26/01/2026
دوستو! آپ کو یہ جملہ بار بار سننے کو ملے گا کہ "مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے اسلام کے لیے کیا کیا؟"
اب یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ایسا سوال کرنے والا کس مزاج کا ہے، کیونکہ وہ خالصتاً تعصب کی بنیاد پر یہ بات کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مولانا صاحب اپنے چالیس سال کی سیاست میں مختصر مدت کے لیے حکومت کا حصہ تو رہے ہیں، لیکن کبھی براہ راست برسر اقتدار نہیں آئے۔ حکومت کا حصہ ہونا بھی بعض اوقات کسی مصلحت کی بنیاد پر ہوتا ہے، اور یہ ضروری نہیں کہ جو وہ چاہیں وہی نافذ ہو۔
البتہ اتنا ضرور ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے قلیل پارلیمانی حجم کے باوجود ہمیشہ اسلام مخالف بلوں کی ڈٹ کر مخالفت کی۔ اور جب بھی اللہ نے انہیں کسی موقع پر آگے بڑھنے کا موقع دیا، انہوں نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔
آئیے! اب آپ کو بتاتے ہیں کہ مولانا صاحب نے اسلام کے لیے کیا خدمات سرانجام دیں۔
جب مشرف دور میں آئین سے اسلامی دفعات کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو مولانا فضل الرحمٰن نے ان دفعات کے تحفظ کی جنگ لڑی۔
2006ء میں "امتناعِ سود" کے نام سے جمعیۃ علماء اسلام کے مولانا فضل علی حقانی نے قانون سازی کی۔
جب فوج کے ذریعے مدارس کے نصاب کو بدلنے کی کوشش کی گئی اور عصری تعلیم کو لازم قرار دیا جانے لگا تو مولانا فضل الرحمٰن نے دو ٹوک الفاظ میں کہا:
"تم مدارس کا نصاب اسکولوں میں داخل کرادو، ہم تمہارا نصاب داخل کر دیتے ہیں۔ جب وہ نہیں، تو یہ کیوں؟"
جب جامعہ حقانیہ کو مجا ہدین کی امداد کے بہانے ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس وقت بھی مولانا فضل الرحمٰن صاحب میدان میں آئے اور دو ٹوک الفاظ میں کہا:
"اگر اس قسم کی کسی نے جسارت کی تو سب سے پہلے آپ کے خلاف مجھے پائیں گے۔"
یوں انہوں نے ان عزائم کو خاک میں ملا دیا۔
جب "میراتھن ریس" کے نام پر نیم برہنہ لڑکیوں اور لڑکوں کو سرعام سڑک پر دوڑانے کی کوشش کی گئی تو اس وقت بھی جمعیۃ علماء اسلام نے اس ریس کو ناکام بنا دیا۔
جب پارلیمنٹ میں ہم جنس پرستی کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس بل کو بھی جمعیۃ علماء اسلام نے اپنے پاؤں تلے روند دیا۔
ایم ایم اے کے دور حکومت میں "شہادۃُ العالمیہ" کو ایم اے کے اور "شہادۃُ العالیہ" کو بی اے کے برابر قرار دیا گیا۔
اسی دور میں قاری کے سکیل کو سات سے بڑھا کر چودہ اور عربی ٹیچر کے بنیادی سکیل کو نو سے بڑھا کر پندرہ کر دیا گیا۔
جب مشرف دور میں "حقوقِ نسواں کے تحفظ" کے نام پر فحاشی اور عریانی کو فروغ دینے والا بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تو مولانا فضل الرحمٰن نے اس بل کو دو ٹکڑے کرکے اپنے پاؤں تلے روند دیا۔
اسلامی شرعی نظام کے نفاذ کے لیے "حسبہ بل" لایا گیا جسے مشرف نے اس لیے مسترد کیا کہ اس وقت صوبائی خودمختاری کا آرڈیننس پاس نہیں ہوا تھا۔
2017 میں انتخابی ترمیمی بل (Election Amendment 2017) کے دوران، جو تبدیلیاں کی جا رہی تھیں، ان میں یہ خدشہ لاحق ہوا کہ ختمِ نبوت کے عہد نامہ (oath) یا اس سے متعلق شقوں میں کمی بیشی ہو جائے گی۔ مولانا فضل الرحمن نے ان ترمیمات کی مخالفت کی، اور وارننگ دی کہ اگر کوئی ختم نبوت کے قانون میں کھلم کھلا مداخلت کرے گا تو نتائج سنگین ہوں گے۔
سودی نظام کے خاتمے کے لیے قومی اسمبلی سے بل پاس کروایا گیا۔
اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کی شادی سے متعلق بل کی کھل کر مخالفت کی گئی۔
مساجد، مدارس اور خانقاہوں کی حفاظت کے لیے پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر ایک مضبوط اور توانا آواز ہمیشہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی رہی ہے۔
نوٹ: اس تحریر کو محفوظ رکھیں اور جو بھی ایسا اعتراض کرے یہ اس کے سامنے رکھ دیا کرے۔ شکریہ