Haq ki Awaz

Haq ki Awaz حق کی آواز بلند کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے

13/06/2026
13/06/2026

مدراس کے لئے بجٹ میں کتنا رقم مختص ہوا
یا صرف مدارس اور علماء کے لئے پہلے کی طرح صرف گالی اور گولی کافی ہے

اگر خیبرپختونخوا میں آج دوبارہ انتخابات ہو تو آپ کس جماعت کو ووٹ دیں گے؟اپنی رائے ضرور دیں ۔
12/06/2026

اگر خیبرپختونخوا میں آج دوبارہ انتخابات ہو تو آپ کس جماعت کو ووٹ دیں گے؟
اپنی رائے ضرور دیں ۔

گلگت بلتستان میں 2026 انتخابات کیلئے پولنگ کا عمل شروع ہو چکا ، کون جیتے گا ؟ اپنی رائے ضرور دیں
07/06/2026

گلگت بلتستان میں 2026 انتخابات کیلئے پولنگ کا عمل شروع ہو چکا ، کون جیتے گا ؟ اپنی رائے ضرور دیں

اگر آپ نے غلام دیکھنے ہوں تو یہ دیکھیں۔ایک جونیئر امریکی سفارت کار کے سامنے وطن عزیز کے حکمران کیسے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہ...
07/06/2026

اگر آپ نے غلام دیکھنے ہوں تو یہ دیکھیں۔
ایک جونیئر امریکی سفارت کار کے سامنے وطن عزیز کے حکمران کیسے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہیں۔ 🤦‍♀️

18 ذوالحج يوم شھادت داماد پيغمبر صلي الله عليه وسلم خليفہ سوم امير المؤمنين حضرت عثمان غني ذوالنورين رضي الله عنہ
04/06/2026

18 ذوالحج يوم شھادت داماد پيغمبر صلي الله عليه وسلم خليفہ سوم امير المؤمنين حضرت عثمان غني ذوالنورين رضي الله عنہ

03/06/2026

بلاول بھٹو نے گلگت کی عوام کو فی گھر 700 یونٹ اور مسلم لیگ ن نے 1000 یونٹ ماہانہ مفت دینے کا اعلان کردیا قبل ازیں دونوں پارٹیاں پاکستان کی عوام کو وعدہ کے مطابق بجلی مفت دے چُکی ہیں🚀🚀

رحمۃ للعالمین اتھارٹی کے سایہ تلے پنپتے فتنے(حصہ اول)پاکستان کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں مذہب، عقیدہ اور دینی شعائر ج...
02/06/2026

رحمۃ للعالمین اتھارٹی کے سایہ تلے پنپتے فتنے

(حصہ اول)

پاکستان کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں مذہب، عقیدہ اور دینی شعائر جیسے نہایت حساس موضوعات بھی ایسے افراد کی دست برد سے محفوظ نہیں رہے جن کا نہ تو علومِ دینیہ سے کوئی گہرا تعلق ہوتا ہے، نہ علمی روایت سے کوئی نسبت اور نہ ہی امتِ مسلمہ کے مسلمہ عقائد کے ساتھ کوئی حقیقی وابستگی۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایک ایسا ماحول تشکیل دیا گیا ہے جس میں ہر شخص خود کو مذہبی معاملات پر رائے زنی کا مجاز سمجھتا ہے، خواہ اس کے پاس اس میدان کی بنیادی اہلیت بھی موجود نہ ہو۔ مزید افسوس ناک امر یہ ہے کہ ایسے افراد کو باقاعدہ سرکاری، نیم سرکاری اور بین الاقوامی سطح پر سرپرستی، حوصلہ افزائی اور مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔

یہ سوال نہایت اہم ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو بعض مخصوص افراد کو اسلامی عقائد، ختمِ نبوت، تقدسِ رسالت اور دیگر حساس مذہبی موضوعات پر بلا خوف و تردد گفتگو کرنے کا حوصلہ دیتے ہیں؟ اگر اس سوال کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو ایسے حقائق سامنے آتے ہیں جو ہر صاحبِ شعور کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔ عصرِ حاضر میں ذرائع ابلاغ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، عالمی اداروں اور بین الاقوامی فنڈنگ کے پیچیدہ نیٹ ورک نے فکری و نظریاتی اثراندازی کی نئی راہیں ہموار کر دی ہیں۔ اب جنگیں عقائد، تہذیبوں اور نظریات کے میدان میں لڑی جا رہی ہیں۔

یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ مغربی دنیا کے بعض ادارے اور تنظیمیں مسلم معاشروں میں مذہبی تصورات کی تشکیلِ نو (Reconstruction) اور دینی حساسیتوں کو کمزور کرنے کے منصوبوں پر طویل عرصے سے کام کر رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے مختلف عنوانات اختیار کیے جاتے ہیں؛ کہیں "مذہبی آزادی" کا نعرہ بلند کیا جاتا ہے، کہیں "رواداری" کے نام پر مسلمہ عقائد کو مشکوک بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور کہیں "مکالمہ" اور "تنقیدی فکر" کی آڑ میں ایسے نظریات کو فروغ دیا جاتا ہے جو براہِ راست اسلامی تشخص اور امت کے اجماعی عقائد سے متصادم ہوتے ہیں۔

اس پورے عمل کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس کے لیے مقامی سطح پر ایسے افراد تیار کیے جاتے ہیں جو بظاہر مسلمان، دانشور، محقق یا سماجی کارکن دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کی فکری سمت اور ترجیحات رفتہ رفتہ انہی بین الاقوامی ایجنڈوں کی ترجمان بن جاتی ہیں۔ انہیں مختلف پروگراموں، تربیتی نشستوں، بیرونی دوروں، تحقیقی گرانٹس اور پرکشش اسکالرشپس کے ذریعے اس فکری دھارے کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ بعد ازاں انہی افراد کو تعلیمی اداروں، پالیسی ساز حلقوں، میڈیا پلیٹ فارمز اور ریاستی اداروں تک رسائی دلائی جاتی ہے تاکہ وہ معاشرے میں مطلوبہ بیانیے کو فروغ دے سکیں۔

پاکستان میں بھی متعدد بین الاقوامی ادارے اور تنظیمیں "انسانی حقوق"، "مذہبی آزادی" اور "شہری مساوات" جیسے خوشنما عنوانات کے تحت سرگرمِ عمل ہیں۔ ان میں سے بعض اداروں کی رپورٹس، سفارشات اور عملی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے تو واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ ان کی توجہ کا ایک مستقل مرکز مسئلۂ ختمِ نبوت کی حساسیت کو کم کرنا، قادیانی جماعت کے بارے میں عوامی رویوں میں تبدیلی پیدا کرنا اور اس حوالے سے موجود آئینی و قانونی اتفاقِ رائے کو متنازع بنانا ہے۔ یہ کام براہِ راست بھی کیا جاتا ہے اور بالواسطہ بھی؛ کبھی علمی مباحث کے نام پر، کبھی مذہبی ہم آہنگی کے عنوان سے اور کبھی آزادیِ اظہار کے پردے میں۔

تشویش ناک امر یہ ہے کہ اس فکری یلغار کے بعض نمائندے ہمارے قومی اداروں، جامعات، تحقیقی مراکز اور پالیسی ساز حلقوں تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ ان میں سے بعض افراد انتہائی معمولی مفادات، محدود مراعات یا وقتی شہرت کے عوض ایسے منصوبوں کا حصہ بن جاتے ہیں جن کے طویل المدت اثرات قومی نظریے اور مذہبی شناخت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام صرف نعروں اور خوشنما اصطلاحات سے متاثر ہونے کے بجائے ان فکری تحریکوں، مالی وسائل اور بین الاقوامی روابط کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لیں جو پس منظر میں کارفرما ہوتے ہیں۔

سوال یہ نہیں کہ اختلافِ رائے کا حق موجود ہے یا نہیں؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا مذہبی آزادی کے نام پر مسلمہ عقائد کو متنازع بنانے، ختمِ نبوت کے اجماعی تصور کو کمزور کرنے اور دینی حساسیتوں کو مشکوک بنانے کی کوششوں کو بھی صرف فکری تنوع قرار دیا جا سکتا ہے؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب تلاش کیے بغیر اس پورے منظرنامے کو سمجھنا ممکن نہیں۔

تحریر: ابو عاطف رحمانی

01/06/2026

موٹر سائیکل کا تیل 382
جہاز کا تیل 283

*لیکن غریبوں کا احساس اولین ترجیح*

یوسف جان اتمانزی نے منیر شاکر کے بیٹے، جو منکرِ حدیث، گستااااخِ پیغمبرِ اسلام ﷺ، دینِ اسلام اور شعائرِ اسلام کا استہزاء ...
31/05/2026

یوسف جان اتمانزی نے منیر شاکر کے بیٹے، جو منکرِ حدیث، گستااااخِ پیغمبرِ اسلام ﷺ، دینِ اسلام اور شعائرِ اسلام کا استہزاء کرنے والا گستاااخ شخص ہے، کا انٹرویو کیا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ اس انٹرویو میں بھی دینِ اسلام، احادیثِ پیغمبرِ اسلام ﷺ اور مقدس اسلامی شعائر کے خلاف نہایت خطرناک انداز میں زبان درازی کی گئی ہے،
جس سے کروڑوں مسلمانوں کے دل رنجیدہ اور دینی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

یوسف جان اتمانزی نے اپنے لاکھوں فالوورز تک اس انٹرویو کو پہنچا کر نہ صرف ایسے باطل اور کفرررری افکار کی تشہیر کی ہے بلکہ اپنی وسیع رسائی کو ایک ایسے مقصد کے لیے استعمال کیا ہے جس سے مسلمانوں میں شدید اضطراب اور بے چینی پیدا ہوئی ہے۔
یہ معاملہ کسی فرد یا خاندان کا نہیں بلکہ دینِ اسلام، احادیثِ رسول اللہ ﷺ، ناموسِ رسااالت ﷺ اور شعائرِ اسلام کے احترام کا معاملہ ہے۔

پوری پختون مسلمان قوم اس قابلِ مذمت اقدام کی بھرپور مذمت کرتی ہے اور یوسف جان اتمانزی سے پُرزور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ فوراً یہ انٹرویو تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ڈیلیٹ کرے، اپنے اس عمل پر اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کرے، اور پھر پوری پختون مسلمان قوم سے کھلے عام معافی مانگے۔

اگر ایسا نہ کیا گیا تو پختون مسلمان عوام میڈیا پر یوسف جان اتمانزی کے خلاف بھرپور احتجاج، بائیکاٹ اور عوامی ردِعمل کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ کیونکہ جب دینِ اسلام، احادیثِ نبوی ﷺ اور ناموسِ رسالت ﷺ کا معاملہ ہو تو مسلمان خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھ سکتا۔

ہم یوسف جان اتمانزی کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ اس حساس معاملے کی سنگینی کو سمجھے، مسلمانوں کے زخمی جذبات کا احساس کرے، اور مزید اشتعال اور نفرت پھیلانے کے بجائے فوری طور پر اس غلطی کا ازالہ کرے۔

اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو فتنوں سے محفوظ فرمائے اور دینِ حق کی حفاظت فرمائے
اخوکم
العبدالفقیر
محمدندیم المحمودی
خاکپائے علماء یوبند
خلیفہ مجازمحدث اعظم شیخ الحدیث حضرت مولانامحمدادریس شھیدرحمہ اللہ

Address

Mardan Khel
23200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Haq ki Awaz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category