jui Posting

jui Posting Pakistan zindabad

دوستو! آپ کو یہ جملہ بار بار سننے کو ملے گا کہ "مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے اسلام کے لیے کیا کیا؟"اب یہ اندازہ لگانا مشکل...
26/01/2026

دوستو! آپ کو یہ جملہ بار بار سننے کو ملے گا کہ "مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے اسلام کے لیے کیا کیا؟"

اب یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ایسا سوال کرنے والا کس مزاج کا ہے، کیونکہ وہ خالصتاً تعصب کی بنیاد پر یہ بات کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مولانا صاحب اپنے چالیس سال کی سیاست میں مختصر مدت کے لیے حکومت کا حصہ تو رہے ہیں، لیکن کبھی براہ راست برسر اقتدار نہیں آئے۔ حکومت کا حصہ ہونا بھی بعض اوقات کسی مصلحت کی بنیاد پر ہوتا ہے، اور یہ ضروری نہیں کہ جو وہ چاہیں وہی نافذ ہو۔

البتہ اتنا ضرور ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے قلیل پارلیمانی حجم کے باوجود ہمیشہ اسلام مخالف بلوں کی ڈٹ کر مخالفت کی۔ اور جب بھی اللہ نے انہیں کسی موقع پر آگے بڑھنے کا موقع دیا، انہوں نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

آئیے! اب آپ کو بتاتے ہیں کہ مولانا صاحب نے اسلام کے لیے کیا خدمات سرانجام دیں۔

جب مشرف دور میں آئین سے اسلامی دفعات کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو مولانا فضل الرحمٰن نے ان دفعات کے تحفظ کی جنگ لڑی۔

2006ء میں "امتناعِ سود" کے نام سے جمعیۃ علماء اسلام کے مولانا فضل علی حقانی نے قانون سازی کی۔

جب فوج کے ذریعے مدارس کے نصاب کو بدلنے کی کوشش کی گئی اور عصری تعلیم کو لازم قرار دیا جانے لگا تو مولانا فضل الرحمٰن نے دو ٹوک الفاظ میں کہا:
"تم مدارس کا نصاب اسکولوں میں داخل کرادو، ہم تمہارا نصاب داخل کر دیتے ہیں۔ جب وہ نہیں، تو یہ کیوں؟"

جب جامعہ حقانیہ کو مجا ہدین کی امداد کے بہانے ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس وقت بھی مولانا فضل الرحمٰن صاحب میدان میں آئے اور دو ٹوک الفاظ میں کہا:
"اگر اس قسم کی کسی نے جسارت کی تو سب سے پہلے آپ کے خلاف مجھے پائیں گے۔"
یوں انہوں نے ان عزائم کو خاک میں ملا دیا۔

جب "میراتھن ریس" کے نام پر نیم برہنہ لڑکیوں اور لڑکوں کو سرعام سڑک پر دوڑانے کی کوشش کی گئی تو اس وقت بھی جمعیۃ علماء اسلام نے اس ریس کو ناکام بنا دیا۔

جب پارلیمنٹ میں ہم جنس پرستی کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس بل کو بھی جمعیۃ علماء اسلام نے اپنے پاؤں تلے روند دیا۔

ایم ایم اے کے دور حکومت میں "شہادۃُ العالمیہ" کو ایم اے کے اور "شہادۃُ العالیہ" کو بی اے کے برابر قرار دیا گیا۔

اسی دور میں قاری کے سکیل کو سات سے بڑھا کر چودہ اور عربی ٹیچر کے بنیادی سکیل کو نو سے بڑھا کر پندرہ کر دیا گیا۔

جب مشرف دور میں "حقوقِ نسواں کے تحفظ" کے نام پر فحاشی اور عریانی کو فروغ دینے والا بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تو مولانا فضل الرحمٰن نے اس بل کو دو ٹکڑے کرکے اپنے پاؤں تلے روند دیا۔

اسلامی شرعی نظام کے نفاذ کے لیے "حسبہ بل" لایا گیا جسے مشرف نے اس لیے مسترد کیا کہ اس وقت صوبائی خودمختاری کا آرڈیننس پاس نہیں ہوا تھا۔

2017 میں انتخابی ترمیمی بل (Election Amendment 2017) کے دوران، جو تبدیلیاں کی جا رہی تھیں، ان میں یہ خدشہ لاحق ہوا کہ ختمِ نبوت کے عہد نامہ (oath) یا اس سے متعلق شقوں میں کمی بیشی ہو جائے گی۔ مولانا فضل الرحمن نے ان ترمیمات کی مخالفت کی، اور وارننگ دی کہ اگر کوئی ختم نبوت کے قانون میں کھلم کھلا مداخلت کرے گا تو نتائج سنگین ہوں گے۔

سودی نظام کے خاتمے کے لیے قومی اسمبلی سے بل پاس کروایا گیا۔

اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کی شادی سے متعلق بل کی کھل کر مخالفت کی گئی۔

مساجد، مدارس اور خانقاہوں کی حفاظت کے لیے پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر ایک مضبوط اور توانا آواز ہمیشہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی رہی ہے۔

نوٹ: اس تحریر کو محفوظ رکھیں اور جو بھی ایسا اعتراض کرے یہ اس کے سامنے رکھ دیا کرے۔ شکریہ

شیخ الہند کا وارث، عالمی سیاست کا روشن چہرہ: تحریر: محمد عمراناسلام آباددنیا کی سیاست میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا...
20/11/2025

شیخ الہند کا وارث، عالمی سیاست کا روشن چہرہ:

تحریر: محمد عمران
اسلام آباد

دنیا کی سیاست میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا حلقۂ اثر کسی ایک سرحد، کسی ایک زبان یا کسی ایک قوم تک محدود نہیں رہتا۔ وہ جہاں جاتے ہیں، وہاں ان کی شخصیت اپنی علمی وزن داری، فکری گہرائی اور سیاسی وقار کے باعث خود گفتگو بن جاتی ہے۔ پاکستان کی سیاسی و مذہبی قیادت میں مولانا فضل الرحمٰن صاحب ایسی ہی نایاب شخصیت ہیں، جو اپنے مزاج کی سنجیدگی، فکر کی پختگی، تاریخ کے شعور، سفارت کی نزاکت اور مذہبی وقار کے امتزاج سے ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں انہیں صرف ایک ملکی رہنما کہنا ناانصافی ہوگی۔

سعودی عرب کے علمی حلقات ہوں تو مولانا صاحب وہاں کسی مہمان کے طور پر نہیں بلکہ ایک معتبر علمی روایت کے وارث کی حیثیت سے دیکھے جاتے ہیں۔ سعودی مجالس، دینی مراکز اور علمی محافل میں انہیں جس احترام سے یاد کیا جاتا ہے، وہ محض رسمی پروٹوکول نہیں بلکہ یہ اعتراف ہے کہ برصغیر کی دینی روایت میں وہ ایک بھرپور علمی تسلسل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ حرمین شریفین کے ملک میں کسی شخصیت کا اس سطح پر قبولیت پانا خود اس کی فکری بلندی کی سند ہے۔

ایران میں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی مقبولیت اس سے بھی منفرد ہے۔ پاکستان کی مذہبی قیادت میں بہت کم رہنما ایسے ہیں جنہیں ایران کے علمی و سیاسی حلقوں میں اتنی توجہ ملی ہو۔ ایران انہیں ایک ایسے سیاسی عالم کے طور پر دیکھتا ہے جو مسلکی اختلافات سے بلند ہو کر علاقائی امن، امت کے اجتماعی مفاد اور سیاسی حکمت کی بات کرتا ہے۔ وہاں کے سفارتی و فکری حلقے انہیں ایک bridge personality سمجھتے ہیں، جو اختلاف کو تصادم نہیں بننے دیتا بلکہ مکالمے کا دروازہ کھولتا ہے۔

چین کی حکومت ان کو ایک سنجیدہ، خطے کو سمجھنے والا اور حقیقت پسند سیاست دان تسلیم کرتی ہے۔ چین مذہبی قیادت سے عمومی فاصلہ رکھتا ہے، مگر مولانا صاحب کے ساتھ ان کا مکالمہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ پاکستان کی داخلی سیاست، مذہبی قوتوں اور عوامی نفسیات کو سمجھنے کے لیے جن شخصیات کی رائے ناگزیر ہے، مولانا صاحب ان میں سرفہرست ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جو ہر سیاسی رہنما کو حاصل نہیں ہوتا۔

قطر میں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے فلسطینی قیادت کے ساتھ تعلقات ایک الگ باب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ فلسطین کے مسئلے پر ان کا مؤقف، ان کی حمایت، اور ان کا اصولی بیانیہ وہاں کے سیاسی و مذہبی رہنماؤں میں گہرا اثر رکھتا ہے۔ قطر میں فلسطینی قیادت اور عالمی اسلامی فکری اداروں نے بارہا مولانا صاحب کے کردار کو سراہا ہے۔ یہ تعلق صرف سیاسی نہیں بلکہ ایک فکری ہم آہنگی کا آئینہ ہے۔

بھارت میں مذہبی و سیاسی حلقے مولانا صاحب کو ایک وقار، اعتدال اور توازن کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ بھارت جیسے ملک میں جہاں پاکستان کے بارے میں تعصب عام ہے، وہاں مولانا صاحب کا احترام سے تعارف ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ خطے کے مکالمے، جمہوری سیاست اور مذہبی اعتدال کے نمائندہ ہیں۔ ان کی بات وہاں سنی بھی جاتی ہے اور قدر سے نوٹ بھی کی جاتی ہے۔

افغانستان تو مولانا صاحب کے لیے ایک ایسا ملک ہے جہاں ان پر اعتماد کا رشتہ برسوں میں نہیں بلکہ نسلوں میں قائم ہوا ہے۔ افغان قیادت، چاہے وہ سیاسی ہو، مذہبی ہو یا قبائلی، مولانا صاحب کو ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھتی ہے جو خطے کی حقیقتوں کو سمجھتا ہے، اور جس کا دل امن کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ ان کی بات وہاں دلیل بھی ہے، اثر بھی، اور حکمت بھی۔

بنگلہ دیش میں انہیں جو احترام عزت قدر اور تاثر ملا وہ اس حقیقت کی روشن شہادت ہے کہ تاریخ کے بوجھ کے باوجود مستقبل کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ وہاں مولانا صاحب کا استقبال صرف مہمان نوازی نہیں تھا بلکہ ایک نظریاتی اعتراف تھا کہ جنوبی ایشیا میں مذہبی اعتدال، سیاسی بصیرت اور تاریخی شعور کے حوالے سے مولانا صاحب کی آواز کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔

اور اس سے بڑھ کر، روس اور امریکہ سمیت مختلف ممالک کے سفرا جب مولانا صاحب کے گھر حاضر ہوتے ہیں تو یہ منظر خود اس بات کی گواہی بن جاتا ہے کہ عالمی سفارت کاری مولانا فضل الرحمٰن صاحب کو پاکستان کی ایک ایسی شخصیت کے طور پر دیکھتی ہے جس کی رائے خطے کی سیاست، افغانستان کی صورتِ حال، مذہبی جماعتوں کے رجحانات اور جنوبی ایشیا کی حرکیات کو سمجھنے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

یہ تمام حقائق مل کر ایک بڑی تصویر بناتے ہیں، مولانا فضل الرحمٰن صاحب پاکستان کی سیاسی، مذہبی اور سفارتی سیادت کا وہ روشن چہرہ ہیں جو اختلاف کو تہذیب میں بدلتے ہیں، تلخی کو مکالمے میں، نزاع کو حکمت میں، اور سیاست کو وقار میں۔ ان کی شخصیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قیادت صرف نعروں، ریلیوں یا پارلیمانی تقریروں کا نام نہیں؛ قیادت وہ روشنی ہے جو سرحدوں کے اُس پار بھی دیکھی جائے، دلوں میں بھی محسوس ہو، اور سفارت کے میز پر بھی احترام سے سنی جائے۔

مولانا صاحب کے اس مقام کا اصل راز یہی ہے کہ وہ سیاست کو ذمہ داری، اور سفارت کو امن سازی کا فن سمجھتے ہیں، اور یہی وہ صفات ہیں جو کسی رہنما کو عالمی قد عطا کرتی ہیں۔

19/11/2025

بنگلہ دیش
کل حضرت یعنی مولانا فضل الرحمن صاحب سے جدائی ہو جائے گی ہم کو برداشت نہیں ہوگی
یہ ہے بنگلہ دیش کے ایک بڑے اور بزرگ شخصیت کے مولانا کی واپسی سے ایک دن پہلے کے تاثرات

سرحدوں سے آگے تک—مولانا فضل الرحمٰن کی عالمی پزیرائی✍🏻 محمد اسامہ پسروریمولانا فضل الرحمٰن صاحب اس وقت بنگلہ دیش کے دورے...
19/11/2025

سرحدوں سے آگے تک—مولانا فضل الرحمٰن کی عالمی پزیرائی

✍🏻 محمد اسامہ پسروری
مولانا فضل الرحمٰن صاحب اس وقت بنگلہ دیش کے دورے پر ہیں اور یہ دورہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے معمولی سفری مشغولیت نہیں بلکہ پاکستان کی مذہبی و سیاسی قیادت کی اس ساکھ کا عملی ثبوت ہے جو برسوں کی نظریاتی جدوجہد، علمی وزن اور بین الاقوامی اعتماد کے نتیجے میں قائم ہوئی ہے دشمنانِ اسلام کے پروپیگنڈے کے برخلاف یہ حقیقت پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ آج بھی اگر جنوبی ایشیا میں کوئی ایسی قیادت موجود ہے جس کی بات کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے تو وہ جمعیۃ علماء اسلام کی قیادت ہے جو نہ مفادات کے تابع ہے نہ کسی عالمی ایجنڈے کی غلام مولانا کا یہ دورہ اسی تسلسل کا حصہ ہے جس میں امت کے مسائل سے لے کر عالمی اسلام کی پالیسی، مدارس کے کردار سے لے کر خطے کی بدلتی سیاسی صورت تک ہر فورم پر ان کا وزن اور اثر نمایاں ہے اور یہ وہ بات ہے جو پاکستان کے اندر بیٹھے بعض حلقے سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جب وہ میڈیا میں بیٹھ کر طنز اور بے وقعت گفتگو کرتے ہیں مولانا اسی وقت دنیا کے سفارتی، علمی اور روحانی مراکز میں پاکستان کے اصل مذہبی تشخص کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں بنگلہ دیش میں اہلِ علم، مشائخ، عوام اور سیاسی قیادت کی جانب سے جو غیر معمولی محبت اور احترام ملا وہ اس بات کا اعلان ہے کہ امت صرف تقریروں سے لیڈر نہیں مانتی وزن، کردار، تاریخ اور نظریاتی استقامت سے مانتی ہے اور یہ ساری چیزیں مولانا فضل الرحمٰن کی شخصیت کا جزوِ لازم ہیں وہاں کے علماء نے ایک بات پر پورا اتفاق کیا کہ برصغیر میں دینی قوت کی اصل علامت آج بھی جمعیۃ ہے اور اس کی پہچان مولانا فضل الرحمٰن ہیں یہی وجہ ہے کہ اس دورے میں نہ کہیں سیاسی تناؤ محسوس ہوا نہ کسی نے سوال اٹھایا بلکہ ہر جگہ انہیں ایک ایسے قائد کے طور پر سنا گیا جو امت کے لیے سوچتا ہے، امت کے لیے بولتا ہے اور امت کے اتحاد کے لیے جدوجہد کرتا ہے پاکستان کے وہ طبقات جو ہر وقت یہ پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں کہ مولانا کی سیاسی قوت کم ہو گئی ہے وہ شاید یہ منظر دیکھ کر سمجھ جائیں کہ لیڈر وہ نہیں ہوتا جو اپنے ملک کے چند اینکرز کے رحم و کرم پر زندہ رہے لیڈر وہ ہوتا ہے جو سرحدوں سے باہر بھی اپنے نام سے پہچانا جائے مولانا کا یہ سفر اس حقیقت کا اعلان ہے کہ خطے کی سیاست ہو یا عالمی اسلام کا بیانیہ، مذہبی آزادی کا مسئلہ ہو یا امت کی وحدت کا پیغام، ہر جگہ ان کی رائے کو وزن دیا جاتا ہے اور یہی وہ اعتماد ہے جس پر جے یو آئی کی پوری سیاسی اور عوامی طاقت قائم ہے اس دورے نے یہ بات پھر ثابت کی کہ جمعیۃ علماء اسلام صرف پاکستان کی جماعت نہیں بلکہ امت کا ایک فکری مرکز ہے اور مولانا اس مرکز کی وہ آواز ہیں جو نہ جھکتی ہے نہ بکنے کے لیے تیار ہوتی ہے یہی وہ استقامت ہے جو دوسروں کو کھٹکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اندرونِ ملک سازشیں اور باہر عزتیں بڑھتی رہتی ہیں بنگلہ دیش کا یہ سفر جے یو آئی کے کارکنوں کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ آپ کے قائد کا مقام عالمی ہے ان کی حیثیت سرحدی سیاست سے کہیں آگے ہے اور امت کا اعتماد کسی میڈیا مہم سے کم نہیں کیا جا سکتا آنے والے وقتوں میں برصغیر کے اندر مذہبی سیاست کا جو نقشہ بن رہا ہے اس میں مولانا فضل الرحمٰن کا یہ دورہ ایک نئے باب کی بنیاد ہے اور تاریخ ہمیشہ اسی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے کہ قوموں کی ترجمانی کون کر رہا تھا آج بنگلہ دیش میں ہونے والی پذیرائی نے یہ بات طے کر دی ہے کہ برصغیر میں دینی قوت کی اصل قیادت مولانا فضل الرحمٰن کے پاس ہے اور رہنی چاہیے بھی کیونکہ سیاسی سوجھ بوجھ، مذہبی غیرت، علمی وراثت اور بین الاقوامی وقار کا ایسا حسین مجموعہ کسی اور کے پاس نہیں۔

Address

Kpk
Mardan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when jui Posting posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share