Dialy Mardan

Dialy Mardan Its all about the kpk new .. Visit and like this page, so that yo may be informed about all the Kpk۔

تھانہ داعدزئی ۔۔اج جب میں تھانہ داوزئی گیا ۔۔۔میں کافی دیر تک تھانہ کی عمارت سے باتیں کرتا رہا ۔تھانہ کی عمارت نے مجھے ا...
18/12/2025

تھانہ داعدزئی ۔۔

اج جب میں تھانہ داوزئی گیا ۔۔۔

میں کافی دیر تک تھانہ کی عمارت سے باتیں کرتا رہا ۔

تھانہ کی عمارت نے مجھے ا جو کہانی سنائی اس کے مطابق ۔۔۔۔۔

انگریز دور کا بنا تھانہ داودزئی جسے مقامی زبان میں تھانہ نحقی بھی بولتے ہیں انگریز سامراج نے دسمبر 1883 میں اس کی بنیاد رکھی

تاریخ لکھتی ہے کہ یہ تھانہ اس وقت تعمیر کیا گیا جب پشاور میں ایک انگریز فوجی افسر کے گھر چوری ہوئی اور چور لوٹا سامان اسی راستے قریبی دریا کی طرف لے جا کر دریا کے راستے فرار ھوگئے جنہیں انگریز کبھی بھی نہ ڈھونڈ سکے ۔
بہ حثیئت صحافی تلاش اور تحقیق کے باوجود مجھے اس کہانی کا کوئی تاریخی حوالہ نہ مل سکا البتہ عقلی دلیل سے کچھ نہ کچھ سچائی ضرور لگتی ھے

ریکارڈ پر نظر ڈالی جائے تو اس تھانے میں انگریز ، ہندو ، سکھ اور مسلمان ایس ایچ اوز وقتا فوقتا تعینات ہوتے رہے جن میں تادم تحریر ایس ایچ او سلیم خان ہے ۔
ایس ایچ اوز بورڈ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بزاتٍ خود انسان کیلئے اور خصوصا ایس ایچ اوز حضرات کیلئے نشان عبرت ہے سوچنا یہ ہے کہ یہ لوگ کہاں گئے یونیفارم میں ملبوس یہ انگریز یہ سکھ یہ ھندو اور یہ مسلمان افسر جنہیں اج نہ کوئی جانتا ہے اور نہ کسی کو ان کے نام معلوم ہے ۔

انگریز نے صوبہ سرحد ( کے پی ) میں امن و امان کی خاطر ابادی کے لحاظ سے برصغیر کے دوسرے حصوں کیطرح یہاں بھی تھانہ جات بنوائے اور تھانہ اہلکاروں کی نقل و حرکت کیلئے گھوڑے اور گھوڑا گاڑیاں فراہم کئے ان گھوڑوں کی چارہ اور خوراک کیلئے سالانہ فنڈ مقرر کیا جو متعلقہ ایس ایچ او کو تھانہ کی دیگر اخراجات مثلا ریکارڈ کی چھپائی ، اہلکاروں کے یونیفارم ، اسلحہ مرمت اور تھانہ عمارت کی لپائی اور وائیٹ واش کیلئے ملتا رھا ۔

وقت نے کروٹ لی اٹھارویں صدی گزر گئی پھر انیسویں صدی بھی ابدی نیند سو گئی بیسویں صدی بھی اپنے انجام تک پہنچی یہاں تک کہ اکیسویں صدی نے بھی اپنے پچیس سال مکمل کئے ۔
لیکن جو ریفارمز پولیس میں ھونے چاھئیے تھے وہ نہیں ھوئے
چیک اینڈ بیلنس کا نظام مزید کمزور ہوا
بعض اضلاع کے ڈی پی اوز صاحبان تو تھانہ جات اور چوکیات میں استعمال ہونے والی سٹیشنری ، تھانہ کیلئے مختص عمارتی دیکھ بھال کا بجٹ اور دیگر چھوٹے موٹے مدوں میں انے والے بجٹ پر اپنا حق سمجھ کر ڈکار لیتے ہیں جبکہ جن اضلاع میں ایماندار ڈی پی اوز تعینات ہیں وھاں یہ کار خیر متعلقہ ڈی ایس پی اور ایس ایچ اوز سرانجام دیتے ہیں جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق سپاھیوں کو یونیفارمز اور بوٹ بھی بعض تھانہ جات میں نہیں ملتے جنہیں یہ بچارے اپنی تنخواھوں سے پورا کرتے ہیں

داودزئی پولیس سٹیشن کی یہ عمارت اج بھی پورے شان و شوکت سے کھڑی ہے جس نے ہزاروں سورجوں کو ڈوبتے دیکھا اور سینکڑوں ایماندار اور بے ایمان ایس ایچ اوز اور دیگر عملہ کو اتے جاتے دیکھا ہے ۔

اس تھانے کی حدودات میں تین پولیس چوکیاں اور ایک چیک پوسٹ قائم ہے جبکہ موبائل گاڑیوں کے نام پر تین موبائل گاڑیاں میسر ھیں
تھانہ کو میسر یہ سہولیات 56 دیہات میں امن و امان کنٹرول کرنے کیلئے دی گئی ہیں جہاں ہزاروں کی ابادی رہائش پزیر ھے ابادی اور حفاظت کی یہ ریاستی انکھ مچولی پورے ملک میں جاری ہے یہ صرف تھانہ دوادزئی میں نہیں ھے
ایک حالیہ سروے کے مطابق ملک میں ایک پولیس اہلکار 384 افراد کی حفاطت پر مامور ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب میں رخصت ھونے لگا تو تھانہ کی عمارت نے مجھے پیچھے سے اواز دی اور اہستہ سے بولی۔
ایک بات اور بھی سنتے جاو
جو بدحالی میں اج دیکھ رہی ھوں پہلے کبھی نہیں دیکھی۔

ہر صبح جب چالان کیلئے بارہ تیرہ چودہ بندے عدالت میں چالان کیلئے لے جائے جاتے ہیں تو ان کیلئے پرائیویٹ گاڑی لگانا پولیس کی مجبوری ھے پھر سارے ملزم اس پرائیویٹ گاڑی میں بٹھائے جاتے ہیں اور ایک سپاہی کسی بس کنڈیکٹر کی طرح ہر ملزم سے کرایہ لیتا ہے ۔۔(ڈیلی مردان نیوز)

مجھ میں مزید سننے کی طاقت نہیں تھی میں گاڑی میں بیٹھکر تھانہ دادزئی سے نکل ایا ۔

ہم اپنے غریب عوام کی خدمت کیلٸے ہر وقت تیار ہے۔ اور ان کے مساٸل کو اچھے طریقے سے حل کرنے کیلٸے پر عزم ہے۔
16/12/2025

ہم اپنے غریب عوام کی خدمت کیلٸے ہر وقت تیار ہے۔ اور ان کے مساٸل کو اچھے طریقے سے حل کرنے کیلٸے پر عزم ہے۔

15 دسمبر 2025 ازلوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا : 19 دسمبر صوبہ بھر کی سطح تحصیل کونسلز احتجاجی اجلاس و مظاہروں کا ...
16/12/2025

15 دسمبر 2025 از
لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا :

19 دسمبر صوبہ بھر کی سطح تحصیل کونسلز احتجاجی اجلاس و مظاہروں کا اعلان

23 دسمبر 2025 پارلیمنٹ ہاوس اسلام آباد کے سامنے پرامن احتجاج اور نیشنل پریس کلب میں میں پریس کانفرنس کرنے کا فیصلہ

5 جنوری 2026 کو صوبائی اسمبلی پشاور کے لیے احتجاجی دھرنے کا آغاز ہوگا لوکل کونسلز ایسوسی ایشن اعلامیہ جاری ...

پشاور(ڈیلی مردان)مقامی حکومتوں کے حل طلب مسائل اور مقامی حکومتوں کے موجودہ صورتحال پر لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کا مشاورتی اجلاس زیر صدارت صدر لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا مئیر مردان حمایت اللہ مایار منقعد ہوا

جس میں خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے مئیرز ، تحصیل ، ویلج نیبر ہوڈ کونسلز چئیرمینان ، ممبران و خواتین ممبران نے شرکت کی

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان ایسوسی ایشن تحصیل چئیرمین سرائے نورنگ لکی مروت ، مئیر سوات شاہد علی خان ، تحصیل چئیرمین دیر بالا رفیع اللہ خان ، کوارڈنیٹر ایسوسی ایشن انتظار علی خلیل ، تحصیل چئیرمین پشتخرہ ہارون صفت، زیشان غزنی خیل ، شفقت اللہ خان ،تحصیل چئیرمین ہمایون خان ڈی آئی خان، تحصیل ، تحصیل چئیرمین غلام حقانی ،تحصیل چئیرمین عادل خان ، چئیرمین لنڈی کوتل شاہ خالد ، تحصیل چئیرمین ٹل مفتی عمران اللہ ، تحصیل چئیرمین باجوڑ سید بادشاہ ، تحصیل چئیرمین جمرود حاجی عظمت آفریدی ، چئیرمین ارباب وصال ، چئیرمین عبداللہ بٹگرام ، چئیرمین نیک محمد ، چئیرمین شاہ فیصل ، چئیرمین خلیل الرحمان ، چئیرمین میاں محفوظ الرحمن ، چئیرمین صاحب خان ، چئیرمین شاہد خان آفریدی ،چئیرمین نور قدیم ، حمزہ خان ، چئیرمین طاہر زرین ، عبدالوحید ، ایوب قریشی ، شاکرہ گل سمیت متعدد بلدیاتی نمایندگان کا بلدیاتی مسائل پر بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پی ٹی آئی صوبائی حکومتوں کی عدم دلچسپی، ناروا ظلم کیوجہ سے گزشتہ پونے چار سال سے خیبرپختونخوا میں مقامی حکومتوں کا نظام مکمل مفلوج ہیں جس کیوجہ عوام کو گھر کی دہلیز پر سماجی و میونسپل خدمات کی فراہمی شدید متاثر ہورہی ہے اور عوام کا مقامی حکومتوں کے نظام سے یقین اٹھ رہا ہے

صدر لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا مئیر مردان حمایت اللہ مایار نے شرکاء کو مقامی حکومتوں کے عدالتی کیسز پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ بلدیاتی نمایندگان کے اختیارات و ترقیاتی فنڈز فراہمی کے حوالے سے ہمارے حق میں فیصلہ دے چکی ہے مگر صوبائی حکومت ان فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی نہیں بنارہی ہیں

پی ٹی آئی سابقہ حکومتوں خواہ وزیر اعلیٰ محمود خان کی حکومت تھی خواہ علی امین گھنڈاپور کی حکومت تھی نے مقامی حکومتوں کے مسائل حل کرنے بار بار وعدے کیے مگر کسی وعدے پر عمل پورا نہیں کیا

صوبائی حکومت اگر وفاق سے میرٹ اور انصاف کی بالادستی کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف خیبر پختونخوا کے 29 ہزار سے زیادہ منتخب نمایندوں کو کیساتھ ظلم با انصافی کیوں کررہی ہیں ؟

مئیر مردان حمایت اللہ مایار کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو 29 اکتوبر کو ملاقات کے لیے خط لکھ چکے ہیں مگر ابھی تک انکی طرف سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا اسی طرح وزیر بلدیات مینا خان آفریدی کو بھی ملاقات کے لیے خط لکھ چکے مگر ابھی تک ان کیطرف سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہوا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت مقامی حکومتوں کے مسائل کے حل میں سنجیدہ نہیں

طویل مشاورتی اجلاس کے بعد صدر لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا مئیر مردان حمایت اللہ مایار نے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ 19دسمبر 2025 کو خیبرپختونخوا کے تمام تحصیلوں میں احتجاجی اجلاس منقعد کرنے کیساتھ ساتھ پر امن احتجاجی مظاہرے کیے جائینگے اور ساتھ ہی 19 دسمبر کو خیبرپختونخوا کے تمام ویلج نیبر ہوڈ کونسلز دفاتر بند رہینگے۔

23 دسمبر 2025 کو پارلیمنٹ ہاوس اسلام آباد کے سامنے پرامن احتجاج اور نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کا انقعاد ہوگا

5 جنوری 2026 کو صوبائی اسمبلی پشاور کے سامنے بھرپور احتجاج بھی کیا جائیگا

صدر لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا نے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقاتوں اور احتجاج دھرنا انتظامات کے لیے کمیٹیوں کا اعلان بھی کیا جس کے مطابق رابطہ کمیٹی میں مئیر مردان حمایت اللہ مایار، مئیر پشاور زبیر علی ، ترجمان ایسوسی ایشن عزیز اللہ مروت، تحصیل چئیرمین ہمایون خان، تحصیل چئیرمین عادل خان انتظامات کمیٹی کے تحصیل چئیرمین پشتخرہ ہارون صفت، تحصیل چئیرمین دیر بالا رفیع اللہ، کوارڈنیٹر ایسوسی ایشن انتظار علی خلیل، تحصیل چئیرمین پبی غیور خٹک، چئیرمین ارباب وصال، چئیرمین حمزہ خان، چئیرمین عالمزیب، چئیرمین ایوب قریشی، ناصرہ عبادت، چئیرمین پرویز خان کا اعلان کیا گیا جب کے پریس کمیٹی کے لیے کوارڈنیٹر انتظار علی خلیل، شاہد خان آفریدی جمرود، خلیل الرحمن باجوڑ، ابرار لارہوتی کوہاٹ،تیمور کمال پبی، عبداللہ بٹگرام، شاکرہ گل پشاور، نور قدیم، ریاض الدین دیر بالا، عبدالبصیر مہمند کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہیں

اجلاس میں تمام موجود مئیرز تحصیل ویلج نیبر ہوڈ کونسلز چئیرمین و ممبران نے اس عہد کا اظہار کیا کہ لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کی قیادت میں مضبوط مستحکم بلدیاتی نظام کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔

پشاور(ڈیلی مردان نیوز)وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد۔ سہیل آفریدی کی زیر صدارت غیر معمولی اور ہنگامی پارلیمانی اجلاس!وزی...
20/11/2025

پشاور(ڈیلی مردان نیوز)وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد۔ سہیل آفریدی کی زیر صدارت غیر معمولی اور ہنگامی پارلیمانی اجلاس!

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ایک غیر معمولی، ہنگامی اور انتہائی اہم پارلیمانی اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسپیکر بابر سلیم سواتی، صوبائی صدر جنید اکبر خان، صوبائی جنرل سیکرٹری علی اصغر خان، صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی اور اراکین صوبائی اسمبلی نے بھرپور شرکت کی۔

اجلاس میں کل رات آڈیالہ جیل کے باہر پیش آنے والے افسوسناک، شرمناک اور ناقابلِ برداشت واقعات، ملک میں سیاسی ابتری، غیر آئینی 27ویں ترمیم اور دیگر نہایت سنگین امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ پارلیمانی کمیٹی نے ایک انتہائی سخت اور واضح موقف اپناتے ہوئے درج ذیل فیصلے کیے:

1. عمران خان صاحب کی تینوں بہنوں، صوبائی وزیر مینا خان، رکنِ قومی اسمبلی شاہد خٹک اور رکنِ صوبائی اسمبلی عبدالسلام پر ہونے والے ریاستی تشدد، حراسانی اور بہیمانہ رویے کی شدید ترین، غیر مبہم اور دوٹوک الفاظ میں مذمت کی گئی۔ یہ عمل مکمل طور پر سیاسی انتقام، آئینی انحراف اور ریاستی طاقت کے ناجائز استعمال کی کھلی مثال ہے، جس کی نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی حیثیت بھی صفر ہے۔

2. جمعہ کے روز خیبر پختونخوا کے ہر حلقے میں 27ویں آئینی ترمیم، وفاقی اور پنجاب حکومت کے غیر آئینی، انتقامی اور آمرانہ رویے کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ یہ احتجاج ایک واضح پیغام ہوگا کہ خیبر پختونخوا کے عوام اور ان کے مینڈیٹ کو نہ دبایا جا سکتا ہے اور نہ جھکایا جا سکتا ہے۔

3. صوبائی حکومت، وزراء یا اراکینِ اسمبلی کی تذلیل کسی بھی سطح پر، کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کی جائے گی۔ اگر ایسے اقدامات جاری رہے تو صوبہ مناسب آئینی و سیاسی ردعمل دینے کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے۔

4. وفاقی اور پنجاب حکومت کے مسلسل متعصبانہ، پرتشدد، اشتعال انگیز اور غیر آئینی اقدامات کو سخت ترین الفاظ میں مسترد کر دیا گیا۔ ایسے اقدامات وفاق کی اکائیوں کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچانے، سیاسی انتقام کو ادارہ جاتی شکل دینے اور صوبائی حقوق کو پامال کرنے کے مترادف ہیں۔

5. چیئرمین عمران خان صاحب کی بہنیں مکمل طور پر غیر سیاسی ہیں اور ان کے ساتھ روا رکھا جانے والا غیر انسانی، غیر اخلاقی اور جانبدارانہ سلوک انتہائی شرمناک، قابلِ نفرت اور ناقابلِ معافی ہے۔ خصوصاً ایسے صوبے میں جہاں دھاندلی کے ذریعے ایک غیر منتخب خاتون حکومت پر مسلط کی گئی ہے۔

6. صوبائی حکومت، وزراء، پارلیمنٹیرینز اور خیبر پختونخوا کی عوام اپنے قائد عمران خان، ان کی بہنوں اور اپنے تمام منتخب نمائندوں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑی ہیں، اور کسی بھی نوعیت کے دباؤ، دھمکی یا سیاسی بلیک میلنگ کے آگے سر جھکانا ناممکن ہے۔ مستقبل میں ایسے اقدامات کے خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

14/09/2025

شاہداقبال حاجی زائی ۔۔۔

پشاور تعلیمئ بورڈ ()

اصلاحات کے نام پر ناکام تجربات جاری ہیں

صوبائی حکومت کے پاس کوئی ماہر تعلیم نہیں کمشنر پشاور جیسے مصروف افسر کو چیئرمین بنا دیا تھا
نتیجہ یہی تو نکلنا تھا ۔

روم جل رہا تھا نہرو بانسری بجا رہا تھا
بورڈ محض چند صحافیوں اور چند مخبروں کے سہارے امتحانی سسٹم چلا رہا ہے کہ کب یہ لوگ اوٹ ھونے والا پیپر بھجوادیں ،تاکہ انتظامیہ پیپر پہ لگے خفیہ کوڈ کے زریعے اس ہال تک پہنچے ۔ بورڈ کے پاس اپنا کوئی مضبوط نظام نہیں ہے ۔
امتحان کے دوران ستر فیصد پیپرز اوٹ ہوتے رہے کنٹرولر اور ڈپٹی کنٹرولر کے کان پر جوں تک نہیں رینگی اگر کوئی انکار کرتا ہے تو ٹھوس ٹبوت اور ناقابل تردید شہادتیں دستیاب ہیں

ڈپٹی کنٹرولو کا موبائل امتحانات کے دوران بھی اف ہوتا ہے طلبا اورسپروائزری سٹاف امتحان کے دوران در در دھکے کھانے پہ مجبور ہوتے ہیں کوئی پرسان حال نہیں ۔

سیکریٹری پشاور بورڈ اور کنٹرولر امتحانات اس بات پہ بضد ہیں کہ 9.15 پر اوٹ ھونے والے ایم سی کیوز کے پیپرز میں بورڈ کی کوئی غلطی نہیں بلکہ وہ ان پیپرز کو اوٹ ہونا بھی نہیں کہتے میں ان کو اکیس توپوں کی سلامی پیش کرتا ہوں ۔عقل کے اندھوں پیپر اگر سپروائزری سٹاف سے اوٹ ہوتا ہے تو یہ بورڈ ہی کی زمہ داری ہے یہ سپروائزری سٹاف بورڈ ہی نے بیجھا ہوتا ہے۔

حیات اباد گرلز کالج کے پورے ہال کی طالبات بیالوجی پریکٹیکل میں فیل فریاد کریں تو کس سے کریں۔

امسال جماعت نہم و دہم کے امتحان جو چھ اضلاع میں ایک ساتھ 713 امتحانی ہالز میں منعقد ہوئے جس میں امتحان دینے والے دو لاکھ طلبا میں ایک معذور اور اندھی لڑکی نے ٹاپ کیا لیکن اس غریب لڑکی کو میڈل اور پوزیشن دینے کے بجائے طفل تسلیاں دیکر رخصت کیا گیا بورڈ نے اس حوالے کوئی نیوز تک شیئر نہیں کی ( اگر کی ہو تو کم از کم میری نظر سے نہیں گزری ) تاکہ کلیئرنس ہو ۔

بورڈ انتظامیہ کی نااھلی کی وجہ سے ایک نجی کالج کے طلبہ نے جی ٹی روڈ پر امتحانی حل شدہ پیپرز پھاڑ دئیے جبکہ ایک اور کالج کے طلبہ نے یونیورسٹی روڈ بلاک کیا اور بورڈ سستی پبلسٹی کے کرتب دکھاتا رہا ۔

پشاور کے ایک امتحانی ہال میں ایک ایسا شخص بھی سپروائزری سٹاف کی خود ساختہ اور جعلی ڈیوٹی نبھا رہا تھا جو سرے سے استاد ہی نہیں تھا

محتاط زرائع کے مطابق سترہ ہزار طلبا سال دوم کے امتحان میں پیپرز کی بازی ہار گئے کیا یہ سب کے سب نالائق، نکمے اور نااھل تھے ۔

بورڈ کے زیر انتظام انے والے تقریبا تمام پرائیویٹ سکولز سے امتحانی ہال یہ کہہ کر واپس لئے گئے کہ کلسٹر سسٹم رائج ہو رہا ہے
لیکن ورسک روڈ پر واقع پشاور ماڈل سکول بوائز 2 اور پشاور ماڈل سکول فار گرلز ورسک روڈ کو ان کے ہالز طشتری میں رکھکر پیش کئے گئے ۔ ہے کوئی مائی کا لعل جو صرف اتنا کہہ سکے کہ ٭ اخر اس لطف و کرم کا راز کیا ہے؟

دلہ زاک روڈ پر ایک گرلز ہال میں ایک پرائیویٹ سکول اینڈ کالج کی انتظامیہ نے خاتون ممتحن کو ہراساں کیا اور بلیک میلنگ کی حد تک پہنچے باس کی رپورٹنگ میں نے خود بورڈ کو کی ، بورڈ خاموش رہا۔

رنگ روڈ پر حدف گرلز کالج کی ممتحن کو دھمکیاں دی گئی بورڈ نے چپ سدھ لی ۔اسی ہال میں ایک خاتون انسپکٹر نے ایک بچی کی غیر اخلاقی تلاشی لی بچی روتی رہی بورڈ کو اطلاع دی گئی لیکن وہی مجرمانہ خاموشی ۔

بورڈ انتظامیہ ٹک ٹاک سٹارز بھی ہے بورڈ کا ایک سینئر اھلکار امتحانی ہالز میں اپنے جانے سے پہلے اپنا وڈیو پروڈیوسر کیمرہ مین جو کہ مقامی کالج میں مدرس بھی ہیں بیجھا کرتے رہے اس کے بعد صاب بہادر شانٍ بے نیازی سے ہال میں قدم رنجہ فرماتے وڈیو بنتی اور شام کو ٹک ٹاک پر اپ لوڈ ہوتی کوئی اتنا پوچھنے والا تو ہو کہ پوچھے ، صاب یہ اپ کی ڈیوٹی ہے تنخواہ ملتی ہے بنگلہ ملا ہے نوکر چاکر ہیں یہ اپ قوم پر احسان نہیں کر رہے ،مجھے نہیں پتہ ریاست اس پہ خاموش کیوں؟

کسی دوست کو اگر قانون کا پتہ ہو تو میری رہنمائی فرمائے کہ کیا انسپکشن ڈیوٹی کے فرائض بورڈ کا الیکٹریکل انجنئیر کرسکتا ہے یا بورڈ کا امام مسجد کر سکتا ہے یا امام مسجد کا بیٹا جو سرے سے استاد ہی نہ ہو ،کسی کو معلوم ہو تو مجھے ضرور بتائیے گا ۔

ری ٹوٹلنگ کے نام پر بورڈ میں پیر بابا کا مزار سجا ہے فی سبجیکٹ کا شکرانہ متعین ہے حاجت مند اتے ہیں کچکول میں شکرانہ ڈالتے ہیں مراد پانے کی توقع کرتے ہیں لیکن 95 فیصد حاجت مندوں کو Marks not improved کی تاویز دیکر رخصت کر دیا جاتا ہے
اے انصاف والو!
مارکس زیادہ ہو جایئں تو فیس لے لو اگر زیادہ نہ ہو تو کم از کم وہ فیس تو واپس کردو ۔ میں تو کہتا ہوں کہ ری ٹوٹلنگ کی یہ منڈی ہی بند ہونی چاہیئے۔
بس صاب!

کہاں تک لکھوں گا
کہاں تک سنوگے ؟

10/09/2025

تمام دوست و احباب سے گزارش ہے کہ یہ وڈیو ایک بار ضرور دیکھیں اگر پسند آئے تو آگے بھی شیئر کریں۔ ڈیلی مردان

07/09/2025

*مطلبی رشتے اور اصلی دوست*

انسانی زندگی کے سفر میں کئی چہرے سامنے اتے ہیں!!!
کچھ لمحاتی مسافر ہوتے ہیں جو صرف خوشحالی کے دنوں میں ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ جب جیب میں دولت ہو، قدموں کے نیچے گاڑی ہو اور اردگرد دنیاوی اسائشوں کا حصار ہو، تو ہر شخص حال احوال دریافت کرتا ہے، دوستی کے دعوے کرتا ہے؟ اور قربت جتاتا ہے۔

مگر جیسے ہی سہولتیں چھن جائیں، یہ سب رشتے ایسے غائب ہو جاتے ہیں جیسے کبھی وجود ہی نہ رکھتے ہوں۔
یہ دنیا کی کڑوی حقیقت ہے!!! کہ خوشی کے موقع پر ساتھ دینے والے، ازمائش کی گھڑی میں اکثر پرائے نکلتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جب انسان پر واضح ہو جاتا ہے کہ اصلی دوست کون ہے۔ وہ جو غم کے وقت کندھا دینے کو موجود رہے، وہ جو تنہائی میں اپ کا ہمسفر بنے!!!
اور وہ جو مشکل وقت میں خاموشی سے سہارا دے۔ ایسے دوست بہت کم ہوتے ہیں، مگر یہی وہ سرمایہ ہیں جو دولت اور اسائشوں سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے، کہ ہم دوستی کے انتخاب میں ہوشیاری برتیں۔ محض دنیاوی فائدے کے لیے قریب انے والے لوگوں کو پرکھیں اور اصل خلوص رکھنے والوں کی پہچان کریں۔ دولت اور رتبہ لمحاتی ہیں، مگر محبت اور اخلاص پر مبنی رشتے دائمی۔
یاد رکھیے؟

زندگی کی اصل رونق اور سکون انہی چند مخلص دوستوں سے وابستہ ہے، جو ہر حال میں ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ یہی رشتے وہ سایہ ہیں جو دھوپ کی شدت میں ٹھنڈک بخشتے ہیں۔ اور یہی وہ چراغ ہیں جو اندھیروں میں روشنی دیتے ہیں۔

07/09/2025

6 ستمبر یومِ دفاعِ پاکستان ایک عہد ایک جذبہ

6 ستمبر یہ کوئی معمولی تاریخ نہیں یہ صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی غیرت وقار استقلال اور قربانیوں کا عنوان ہے یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کے مادرِ وطن صرف زمین کے ایک ٹکڑے کا نام نہیں بلکہ یہ انمول قربانیوں کا وہ اثاثہ ہے جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا

ایک جاگتی قوم ایک تھمتی جنگ
1965 کی وہ خنک صبح تھی جب دشمن نے رات کی تاریکی میں بزدلانہ وار کرتے ہوئے لاہور پر حملہ کر دیا دشمن نے سمجھا کے وہ سوئی ہوئی قوم کو جاگنے سے پہلے روند ڈالے گا لیکن اسے اندازہ نہ تھا کہ یہ قوم اپنے لہو سے تاریخ رقم کرنا جانتی ہے۔

افواجِ پاکستان کے جاں نثار سپاہیوں نے نہ صرف دشمن کے خواب چکنا چور کیے بلکہ اسے ایسی شکست دی کے وہ دہائیوں تک اپنے زخم چاٹتا رہا
افواجِ پاکستان عزم حوصلہ اور قربانی کی داستاں
یومِ دفاع اُن جانباز سپاہیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے جنہوں نے وطن کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا میجر عزیز بھٹی شہید جیسے سپوتوں کی بہادری آج بھی دلوں کو گرماتی ہے انہوں نے محاذِ جنگ پر مسلسل چھ دن تک دشمن کے حملوں کو روکے رکھا اور آخرکار شہادت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہو گئے

یہ دن ہمیں جنرل موسٰی خان
ایئر مارشل نور خان اور
وائس ایڈمرل احسن کے زیرِ قیادت فوج فضائیہ اور بحریہ کی مثالی ہم آہنگی کی یاد دلاتا ہے وہ جنگ صرف میدان میں نہیں فضاؤں اور سمندروں میں بھی لڑی گئی

اس جنگ کی سب سے بڑی طاقت نہ صرف ہمارے سپاہی تھے بلکہ وہ عوام تھے جنہوں نے اپنے گھروں اپنی روزمرہ زندگی اور اپنی نیند کو قربان کر کے فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر یہ پیغام دیا کہ یہ جنگ صرف فوج کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے

ریڈیو پاکستان پر نشر ہونے والے ترانے فیض احمد فیض حبیب جالب اور صوفی تبسم جیسے شعراء کا کلام اور نورجہاں کی جنگی نغمات آج بھی ہمارے دلوں میں تازہ ہیں
> اے پُتر ہٹاں تے نئیں وکدے
رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو
یہ صرف نغمات نہیں یہ ایک جذبے کی بازگشت ہے جو ہر دل میں بیدار تھا
یومِ دفاع کا موجودہ تناظر ایک سبق ایک تجدیدِ عہد
ہر سال 6 ستمبر آتا ہے پر کیا ہم اس دن کی روح کو سمجھ پاتے ہیں آج ہمیں ضرورت ہے کے ہم صرف تقاریب پرچم کشائی یا نغمات تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنے اندر اس عزم کو زندہ کریں جو 1965 میں ہر پاکستانی کے دل میں موجزن تھا
ہمارے دشمن آج بھی مختلف روپ دھار کر ہماری خودمختاری ہماری یکجہتی اور ہماری ترقی کو چیلنج کر رہے ہیں کبھی معیشت کے محاذ پر کبھی داخلی خلفشار کے ذریعے اور کبھی نظریاتی یلغار کے ذریعے ہمیں یاد رکھنا ہو گا کے یومِ دفاع صرف ماضی کی فتح کا جشن نہیں بلکہ حال میں بیداری اور مستقبل کے لیے حکمتِ عملی بنانے کا دن بھی ہے
ایک قوم ایک مقدس فرض
یومِ دفاعِ پاکستان ہمیں صرف فتح کی داستان نہیں سناتا یہ ہمیں جگاتا ہے جھنجھوڑتا ہے اور پکار پکار کر کہتا ہے
> اے ارضِ وطن! ہم تیرے محافظ ہیں
آئیے اس دن کے موقع پر ہم سب یہ عہد کریں کے جس جذبے کے ساتھ ہمارے بزرگوں نے وطن کا دفاع کیا ہم بھی اُسی جذبے کو اپنی نسلوں میں منتقل کریں گے صرف بندوق نہیں قلم تعلیم شعور اتحاد اور قربانی کے جذبے سے ہم اپنے وطن کو ہر میدان میں سرخرو کریں گے
پاکستان زندہ باد پائندہ باد پاک فوج ذندہ باد

04/09/2025

افغانستان میں زلزلہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی۔۔۔۔ زرائع



قدرتی آفات انسان کی بے بسی کی وہ تصویر پیش کرتی ہیں جہاں جدید ٹیکنالوجی سیاسی قوتیں عسکری طاقتیں اور عالمی ادارے بھی لمحہ بھر کے لیے مفلوج ہو کر رہ جاتے ہیں گزشتہ روز افغانستان کے صوبے متاثرہ صوبے( کنڑ) اور( ننگرھار) میں آنے والا شدید زلزلہ ایسی ہی ایک المناک داستان رقم کر گیا جہاں زمین کی تھرتھراہٹ نے پل بھر میں ہنستے بستے گھرانے اجاڑ دیے اور سینکڑوں جانیں لقمۂ اجل بن گئیں ۔۔۔

اس زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر شدت
درج 6.8 ریکارڈ کی گئی جس کا مرکز زمین کی سطح سے محض چند کلومیٹر نیچے بتایا گیا ابتدائی اطلاعات کے مطابق 1411 افراد جاں بحق اور 3100 زخمی ہوئے جبکہ متعدد دیہات مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔
زمین پھٹی دیواریں گریں اور آسمان چیخ و پکار سے گونج اٹھا اس قدرتی آفت نے نہ صرف جسموں کو چورا چورا کیا بلکہ دلوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑا دی
ہر زلزلہ صرف ایک جغرافیائی یا موسمیاتی واقعہ نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک انسانی المیہ ہوتا ہے ۔
متاثرین میں زیادہ تر عورتیں بچے اور بزرگ شامل ہیں امدادی ٹیمیں فوری طور پر حرکت میں آئیں تاہم افغانستان میں طویل عرصے سے جاری شورش بنیادی ڈھانچے کی کمزوری اور طبی سہولیات کی عدم دستیابی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے

ریسکیو ورکرز کے مطابق ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں بھاری مشینری کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے زلزلے سے متاثرہ علاقوں تک رسائی محدود ہے کئی مقامات پر سڑکیں تباہ ہو چکی ہیں اور موبائل نیٹ ورک بھی معطل ہے جس سے متاثرین سے رابطہ ممکن نہیں رہا

ان کٹھن لمحات میں پاکستان کی جانب سے افغانستان کے ساتھ یکجہتی اور بھائی چارے کا مظاہرہ کیا گیا ہے خصوصاً پاکستان کے سرحدی اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے فوری ردعمل قابلِ ستائش ہے

خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں نے نہ صرف زبانی طور پر ہمدردی کا اظہار کیا بلکہ عملی امداد کی یقین دہانی بھی کرائی

خیبرپختونخوا و بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے ایک ہنگامی اجلاس میں کہا کے
> ہم اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ اس مشکل گھڑی میں کھڑے ہیں ہر ممکن طبی انسانی و فنی امداد فراہم کی جائے گی
اسی طرح خیبرپختونخواہ حکومت نے بھی ریسکیو ٹیمیں ایمبولینسز اور طبی سامان روانہ کرنے کا اعلان کیا ان اقدامات سے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ایک ہمدرد اور معاون ریاست کے طور پر شبیہ اجاگر ہوئی ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر اخوت اور محبت کے رشتے کو مزید تقویت ملی ہے

اس موقع پر عالمی برادری اقوامِ متحدہ ریڈ کراس اور دیگر انسانی فلاحی اداروں کو بھی افغانستان کی فوری مدد کرنی چاہیے بدقسمتی سے افغانستان کئی دہائیوں سے بدامنی غربت اور قدرتی آفات کی زد میں رہا ہے ایسے حالات میں عالمی طاقتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کے وہ انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت متاثرین کی مدد کریں

صحافت کو معاشرے کا آنکھ اور آئینہ سمجھا جاتا ہے اور ایسے مواقع پر میڈیا کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے پاکستانی میڈیا نے مجموعی طور پر ذمہ دارانہ صحافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف بروقت خبریں پہنچائیں بلکہ متاثرین کے لیے ہمدردی کے پیغامات اور امدادی اپیلیں بھی نشر کیں یہ بات باعثِ اطمینان ہے کے صحافت نے صرف خبر نہیں دی بلکہ ایک جذبہ ایک احساس ایک مشن کے طور پر اپنا کردار ادا کیا

ہر زلزلہ ایک آزمائش ہے نہ صرف اُن لوگوں کے لیے جو براہِ راست متاثر ہوتے ہیں بلکہ اُن کے لیے بھی جو محفوظ ہیں اس زلزلے نے ہمیں ایک بار پھر یہ یاد دلایا کے انسانیت کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونا ہی اصل انسانی تقاضا ہے پاکستان خصوصاً وفاقی و صوبائی حکومتوں کا بروقت ردعمل اس امر کا غماز ہے کے سرحدیں جسمانی ہو سکتی ہیں دلوں کے درمیان نہیں

یہ وقت ہے کے ہم نہ صرف امداد دیں بلکہ دعا بھی کریں کہ خالقِ کائنات اس آفت کے متاثرین کو صبر عطا فرمائے اور ہمیں اپنے بھائیوں کی مدد کا وسیلہ بنائے

Address

Mardan

Opening Hours

Monday 09:00 - 20:00
Tuesday 09:00 - 20:00
Wednesday 09:00 - 20:00
Thursday 09:00 - 21:00
Friday 09:00 - 21:00
Saturday 09:00 - 21:00
Sunday 09:00 - 21:00

Telephone

+49601666

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dialy Mardan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Dialy Mardan:

Share