26/08/2026
یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انتظامی سہولت کے نام پر تاریخی قوموں کی شناخت چھیننے کی کوشش دراصل سیاسی بے دخلی اور تہذیبی محرومی کی ایک شکل ہے۔ جن قوموں نے صدیوں میں اپنی زبان، ثقافت، تاریخ اور سیاسی شعور تعمیر کیا ہے، انہیں محض چند نئے اضلاع یا انتظامی یونٹس کے نام پر اپنی شناخت سے دستبردار ہونے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
ہمیں اپنی شناخت پر شرمندگی نہیں، فخر ہے؛ اپنی تاریخ پر معذرت نہیں، اعتزاز ہے؛ اور اپنے ہیروز سے لاتعلقی نہیں، وابستگی ہے۔
خوشحال خان خٹک کا یہ تاریخی مصرع آج بھی ہمارے سیاسی شعور کو جھنجھوڑتا ہے:
«بې له تورې خلاصون نشته په بل کار»
مگر یہاں تلوار سے مراد تشدد نہیں؛ تلوار سے مراد وہ عزم، مزاحمت، غیرت اور حوصلہ ہے جو کسی قوم کو اپنی آزادی، عزت اور شناخت کے دفاع کے لیے درکار ہوتا ہے۔
جب کسی قوم کے حقوق، شناخت اور خودداری پر مسلسل حملہ کیا جائے تو پھر اس کے اندر مزاحمت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ وہ مزاحمت بندوق کی نہیں، سیاسی شعور، جمہوری جدوجہد، عوامی طاقت اور آئینی مزاحمت کی ہوتی ہے۔
ہم نے یہ منظر کالاباغ ڈیم کے معاملے میں دیکھا۔ جب لوگوں کو یہ محسوس ہوا کہ ان کے پانی، زمین اور مستقبل کے بارے میں ان کی مرضی کو نظرانداز کیا جا رہا ہے تو ایک ایسا عوامی ردِعمل سامنے آیا جسے طاقت کے زور پر خاموش نہیں کیا جا سکا۔
آج سندھ میں بھی لوگ اپنے پانی، وسائل، صوبائی حقوق اور شناخت کے سوال پر اسی احساسِ محرومی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اسے ضد یا جذباتیت کہہ کر مسترد کرنا مسئلے کو سمجھنے سے انکار ہے۔ جب محرومی مسلسل ہو جائے تو وہ غصے میں بدلتی ہے، اور جب غصہ سیاسی شعور اختیار کر لے تو مزاحمت جنم لیتی ہے۔
اس لیے صوبوں کو توڑنے کی بحث کو محض انتظامی اصلاحات کے خوبصورت الفاظ میں لپیٹنے کی کوشش بند ہونی چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ فیصلہ کون کرے گا؟ عوام یا طاقت کے مراکز؟
اگر کسی قوم کی مرضی کے بغیر اس کے جغرافیے کو بدلا جائے، اس کی زبان کو غیر اہم بنایا جائے، اس کی تاریخ کو تقسیم کیا جائے اور اس کے ہیروز کو اجتماعی حافظے سے نکالنے کی کوشش کی جائے تو یہ انتظامی اصلاح نہیں بلکہ شناخت پر حملہ ہے۔
ہم ایسی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہیں جو تاریخی قوموں کو ان کی شناخت سے محروم کرنے، صوبائی خودمختاری کو کمزور کرنے اور عوام کے حقِ فیصلہ کو نظرانداز کرنے کی طرف لے جائے۔
صوبے کسی حاکم کی جاگیر نہیں کہ جب چاہا نقشے پر لکیر کھینچ دی اور جب چاہا قوموں کی شناخت بدل دی۔
یہ سرزمینیں تاریخ رکھتی ہیں، یہ قومیں شناخت رکھتی ہیں، ان کی زبانیں ہیں، ان کے ہیروز ہیں، ان کی قربانیاں ہیں اور ان کا اجتماعی حافظہ ہے۔
اور سب سے بڑھ کر—ان قوموں کو اپنی عزتِ نفس عزیز ہے۔
ہم انتظامی سہولت کے نام پر تاریخی شناخت کی قربانی نہیں دیں گے، اور ترقی کے نام پر اپنی خودداری کا سودا نہیں کریں گے۔
جو لوگ نقشے بدلنے کا اختیار اپنے ہاتھ میں سمجھتے ہیں، انہیں یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ نقشے طاقت سے بدلے جا سکتے ہیں، لیکن قوموں کی شناخت طاقت کے زور پر نہیں مٹائی جا سکتی۔