18/12/2025
تھانہ داعدزئی ۔۔
اج جب میں تھانہ داوزئی گیا ۔۔۔
میں کافی دیر تک تھانہ کی عمارت سے باتیں کرتا رہا ۔
تھانہ کی عمارت نے مجھے ا جو کہانی سنائی اس کے مطابق ۔۔۔۔۔
انگریز دور کا بنا تھانہ داودزئی جسے مقامی زبان میں تھانہ نحقی بھی بولتے ہیں انگریز سامراج نے دسمبر 1883 میں اس کی بنیاد رکھی
تاریخ لکھتی ہے کہ یہ تھانہ اس وقت تعمیر کیا گیا جب پشاور میں ایک انگریز فوجی افسر کے گھر چوری ہوئی اور چور لوٹا سامان اسی راستے قریبی دریا کی طرف لے جا کر دریا کے راستے فرار ھوگئے جنہیں انگریز کبھی بھی نہ ڈھونڈ سکے ۔
بہ حثیئت صحافی تلاش اور تحقیق کے باوجود مجھے اس کہانی کا کوئی تاریخی حوالہ نہ مل سکا البتہ عقلی دلیل سے کچھ نہ کچھ سچائی ضرور لگتی ھے
ریکارڈ پر نظر ڈالی جائے تو اس تھانے میں انگریز ، ہندو ، سکھ اور مسلمان ایس ایچ اوز وقتا فوقتا تعینات ہوتے رہے جن میں تادم تحریر ایس ایچ او سلیم خان ہے ۔
ایس ایچ اوز بورڈ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بزاتٍ خود انسان کیلئے اور خصوصا ایس ایچ اوز حضرات کیلئے نشان عبرت ہے سوچنا یہ ہے کہ یہ لوگ کہاں گئے یونیفارم میں ملبوس یہ انگریز یہ سکھ یہ ھندو اور یہ مسلمان افسر جنہیں اج نہ کوئی جانتا ہے اور نہ کسی کو ان کے نام معلوم ہے ۔
انگریز نے صوبہ سرحد ( کے پی ) میں امن و امان کی خاطر ابادی کے لحاظ سے برصغیر کے دوسرے حصوں کیطرح یہاں بھی تھانہ جات بنوائے اور تھانہ اہلکاروں کی نقل و حرکت کیلئے گھوڑے اور گھوڑا گاڑیاں فراہم کئے ان گھوڑوں کی چارہ اور خوراک کیلئے سالانہ فنڈ مقرر کیا جو متعلقہ ایس ایچ او کو تھانہ کی دیگر اخراجات مثلا ریکارڈ کی چھپائی ، اہلکاروں کے یونیفارم ، اسلحہ مرمت اور تھانہ عمارت کی لپائی اور وائیٹ واش کیلئے ملتا رھا ۔
وقت نے کروٹ لی اٹھارویں صدی گزر گئی پھر انیسویں صدی بھی ابدی نیند سو گئی بیسویں صدی بھی اپنے انجام تک پہنچی یہاں تک کہ اکیسویں صدی نے بھی اپنے پچیس سال مکمل کئے ۔
لیکن جو ریفارمز پولیس میں ھونے چاھئیے تھے وہ نہیں ھوئے
چیک اینڈ بیلنس کا نظام مزید کمزور ہوا
بعض اضلاع کے ڈی پی اوز صاحبان تو تھانہ جات اور چوکیات میں استعمال ہونے والی سٹیشنری ، تھانہ کیلئے مختص عمارتی دیکھ بھال کا بجٹ اور دیگر چھوٹے موٹے مدوں میں انے والے بجٹ پر اپنا حق سمجھ کر ڈکار لیتے ہیں جبکہ جن اضلاع میں ایماندار ڈی پی اوز تعینات ہیں وھاں یہ کار خیر متعلقہ ڈی ایس پی اور ایس ایچ اوز سرانجام دیتے ہیں جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق سپاھیوں کو یونیفارمز اور بوٹ بھی بعض تھانہ جات میں نہیں ملتے جنہیں یہ بچارے اپنی تنخواھوں سے پورا کرتے ہیں
داودزئی پولیس سٹیشن کی یہ عمارت اج بھی پورے شان و شوکت سے کھڑی ہے جس نے ہزاروں سورجوں کو ڈوبتے دیکھا اور سینکڑوں ایماندار اور بے ایمان ایس ایچ اوز اور دیگر عملہ کو اتے جاتے دیکھا ہے ۔
اس تھانے کی حدودات میں تین پولیس چوکیاں اور ایک چیک پوسٹ قائم ہے جبکہ موبائل گاڑیوں کے نام پر تین موبائل گاڑیاں میسر ھیں
تھانہ کو میسر یہ سہولیات 56 دیہات میں امن و امان کنٹرول کرنے کیلئے دی گئی ہیں جہاں ہزاروں کی ابادی رہائش پزیر ھے ابادی اور حفاظت کی یہ ریاستی انکھ مچولی پورے ملک میں جاری ہے یہ صرف تھانہ دوادزئی میں نہیں ھے
ایک حالیہ سروے کے مطابق ملک میں ایک پولیس اہلکار 384 افراد کی حفاطت پر مامور ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب میں رخصت ھونے لگا تو تھانہ کی عمارت نے مجھے پیچھے سے اواز دی اور اہستہ سے بولی۔
ایک بات اور بھی سنتے جاو
جو بدحالی میں اج دیکھ رہی ھوں پہلے کبھی نہیں دیکھی۔
ہر صبح جب چالان کیلئے بارہ تیرہ چودہ بندے عدالت میں چالان کیلئے لے جائے جاتے ہیں تو ان کیلئے پرائیویٹ گاڑی لگانا پولیس کی مجبوری ھے پھر سارے ملزم اس پرائیویٹ گاڑی میں بٹھائے جاتے ہیں اور ایک سپاہی کسی بس کنڈیکٹر کی طرح ہر ملزم سے کرایہ لیتا ہے ۔۔(ڈیلی مردان نیوز)
مجھ میں مزید سننے کی طاقت نہیں تھی میں گاڑی میں بیٹھکر تھانہ دادزئی سے نکل ایا ۔