میں چار معلوم اور پانچ نامعلوم ہیں۔ ان چار معلوم افراد کی ضمانت منظور ہو چکی ہے۔ ان میں سے چارمیرےساتھ ہر پیشی پر لورالائی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں حاضر ہوتے ہیں، جبکہ میں نامعلوم افراد کی فہرست میں شامل ہوں، اس کے باوجود میں نے کبھی قانون سے فرار اختیار نہیں کیا۔

اگست سے لے کر اب تک میں ہر پیشی پر سندھ سے لورالائی جاتا رہا۔ حالانکہ یہ سفر میرے لیے کسی عذاب سے کم نہیں۔ میں جیکب آباد اور جعفرآباد کے وسطی علاقے میں رہائش پذیر ہوں۔
اگر مچھ بولان کے راستے سے آؤں تو وہ راستہ اکثر خراب اور بند رہتا ہے، سیکیورٹی خدشات الگ ہیں، بی ایل اے اور فتنہ الخوارج کا خطرہ چوبیس گھنٹے موجود رہتا ہے۔
اگر کشمور کے راستے سے آنے کی کوشش کروں تو کندھ کوٹ، کشمور اور کچے کے ڈاکوؤں کا شدید خطرہ لاحق رہتا ہے۔ اللہ کے کرم سے ایک مرتبہ میں اغوا ہونے سے بال بال بچا ہوں، جس کا تصور آج بھی بدن کو لرزا دیتا ہے۔

اس سب کے باوجود میں قانون کی خاطر، عدالت کے احترام میں، پیشیوں پر حاضر ہوتا رہا۔
مگر اب صورتِ حال مزید سنگین ہو چکی ہے۔ ڈیڑھ مہینہ ہو گیا ہے کہ میری فیملی لورالائی سے سندھ منتقل ہو چکی ہے۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، اور سندھ میں میرے سوا گھر کا کوئی مرد نہیں۔ میرے بچے اردو تک نہیں سمجھتے، قبائلی ماحول کی خواتین ہیں، پولیس سے خوفزدہ رہتی ہیں۔
مجھے ہر وقت یہ اندیشہ لاحق رہتا ہے کہ کہیں پولیس، تمام تر قانونی دستاویزات کے باوجود، انہیں انجانے میں افغانی سمجھ کر تنگ نہ کرے یا خدانخواستہ کوئی بڑا ظلم نہ ہو جائے۔

ہم نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے دفعہ 540-A کے تحت درخواست لورالائی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں 12 منسلک ثبوتوں کے ساتھ جمع کروائی، مگر بدقسمتی سے وہ درخواست مسترد کر دی گئی۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ میں ہر پیشی پر لورالائی آنا عملی طور پر ممکن نہیں، اور یہ مسئلہ صرف میرا نہیں بلکہ میرے معصوم بچوں اور بے سہارا خاندان کی زندگی کا سوال بن چکا ہے۔

مزید یہ کہ جب ستمبر میں ہمارا مقدمہ شروع ہوا تو اسی وقت جوڈیشل مجسٹریٹ صاحب کا تبادلہ ہو گیا۔ ایک مہینہ گزرنے کے بعد نیا جج تعینات ہوا، پہلی پیشی ہوئی، پھر جوڈیشل مجسٹریٹ صاحب ایک مہینے کی چھٹی پر چلے گئے۔ اس تمام عرصے میں بھی میں سندھ سے لورالائی صرف حاضری لگانے جاتا رہا، اپنی جان خطرے میں ڈال کر۔

دوستو!
23 دسمبر 2025 کو لورالائی عدالت میں میری پیشی مقرر ہے۔

میں جنوبی پشتونخوا، بالخصوص لورالائی کے تمام سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، باخبر اور باشعور دوستوں سے پرزور اپیل کرتا ہوں کہ میری اس فریاد کو اتنا شئیر کریں کہ یہ آواز:

لورالائی جوڈیشل مجسٹریٹ صاحب

سیشن جج لورالائی

ایم پی اے لورالائی

کمشنر لورالائی

اور بالآخر چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جناب کامران خان ملاخیل صاحب

تک پہنچ جائے۔

میں کوئی رعایت نہیں مانگ رہا، صرف انصاف اور سہولت کی درخواست کر رہا ہوں، تاکہ ایک بے گناہ شخص، اس کے معصوم بچے اور ایک کمزور خاندان مزید اذیت سے بچ سکے۔

اگر کسی کو میری بات پر یقین نہیں آتا تو میرا سی ڈی آر نکالا جائے:
📞 0333-3304769
حقیقت خود بول اٹھے گی۔

آخر میں، آپ سب سے ہاتھ جوڑ کر گزارش ہے
براہِ کرم اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔
میری آواز بنیں، کیونکہ آج میں خود بہت کمزور ہوں۔

اللہ آپ سب کو جزائے خیر دے۔

— ایک مجبور، مگر قانون پر یقین رکھنے والا شہری
طالب جان عرف خورشید یار ملاخیل ولد حاجی نور محمد ملاخیل مستقل ساکن اغبرگ روڈ کنوبی ملاخیل آباد لورالائی
موجودہ سکونت جعفرآباد جیکب آباد ۔ سندھ بلوچستان


















#انصاف






#لورالائی










20/12/2025
06/12/2025
08/11/2025

په ژوره خواشني سره مو خبر ترلاسه کړ

چي موژ دښوونځي ښوونکى قاري عبدالرحيم يا قاري ملاآغا وطن ته واپس چمن سيمه کي په حق رسيدلى دى
اِنّالَلّٰهِ وَاِنًااِلَیّه رَاجِعُون
هغه وخت دا۔ پيشه رامنځ ته شوه کله چي پاک افغان چمن دروازه مازديګر وخت جمي شريفي شپه
6/11/2025
کله چي يادي دروازه کي جنګ اوازه خبر خپوره شوه هرچا د ځان ساتلو لپاره ځوندي ځايو ته ځانونه رسول په همدي رش مکش کي زړه حمله Hart attack له کبله وطن ته په هجرت کي په لاره په حق رسيدلى وو
قاري ملا آغا دوه ميرمنو خاوند وو
خو تر اوسه يي کوم اولاد نه وو
قاري صاحب بي شميره زده کووني روزلي دي
ټولو زده کوونکو هيله کوو قاري صاحب پسي د مغفرت لپاره دعاګاني وکړي

08/11/2025
08/11/2025

Address

Bawar Loralai
Loralai
0824

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when LSO BAWAR LORALAi. باور ایل ایس او posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category