07/05/2026
#اہم اورمفیدملاقات
آج ( ) کے صوبائی سربراہ جناب ولید مہدی صاحب سے ان کے دفتر، واقع چمن ہاؤسنگ اسکیم میں ایک اہم اور مفید ملاقات ہوئی۔
ملاقات کے دوران انہوں نے گفتگو کا آغاز انگریزی زبان میں کیا، جبکہ میں نے عربی زبان میں جواب دینا شروع کیا، جس پر انہوں نے خوشگوار حیرت کا اظہار کرتے ہوئے میری عربی گفتگو کو سراہا۔
اس موقع پر میں نے انہیں (EDWO) کے مقاصد، کارکردگی اور مختلف منصوبوں سے آگاہ کیا، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
1۔ ریذیڈنشل ایجوکیشنل کمپلیکس:
یہ ایک کثیر المقاصد تعلیمی ادارہ ہے جو گزشتہ 30 سالوں سے بلوچستان بھر خصوصاً کنوبی اغبرگ کے بے سہارا، غریب اور یتیم بچوں کو جدید سائنسی تعلیم (نرسری تا میٹرک)، فاروقی ریذیڈنشل ہائی اسکول (انگلش میڈیم)، دینی تعلیم اور جدید کمپیوٹر تعلیم فراہم کر رہا ہے۔
اس وقت اس ادارے میں تقریباً 460 # طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں۔
2۔ بلوچستان دارالایتام (یتیم بچوں کا اپنا گھر):
اس ادارے کا نصب العین بلوچستان بھر کے یتیم اور بے سہارا بچوں کو تباہی سے بچانا اور انہیں زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنا ہے۔
یہاں 100 سے زائد یتیم اور انتہائی غریب بچوں کو جدید سائنسی تعلیم، دینی تعلیم، کمپیوٹر تعلیم، خوراک، رہائش، علاج، یونیفارم، کتابیں اور کھیل کی سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔
3۔ جامعہ اسلامیہ فاروقیہ:
یہ ادارہ طلباء کو مکمل اسلامی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید عصری تعلیم بھی فراہم کر رہا ہے۔
4۔ قریش نیچرل میڈیسن کلینک:
یہ کلینک طلباء اور مقامی عوام کو مفت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔
5۔ لیلیٰ ترین ڈیجیٹل لائبریری:
اس لائبریری کے ذریعے طلباء کو جدید کمپیوٹر تعلیم، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت (AI) کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
6۔ زیتون ترقیاتی فارم (فروغِ زیتون پروگرام):
اس پروگرام کا مقصد بلوچستان میں زیتون کی کاشت کو فروغ دے کر غربت میں کمی لانا اور عوام کے معاشی حالات کو بہتر بنانا ہے۔
تنظیم نے 30 ایکڑ زمین پر تقریباً 3,500 درختوں پر مشتمل باغ زیتون قائم کیا ہے۔
7۔ زیتون کے پودوں کی تقسیم:
تنظیم نے مختلف اداروں خصوصاً کے تعاون سے بلوچستان بھر میں 26,000 زیتون کے پودے مستحق افراد میں مفت جبکہ اہلِ ثروت کو رعایتی نرخوں پر فراہم کیے۔
8۔ شجرکاری (فارسٹ پروگرام):
تنظیم نے محکمہ جنگلات بلوچستان کے تعاون سے باغ زیتون کے کناروں پر تقریباً 9,000 جنگلی درخت (جن میں پھلائی/پہلوسہ، توت، انار، شِنہ وغیرہ شامل ہیں) لگائے ہیں، جس کا مقصد ماحولیاتی بہتری اور سرسبزی کا فروغ ہے۔
آخر میں، جناب ولید مہدی صاحب نے گفتگو کو بغور سنا اور تنظیم کے تعلیمی، فلاحی، ترقیاتی اور ماحولیاتی منصوبوں کو سراہتے ہوئے خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے وعدہ کیا کہ ان شاء اللہ وہ اپنی اولین فرصت میں تنظیم کے قائم کردہ اداروں اور منصوبوں کا خود دورہ کریں گے، اور کے پلیٹ فارم سے تعلیمی، زرعی، ماحولیاتی، لائیو اسٹاک، ایریگیشن اور خواتین کے معاشی حالات کی بہتری کے منصوبوں میں بھرپور تعاون فراہم کریں گے۔
ملاقات کے اختتام پر میں نے انہیں حرمین شریفین کا تحفہ (کھجور، جائے نماز، تسبیح) پیش کیا۔ بعد ازاں انہوں نے نہایت گرمجوشی کے ساتھ کے دفاتر کا دورہ کروایا اور پرتپاک انداز میں رخصت کیا۔
اس ملاقات میں میرے ساتھ جناب عطا ناصر بھی شریک تھے۔