28/07/2026
جنرل سیکرٹری جم خانہ کلب منڈی بہاؤالدین
اک عمر بدن پر پتھر باندھ کر دنیاداری کے پرشور دریا میں اس حالت میں خود کو پار لگانے کی کوشش کی کہ جہاں کنارے پر ڈوبنے کے انتظار میں کتنے مہربان منتظر تھے۔کتنے کم ہمت دوست اور رشتہ دار تھے جن سے دعاؤں کا ایک لفظ بھی ادا نہ ہوا۔زندگی بھر ناحق اور ناکردہ گناہوں کی یا تو سزا بھگتی یا صفائیاں پیش کیں ۔۔کوئی بھی نہ تھا جو دلیل سے بات کرتا اور ہم معافی مانگ کے پیچھے ہٹ جاتے۔پھر صبر اور شکر نے اس آبلہ پائی کے سفر کو وہ منزل عطا کردی جہاں چاروں طرف نور ہی نور اور روشنی ہی روشنی تھی۔ہم سراہے جانے لگے ہم اپنائے جانے لگے۔عزیزان من وہاں سے یہاں تک کسی ایک جست سے نہی پہنچے ۔۔