15/08/2026
"علم و عرفان❤️
"اکاؤنٹ ہولڈرز کو انفارمیشن دینا مقصود تھی اور عام فہم گفتگو کرنا مقصد تھا مگر یہ نام نہاد اسلامی جہلاء جو سود سود کی رٹ لگا دیتے ہیں اور کچھ ایسے بینکر جو نمبروں سے بات کرتے ہیں ان کو سمجھانے کی خاطر اس تحریر کو لکھ رہا ہوں ورنہ مقصد فگر یا علم جھاڑنا ہر گز نہ تھا مگر اب مجبوری میں یہ اسلامی مفکروں کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ اسلام اور سود کے نام پر غریب کا کتنا استحصال کر رہے ہیں
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ پاکستان غریب ملک ہے، وسائل کم ہیں۔ لیکن سٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ اعداد و شمار کچھ اور کہانی سناتے ہیں۔
جون 2026 کی کلوزنگ پر پاکستان کے تمام بینکوں میں کل ڈپازٹس 40.886 ٹریلین روپے تک پہنچ چکے ہیں، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 15.2 فیصد زیادہ ہے۔
اس میں سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس کا بہت بڑا حصہ کرنٹ اکاؤنٹ میں پڑا ہے — یعنی ایسا پیسہ جس پر بینک عوام کو ایک روپے کا منافع بھی نہیں دیتے۔
کرنٹ اکاؤنٹ کا اصل حجم کتنا ہے؟
عارف حبیب لمیٹڈ کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹس کا شیئر کل ڈپازٹس کا 41 فیصد ہو گیا ہے، جو 2024 میں 36 فیصد تھا۔
2025 کے آخر پر صرف کرنٹ اکاؤنٹ ڈپازٹس 16.3 ٹریلین روپے تھے، جس میں ایک سال میں 4.7 ٹریلین کا اضافہ ہوا۔
اگر ہم یہی 41 فیصد کا تناسب جون 2026 کے 40.886 ٹریلین پر لگائیں:
40.886 ٹریلین × 41% = تقریباً 16.76 ٹریلین روپے
یعنی 16 لاکھ 76 ہزار کروڑ روپے ایسے اکاؤنٹس میں پڑے ہیں جن پر بینک کوئی منافع نہیں دیتے، لیکن اسی پیسے سے بینک خود اربوں روپے کماتے ہیں۔
اس پر منافع کتنا بنتا ہے؟
اس وقت سٹیٹ بینک کی پالیسی ریٹ 11.50 فیصد ہے۔ پاکستان میں سیونگ اکاؤنٹ پر کم از کم منافع (MDR) پالیسی ریٹ مائنس 1.5 فیصد ہوتا تھا، یعنی تقریباً **10 فیصد**۔ اب بھی انفرادی کھاتہ داروں کے لیے یہی فارمولا لاگو ہے۔
اگر یہی 16.76 ٹریلین روپے کرنٹ کی بجائے سیونگ ریٹ پر ہوتے تو:
16.76 ٹریلین × 10% = 1.676 ٹریلین روپے سالانہ
یعنی 1 کھرب 67 ارب 60 کروڑ روپے — صرف ایک سال کا وہ منافع جو بینک اس بلا سود رقم سے کما رہے ہیں۔
یہ رقم کتنی بڑی ہے؟ اس کا اندازہ لگائیں:
یہ پاکستان کے ایک سال کے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ سے 3 گنا زیادہ ہے۔
اگر یہ 1.67 ٹریلین روپے عوام خود غریبوں کی فلاح پر لگائے تو کیا ہو سکتا ہے؟
یہاں ہم ایک اسلامی اور فلاحی ماڈل فرض کرتے ہیں کہ بینک یا حکومت یہ طے کرے کہ کرنٹ اکاؤنٹ کے منافع کا ایک حصہ اجتماعی فلاحی فنڈ میں جائے، یا عوام خود اس تصور کو اپنائیں۔
ایک خاندان کے لیے ماہانہ راشن 15,000 روپے مان لیں۔ 1.67 ٹریلین سے 9 کروڑ خاندانوں کو ایک مہینے کا راشن یا 75 لاکھ خاندانوں کو پورے سال کا راشن دیا جا سکتا ہے۔مگر یہ سود ہے بھولا مرنا، خودکشی بھوک سے کرنا یا خود کو آگ لگا کر مر جانا ان کا ذاتی مسئلہ ہے
ایک سرکاری سکول کی سالانہ لاگت (اساتذہ، کتابیں، فرنیچر) تقریباً 50 لاکھ روپے ہے۔ اس رقم سے 3 لاکھ 35 ہزار نئے پرائمری سکول ایک سال چلائے جا سکتے ہیں، یا 50 لاکھ بچوں کو 5 سال تک مفت معیاری تعلیم دی جا سکتی ہے مگر نہیں یہ سود ہے اور اسلام اور پر تعلیم سے منع فرماتا ہے بلکہ اسلام فرماتا ہے کہ سیٹھوں کو سود دو
ایک دیہی علاقے میں 10 بیڈ کا فلاحی کلینک 2 کروڑ میں بنتا ہے۔ اس رقم سے 83,800 فلاحی کلینک پورے ملک میں بن سکتے ہیں — ہر یونین کونسل میں 3 کلینک مگر بے دوا دارو مرنا عین اسلامی اور توکل ہے اکاؤنٹ کرنٹ رکھنا عین دین اسلام ہے اللہ راضی ہوتا ہے لوگ بغیر دوا کے کر جائیں مگر اکاؤنٹ کرنٹ رکھنا ہے
500,000 روپے میں ایک چھوٹا پکا گھر بن سکتا ہے۔ اس رقم سے 33 لاکھ 50 ہزار گھرانوں کو چھت دی جا سکتی ہے۔ مگر چھت حرام کی ہو تو لعنت ایسی چھت پر جو سیونگ اکاؤنٹ سے کسی غریب کے سر پر آئے اسلامی خدا کہتا ہے کہ اکاؤنٹ کرنٹ رکھنا ہے
اگر ایک نوجوان کو ہنر سکھانے پر 1 لاکھ خرچ آئے تو 1 کروڑ 67 لاکھ نوجوانوں کو ہنر مند بنایا جا سکتا ہے — جو اگلے سال کمانے والے بن جائیں۔ مگر ان کی کمائی حرام کی ہو گی کیونکہ وہ سیونگ اکاؤنٹ کے پیسوں سے اپ نے پڑھائے ہوں گے کرنے اکاؤنٹ سے تو پڑھانا آپ نے ہے نہیں اور کرنٹ کا فایدہ دینا ہے بینکوں کو ، عوام پر وہ حرام ہو جاتا ہے اور آپ جہنم میں چلے جائیں گے
مسئلہ پیسے کی کمی نہیں، نیت اور نظام کی کمی ہے۔ 16.76 ٹریلین روپے ہم سب کا پیسہ بینکوں میں بغیر کسی نفع کے پڑا ہے، جس پر بینک 104 فیصد تک انویسٹمنٹ کر کے حکومت کو قرضہ دے کر منافع لے رہے ہیں۔
اگر اسی سرمائے کے منافع کو ہم "اجتماعی فلاحی صدقہ" کے طور پر سوچیں:
• زکوٰۃ کے نظام کو ڈیجیٹل اور شفاف بنایا جائے • ہر بینک اپنے کرنٹ ڈپازٹ پر حاصل شدہ آمدنی کا 2.5% فلاحی فنڈ میں ڈالے • محلے کی سطح پر لوگ خود فیصلہ کریں کہ یہ پیسہ کس غریب طالب علم، بیوہ یا مریض پر لگنا ہے
تو یقین کریں، ہمیں کسی بیرونی قرضے یا امداد کی ضرورت نہیں رہے گی۔
یہ مضمون کسی بینک کے خلاف نہیں، بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے کہ جو دولت خاموشی سے بینکوں میں پڑی ہے، اگر اس کا نفع ہی غریب تک پہنچ جائے تو پاکستان میں کوئی بھوکا، بے گھر اور بے علاج نہیں رہے گا۔
مگر مولا سے لیا اسلام اور مولوی کا دیا اسلام میں معرفت اور سمجھ کا فرق بہت واضع ہے، آپ نے ذکوت پر پڑھانے والے بچوں کو اور صفویہ دیکر دینی تعلیم دلوانے والوں کو جب فتویٰ دینے کا اختیار دیا تو ان کو نہ تو معیشت کی سمجھ ہے اور نہ ہی سماج سیوا کی رکھ اور نہ پالیسی میکر ہونے کی کوئی تعلیم تو وہ آپ کو سود سود سود پر لگا کر رکھیں گے اور اس مولوی پر لگا مسلمان اور پرافٹ کو فلاح کے بجائے سود سمجھ کر 30 خاندانوں کو دینے والا مسلمان کبھی ترقی اپنے ہاتھوں سے بھی نہیں کر سکتا
اپنا تمام پیسہ سیونگ اکاؤنٹس میں رکھیں اور تمام تر سود کو غریبوں پر لگا دیں بروز قیامت یہ کام آپ کو جہنم نہیں پہنچائے گا ، یہ جس احتیاط کی اوٹ میں ظلم کر رہے ہو اس احتیاط سے باز آ جاؤ تمھاری جہالت آمیز اسلام نے بڑا نقصان کیا ہے اول اسلام سمجھو جو فلاح ہے اور دانشمندی ھے!
"علم وعرفان❤️
عرفان بابر چودھری
نوٹ۔ مجھے غصہ تھا سو تھوڑا لہجہ تلخ ہے غصہ بھی ان چھوکروں پر جن کو بینک میں آئے تین سال ہوئے اور اب وہ فگرز ہمیں سمجھاتے ہیں!!