Toru mardan

Toru mardan PUBLIC SERVICE

11/10/2026
*تین بھائی، تین چراغ جو ایک ساتھ بجھ گئے**إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ*یہ کوئی عام تصویر نہیں، یہ ایک عہ...
09/10/2026

*تین بھائی، تین چراغ جو ایک ساتھ بجھ گئے*
*إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ*

یہ کوئی عام تصویر نہیں، یہ ایک عہد کی کہانی ہے۔ میرے والدِ محترم کے قریبی اور دیرینہ دوست، طورو کی مٹی کے تین قابلِ فخر سپوت:

*1۔ جناب صفدر خان صاحب*
*2۔ جناب انور خان صاحب*
*3۔ علی گوہر خان*

تینوں بھائی اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔

*کردار اور عہدہ:*
اللہ نے انہیں دنیاوی عزت بھی خوب دی تھی، تینوں اپنے محکموں میں اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز رہے، اپنا ایک نام اور مقام رکھتے تھے۔ مگر اتنے بڑے عہدوں کے باوجود غرور کو کبھی قریب بھی نہ آنے دیا۔ نہایت خاکسار، ملنسار، خوش طبع اور نیک سیرت انسان۔ ہر چھوٹے بڑے سے مسکرا کر ملنا ان کی پہچان تھی۔

*بھائیوں کی مثالی محبت:*
میں نے اپنی زندگی میں بھائیوں میں اتنی محبت کم دیکھی ہے۔ تینوں ایک جان تھے۔ خوشی ہو یا غم، ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ۔ گاؤں میں ان کی بھائیوں کی محبت کی مثال دی جاتی تھی۔

*ایک سال میں تین جنازے:*
اور پھر قدرت کا کرنا دیکھیں کہ جنہوں نے زندگی ایک ساتھ محبت میں گزاری، اللہ نے انہیں اپنے پاس بھی ایک ساتھ ہی بلا لیا۔ تقریباً ایک سال کے مختصر عرصے میں تینوں بھائی اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔

2024 میں علی گوہر خان صاحب اور انور خان صاحب، اور 18 فروری 2025 کو صفدر خان صاحب اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔لیکن ہم ان کے اولاد کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جب ملاقات ہوتی ہے تو والدین کا ذکر ضرور کرتے ہیں

آج قبرستان میں ان کی قبریں ساتھ ساتھ ہیں، جیسے زندگی میں ان کے حجرے ساتھ ساتھ تھے۔

یہ خلا کبھی پر نہیں ہو سکتا۔ میرے والد صاحب کے لیے تو یہ دوست نہیں بھائیوں جیسے تھے، ان کے جانے سے ایک عہد ختم ہو گیا۔

اللہ کریم سے دعا ہے کہ اللہ ان تینوں بھائیوں کی کامل بخشش فرمائے، ان کی قبروں کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، اور جنت الفردوس میں بھی انہیں اسی طرح اکٹھا رکھے جیسے دنیا میں اکٹھے رہتے تھے۔

تمام دوستوں سے درخواست ہے کہ ایک مرتبہ سورۃ فاتحہ اور تین مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھ کر ان کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کر دیں۔

اللہ لواحقین اور ہم سب کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین

آگے شیئر کریں
09/10/2026

آگے شیئر کریں

09/10/2026

چور کو عوام نے پکڑ کر تھانے لے آئے تو تھانہ میں کوئی موجود نہیں تھا

مردان سے پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی  مبینہ طور پر اغواء ۔۔خاندانی زرائع
08/10/2026

مردان سے پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی مبینہ طور پر اغواء ۔۔خاندانی زرائع

اللہ تعالیٰ ہم کو ایسے دن سے محفوظ رکھے جو دن ہم نے 8اکتوبر 2005کو دیکھا تھا
08/10/2026

اللہ تعالیٰ ہم کو ایسے دن سے محفوظ رکھے جو دن ہم نے 8اکتوبر 2005کو دیکھا تھا

07/10/2026

*عبدالواحد/ امازی ماما صدیق حیل— طورو کے اولین خدائی خدمتگاروں میں تاریخ پیدائش 1895وفات 1974*قریبی رشتہ دار منشی کاکا وحید اللہ کاکا /ایاز شیربھادر/ ۔تمریز گلالہ پیر ستار محتار حان۔ مثل کاکا

مرتبہ: سید راشد علی طوروی

گاہے گاہے باز خواں ایں قصہ پارینہ
تازہ خواہی داشتن گر داغ ہائے سینہ

ډير تفاوت دى په انسان کې د معنا په لحاظ...
واړه لګيا دي ځينې ځان ځينې جهان جوړوي

امازی ماما طورو کے اولین اور حقیقی خدائی خدمت گار تھے۔ مال و دولت سے تہی دامن، اولاد کی نعمت سے محروم، مگر خدمتِ خلق، غیرت اور حق گوئی کی دولت سے مالا مال۔ ان کی پوری زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ خدائی خدمت گاری محض ایک نام نہیں، ایک طرزِ حیات ہے؛ اور خدائی خدمت گار قومی خدمت کے بدلے کسی اجرت کا طلب گار نہیں ہوتا۔
آپ نہایت صفائی پسند انسان تھے، صاف ستھرا رہتے، اپنے لباس اور کپڑوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔ان کا بدن نہ بہت بھاری تھا نہ دبلا، گردن مضبوط تھی، اور وہ نہایت چاق و چوبند اور متحرک انسان تھے۔ چھوٹی خوبصورت داڑھی رکھے ہوئے تھے،
*علم اور عمل*
صدی خیل طورو کی سریخ مسجد میں مولانا محمد عنایت اللہ صاحب نمازِ عصر کے بعد سے اذانِ مغرب تک رواں اور سہل پشتو میں قرآنِ پاک کا ترجمہ و تفسیر عوام کے سامنے بیان فرمایا کرتے تھے۔ خلقِ خدا جوق در جوق اس درس میں حاضر ہوتی۔
صدی خیل کے زمرود کاکا کی چائے کی ایک چھوٹی سی دکان تھی۔ وہ چار آنے میں چائے کی ایک ننھی سی چینک بیچا کرتے، یوں ایک روپے کی چار چینکیں بنتیں۔ درس میں لڑکے، جوان اور بزرگ سبھی شریک ہوتے۔ بشیر باچا صاحب بڑے ذوق و شوق سے آتے، حاجی دلاور خان صاحب بھی حاضر رہتے، اور خدائی خدمت گار عبدالواحد، جو امازی ماما کے نام سے معروف تھے، بھی موجود ہوتے۔
امازی ماما ہر روز یہ چینکیں منگوا لیتے۔ مولانا صاحب کے پہلو میں بیٹھ جاتے، پیالی بھرتے اور ادب سے مولانا صاحب کی طرف بڑھا دیتے۔ حاجی دلاور خان صاحب اس پر برہم ہوتے کہ امازی ماما چائے پلا پلا کر درس میں خلل ڈالتے ہیں۔
ایک دن امازی ماما درس سے غیر حاضر تھے۔ درس ختم ہوا تو میاں بیڑہ کے زردواللہ (کاکا) نے مولانا صاحب کی تفسیرِ حقانی اور تفہیم القرآن اٹھائیں اور مولانا صاحب کے پیچھے پیچھے چل پڑے۔ مسجد سے باہر نکلے تو دیکھا کہ امازی ماما چند نوجوانوں کے ساتھ نالی کی صفائی میں مصروف ہیں۔
حاجی دلاور خان صاحب نے طنز کیا: "سبق چھوڑ کر یہ گندا کام کر رہے ہو؟"
زردواللہ (کاکا) کہتے ہیں کہ امازی ماما نے میری طرف دیکھا اور بولے: "مولانا صاحب ہی فرمائیں، کیا میں کوئی برا کام کر رہا ہوں؟"
مولانا صاحب مسکرائے اور فرمایا: "ہم نے پڑھا، اور تم نے عمل کیا۔"
خدمتِ خلق کے نقوش
امازی ماما کی خدمت گفتار کی نہیں، کردار کی تھی۔ بستی کی ہر ضرورت ان کی اپنی ذمہ داری تھی، اور وہ اسے بغیر کسی صلے کی تمنا کے پورا کرتے۔
*گودر غاڑہ کا پل* : گودر غاڑہ پر آمد و رفت لوگوں کے لیے دشوار تھی۔ امازی ماما نے وہاں لکڑی کے پل کا انتظام کیا تاکہ راہ گیروں، عورتوں اور بچوں کو گزرنے میں آسانی ہو۔ اس کام کے لئے وہ پورا انتظام کرتے اور تمام گاؤں والوں سے کام لیتے۔
*طورو نوی کلی پل:*
آپ موقع و محل کے مطابق بات کرنے کا سلیقہ خوب جانتے تھے، اپ کی کاوش سے طورو نوی کلی پل کی ضرورت و تعمیر کی طرف نوابزادہ غفور خان کی توجہ ایک جلسے میں نہایت اچھے انداز میں آپ نے مبذول کرائی تھی، آپ ہی کی ہمت و محنت کا نتیجہ تھا کہ اس پل کو صوبائی بجٹ میں نیپ حکومت جو شاید نو ماہ چلی تھی میں شامل کیا گیا جو بعد میں پیپلز پارٹی کی حکومت اور خان عبد الصمد خان کی نگرانی میں تعمیر ہوا۔
*مسجد کے درب:*
مسجد میں نمازیوں کے لیے درب (چٹائیاں) بچھانے کا اہتمام بھی انہوں نے اپنے ذمے لے رکھا تھا، تاکہ اللہ کے گھر میں آنے والوں کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ اس کے لئے وہ ہر قلبے والے کو ذمداری دیتے اور نوجوانوں کو اکٹھا کرتے۔
*ھجرے کی دیکھ بھال*
مسجد کے ساتھ ساتھ آپ مستقل طور پر صدی خیل کے عوامی ہجرے کا خاص رکھتے تھے، ہجرے کی چارپائیوں سے لیکر اس کے چھت، اور صفائی کا انتظام آپ اپنا فرض سمجھ کر کیا کرتے تھے۔
*فوتگی میں قبر کا انتظام:*
گاؤں میں جب کسی کی وفات ہوتی تو امازی ماما سب سے پہلے پہنچتے اور قبر کی تیاری کا انتظام سنبھال لیتے۔ غم زدہ گھرانے کا بوجھ ہلکا کرنا وہ اپنا فرض سمجھتے۔
*جنازہ گاہ* :
اپ کی ایک نہ صرف ناقابلِ فراموش بلکہ پورا گاؤں طورو اس بات پر آپ کے احسان مند رہیں گے کہ طورو ہائی سکول گراؤنڈ کے ساتھ جنازگاہ کا انتظام بھی بھی آپ کی توجہ اور کوشش سے قائم ہوئی ہے، دراصل یہ زمین ملک اصغر خان صاحب کی تھی جو جنازگاہ کے لئے الگ کر دی گئی ہے۔ چاہئے تھا کہ اس پر آپ کے نام کا تختہ لگایا جاتا۔
*مہمانوں کی خاطر داری:* مہمان نوازی پشتون روایت کی جان ہے، اور امازی ماما اس روایت کے سچے امین تھے۔ بستی میں آنے والے مہمانوں کی دیکھ بھال اور آرام کا خیال رکھنا ان کا شیوہ تھا۔
*قید و بند کی صعوبتیں*
خدائی خدمت گاری کی پاداش میں حکومتِ پاکستان نے امازی ماما کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا۔ وہاں ان پر بے پناہ تشدد کیا گیا، مگر ان کے پائے استقامت میں لغزش نہ آئی۔
اسی جیل میں لوند خوڑ کے غلام محمد خان بھی قید تھے، جنہیں پولیس نے سخت تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ امازی ماما خود زخموں سے چور تھے، مگر اپنا درد بھلا کر خان صاحب کی تیمارداری میں لگ گئے۔ وہ اینٹ گرم کرتے اور اس سے خان صاحب کے زخموں اور چوٹوں کی ٹکور کرتے۔ قید خانے کی تنگی میں بھی ان کا جذبۂ خدمت ماند نہ پڑا۔
*غیرت اور پشتو کی پاسداری*

گاؤں کے ایک خان نے ایک لڑکے کو زبردستی اپنے پاس روک رکھا تھا۔ ظلم سب کے سامنے تھا، مگر کسی میں اتنی جرأت نہ تھی کہ خان کے آگے زبان کھولے اور اسے ننگ و غیرت کا مسئلہ بنائے۔
امازی ماما نہایت غریب آدمی تھے، مگر غیرت ان کی سب سے بڑی دولت تھی۔ وہ تنِ تنہا خان کے پاس پہنچے اور بے خوفی سے کہا: "یہ بہت بری بات ہے، یہ پشتو کے خلاف ہے۔"
خان طیش میں آ گیا۔ اس نے امازی ماما کو بری طرح مارا پیٹا اور ان پر شدید تشدد کیا۔ لیکن امازی ماما نے ہار نہ مانی، اور اس لڑکے کو واپس لے کر ہی دم لیا۔
*اختتامیہ*

امازی ماما کی کوئی اولاد نہ تھی، مگر پوری بستی ان کا کنبہ تھی۔ وہ طورو کے اولین اور اصلی خدائی خدمت گار تھے۔ ان کی یاد آج بھی اس سچائی کی گواہی دیتی ہے جو مولانا صاحب نے ایک جملے میں سمیٹ دی تھی: "ہم نے پڑھا، اور تم نے عمل کیا۔"
مړه هغه چې نه يې نوم نه يې نشان وي...
تل تر تله په ښه نوم پايي ښاغلي

*نوٹ* :
یہ تحریر درج ذیل ماخذوں پر مبنی ہے:

1. م ر شفق سے ایک غیر رسمی انٹرویو، 3 اکتوبر 2026
2. اسرار الرحمن طوروی کے ساتھ مختلف موقعوں پر امازی ماما کے حوالے سے گفتگو،
3. کتاب: "د طورو د یو عالمِ دین عنایات — یو څو خاطرې"، مصنف اسرار د طورو-اکتوبر 2020

07/10/2026

‎آج کی سب سے خوبصورت ملاقات ❤️

آج راستے میں ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی، معیار کا رہنے والا ہے اور یونیورسٹی سے نواں کلی کی طرف کرامت پیٹرول پمپ کے قریب کسی گھر میں کام کرتا ہے۔

غریب ہے، سارا دن سائیکل پر سفر کرتا ہے، مگر زبان پر ہر وقت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا ذکر۔ اس سے ایک نعت شریف سنا

یقین کریں ایسی آواز اور ایسا سوز تھا کہ دل خوش ہو گیا۔ سوچا دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس دنیا کا مال نہیں، مگر دل میں خزانہ بھرا ہوا ہے۔

اللہ ایسے محنتی اور سچے لوگوں کی روزی میں برکت دے، اور ان کے دل کی ہر دعا قبول فرمائے۔ آمین

سارا دن محنت، اور زبان پر ذکرِ حبیب ﷺ ۔ یہی اصل امیری ہے۔

ایک سائیکل، پرانے کپڑے، اور زبان پر نعتِ رسول ﷺ
یہ ہے میرے طورو معیار کا ایک غریب مگر دل کا امیر بابا جی۔
اللہ ان جیسے لوگوں کی وجہ سے دنیا آباد رکھتے ہیں‎ Part 5

یہ تماچہ کس کس کو یاد ہے اور کس نے استعمال کیا ہے
06/10/2026

یہ تماچہ کس کس کو یاد ہے اور کس نے استعمال کیا ہے

Address

Mardan
0099

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Toru mardan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category