09/10/2026
*تین بھائی، تین چراغ جو ایک ساتھ بجھ گئے*
*إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ*
یہ کوئی عام تصویر نہیں، یہ ایک عہد کی کہانی ہے۔ میرے والدِ محترم کے قریبی اور دیرینہ دوست، طورو کی مٹی کے تین قابلِ فخر سپوت:
*1۔ جناب صفدر خان صاحب*
*2۔ جناب انور خان صاحب*
*3۔ علی گوہر خان*
تینوں بھائی اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔
*کردار اور عہدہ:*
اللہ نے انہیں دنیاوی عزت بھی خوب دی تھی، تینوں اپنے محکموں میں اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز رہے، اپنا ایک نام اور مقام رکھتے تھے۔ مگر اتنے بڑے عہدوں کے باوجود غرور کو کبھی قریب بھی نہ آنے دیا۔ نہایت خاکسار، ملنسار، خوش طبع اور نیک سیرت انسان۔ ہر چھوٹے بڑے سے مسکرا کر ملنا ان کی پہچان تھی۔
*بھائیوں کی مثالی محبت:*
میں نے اپنی زندگی میں بھائیوں میں اتنی محبت کم دیکھی ہے۔ تینوں ایک جان تھے۔ خوشی ہو یا غم، ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ۔ گاؤں میں ان کی بھائیوں کی محبت کی مثال دی جاتی تھی۔
*ایک سال میں تین جنازے:*
اور پھر قدرت کا کرنا دیکھیں کہ جنہوں نے زندگی ایک ساتھ محبت میں گزاری، اللہ نے انہیں اپنے پاس بھی ایک ساتھ ہی بلا لیا۔ تقریباً ایک سال کے مختصر عرصے میں تینوں بھائی اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔
2024 میں علی گوہر خان صاحب اور انور خان صاحب، اور 18 فروری 2025 کو صفدر خان صاحب اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔لیکن ہم ان کے اولاد کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جب ملاقات ہوتی ہے تو والدین کا ذکر ضرور کرتے ہیں
آج قبرستان میں ان کی قبریں ساتھ ساتھ ہیں، جیسے زندگی میں ان کے حجرے ساتھ ساتھ تھے۔
یہ خلا کبھی پر نہیں ہو سکتا۔ میرے والد صاحب کے لیے تو یہ دوست نہیں بھائیوں جیسے تھے، ان کے جانے سے ایک عہد ختم ہو گیا۔
اللہ کریم سے دعا ہے کہ اللہ ان تینوں بھائیوں کی کامل بخشش فرمائے، ان کی قبروں کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، اور جنت الفردوس میں بھی انہیں اسی طرح اکٹھا رکھے جیسے دنیا میں اکٹھے رہتے تھے۔
تمام دوستوں سے درخواست ہے کہ ایک مرتبہ سورۃ فاتحہ اور تین مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھ کر ان کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کر دیں۔
اللہ لواحقین اور ہم سب کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین